میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 8 جون، 2015

004-النساء -یتیموں اوربیواؤں کی حفاظت


سورۃ النساء کی پہلی 6 آیات جو محمد رسول اللہ نے انسانوں پر حدیث کیں :-

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَ‌بَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِ‌جَالًا كَثِيرً‌ا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْ‌حَامَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَ‌قِيبًا ﴿النساء :1﴾  
اے انسانو! اپنے ربّ سے تقی رہو ، وہ جس نے تمہیں نفسِ واحدۃ میں سے خلق یا اور اُس میں سے اُس کا زوج بنایا  اور پھیلائے اُن دونوں میں سے کثیر رجال اور نساء ، اور تقی اللہ س وہ جس سے تم الارحام کا سوال کرتے ہو ، بے شک اللہ تم پر رقیب ہے ۔
 
وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرً‌ا
﴿النساء :2﴾

اور الیتامیٰ(مذکر و مؤنث) کو اُن کے اموال دے دو ، اور تم مت تبدیل کرو الخبث کو الطیب سے ، اور تم مت کھاؤ اُن کے اموال اپنے اموال کی طرف (طرح) بے شک وہ(الیتامیٰ کے اموال کی تبدیلی اور کھانا) کبیر حُوب ہے ۔ 
 وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُ‌بَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا ﴿النساء :3﴾


اوراگر تمھیں خوف ہو کہ الیتامیٰ (مذکر و مؤنث) میں تم قسط نہیں کرسکتے ، پس نکاح کریں ! جو تمھارے لئے طاب (طَيِّبَةً ) ہو النساء میں سے ، دو دو ، تین تین اور چار چار ۔ اوراگر تمھیں خوف ہو کہ تم عدل نہ کرسکو گے توپس (نکاح کے لئے ) واحدۃ یا جو مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ہیں - یہ ادنیٰ ہے یہ کہ تم عول (بعل) ہو!
وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً ۚ فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَرِ‌يئًا  ﴿النساء :4﴾
اورالنساء کو اُن کے صدقاتِ نِحْلَةً دو! پس تمھارے لئے کسی شئی میں سے نفساً طِبْنَ ( طیب) ہو ، پس تم اُسے ( صدقاتِ نحلۃ کو ) بخوشی کھاؤ ۔

  وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّـهُ لَكُمْ قِيَامًا وَارْ‌زُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُ‌وفًا  ﴿النساء :5﴾

اور تم احمقوں کو اپنے اموال مت دو، وہ ( مؤنث) جس پر اللہ نے تمھیں ( نکاح کروا کر) قیام (قوام) قرار دیاہو۔ اور ان (احمقوں) کو اُس میں سے کھلاؤ، اورپہناوا دو اور اُن کے لئے جو بھی قول کہو معروف قول کہو -
 وَابْتَلُوا الْيَتَامَىٰ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُ‌شْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَ‌افًا وَبِدَارً‌ا أَنْ يَكْبَرُ‌وا ۚ وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَنْ كَانَ فَقِيرً‌ا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُ‌وفِ ۚ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ حَسِيبًا ﴿النساء :6﴾ 
 اورالیتامیٰ کو آزماتے رہو ، یہاں تک کہ النکاح کے لئے بالغ (مشہور) ہوں، اوراگر تمھیں اُن میں (احمقانہ پن کے بجائے ) رُشد دکھائی دے ، تو اُن کے اموال اُن کی طرف دفع کرو ، اوریہ کہ وہ بڑے ہوجائیں ۔  تم (اُن کے اموال کو) اسراف اور بدر ( جلد بازی) میں مت کھاؤ- اور جو غنی ہیں تو وہ ( مالِ الیتامیٰ سے) عفف ( بچے ) رہیں ۔ اور جو فقیر ہیں تو وہ معروف کے ساتھ کھائیں ۔ اور جب تم اُن کے مال اُن کی طرف دفع کرو تواُن پر پس اُن پر  شاھد ( گواہ) لو - اور اللہ حساب کے لئے کافی ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 نوٹ: اوپر کے چھ آیات جو محمد رسول اللہ نے عربی میں حدث کیں اور میں نے سمجھ کر مفہوم یا ترجمہ لکھا ، تو
میرے فہم کے مطابق آیت  :
1- سب انسان آپس میں رحم کے رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں
2- اللہ تعالیٰ یتیموں کے اموال کی حفاظت کرنے کے طریقے واضح کر رہا ہے ۔
3- الیتامیٰ کے ساتھ قسط کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ، اُن کی ماؤں یعنی نابالغ بچوں والی بیوہ جس کا شوہر اتنی مقدار میں بچوں کے لئے مال چھوڑ کر مرا ہو کہ جس کے خرد برد ہونے کا امکان ہو یا قبیلے میں موجود ایسی بیوہ جس کو سہارے کی ضرورت ہو اور مرد بھی دو دو ، تین تین اور چار چار یا کم از کم ایک بیوہ اور بچوں کا بوجھ اُٹھا سکتے ہوں ۔ تو وہ نکاح کر سکتے ہیں ورنہ وہ ، اپنی
مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ (قسموں والی ملکیت) پر ہی گذاراہ کریں ۔ 
 4- نکاح کرنے کے بعد عورتوں کے صدقاتِ نحلہ، مہر نہیں بلکہ ، متّوفی شوھر کے ترکے میں ملا ہوا بیوہ کا حصہ ، اب موجودہ طیب سمجھ کر بخوشی کھا سکتا ہے ۔ چھین کر وہ خبیث ہو جائے گا
5 - اب جن الیتامیٰ کے اوپر وہ الَّتِي(اُن ماں) سے نکاح کر ے قوام بن چکا ہے ، اُنہیں اُن کے مال میں سے کِھلا اور پہنا سکتا ہے ، اور معروف کے مطابق قول (الفاظ) استعمال کر سکتا ہے  -

6- یہ آیت الیتامیٰ کے اُس مال جو انہیں اُن کے باپ کی طرف سے وراثت میں ملا ہے ، اُس مفصل وضاحت کرتی ہے ۔ 

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگر آپ کے قبیلے(خاندان ) میں کوئی بچوں والی بیوہ یا بیوہ ہے تو اُس سے وہ مسلمان لازمی شادی کرے گا جو اُس کا بوجھ اُٹھا سکتا ہے ورنہ اپنی مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ کے ساتھ ہنسی خوشی گذارہ کرے ۔
اگر الرسول (حکومت) نے اُسے
مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ دی ہے

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


ایک سے زائد شادیوں کےفوائد :-
1 - مرد کو عورت کی قدر معلوم هوجاتی ھے
2 - عورت کی اهمیت اور خوشحالی بڑھ جاتی هے
3 - عورت پر کام کاج کا زیاده بوجھ نهیں پڑتا
4 - عورت مغلوب نهیں بلکه غالب بن جاتی ھے
5 - عورت کی زبان درازی نافرمانی ختم هوجاتی ھے
6 - عورتیں ، کمیاب ہونے سے ، عورت کی قدر بڑھ جاتی ہے ۔
7 - پہلی بیوی خود اپنی ہم مزاج دوسری بیوی تلاش کرتی ہے ۔
8 - مسلمانوں کی تعداد میں دگنا نہیں بلکہ 4 گناہ اضافہ ہوتا ہے -
9 - کوئی بھی عورت گھر میں اپنے رشتے کا انتظار کرتے کرتے بوڑھی نہیں ہوتی -

آپ کی کیا رائے ہے ؟ نیچے کمنٹس میں ضرور تحریر کریں


مزید مضامین ، اِس سلسلے میں دیکھیں :


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔