میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 22 مئی، 2015

مچھروں سے بچنے کی دعا

کہتے ہیں نیکی کرو اور دریا میں ڈال دو !    
یارو کیا زمانہ آگیا ہے بھلائی کا دور ہی نہیں رہا ۔  
 اب دیکھیں نا ! وٹس ایپ پر یہ پوسٹ آئی ہم نے مفاد عامہ کی خاطر اسے فیس بُک پر پریس ریلیز کر دیا کر دیا
۔
کہ ایک پیٹی بند ، جنگجو دوست نے پیار بھرا تھپڑ جڑ دیا!
 

 ابھی ہم ، اپنے ذہن کو سہلا رہے تھے ۔ کہ رگ ظرافت نے پھڑکنا شروع کر دیا ۔ کمبخت اِس رگ نے ہمیں، قیس کی طرح لیلائے فیس بک صحافت سے بڑا رگڑا دلوایا ہے ۔
ہم طریقِ خود غرض دوستانِ صحافت کے شدت سے خلاف ہیں ۔ خواہ وہ اخباری ہو ، میڈیائی ہو ، مُلّائی ہو یا " بلا گری" ہو ،
ہمیں اکثر ، مختلف فورموں میں گھسیٹا جاتا ہے اور پھر غالب سے کئے جانے والے حسنِ سلوک کا مستحق قرار دیا جاتا ۔
در پہ رہنے کو کہا اور کہہ کر کیسا "ناہجار" پھر گیا
جتنے عرصے میں میرا لپٹا ہوا بستر کھلا
  گو کہ ہم فورموں پر پبلسٹی کے محتاج نہیں ۔ لیکن کیا کریں ۔ ایک کھلنڈرا نوجوان ، بڑھاپے کی اِس راکھ میں کہیں چھپا بیٹھا ہے ، جو "رگِ ظرافت" کو گٹار کی طرح چھیڑنا شروع کر دیتا ہے ۔
محی الدین چوہدری کو جواب لکھا :
چوہدری جی : اِس دعا میں کیا طنز ہے ؟
اور اپنے رانا اکمل جی جو مچھلی کے شکاری کی طرح فیس بک کی جھیل کے کنارے ہماری طرح بیٹھے رہتے ہیں ، فوراً اپنی " اُدرو" میں جواب کا چارہ لڑھکایا ۔


Rana Akmal Mayre nazar may Tanz nahe Mazahh hay .bake har ek ke ap ne schoch hay.way say agar ya Dowa abol ho gee to un tamam Compnys ka kay ho ga jo machr marr Adwayat banatee hayn.

ہم جواب پڑھ رہے تھے کہ ، منادی کرنے والے نے ندا دی ،
" سر ! مہمان آئے ہیں "
ہم لیپ ٹاپ کو سُلا کر ، میزبانی کے فرائض سر انجام دینے ، اپنی "بیٹھک" سے نکل کر گھر کے "ڈرائینگ روم " پہنچے ۔ مہمان کو خوش آمدید کہا ، وہ دس منٹ بیٹھ کر چلے گئے ۔ واپس آئے ، اور 
یہ بلاگی پوسٹ وجود میں آئی ۔

چوہدری جی : اگر یہ عربی میں ہوتی تو لائکس 100تک تو ضرور جا پہنچتے اورجمعہ کے مبارک دن (مردوں کے جمعہ پڑھنے کی وجہ سے ) تو
٭- سبحان اللہ ،

٭- اللہ آپ کو خیر دے ۔

٭- کتنی اچھی دعا بتائی بابا جی آپ نے مچھروں سے نجات کے لئے -

٭- میرا تو مورٹین سے چھٹکارا آسان ہو گیا بہت مہنگی ہوگئی ۔
٭- لونگ اور لیموں ختم ہونے سے اماں ، نان سٹاپ صلوٰتیں دیتی تھیں اب دعائیں دیتی ہیں ، انکل اللہ آپ بھلا کرے اور نجیب عالم کے ٹوٹکوں سے بچائے ۔

٭ -   پیرِ عقل و دانش اِسے "طُغرا" بنا کر گھر کے بیرونی دروازے پر لٹکا دوں ۔

٭ - مجھے بھڑوں کے کاٹنے سے بچنے کی دُعا بتادیں انکل ۔ جو ڈیزرٹ کولر کی ہوا کے ساتھ کمرے میں آجاتی ہیں اور میں اُن سے چِڑی چِھکا کھیلتے کھیلتے تنگ آگئی ہوں ، کیوں کہ ایک آنکھ سے صحیح نظر نہیں آتا اور دوسری آنکھ ایک بھڑِ ناہنجار وناعاقبت اندیش نے سُجا دی ہے ۔

 
٭- بابا جی ۔ اپنا موبائل نمبر دیں یہاں کراچی میں، کھٹمل بہت ہوتے ہیں ۔ اُن کی دعا پوچھنی ہے ۔ کمبخت رات بھر سونے نہیں دیتے ۔

وغیرہ وغیرہ

                



         

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔