میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 23 مئی، 2015

آپ کیسا لکھتے ہیں ؟

جب سے فیس بک سے دوستی ہوئی ہے میں نے فیس بک پر پاکستانی اردو کی ترویج کی نئی جہت، ہمارے نوجوانوں میں دیکھی ہے ۔
کئی دوستوں نے رومن اردو میں کمنٹ لکھنا چھوڑ کر جب اردو میں لکھنا شروع کیا تو اُن کے کمنٹس کا میعار بہت اعلی ہو گیا جس کو پڑھ کر میں بہت لطف لیتا ۔
کئی دوستوں کو مشورہ دیا کہ وقت کے ساتھ کمنٹس فیس بک کی دھند میں غائب ہوجاتے ہیں ، انہیں ورڈ میں محفوظ کر لیں ۔ تاکہ بعد میں آپ اُن کو جمع کرلیں تو خود آپ کا ایک مضمون بن جائے گا ، جس کی قطع و بُرید کرکے آپ "ھماری ویب " پر ڈال سکتے ہیں تاکہ پڑھنے والوں کا بھلا ہو ۔
بھر میرا واسطہ بلاگ سے پڑا ۔ لیکن میں نے گھبرا کر چھوڑ دیا ۔
لیکن کوئی دو مہینے بعد ، ایک بلاگر کا بلاگ دیکھا ، جس مجھے بہت انسپائر کیا ۔ اُن سے پوچھا کہ یہ کیسے بنایا ھے ؟
بولا ایک دوست نے بنا کر دیا ہے اور ٹُھس ۔
میں نے اُن کے مضمونوں پسند کرنے والوں کی فہرست دیکھی تو ڈر کر مرعوب ہو گیااور دوبارہ سوال نہ کیا ۔
پھر ایک اور بلاگر سے واسطہ پڑا ۔ اُن سے بھی پوچھا کہ بھائی بلاگ کس نے بنایا ؟ اُنہوں نے بھی کوئی "درک" نہیں ماری ۔ 
پھر اپنے داماد سے مدد مانگی انہوں نے دونوں بلاگ دیکھے اور مجھے میرا بلاگ بنادیا ۔اور ہدایت کی انگلش میں لکھنا گوگل والے پیسے بھی دیتے ہیں ۔
اور یوں میں نے اپنا پہلا مضمون
EDUCATIONAL RENAISSANCE بلاگ پر ڈالا جو انگلش میں تھا ۔
یہ مضمون میں نے " ہماری ویب " پر ڈالا تھا ۔ ارے ہاں ، اپنی ویب پر مضمون لکھتے لکھتے میں تنگ آگیا تھا ۔ ایک دوست نے " ہماری ویب" کا بتایا ۔
جو ہمیں اپنی ویب سائیٹس کے مقابلے میں آسان لگی یوں وہاں پہلا مضمون ،
  کزن میرج  ڈالا تھا ۔
بہرحال اپنے پہلے مضمون کے پڑھنے والے اور دیکھنے والے ہم ہی تھے ۔ پھر ہم نے اپنے مضمون ہماری ویب سے بلاگ پر شفٹ کرنے شروع کئے اور پڑھنے والوں کی تعداد بڑھتی گئی ۔ اور مزے کی بات کمنٹس بھی آنے لگے ۔

اپنی حوصلہ افزائی دیکھ کر کئی اعلیٰ قسم کے مضمون لکھنے والوں کو مشور دیا کہ بلاگ بنائیں ۔ 
ابھی اپنے بلاگ پر مضمون ڈال رہے تھے کہ ایک مردِ درویش نے رائے دی کہ بلاگ کے کافی ٹمپلیٹ ویب پر ہیں - جو دیکھیں لیکن اپنے بلاگ کے لئے ۔ گوگل ٹمپلیٹ ہی رہنے دی مگر اُس میں جوانی میں پڑھے ہوئے اسباق کے مطابق تبدیلیاں کر لیں
 بیگم کے بلاگ کے لئے ، ویب سے ٹمپلیٹ اُٹھائی ۔ یوں اُن کا قدم بھی نو آموزبلاگرز میں رکھوا دیا اور ، ہمارئ ویب پر موجود ، اُن کے بھی مضامین بھی اُن کے بلاگ پر ڈال دیئے ۔
اور انگریزی کے بجائے اردو میں لکھنا شروع کر دیا ۔ 
یقین مانیئے ،اردو لکھنا ، بولنے سے زیادہ آسان ہے ۔ بولنے میں جو منہ سے نکل گیا ، نکل گیا ۔
لیکن لکھنے میں آپ الفاظ کو کانٹ چھانٹ سکتے ہیں ، انہیں بہترین بنا سکتے ہیں ، شعر اور مقولات ڈال سکتے ہیں تصاویر سے مضمون کو زیادہ فصیح کر سکتے ہیں ۔ اگر جملے غلط ہوگئے تو دوبارہ ایڈٹ کر دیں ۔ 

اردو میں کمنٹس لکھنے کے لئے یہ مضمون پڑھیں ۔
   رومن اردو سے اردو
 
بہر حال اپنا بلاگ بنانے کے لئے یہ مضمون پڑھیں !  اپنا بلاگ بنائیں اور بلاگر بنیں ۔
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔