میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار, مئی 10, 2015

توّکل کیا ہے ؟


    ہم توکّل میں جب تک امام الانبیاء ؐ، خلفائے راشدینؓ اور صحابہ کرامؓ کی پیروی نہیں کریں گے، ہم شاید اس وقت تک دنیا اور آخرت میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے لیکن سوال یہ ہے نبی اکرمؐ اور خلفاء راشدینؓ کا توکل تھا کیا؟
    توکّل کی بے شمار قسمیں ہیں
    مثلاً توکّل ہجرت بھی تھی، جب دیکھا مکّہ میں رہنا مشکل ہے، کفّار اہل ایمان کو بے مقصد لڑائیوں میں الجھا رہے ہیں اور یہ لڑائیاں وقت اور توانائی کا ضیاع ہیں تو ایک ایسے شہر مدینہ کی طرف ہجرت فرما لی جو جغرافیائی اور تجارتی لحاظ سے اہم تھا،
    توکّل غزوہ بدر بھی تھا، دوہجری میں مکّہ کے کُفّار نے مدینہ پر حملے کا فیصلہ کیا، ایک ہزار کا لشکر تیارہوا، مدینہ میں اطلاع ہوئی تو دو آپشن تھے۔

    پہلا آپشن : وہ لوگ مدینہ میں بیٹھ کر دعا کرواتے، اللہ تعالیٰ اپنے محبوبؐ کی کوئی بات نہیں ٹالتا تھا چنانچہ وہ دعا فرماتے اور کفار کے لشکر میں وباء پھوٹ پڑتی یا مکہ میں سیلاب آ جاتا اور کافر مصیبتوں کا شکار ہو کر ہلاک ہو جاتے لیکن اللہ کے نبیؐ نے ساتھی گنے،
    دوسرا آپشن: مدینہ میں 313 ایسے مرد نکلے جو جنگ کے قابل تھے، تلواریں گنیں، وہ8 تھیں، سواریاں دیکھیں، 70 اونٹ اوردو گھوڑے تھے اور زرہیں جمع کیں ،یہ تین یا چھ تھیں، یہ سامان اور یہ مجاہد لیے اور (مدینہ کے مرٖغزار سے 100 میل دور ، پتھریلے اور چٹیل میدان)
    بدر پہنچ گئے، میدان بدر میں دشمن سے پہلے پانی کے کنوئیں کا کنٹرول لے لیا، عقب میں پہاڑرکھتے ہوئے بہترین مقام پر خیمے لگائے اور ایسی جگہ صف آراء ہوئے جو جنگی نکتہ نظر سے بہترین تھی، ان تمام انتظامات کے بعد اللہ سے عرض کیا، یا باری تعالیٰ میرے پاس صرف یہ لوگ ہیں۔
    اگر آج یہ لوگ بھی شہید ہو گئے تو پھر توکّل اللہ پر ایمان کی روشنی میں اپنے ربّ کو پکارا ،
    "دنیا میں تیرا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا"۔
    اوراللہ تعالیٰ نے اپنے عباد الصالحین کے لئے ، اپنی نصرت بھجوا دی،
    توکل غزوہ احد بھی تھا، آپؐ نے دیکھا، احد کی ایک چوٹی جنگی نکتہ نظر سے اہم ہے، اگر یہاں تیر انداز بٹھا دیے جائیں تو جنگ جیت جائیں گے، اللہ کے رسولؐ نے وہاں تیر انداز بٹھا دیے اور ان کو حکم دیا جنگ کی صورتحال کچھ بھی ہو تم نے یہ جگہ نہیں چھوڑنی، مسلمان ابتدائی مرحلے میں جنگ جیت گئے ، تیر اندازوں نے جذباتی ہو کر وہ مقام چھوڑ دیااور پھر اس غلطی کا کیا خمیازہ بھگتا؟ یہ چودہ سو سال سے تاریخ کا حصہ ہے

    70مسلمان اور دندان مبارک شہید ہوگیا، غزوہ احد نے مسلمانوں کو پیغام دیا اللہ تعالیٰ کا معتبر اور مقدس ترین لشکر بھی اگر جنگ میں غلطی کرے گا، اگریہ حکمت عملی کے دائرے سے باہر قدم رکھے گا تو یہ بھی نقصان اٹھائے گا،
    توکل غزوہ خندق بھی تھا، کفّار نے پانچ ہجری کو مسلمانوں پر فیصلہ کن حملے کا فیصلہ کیا، پانچ قبائل اکٹھے ہوئے، دس ہزار جوان جمع ہوئے، لشکر کو کیل کانٹے سے لیس کیا گیا اور مدینہ پر حملہ آور ہو گئے۔

    مسلمانوں نے محسوس کیا ہمارے لیے کھلے میدان میں ان کا مقابلہ مشکل ہو گا، اللہ کے رسولؐ نے اپنے احباب سے مشورہ کیا، حضرت سلمان فارسیؓ نے خندق کھودنے کا مشورہ دیا، مشورہ پسند آیا، رسول اللہ ﷺ نے ان تمام صحابہ ؓ کو ساتھ لیا جن کے روحانی مقام تک دنیا کا کوئی ولی، کوئی صوفی، کوئی قطب، کوئی صاحب دعا اور کوئی متوکّل آج تک نہیں پہنچ سکا، وہ سب اٹھے اور مدینہ کے گرد خندق کھودی، دشمن کا لشکر آیا ، خندق کے سامنے پہنچ کر بے بس ہوا، اللہ کے نبیؐ نے نصرت کی دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے کفار کے خیمے تیز ہواؤں سے اکھاڑ دیے۔

    آپ حیات طیبہ کا مطالعہ کریں، آپ کو پورا توکّل سمجھ آ جائے گا-

    توکّل تین عناصر کا مجموعہ ہوتا ہے!
    تیاری، حکمت اور دعا۔
    ٭- وہ جانتے تھے تیاری کے لیے علم چاہیے،
    ٭- حکمت کے لیے عمل درکار ہے اور
    ٭- دعا کے لیے اللہ پر پختہ یقین چاہیے،

    آپ تاریخ اسلام کے صرف ابتدائی سو سال کا مطالعہ کر لیجیے۔

    آپ کو اسلامی لشکر کئی مقامات پر ہارتا ہوا، پسپا ہوتا ہوا اور بکھرتا ہوا بھی نظر آئے گا، آپ جب ان لشکروں کے سالاروں کا پروفائل نکالیں گے تو آپ کے سامنے ایسے ایسے نام آئیں گے جن کا ثانی دنیا آج تک پیدا نہیں کر سکی، وہ لوگ حکمت اور توکّل دونوں میں یکتا تھے
    مگر پھر وہ کیوں ہارے؟
    وہ کیوں پسپا ہوئے؟
    اور ان کے لشکر کیوں بکھرے؟

    آپ جب تاریخ سے یہ سوال پوچھیں گے تو تاریخ آپ کو وجوہات بھی بتائے گی اور یہ وجوہات غزوہ احد جیسی ہوں گی جس میں اہل ایمان نے جنگی حکمت عملی کے دائرے سے باہر قدم رکھ دیا تھا،

    آپ صرف خلفائے راشدین کی جنگی تاریخ نکال کر دیکھ لیں، آپ کو توکّل میں حکمت اور تیاری دونوں کی سمجھ آ جائے گی۔

    یہ دنیا حقائق کی دنیا ہے، مشرق سے لے کر مغرب تک اور زمین کی ساتویں تہہ سے لے کر ساتویں آسمان تک حقائق ہی حقائق ہیں، ہم اگر اپنی سستی، اپنی کم علمی، اپنی کم فہمی اور اپنی نالائقی کو تصوّف کا نام دے کر ان حقائق سے آنکھیں چرانا چاہیں تو الگ بات ہے ورنہ یہ حقائق چیخ چیخ کر بتاتے ہیں -
    اللہ کے انبیاء اور رسولوں کو جنگ کے میدانوں میں بھی اترنا پڑا اور سکون اور امن کی تلاش میں ہجرتیں بھی کرنا پڑیں،اپنی  تمام تر روحانیت، تصوّف اور توکّل کے باوجود مجروح ہوئے اور انھیں دواء اور حکیم کی ضرورت بھی پڑی اور وہ دوائیں دنیاوی تھیں اوروہ اس وقت بھی یونانی، ہندی اور چینی کہلاتی تھیں۔

    وہ ہستیاں جب دین کے ساتھ ساتھ دنیاوی علم کو تسلیم کرتی تھیں تو آج ہم دین اور دنیا کے علم کو توکّل کے خلاف کیوں قرار دے رہے ہیں؟
    ہم جس دن ٹھنڈے دل سے علم، ٹیکنالوجی اور توکّل اور صرف توکل کا تقابل کریں گے تو ہمارے لیے طالبان اور اسامہ بن لادن کی مثال ہی کافی ہو گی، یہ متوکّل لوگ تھے لیکن جب جنگ ہوئی تو ٹیکنالوجی فضا سے حملے کرتی رہی اور یہ لوگ زمین پر دشمن کا انتظار کرتے رہے، نتیجہ آپ کے سامنے ہے!
    پوری اسلامی دنیا تورا بورا جیسے انجام سے خوفزدہ ہو کر کفّار کے ساتھ کھڑی ہو گئی اور بوریا نشین بیچارے اکیلے رہ گئے۔

    نیٹو نے 14 برسوں میں صرف ساڑھے تین ہزارنعشیں اٹھائیں ، افغانستان کے 20لاکھ بے گناہ لوگ مارے گئے جب کہ امیر المومنین آج تک روپوش ہیں اور شیخ اسامہ یمنی نے ایبٹ آباد میں پناہ لے لی اور سات برس تک اپنا سر باہر نہیں نکالا-

    یہ لوگ اگر متوکّل تھے، یہ اگر اللہ کی نصرت پر یقین رکھتے تھے تو یہ میدان میں کھڑے کیوں نہیں رہے؟

    اور 20 لاکھ بے گناہ افغان کیوں مارے گئے! کیاافغانوں کی یہ 20 لاکھ لاشیں ہمارے اس فکری قحط کا نتیجہ نہیں ہیں جس کی گرفت میں آ کر ہم علم اور عمل دونوں سے دور ہو چکے ہیں۔

    ہم مسلمانوں کو بہرحال یہ ماننا ہو گا، اللہ کی مدد مانگنے سے پہلے بدر میں آنا پڑتا ہے، جنگ کے لیے بہترین جگہ کا تعین کرنا پڑتا ہے، پوری تیاری کرنا پڑتی ہے اور آپ اگر 313 ہیں۔  تو آپ کو وہ 313 میدان میں لانے پڑتے ہیں، ہمیں اس مغالطے سے بھی باہر آنا ہو گا، ہم پر دواء سے لے کر میزائل اور گاڑی سے لے کر جہاز تک مغرب کی تمام مصنوعات حلال ہیں لیکن ان مصنوعات کی ایجاد حرام ہے۔
    ہمیں یہ طریقہ بھی ترک کرنا ہو گا جس میں پیر صاحب، حضرت صاحب، امام صاحب اور مولانا صاحب پوری زندگی لوگوں کو تعویذ دیتے ہیں۔

    ان کے پانی میں شفاء کی پھونک مارتے ہیں اور ان کے کندھے پر تھپکی دے کر انھیں توکّل کے راستے پر روانہ کرتے ہیں لیکن جب خود زکام میں مبتلا ہوتے ہیں تو یہودیوں اور عیسائیوں کی دوائیں کھاتے دیر نہیں لگاتے، یہ لوگ اپنے لیے جرمن گاڑیاں پسند کرتے ہیں اور دوسروں کو فاقہ مستی اور اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پانے کا درس دیتے ہیں-

    ہم کتنے بدنصیب ہیں، ہم علم کے بغیر مچھر کو نہیں سمجھ سکتے لیکن ہم جاہل رہ کر اللہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں،
    کیا یہ تضاد نہیں؟اور کیا ہمیں اب تضاد سے باہر نہیں نکلنا چاہیے؟۔

    (ماخوذ)


      ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
    نوٹ :
    1- یہ What's App:
    سے" توکل کی وضاحت کے لئے میرا انتخاب ہے  " - اِس کو میں نے اپنی حد تک سنسر بھی کیا ہے جس میں مصنف نے کچھ زیادہ جذباتیت کا مظاہرہ کیا ہے ۔
    2- تینوں جنگوں کا نقشہ میں نے لگایا ہے یہ تینوں جگہیں میں نے دیکھی ہیں ۔ میں اِن پر لکھی گئی روایات اور مبالغے سے متفق نہیں ۔
    3- خندق مدینہ کے گرد کہاں کھودی گئی ؟ یہ سول تشنہ ہے - اگر سبع مساجد کے علاقے میں کھودی گئی تو پھر بھی کچھ سوچا جاسکتا ہے ۔ کہ ایک گھاٹی میں پناہ ینے کے لئے یہ بندوبست کیا گیا تھا ۔
    3- میں اہلِ مکہ کہ بے وقوفی پر بحیثیت فوجی حیران ہوتا ہوں کہ تینوں جنگوں میں وہ خالی مدینہ پر کیوں نہیں قابض ہوئے ؟
    4- میں نے جب اِن جگہوں پر جاکر ، انہیں تاریخ سے ملایا تو مجھے مجوسی جھوٹ و مبالغے کا انبار نظر آیا ۔
    کبھی آپ نے سوچا کہ مسلمانوں سے منسوب یہ تینوں جنگیں دفاعی تھیں یا جارحانہ ؟


     

     

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔