میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 9 جون، 2015

شرع اللہ کے مطابق

محمد رسول اللہ نے شرع کے متعلق اللہ کی آیات عربی میں انسانوں کو حدث کیں :ـ
شَرَ‌عَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَ‌اهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّ‌قُوا فِيهِ كَبُرَ‌ عَلَى الْمُشْرِ‌كِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ اللَّـهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ ﴿الشورى: 13﴾
تمھارے لئےشرع، جس کی اِس ( شرع) کےساتھ نوح کو کی اور وہی  ( شرع) ، جوہم نے تیری طرف وحی کی - جو جس  ( شرع) کے ساتھ ہم نے ابراھیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو کی ، یہ کہ وہ اقام الدین کریں او اِس میں تم تفرقہ مت کرو " مشرکین کے لئے ( فرقہ بندی ) کبر(کبیر فعل) ہے ، جس( شرع اور اتحاد) کی طرف تو اُنہیں دعوت دیتا ہے ۔ اللہ تجھے اپنی یشاء سے اس  ( شرع) کی طرف منتخب کرتا ہے اوراُس  ( شرع) کی طرف ھدایت کرتا ہے جو توجہ دیتا ہے

أَمْ لَهُمْ شُرَ‌كَاءُ شَرَ‌عُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّـهُ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿الشورى: 21﴾
کیا اُن کے شرکاء ہیں جنہوں نے اُن کے لئے الدین میں کوئی شرع بنائی ؟ جس کی اللہ کوئی اجازت نہیں دیتا ۔ اور اگر كَلِمَةُ الْفَصْلِ نہ ہوتا ( کہ شرع اللہ نے اتحاد کے لئے وحی کی ) تو اُن کے مابین قضیہ ہو جاتا ۔ اور الظالمین کے لئے عذابِ الیم ہے 
كان الناس امة واحدة فبعث الله النبيين مبشرين ومنذرين وانزل معهم الكتاب بالحق ليحكم بين الناس فيما اختلفوا فيه وما اختلف فيه الا الذين اوتوه من بعد ما جاءتهم البينات بغيا بينهم فهدي الله الذين امنوا لما اختلفوا فيه من الحق باذنه والله يهدي من يشاء الي صراط مستقيم [البقرۃ : 213]

انسان ایک امت ھیں ، انسانوں کے درمیاں اختلاف کی وجہ سے ان میں علیحدگی کا خطرہ پید ھونے پر اللہ تعالیٰ مبشرین اور منذرین انبیاء کو اٹھاتا اور ان کے ھمراہ “الکتاب “ الحق کے ساتھ ھوتی ۔ تاکہ وہ انسانوں کے درمیان (پیدا ھونے والے ) اختلاف کو (الکتاب ) سے حکم کرتے ھوئے دور کریں ۔ اختلاف پر ڈٹے رہنے کی وجہ (الکتاب میں سے ) البینات آنے کے باوجود آپس کا بغض ( علمی ، آبائی حیثیت اور جاھلیت ) ھے ِلیکن جو لوگ ایمان والے ھیں (الکتاب میں سے البینات کو ) اللہ کا حکم اور اس کا اذن سمجھتے ھوئے اختاف کو ختم کر دیتے ھیں ۔ اور اللہ اپنی (الکتاب میں دی ھوئے ) یشاء سے صراط المستقیم کی طرف ھدایت کرتا ھے
وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ عَمَّا جَاءَكَ مِنَ الْحَقِّ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْ‌عَةً وَمِنْهَاجًا وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَ‌اتِ إِلَى اللَّـهِ مَرْ‌جِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ﴿المائدة: 48﴾
اور ہم نے تیری طرف الکتاب الحق کے ساتھ مصدق نازل کی ، اور اُس کے اوپر مھیمن ہے، جو ھاتھوں کے درمیان الکتاب میں سے ہے ، پس اُن کے مابین حکم کر جو اللہ نے (الکتاب) نازل کی ۔ جبکہ تیرے پاس الحق میں سے آگیا ہے ، تو اُن کی اھواء کی اتباع مت کر! تم میں سے کُل کے لیے اللہ نے ایک شریعت اور ایک منہاج قرار دی ہے ، اور اگر اللہ کی یشاء ہوتی تم ایک امت ہوتے (تفرقہ نہ کرتے) لیکن وہ تمھیں جو دیا ہے اُس میں آزماتا ہے - پس الخیرات میں سبقت کریں ۔ اللہ ہی کی طرف اکٹھا تمھارا رجوع ہے پس پھر وہ تھیں تمھارے اختلاف کی خبر دے گا ۔

وَإِذْ قِيلَ لَهُمُوَاسْأَلْهُمْ عَنِ الْقَرْ‌يَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَ‌ةَ الْبَحْرِ‌ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّ‌عًا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ لَا تَأْتِيهِمْ كَذَٰلِكَ نَبْلُوهُم بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ ﴿الأعراف: 163﴾
اوراُن سے بستی کے متعلق سوال کر جو سمندر کے پاس تھی وہ السَّبْتِ میں عداوت کرتے رہتے۔ جب اُن کے پاس، اُن کی حِيتَانُ (مچھلیاں) اُن کےيَوْمَ سَبْتِ ،شُرَّ‌عًا  آتیں، اور یوم جو اُن کے لئےسَبْتِ نہیں کئے گئے وہ ( حِيتَانُ) اُن کے پاس نہ آتیں ۔اُن کے فسق کرتے رھنے کی وجہ سے ہم نے اُن کو اسی طرح آزمایا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔