میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 8 جون، 2015

004-النساء -یتیموں اوربیواؤں کی حفاظت


سورۃ النساء کی پہلی 6 آیات جو محمد رسول اللہ نے انسانوں پر حدیث کیں :-

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَ‌بَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِ‌جَالًا كَثِيرً‌ا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْ‌حَامَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَ‌قِيبًا ﴿النساء :1﴾  
اے انسانو! اپنے ربّ سے تقی رہو ، وہ جس نے تمہیں نفسِ واحدۃ میں سے خلق یا اور اُس میں سے اُس کا زوج بنایا  اور پھیلائے اُن دونوں میں سے کثیر رجال اور نساء ، اور تقی اللہ س وہ جس سے تم الارحام کا سوال کرتے ہو ، بے شک اللہ تم پر رقیب ہے ۔
 
وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرً‌ا
﴿النساء :2﴾

اور الیتامیٰ(مذکر و مؤنث) کو اُن کے اموال دے دو ، اور تم مت تبدیل کرو الخبث کو الطیب سے ، اور تم مت کھاؤ اُن کے اموال اپنے اموال کی طرف (طرح) بے شک وہ(الیتامیٰ کے اموال کی تبدیلی اور کھانا) کبیر حُوب ہے ۔ 
 وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُ‌بَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا ﴿النساء :3﴾


اوراگر تمھیں خوف ہو کہ الیتامیٰ (مذکر و مؤنث) میں تم قسط نہیں کرسکتے ، پس نکاح کریں ! جو تمھارے لئے طاب (طَيِّبَةً ) ہو النساء میں سے ، دو دو ، تین تین اور چار چار ۔ اوراگر تمھیں خوف ہو کہ تم عدل نہ کرسکو گے توپس (نکاح کے لئے ) واحدۃ یا جو مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ہیں - یہ ادنیٰ ہے یہ کہ تم عول (بعل) ہو!
وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً ۚ فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَرِ‌يئًا  ﴿النساء :4﴾
اورالنساء کو اُن کے صدقاتِ نِحْلَةً دو! پس تمھارے لئے کسی شئی میں سے نفساً طِبْنَ ( طیب) ہو ، پس تم اُسے ( صدقاتِ نحلۃ کو ) بخوشی کھاؤ ۔

  وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّـهُ لَكُمْ قِيَامًا وَارْ‌زُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُ‌وفًا  ﴿النساء :5﴾

اور تم احمقوں کو اپنے اموال مت دو، وہ ( مؤنث) جس پر اللہ نے تمھیں ( نکاح کروا کر) قیام (قوام) قرار دیاہو۔ اور ان (احمقوں) کو اُس میں سے کھلاؤ، اورپہناوا دو اور اُن کے لئے جو بھی قول کہو معروف قول کہو -
 وَابْتَلُوا الْيَتَامَىٰ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُ‌شْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَ‌افًا وَبِدَارً‌ا أَنْ يَكْبَرُ‌وا ۚ وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَنْ كَانَ فَقِيرً‌ا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُ‌وفِ ۚ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ حَسِيبًا ﴿النساء :6﴾ 
 اورالیتامیٰ کو آزماتے رہو ، یہاں تک کہ النکاح کے لئے بالغ (مشہور) ہوں، اوراگر تمھیں اُن میں (احمقانہ پن کے بجائے ) رُشد دکھائی دے ، تو اُن کے اموال اُن کی طرف دفع کرو ، اوریہ کہ وہ بڑے ہوجائیں ۔  تم (اُن کے اموال کو) اسراف اور بدر ( جلد بازی) میں مت کھاؤ- اور جو غنی ہیں تو وہ ( مالِ الیتامیٰ سے) عفف ( بچے ) رہیں ۔ اور جو فقیر ہیں تو وہ معروف کے ساتھ کھائیں ۔ اور جب تم اُن کے مال اُن کی طرف دفع کرو تواُن پر پس اُن پر  شاھد ( گواہ) لو - اور اللہ حساب کے لئے کافی ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 نوٹ: اوپر کے چھ آیات جو محمد رسول اللہ نے عربی میں حدث کیں اور میں نے سمجھ کر مفہوم یا ترجمہ لکھا ، تو
میرے فہم کے مطابق آیت  :
1- سب انسان آپس میں رحم کے رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں
2- اللہ تعالیٰ یتیموں کے اموال کی حفاظت کرنے کے طریقے واضح کر رہا ہے ۔
3- الیتامیٰ کے ساتھ قسط کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ، اُن کی ماؤں یعنی نابالغ بچوں والی بیوہ جس کا شوہر اتنی مقدار میں بچوں کے لئے مال چھوڑ کر مرا ہو کہ جس کے خرد برد ہونے کا امکان ہو یا قبیلے میں موجود ایسی بیوہ جس کو سہارے کی ضرورت ہو اور مرد بھی دو دو ، تین تین اور چار چار یا کم از کم ایک بیوہ اور بچوں کا بوجھ اُٹھا سکتے ہوں ۔ تو وہ نکاح کر سکتے ہیں ورنہ وہ ، اپنی
مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ (قسموں والی ملکیت) پر ہی گذاراہ کریں ۔ 
 4- نکاح کرنے کے بعد عورتوں کے صدقاتِ نحلہ، مہر نہیں بلکہ ، متّوفی شوھر کے ترکے میں ملا ہوا بیوہ کا حصہ ، اب موجودہ طیب سمجھ کر بخوشی کھا سکتا ہے ۔ چھین کر وہ خبیث ہو جائے گا
5 - اب جن الیتامیٰ کے اوپر وہ الَّتِي(اُن ماں) سے نکاح کر ے قوام بن چکا ہے ، اُنہیں اُن کے مال میں سے کِھلا اور پہنا سکتا ہے ، اور معروف کے مطابق قول (الفاظ) استعمال کر سکتا ہے  -

6- یہ آیت الیتامیٰ کے اُس مال جو انہیں اُن کے باپ کی طرف سے وراثت میں ملا ہے ، اُس مفصل وضاحت کرتی ہے ۔ 

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگر آپ کے قبیلے(خاندان ) میں کوئی بچوں والی بیوہ یا بیوہ ہے تو اُس سے وہ مسلمان لازمی شادی کرے گا جو اُس کا بوجھ اُٹھا سکتا ہے ورنہ اپنی مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ کے ساتھ ہنسی خوشی گذارہ کرے ۔
اگر الرسول (حکومت) نے اُسے
مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ دی ہے

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


ایک سے زائد شادیوں کےفوائد :-
1 - مرد کو عورت کی قدر معلوم هوجاتی ھے
2 - عورت کی اهمیت اور خوشحالی بڑھ جاتی هے
3 - عورت پر کام کاج کا زیاده بوجھ نهیں پڑتا
4 - عورت مغلوب نهیں بلکه غالب بن جاتی ھے
5 - عورت کی زبان درازی نافرمانی ختم هوجاتی ھے
6 - عورتیں ، کمیاب ہونے سے ، عورت کی قدر بڑھ جاتی ہے ۔
7 - پہلی بیوی خود اپنی ہم مزاج دوسری بیوی تلاش کرتی ہے ۔
8 - مسلمانوں کی تعداد میں دگنا نہیں بلکہ 4 گناہ اضافہ ہوتا ہے -
9 - کوئی بھی عورت گھر میں اپنے رشتے کا انتظار کرتے کرتے بوڑھی نہیں ہوتی -

آپ کی کیا رائے ہے ؟ نیچے کمنٹس میں ضرور تحریر کریں


مزید مضامین ، اِس سلسلے میں دیکھیں :


17 تبصرے:

  1. غامدی انٹر نیشنل میں ایک بھائی نے سوال پوچھا جس کی بنیاد ، " کہ کیا لونڈیوں سے بغیر نکاح ے جسمانی تعلقات روا رکھے جا سکتے ہیں ؟

    جواب دیںحذف کریں
  2. یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. پہلے آپ یہ واضح کریں کے آپکی خود اس بارے میں کیا رائے ہے اور کیوں؟
    آپ کے ترجمے سے یہ واضح نہیں کہ قسموں والی ملکیت کے ساتھ کس قسم کا تعلق ہے؟

    جواب دیںحذف کریں
  4. ایلین جیمس :
    بیٹی شکریہ اس مضمون کو پڑھنے کا ، آپ میرا یہ مضمون پڑھیں :
    مرد و عورت کے جسمانی تعلقات
    http://ufaq-kay-par.blogspot.com/2015/06/blog-post_9.html

    جواب دیںحذف کریں
  5. یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. ہمارے ایک بہت قریبی دوست نویدالاسلام کہتے ہیں کہ 3:3 کو سمجھنے کے لیے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں:

    سورۃ النساء کی پہلی تین آیات پر کچھ غور کریں تو بات بلکل واضح ھو تی ھے کہ نہ تو بغیر شرط اسلام میں چار نکاح کی اجازت ھے اور نہ ھی لونڈیوں سے بغیر نکاح ازدواجی تعلقات کی - اسلام چار نکاح کی اجازت شرطیہ طور پردیتا ھے-

    4:1 يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا
    اے انسانو! اپنے رب سے بچو، جس نے تمہیں ایک جاندار سے پیدا کیا اور اس سے پیدا کیا اس کا جوڑا اوران دو سے پھیلا دیے بہت سے مرد اور عورتیں، اور اس اللہ سے بچو، جس کے ذریے تم سوال کرتے ھو اور رشتے داریوں سے بھی بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تمھیں دیکھ رہا ھے۔

    4:2 وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا
    اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور نہ بدلو اچھے کوبرے سے، اور ان کے مالوں کو اپنے مالوں کے ساتھ ملا کر کھاؤ، بے شک یہ بڑا گناه ہے۔

    4:3 وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا
    اور اگر تمہیں ڈر ھو کہ یتیموں سے انصاف نہیں کر سکتے تو نکاح کرو ان عورتوں میں سے جو تمھارے لیے مناسب ھوں، دو، تین، چار سے، لیکن اگر تمہیں ڈر ھو کہ انصاف نہ کر سکو گے تو ایک سے (نکاح کرو)، یا ان سے (نکاح کرو) جو حقیقت میں تمھاری میں ملکیت ھوں، یہ زیاده بہتر ھے کہ تم نہ ھٹو سیدھے راستے سے۔
    اس آیت میں فعل أمر انكِحُو مندرجۂ ذیل تین جملوں پر محکم ھے:
    (1) مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ => ان عورتوں میں سے جو تمھارے لیے مناسب ھوں
    (2) فَوَاحِدَةً => تو ایک سے
    (3) أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ => یا ان سے جو حقیقت میں تمھاری میں ملکیت ھوں

    اس آیت میں صرف شرطیہ طور پر چار تک نکاح کرنے کی اجازت ھے-
    اور وہ شرط یہ ھے کہ:
    (1) اگر دوران جنگ مسلمان مرد اللہ کی راہ میں لڑتے ھوءے مارے جایٔں (دیکھیے سابقہ سورة آل عمران آیات 3:154 تا 3:195) اور نتیجے کے طور پر مسلمان مردوں کی تعداد کم ھو جاۓ اور ان کے یتیم بچوں اور ان کے اموال کی دیکھ بھال انکے زندہ بچنے والے مسلمان بھاءیوں کی ذمہ داری ھو گی۔ اس صورت میں:
    "اور یتیموں کو ان کے مال دے دو اور نہ بدلو اچھے کوبرے سے، اور ان کے مالوں کو اپنے مالوں کے ساتھ ملا کر کھاوء، بے شک یہ بڑا گناه ہے۔" (سورة النساء 2)

    (2) "اور اگر تمہیں ڈر ھو کہ یتیموں سے انصاف نہیں کر سکتے تو نکاح کرو جو تمھارے لیے مناسب (دیکھیے سورة النساء آیات 22-23) ھوں، دو، تین، چار سے، لیکن اگر تمہیں ڈر ھو کہ انصاف نہ کر سکو گے تو ایک سے (نکاح کرو)، یا ان سے (نکاح کرو) جو حقیقت میں تمھاری میں ملکیت ھوں۔" (سورة النساء 3)

    دیکھیے تاج العروس:
    (وقالَ أبو سَعِيدٍ : يُقَالُ للمَرْأةِ : يَتِيمَةٌ ، لا يَزُولُ عَنْهَا اسمُ اليُتْمِ أَبَدًا ، وأَنْشَدُوا : ( وَيَنْكِحُ الأَرَامِلَ اليَتَامَى )
    وقالَ أبو عُبَيْدَةَ : تُدْعَى يَتِيمَةً مَا لَمْ تَتَزَوَّجْ ، فَإذَا تَزَوَّجَتْ زَالَ عَنْهَا اسْمُ اليُتْمِ ، وَكانَ المُفَضَّلُ يُنْشِدُ : ( أَفَاطِمُ إِنِّي هَالِكٌ فَتَثَبَّتِي وَلاَ تَجْزَعِي كُلُّ النِّسَاءِ يَتِيمُ)

    جواب دیںحذف کریں
  7. ایلین جیمس :
    بیٹی ماشاء اللہ ، آپ کے علم سے متاثر ہوا ہوں ۔

    اب آتے ہیں ، سورۃ انساء آیت 3 کی طرف ؛
    جیسا ہ میں نے اپور لکھا ہے :

    وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُ‌بَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا ﴿النساء :3﴾

    اوراگر تمھیں خوف ہو کہ الیتامیٰ (مذکر و مؤنث) میں تم قسط نہیں کرسکتے ، پس نکاح کریں ! جو تمھارے لئے طاب (طَيِّبَةً ) ہو النساء میں سے ، دو دو ، تین تین اور چار چار ۔ اوراگر تمھیں خوف ہو کہ تم عدل نہ کرسکو گے توپس (نکاح کے لئے ) واحدۃ یا جو مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ہیں - یہ ادنیٰ ہے یہ کہ تم عول (بعل) ہو!
    اور نیچے نوٹ میں اپنا فہم بتایا ہے :

    3- الیتامیٰ کے ساتھ قسط کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ، اُن کی ماؤں یعنی نابالغ بچوں والی بیوہ جس کا شوہر اتنی مقدار میں بچوں کے لئے مال چھوڑ کر مرا ہو کہ جس کے خرد برد ہونے کا امکان ہو یا قبیلے میں موجود ایسی بیوہ جس کو سہارے کی ضرورت ہو اور مرد بھی دو دو ، تین تین اور چار چار یا کم از کم ایک بیوہ اور بچوں کا بوجھ اُٹھا سکتے ہوں ۔ تو وہ نکاح کر سکتے ہیں ورنہ وہ ، اپنی مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ (قسموں والی ملکیت) پر ہی گذاراہ کریں ۔

    اِس پر تھوڑا غور کرتے ہیں ۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. رہی تاج العروس ، مجھے اُسے پڑھنے کا موقع نہیں ملا ۔ ابو سعید یا ابو عبید سے کیا منسوب ہے ۔ وہ بھی ماضی کا حصہ بن چکا ہے ۔ آپ اور زمانہ ء حال جاریہ میں ہیں اور الکتاب بھی زمانہ حال میں ہیں ۔

    اللہ کی آُن تمام آیات کاہے جو الکتاب میں ہیں اور القرآن بن کر محمد رسول اللہ پر وحی ہو ہی ہیں ، اور محمد رسول اللہ یہ وحی ہم انسانوں پر ، تلاوت کر ہے ہیں ، حدث کر رہے ہیں ، بیّن کر رہے ہیں ۔ اِن میں سب ، زمانہ حال جاریہ ہے یعنی Present Continuous Tense.
    اگر آپ نے پہے 6 آیات کو غور سے دیکھا ہو تو ، یہ ضرور محسوس یا ہوگا کہ یہ

    جواب دیںحذف کریں
  9. اِن پہلی 6 آیات میں ، مرد اور عورت کا آپس میں رشتہ بتاتے ہوئے ، رحم کے رشتوں کا ذکر کیا ہے اور پھر ، یتمیوں کی بابت بتایا ہے ، یتیم وہ ہے کہ جس کا باپ اِس ، اِس فانی دنیا ہے ، طبعی موت یا حادثاتی موت یا کسی جنگ کی وجہ سے ، چلا گیا ہو ، تو وہ یتیم کہلائے گا اور اُس کی ماں بیوہ ۔
    '
    یہ وہ آفاقی سچ ہے کہ جس میں سب انسانوں کو مخاطب کیا گیا ہے ، بلا تخصیص مذھب ، یتیم کے بارے میں ہر انسان اِس نصیحت پر عمل کرتا ہے ، خواہ یہ آیات اُس تک پہنچی ہوں یا نہ !

    جواب دیںحذف کریں
  10. اب جو پریشانی پیدا کرتا ہے ، وہ بیوہ عورتوں کی کفالت کا ہے (مطلقہ کا نہیں) یعنی یتیم کی ماں اور نہ ہی اُس کا ہے کہ جس بیوہ کے بچے نہ ہوں ۔ ہ سب سائیکالوجی کا کھیل ہے اور اُس معاشرے کے مردوعورت کی سائکلاجیک ایڈجسمنٹ کا پروگرام ہے !

    میں کسی بھی مذھبی معاشرے کا حوالہ نہیں دوں گا ۔ صرف انسانوں کی بات کروں گا کیوں کہ یہ آیات يَا أَيُّهَا النَّاسُ سے شروع ہوتی ہیں اور ربّ کا حوالہ دیتی ہیں !

    جواب دیںحذف کریں
  11. ہاں مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ (قسموں والی ملکیت) ے بارے میں سوال اِس پوسٹ پر پوچھیں!

    http://ufaq-kay-par.blogspot.com/2015/06/blog-post_9.html

    جواب دیںحذف کریں
  12. اگرچہ ہی بات درست ہے کہ قرآن کی ہر بات زمانہ حال میں ہم سب کے لیے ھدایت ہے، مگر یہ کہنا کہ جو کچھ تاج العروس میں لکھا ھے وہ اب ماضی کا حصہ ہے اور حال سے اس کا کوئ تعلق نہیں ایک ایسا صرف نظر ہے جس کی وجہ سے زمانہ حال میں قرآن

    جواب دیںحذف کریں
  13. سے محبت کے دعوہ کرنے والوں نے ایک قرآن کے بہت سے معانی بنا دیے ہیں۔ اگر ہر ایک پر قرآن ایسے ہی نازل ہوتا ہے تو پھر قرآن اور اس کے معنی محفوظ تو نہ ہوئے نا؟
    یہی وجہ ہے کہ غلام پرویز، قمر زمان اور بے شمار لوگ اپنی اپنی مرضی کے مطالب نکال رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو بھی یہودی اور عیسائ الکتاب کی تلاوت کرتے دکھائ دیتے ھیں جبکہ نہ تو ان کے پاس الکتاب ہے اور نہ وہ تلاوت کرتے ہیں، میرے سے زیادہ یہ کون بتائے گا کیونکہ یہی میرا پس منظر ہے؟
    قرآن کا ترجمہ کرنے سے پہلے اسکے اصول وضع کرنا لازم ہے، اور سب سے اہم دو اصول یہ ہیں کہ
    ۱) قرآن اپنے مفہوم کو خود واضح کرتا ہے بذریعہ تصریف آیات
    ۲) نمبر ۱ کا انحصار عربی زبان کے صرف و نحو اور کلاسیکل عربی کی لغات پر ہے
    باقی اور بہت سے اصول ہیں

    معذرت کے ساتھ
    شأبہ

    جواب دیںحذف کریں
  14. -نہیں معذرت کی کوئی ضرورت نہیں ،
    مطالب و مفہوم تو لوگ اپنے ارد گرد کے ماحول کے مطابق ہی نکالتے ہیں اور ترجمہ اپنی علمی قابلیت کے مطابق ہی کرتے ہیں ، اِس میں کوئی حرج نہیں اور تصریف الایات کے ذریعے ہی سمجھیں گے - جس سے مجھے بھی انکار نہیں ، لیکن شرط یہ ہے ، کہ سب عربی سے ہو عجمی سے نہیں ۔
    " عربی اور عجمی " کا فرق آپ نے اگر سمجھنا ہو تو میرا یہ مضمون پڑھ لیں ۔

    http://ufaq-kay-par.blogspot.com/2014/04/blog-post_5.html

    جواب دیںحذف کریں
  15. یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. مجھے جیوز(یہودی) اور کرسچئین (عیسائی) ، کبھی الکتاب کی تلاوت کرتے نہیں دکھائی دئے ۔ جیوز اپنی کتاب پڑھتے ہیں اور عیسائی اپنی کتاب ۔ لیکن وہ الکتاب نہیں پڑھتے !
      '
      لیکن کیا کروں ، محمد رسول اللہ نے مجھ پر عربی میں یہ آیت حدیث کی ہے :

      وَقَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَ‌ىٰ عَلَىٰ شَيْءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَ‌ىٰ لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ كَذَٰلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ فَاللَّـهُ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ - ( البقرۃ-113)

      اِس میں تو یہی لکھا ہے جو میں نے اپنی، درج ذیل پوسٹ میں لکھا ہے اگر آپ کو عربی آتی ہے ، تو بہتر ورنہ آپ کسی کے ترجمے سے نہیں سمجھ سکتیں :
      http://ufaq-kay-par.blogspot.com/2015/06/YahoodandNasararecites.html

      ہاں یہ سوال اگر آپ اس پوسٹ پر پوچھیں تو ، وہاں مزید جواب دینا زیادہ بہتر ہو گا ۔

      حذف کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔