میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

منگل، 26 مئی، 2015

حکایاتِ پیرِ فرتوت


تو میری ایک بات مانو !

ٰ
ٰ
ٰ
ٰ
ٰ
ٰ
ٰ
ٰ
ٰ
ٰ
ٰ
ٰ
ٰ
اپنی آنکھیں عطیہ کرو !

1 تبصرہ:

  1. تو دوستو !
    جب ہم دوسروں کے اعضاء اپنے اعضاء ( خون ، گردے ، آنکھیں ، جگر ، بون میرو ) لے سکتے ہیں ، تو ہم دوسرے ضرورت مندوں کو مرتے وقت قابلِ پیوند کاری اعضاء بھی عطیہ کر سکتے ہیں !
    ذرا سوچئے ،
    یہ پوسٹ ، مذاق نہیں اک ایسی سچائی ی طرف اشارہ ہے ۔ جسے صدقہ جاریہ کہتے ہیں !

    جواب دیںحذف کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔