میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 22 جون، 2015

08- نکاح -1

نوٹ : الکتاب کی ترتیب کے مطابق اللہ کی محمدﷺ کو لکھوائی گئی ترتیل کے مطابق عربی کی آیات اور اُن کا ترجمہ اِس مضمون میں دیا ہے - الکتاب - آیاتِ النکاح و الطلاق

لیکن درج ذیل مضمون میری ترتیل کے مطابق ہے (مہاجرزادہ)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نکاح  (مرد و عورت کے جسمانی تعلقات کی ابتداء)



        نکاح (Marriage) سے مراد، مرد اور عورت کے درمیان ایسا  ’معاہدہ‘ ، جس کے ذریعے وہ باہم مل کر ازواجی زندگی گزار سکتے ہیں۔  مختلف اقوام میں  ’معاہدہ  نکاح‘ کے مختلف اصول و ضوابط ہیں۔ جو کسی دوسری قوم کے لئے قابل قبول نہ ہوں۔ لیکن اس  فرق کے  باوجود واحد آفاقی سچائی یہ ہے کہ ’معاہدہ  نکاح‘ خواہ  کسی طریقے سے ہو  اس کے بعد ہی مرد اور عورت باہم  عائلی زندگی گزار سکتے ہیں ۔  اس کے بغیر ان کے باہمی تعلقات کسی بھی معاشرے میں  (چند ایک کو چھوڑ کر) ناقابل معافی جرم ہے ۔

کیا نکاح ایک معاہدہ ہے ؟
       پہلے ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ کیا نکاح  بھی میاں اور بیوی کے درمیان گواہوں کی موجودگی میں ہونے والا ایک معاہدہ ہے یا نہیں ؟۔
اگر نہیں تو پھر سارے بحث بے کار و فضول ہے ۔ چنانچہ مرد اور عورت ، جسمانی تعلق رکھنے کے لئے آزاد ہیں ، جیسا یورپی اقوام میں ہوتا ہے یا جیسا ہمارے آزاد خیال مرد چاھتے ہیں ، سالہا سال ساتھ رھو ، نکاح کا کیا دلدّر پالنا ۔
نہیں ، ذرا ٹہریں !
کیا وہاں بالکل نکاح نہیں ہوتے ؟
وہاں ، کیا ہوتا ہے یہ تو وہاں کے رہنے والے ، اپنے کمنٹس میں بتا سکتے ہیں ،

اس  سلسلے میں ایک اہم با ت نوٹ کی جائے کہ معاہدہ  دراصل  باہمی مطابقت کی زبانی یا تحریری  کاروائی  ہوتی  ہے۔ چنا نچہ اس سے یہ  مطلب ہرگز  یہ نہیں لینا چاھیے کہ نکاح،  معاہدے کی ضمن میں نہیں گنا جا سکتا۔ نکاح  باقائدہ قبولیت کا ایک معاہدہ ہے۔ اس میں بھی باہمی مطابقت ہے۔
 وَإِنْ أَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ وَآتَیْْتُمْ إِحْدَاہُنَّ قِنطَاراً فَلاَ تَأْخُذُواْ مِنْہُ شَیْْئاً أَتَأْخُذُونَہُ بُہْتَاناً وَإِثْماً مُّبِیْناً(4/20)
اور اگر تم ایک زوج کو دوسری زوج سے تبدیل کرنا چاہو اور اگر تم  ان کو ڈھیروں خزانہ دے چکے ہو  تو تم ان سے کوئی شے واپس نہ لو۔ کیا تم ان پر بہتان لگا کر واپس لو گے (کیونکہ ان سے واپس لینے کا ایک یہی تمھارے پاس ذریعہ ہے) ؟  یہ واضح گنا ہ ہے ۔
        واپس نہ لینے کی وجہ وہ معاہدہ ہے جو ان عورتوں نے (بذریعہ ولی) نکاح کے وقت تم سے کیا تھا   ۔

وَکَیْْفَ تَأْخُذُونَہُ وَقَدْ أَفْضَی بَعْضُکُمْ إِلَی بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنکُم مِّیْثَاقاً غَلِیْظاً(4/21)
اور اس (خزانے) کو تم ان سے کیونکر واپس لے سکتے ہو؟ جبکہ حقیقت میں تم ایک دوسرے سے (معاہدہ کی) تکمیل تک پہنچ چکے ہو جبکہ وہ (عورتیں) تم سے“ پکا عہد“ لے چکی ہیں۔  

اب  صورت  حال  یہ  ہے کہ نکاح  کے وقت ایک معاہدہ  ہوتا خواہ  یہ معاہدہ  زبانی ہو یا تحریری-  معاہدے میں  پختہ عہد کے مطابق ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھا جاتا ہے   ۔

قَالَ إِنِّیْ أُرِیْدُ أَنْ أُنکِحَکَ إِحْدَی ابْنَتَیَّ ہَاتَیْْنِ عَلَی أَن تَأْجُرَنِیْ ثَمَانِیَ حِجَجٍ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْراً فَمِنْ عِندِکَ وَمَا أُرِیْدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَیْْکَ سَتَجِدُنِیْ إِن شَاء  اللَّہُ مِنَ الصَّالِحِیْنَ  (28/27)
کہا! میں چاہتا ہوں، کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح اس (عہد) پر تجھ سے کروں کہ تو آٹھ حجج(سال) میری تاجر(ملازمت) کرے گا پس اگر تو دس حجج (مکمل) کرے تو یہ تجھ پر منحصر ہے اور میں نہیں چاہتا کہ تجھے مشقت میں ڈالوں اور تو مجھے انشاء اللہ صالحین میں پائے گا۔

قَالَ ذَلِکَ بَیْْنِیْ وَبَیْْنَکَ أَیَّمَا الْأَجَلَیْْنِ قَضَیْْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ وَاللَّہُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیْلٌ   (28/28)
(موسیٰ نے) کہا! یہ(معاہدہ) تیرے اور میرے درمیان ہے کہ دونوں میں سے جو اجل (مدت) پوری ہو پس مجھ پر دشمنی نہیں ہو گی اور جو ہم قول کر رہے ہیں اللہ اس پر وکیل ہے۔ (کیوں کہ گواہ کوئی نہیں)

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پڑھیں،:  معاہدوں کے بارے میں اللہ کاحُکم   

 قانون شہادت (گواہی )۔
٭٭  اگلا مضمون :   نکاح کیوں کیا جاتا ہے؟

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


نوٹ: کچھ دوستوں نے پرسنل میسج کے ذریعے پوچھا،
" یہ آپ نے کہاں سے لئے ہیں ؟ "
قصہ یہ ہے کہ اگست 1998 میں ، اِس ناچیز نے ، شریعہ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی سے بذریعہ ، " خط و کتابت " کورس جناب ، " شہزاد اقبال شام " کی زیر نگرانی کیا تھا ۔ یہ 24 اسباق کا معلوماتی کورس تھا ۔ یہ 24 یونٹ انہوں نے مجھے بھجوائے ۔ جنھیں میں نے پڑھا ضرور لیکن جوابات اپنے فہم سے دیئے ۔ ہمارے درمیان تلخ و شیریں خط و کتابت بھی ہوئی ، اور اسباق پر دلچسپ نوٹس بھی اُن کی طرف سے پڑھے کو ملے ، وہ سب میں تصویر کھینچ کر اُنہیں ہر  یونٹ کے آخر میں لگاؤں گا۔
جو دوست یہ کرنے کے خواہشمند ہیں ۔ ضرور کریں
اسباق اور مجھے دئے گئے نمبر کی فہرست درج ذیل ہے :
یونٹ 1- القرآن  - حاصل کردہ نمبر : 88/100
یونٹ 2- سُنت    - حاصل کردہ نمبر : 78/100
یونٹ 3-اجماع    - حاصل کردہ نمبر : 40/100

یونٹ 4-قیاس     - حاصل کردہ نمبر : 00/100
یونٹ 5- اجتہاد   - حاصل کردہ نمبر : 48/100 
یونٹ 6- اسلام میں قانون سازی کا تصور اور طریق کار  ۔ حاصل کردہ نمبر : 57/100 
یونٹ 7- دینی مسائل میں اختلاف ، اسباب اور اُن کا حل - حاصل کردہ نمبر : 84/100
یونٹ 8- اسلام کا قانون و نکاح اور طلاق ۔ حاصل کردہ نمبر : 70/100 
یونٹ 9-  اسلام کا قانونِ وراثت و وصیت ۔ حاصل کردہ نمبر : 51/100 
یونٹ 10- اسلام میں عورت کی استشنائی حیثیت اور وجوہ ۔ حاصل کردہ نمبر : 70/100 
یونٹ 11- اسلام کا تصّورِ مال و ملکیت ۔ حاصل کردہ نمبر : 66/100 
یونٹ 12- اسلام کا تصّور معاہدہ ۔ حاصل کردہ نمبر : 74/100 
یونٹ 13-  اسلام میں شراکتی کاروبار کا تصّور ۔ حاصل کردہ نمبر : 76/100 
یونٹ 14-  مزارعت و مساقات ۔ حاصل کردہ نمبر : 40/100 
یونٹ 15- اسلام کا نظامِ محاصل ( زکوٰۃ) ۔ حاصل کردہ نمبر : 90/100 
( اِس یونٹ کے پرچے میں مجھے 90 کے بجائے 00 ملنے کی امید تھی )
یونٹ 16- اسلام کا نظامِ مصارف ( زکوٰۃ) ۔حاصل کردہ نمبر : 63/100 
یونٹ 17-  اسلام کا عدل و قضاء کا تصّور ( زکوٰۃ) ۔ حاصل کردہ نمبر : 72/100 
یونٹ 18-  اسلام کا نظامِ احتساب ۔ حاصل کردہ نمبر : 72/100 
یونٹ 19- اسلامی نظامِ عدل و قضاء میں شہادت کا تصّور  ۔ حاصل کردہ نمبر : 75/100 
یونٹ 20- اسلام کا تصّور جرم و سزا ۔ حاصل کردہ نمبر : 63/100 
یونٹ 21-  اسلام کا فوج داری قانون ۔ حاصل کردہ نمبر : 65/100 
یونٹ 22-  اسلام کا دستوری قانون ۔ حاصل کردہ نمبر : 75/100 
یونٹ 23-  اسلام کا قانون بین الممالک ۔ حاصل کردہ نمبر : 77/100 
یونٹ 24-  حرمٰتِ ربوا اور بلا سود بینکاری  ۔ حاصل کردہ نمبر : 45/100  


الکتاب اور القرآن کی روشنی میں میرا کتاب اللہ پر تدّبر :-

1- کتاب اللہ ، الکتاب اور القرآن ،
2- عربی و عجمی،
3-آیات اللہ پرانسانی ردِعمل - 1،

4 ۔  تورات سے حکم نہ کرنے والے ظالم اور کافر ہیں  
5 - کیا ہم جہنم میں صرف چند دن رہیں گے ؟  - ، 
6- روزے (صوم)،

 7- بنی اسرائیل کی العالمین پر فضیلت ؟ ،
8- فحاشی کیا ہوتی ہے ؟ ،
9- انسانی نفس ، تغیّر و تبدّل،

 10- اگر اللہ تعالٰی رازق ہے تو انسان بھوکے کیوں مرتے ہیں؟ ،
11- بدعت ، شرک نہیں ؟ ،
12- اقوامِ انسانی،

 13-  زمین پر خلیفہ کون بنا ؟
  14- کہانیوں سے تبلیغِ دین ،
15- النساء -یتیموں اوربیواؤں کی حفاظت، 

 16- مرد و عورت کے جسمانی تعلقات،
17- غلام لڑکی اور جسمانی تعلقات ،
  18- شرع اللہ کے مطابق ،

  19- جن پر غضب ہو اُن کی راہ سے بچو !،
  20- یہود و نصاریٰ الکتاب کی تلاوت کرتے ہیں ! ،
  21- آیات اللہ پرانسانی ردِعمل - 1
 22 -  کتاب اللہ اور تصور ملکیت  1

  23 - دہشت گردی
  24 - اسلام کا قانونِ نکاح اور طلاق -1
25  -  نکاح  (مرد و عورت کے جسمانی تعلقات کی ابتداء)



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔