میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 18 جون، 2015

6- اسلام میں قانون سازی کا تصور-1

آفاقی سچائیاں

  جب سے بشر اس کرہ ارض پر وارد ہو ا وہ ہمیشہ سے گروہ کی صورت ہی میں رہا خواہ یہ گروہ کم از کم دو  افراد (میاں بیوی) پر ہی کیوں نہ مشتمل رہا ہو۔  یہ دو افراد نہ چاھتے ہوئے بھی خود کو آہستہ آہستہ ان غیر مرئی  قوانین میں خود کو پابند کرتے جاتے  جنھیں آفاقی سچائیاں (Universal Truths) کہتے ہیں۔  یہی قوانین وہ اپنی ذریت پر بھی لاگو کرتے۔ کنبہ پھیلتا اور معاشرہ وجود میں آتا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ شریر بچے اپنے والدین کے بنائے ہوئے قانون کو توڑتے اور سزا کے حقدار بنتے۔  
  گویا انسان کی سرشت میں قانون بنانا  اس پر عمل کرنا یا توڑنا شامل ہیں۔ قانون پر عمل کرنے والے افراد اچھے افرادکہلاتے ہیں  اور قانون توڑنے والے برے افراد میں شامل کئے ہیں۔  انسانی بنائے ہوئے قوانین شکست و ریخت کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے پختگی کے مراحل کی طرف سست  رفتار سے رواں دواں رہتے ہیں۔ آفاقی سچائیوں (Universal Truths)  کے بنیادی  قوانین میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی  مگر اس کے خدوخال پر ترامیم کی تہیں چڑھتی جاتی ہیں اور بادی النظر میں بنیادی قوانین ختم ہوتے نظر آتے ہیں مگر مکافات عمل کا ایک گھونسہ ان پر چڑھے ہوئے غلافوں کو توڑ دیتا ہے اور بنیادی قوانین پھر اپنی اصلی شکل میں نمودار ہو جاتے ہیں۔ یہ بنیادی قانون دراصل آفاقی سچائی  ہے ۔  
ایسا کیوں ہوتا ہے؟
اللہ نے محمدﷺ کو بتایا :
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقَّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُہُ فَإِذَا ہُوَ زَاہِقٌ وَلَکُمُ الْوَیْْلُ مِمَّا تَصِفُونَ (21:18) 
بلکہ ہم حق کے ساتھ باطل کے دماغ کے اوپر قذف کر تے ہیں۔ پس وہ شکست خوردہ ہو جاتا ہے۔اور تمھارے لئے افسوس ہے جو تم (باطل)گھڑتے ہو“۔ 
یہ ہے وہ اصل وجہ جس سے باطل کے ہر وہ غلاف جو حق پر چڑھے ہوتے ہیں اتر جاتے ہیں۔  اور تمام آفاقی سچائیاں جو اس انسانی دنیا میں پائی جاتی ہیں۔  حق ہیں اور حق اللہ کی طرف  سے ہے ۔ 
الْحَقُّ مِن رَّبَّکَ فَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ (2:147)
الحق ترے ربّ کی طرف سے ہے پس  الممترین میں سے مت ہونا 
اس روئے زمین پر بسنے والے تما م افراد خواہ اُن کا تعلق کسی مذھب سے ہو  وہ کسی نہ کسی نہج پر آفاقی سچائیوں پر عمل کرتا ہے ۔ جبکہ ان اعمال کا تعلق صرف اس کے خاندان یا قبیلے سے ہوتا ہے۔ 
مثال کے طور پر ایک جیب کترا اپنی برادری کے فرد کی جیب کاٹنا  ’اخلاقی جرم‘ سمجھتا ہے یا ایک ڈاکو لوٹا ہو مال اپنے گرگوں میں ’ایمانداری ‘ سے تقسیم کرتا ہے۔ گویا وہ کسی نہ کسی طور پر ان آفاقی سچائیوں پر عمل کر رہے ہوتے ہیں جو بقول ان کے، ان کے دل کی آواز  یا تجربات ہوتے ہیں۔ 
گویا کسی بھی قانون کی بنیاد،  ایک فرد کے اپنے اصول ہیں جو معاشرے میں نمودار ہو کر یا تو قانون کا درجہ اختیار کر جاتے ہیں یا رد کر دئے جاتے ہیں۔ کسی کمزور یا غریب فرد کے اصول کسی معاشرے کے لئے کبھی قانون کا درجہ اختیار نہیں کر سکتے۔ اصولوں کو قوانین بنانے کے لئے مضبوط اور طاقتور ہونا ضروری ہے۔  قانون سازی کے دو منبع ہیں۔
٭۔ آفاقی سچائیاں (قانون الہی)    اور   
٭۔  انسانی  تجربات   
یہ دونوں مآخذ مسلم اور غیر مسلم دونوں معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔ غیر مسلم معاشرے میں آفاقی سچائیوں (حق) کی نمودکی رفتار بہت سست ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ ان آفاقی سچائیوں کو اپنے تجربات کے بل بوتے پر دریافت کرتے ہیں۔ جبکہ مسلم معاشرے میں حق تیزی سے پھیلتا کیوں کہ انہیں  یہ کتاب اللہ میں ملتا ہے اور مسلم معاشرہ اس پر عمل کرتا ہے ۔ اللہ نے محمدﷺ کو بتایا :
ذَلِکَ بِأَنَّ اللّہَ نَزَّلَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُواْ فِیْ الْکِتَابِ لَفِیْ شِقَاقٍ بَعِیْدٍ (2:/176)
وہ اِس لئے  اللہ نے تو الحق کے ساتھ الکتاب نازل کی ہے، اور وہ لوگ جنہوں نے الکتاب میں اختلاف کیا، اُن  میں (الکتاب کے لئے)بہت فاصلہ (Gap)ہے  
کتاب اللہ سے بھی اختلاف کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں دئے گئے احکامات  و قوانین انسان کے مفادات سے ٹکراتے ہیں  لہذا وہ ان میں ایسی چالاکی سے تبدیلی کرتااور ان تبدیلیوں پر عقیدت کا غلاف چڑھا دیتا ہے مگر اس کے نتیجے میں وہ صرف اور صرف اپنا نقصان کرتا ہے  اور  کتاب اللہ سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ مگر بزعم خویش کو خود کو کتاب اللہ سے جڑا ہوا سسمجھتا ہے ۔  انسان ہے کیا چیز؟  آیئے کتاب اللہ ہی میں سے دیکھتے ہیں جو ’الحق‘ ہے۔

٭۔ کائنات میں انسان کا مقام 
  انسان،  اللہ کی تخلیق ہے ۔ اللہ نے جب  آدم کو زمین پر وارد کیا تو اسے جو ہدایت دی وہ یہ تھی۔اللہ نے محمدﷺ کو بتایا :
قُلْنَا اہْبِطُواْ مِنْہَا جَمِیْعاً فَإِمَّا یَأْتِیَنَّکُم مَّنَّیْ ہُدًی فَمَن تَبِعَ ہُدَایَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ  (2:38)  
ہم نے کہا،”تم سب یہاں سے اُتر جاؤ،پس جب تمھاری طرف  میری ہدایت آئے۔تو جس نے میری ہدایت کی اتباع کی؟ تو اُس پر نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ غمگین ہونے والوں میں ہو گا“۔
اللہ کی تمام ہدایات  ’الکتاب‘ میں موجود ہیں ان کی اتباع کرنے پر کوئی خوف اور حزن نہیں ہوتا جبکہ ان سے اختلاف انسان کو ہدایت سے بہت دور لے جاتا ہے۔ 
اختلاف کا مادہ  ’خ۔ ل۔ ف‘ ہے ۔ جوکسی عمل کی راہ میں مزاحمت کرنے کا مفہوم دیتا ہے ۔  اختلاف تعمیری  بھی ہو سکتا ہے اور تخریبی بھی۔ کسی غلط حکم پر اختلاف تعمیری ہے اور اچھے حکم پر اختلاف تخریبی ہے۔ اختلاف انسان کی سرشت میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ نے ملائکہ کو اطلاع دی۔
اللہ نے محمدﷺ کو بتایا :
وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَءِکَۃِ إِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الأَرْضِ خَلِیْفَۃً َ.............. (2:30)
اور جب تیراربّ ملائکہ سے بولا،”بے شک میں الارض(جنت میں نہیں)  میں ایک خلیفہ بناؤں گا“  
خلیفۃ  (جس کا مادہ  خ۔ ل۔ ف) یعنی  اختلاف کرنے والا خواہ یہ تعمیری ہو (جو باعث رحمت ہے) یا تخریبی ہو (جو باعث زحمت ہے)  ۔
اختلاف کا تعلق علم کی ناہمواری سے ہوتا ہے یا انسانی ضد سے ۔ لیکن  ہر دو اختلاف دلیل کے مرہون منت نہیں۔ 
دلیل صرف تعمیری اختلاف میں دی جاتی ہے  اس سے یا تو اختلاف کرنے والے کا اختلاف ختم ہو جاتا ہے  یا جس سے اختلاف کیا جاتا ہے وہ  اختلاف کرنے والے کی دلیل کو مان لیتا ہے۔ 
جبکہ تخریبی اختلاف  دلیل کا نہیں بلکہ نفسانی خواہشات اور ہٹ دھرمی کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اتنی بصیرت اور علم دیا  جتنا ان کے لئے ضروری ہے۔ چنانچہ انہوں نے اسی علم کے بل بوتے پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔
- - -قَالُواْ أَتَجْعَلُ فِیْہَا مَن یُفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاء  وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکََ...... (2:30)
۔ ۔ وہ بولے،”کیا تو اُس کو بنائے گا  جو”خونی اور فسادی“  ہو گا؟ ہم تیرے لئے حمد اور تیرے لئے تقدیس کرتے ہیں“۔ ۔ ۔ 
اختلاف کا حتمی نتیجہ " خون اور فساد" ہے ۔ 
یہ علم یقیناً ملائکہ کو تھا ۔ لیکن یہ وجہ نہیں تھی کہ انسان سے پہلے، نار سے تخلیق کی گئی مخلوق الارض پر فساد کر رہی تھی یا خون بہا رہی تھی !
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ ﴿15:26 
 اور حقیقت میں ہم نے الْإِنسَانَ کوصَلْصَالٍ میں سےحَمَإٍ مَّسْنُونٍ میں سے خلق کیا
وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ السَّمُومِ ﴿15:27
 اور الْجَانَّ ہم نے اُس کو قَبْلُ میں سے نَّارِ السَّمُومِ میں سے خلق کیا


جس پر اللہ نے ان کو، ان کے علم کی محدودیت سے آگاہ کیا۔
 ۔ ۔ ۔  قَالَ إِنِّیْ أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (2:30)
۔ ۔  (تیرا ربّ) بولا،”بے شک جو مجھے علم ہے اُس کا تمھیں علم نہیں“۔  
چنانچہ اختلاف پیدا ہونا علم کا شاخسانہ ہے  خواہ یہ علم کی کمی کے باعث ہو یا زیادتی کے سبب۔ لیکن جب دلیل دی جاتی ہے تو کم علم و بصیرت شخص اپنی کم علمی و کم فہمی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے اختلاف کو تسلیم میں بدل لیتا ہے اور ہدایت پاتا ہے۔ لیکن جو شخص اپنے علم اور بصیرت کی کمی کے باوجود اختلاف پر ڈٹا رہتا ہے، کیونکہ وہ خود کو اس حکم یا قانون سے ماوراء اور ارفع سمجھتا ہے اوراس حکم یا قانون کو  ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔  جو بصارت اور بصیرت کا مرہون منت ہوتا ہے۔ تو وہ فرد اس جماعت سے علیحدہ ہو جاتا ہے اور ہدایت سے بھٹک جاتا ہے۔ اس روش کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے اس مثال سے کی ہے۔
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَءِکَۃِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِیْسَ أَبَی وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکَافِرِیْنَ  (2:34)

اور جب ہم نے  ملائکہ سے کہا ”آدم کے لئے سجدہ کرو“۔ پس انہوں نے سجدا کیا۔ سوائے ابلیس کے، اُس نے تکبر کرتے ہوئے رد کیا اوروہ کافروں میں (شامل) ہوا  ۔
ملائکہ اور ابلیس دونوں کی بصیرت  اللہ کے مقابلے میں محدود ہے ایک نے اپنی کم فہمی کو تسلیم کیا اور دوسرا کم فہمی کے باوجود اپنے اختلاف پر ڈٹ گیا۔ وجہ پوچھی گئی  ۔
اللہ نے محمدﷺ کو بتایا :
قَالَ یَا إِبْلِیْسُ مَا مَنَعَکَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ أَسْتَکْبَرْتَ أَمْ کُنتَ مِنَ الْعَالِیْنَ (38:75)
”اے ابلیس۔ تجھے کس نے منع کیا  یہ کہ تو اسے سجدہ نہ کرے جسے میں نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا؟ 
کیا تو تکبّر کرتا ہے؟ کیا تو الاعلاؤں میں سے ہے“ -
اس سے پہلے کہ ہم ابلیس کی آدم کو سجدہ نہ کرنے کی دلیل پڑھیں جو اس نے دی  ایک واضح آیت کو پڑھتے ہیں، جو
اللہ نے محمدﷺ کو بتائی :
إِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَاءِکَۃِ إِنِّیْ خَالِقٌ بَشَراً مِن طِیْنٍ (38:71)
جب تیرے ربّ  نے ملائکہ سے کہا۔”بے شک میں طین میں سے ایک بشر کا خالق ہوں۔
پہلے مرحلے میں بشر کی تحلیق طین سے، بشر=طین
فَإِذَا سَوَّیْْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِن رُّوحِیْ فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِیْنَ (38:72)
 پس جب میں اُسے ہمہ صفت کروں اور اُس میں اپنی روح  میں سے پھونکوں۔  
تو تم اس  (روح) کے لئے سجدہ کرنے والوں میں سے ہونا۔“  
دوسرا مرحلہ اس کی تکمیل(حیات)، بشر=طین +تکمیل۔
 اور تیسرے مرحلے میں اس میں  روح کا پھونکا جانا۔
 اللہ نے  ملائکہ کو اس وقت بشر کو سجدہ کرنے کو نہیں کہا جب وہ صورت طین تھا۔ یا جب مکمل کر دیا گیا تھا ۔
بلکہ اس وقت سجدہ کرنے کو کہا جب اس میں اللہ نے اپنی روح پھونکی۔ 

گویا مسجود ملائک,   بشر نہیں بلکہ ”روح اللّٰہ“ ہے۔اور جس بشر میں اللہ کی شاء سے آئی ، ہمیشہ رہے گی ۔
اللہ نے محمدﷺ کو بتایا :
رَفِيعُ الدَّرَجَاتِ ذُو الْعَرْشِ يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ لِيُنذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ ﴿40:15 
اب ہم ابلیس کی اس دلیل کو دیکھتے ہیں جو اس نے آدم کو سجدہ نہ کرنے کے لئے دی ۔
قَالَ أَنَا خَیْْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَہُ مِن طِیْنٍ (38:76)
 میں اِس (طین) سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے نار سے تخلیق کیا اور اسے طین سے“ 
اگر ہم اس آیت میں تدبرّ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس جو دلیل دے رہا ہے اُس میں وزن ہے کیونکہ آگ اور مٹی کا وہ مقابلہ کر رہاہے اور مقابلے میں دو مختلف اشیاء کبھی برابر نہیں ہوتیں، اُن میں سے ایک لازمی دوسری سے بہتر ہوتی ہے خواہ یہ ایک درجہ ہی کیوں نہ ہو۔لیکن اگر ہم دونوں آیات  ((38:71) اور (38:72)) کو دیکھیں تو اللہ نے بتا یا ہے کہ، بشر=طین +تکمیل +روح اللہ ہے۔ ابلیس جو اپنی دلیل دے رہا ہے اس میں وہ اپنے تخریبی اختلاف سے کام لے رہا ہے۔ کہ میں بشر (مرکّبِ طین) کو سجدہ کیوں کروں کیونکہ میں اس سے بہتر ہوں وہ طین اور میں آگ۔  ”روح اللّٰہ“ کووہ شامل ہی نہیں کر رہا۔
حقیقت میں بشر کے اندر اگر ”روح اللّٰہ“ ہے تو وہ آدمی ہے ورنہ مٹی کا مادھو۔ 
ملائکہ (تعمیری قوتیں) آدم میں موجود  ”روح اللّٰہ“  کو سجدہ کرتی ہیں اور تخریبی قوتوں (ابلیس) کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ آدمی  سے ”روح اللّٰہ“  منہا کرتے ہوئے  اس کی اہمیت کم کرکے یا اپنے برابر لا کر پہلے بشرثابت کریں اور پھر اس سے اختلاف کریں۔  کیونکہ  بحیثیت بشر(مرکّبِ طین) دونوں برابر ہوتے ہیں۔اللہ نے محمدﷺ کو بتایا :
۔۔۔۔۔۔ مَا نَرَاکَ إِلاَّ بَشَراً مِّثْلَنَا وَمَا نَرَاکَ اتَّبَعَکَ إِلاَّ الَّذِیْنَ ہُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّأْیِ وَمَا نَرَی لَکُمْ عَلَیْْنَا مِن فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّکُمْ کَاذِبِیْنَ (11:27)
”توہمیں ہماری ہی طرح ایک بشر(مرکّبِ طین) نظر آتا ہے۔اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کم حیثیت اور کم فہم لوگوں نے کی ہے۔ اور ہم تم لوگوں کو خود سے افضل بھی نہیں پاتے بلکہ ہمارا قیاس ہے کہ تم کاذب ہو“۔
حالانکہ جو انہیں  ہدایت کی طرف بلاتا ہے وہ  بشر(مرکّبِ طین) ہی ہے   لیکن  جو وجہ  امتیاز ہے  وہ ان کو نظر نہیں آتی ۔
 اللہ نے محمدﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے انسانوں کو بتایا :
قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوحَی إِلَیَّ أَنَّمَا إِلَہُکُمْ إِلَہٌ وَاحِدٌ فَمَن کَانَ یَرْجُو لِقَاء  رَبِّہِ فَلْیَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحاً وَلَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہِ أَحَدا۔(18:110)

کہہ۔ بے شک میں تمھا ری ہی طرح ایک بشر(مرکّبِ طین) ہوں۔ میری طرف وحی ہوئی ہے  کہ حقیقت میں تمھارا الہہ، واحد الہہ ہے۔ پس جو کوئی اللہ سے ملاقات کے لئے رجوع کرتا ہے۔ تو اس کے لئے(اس) عملِ صالح پر عمل کرنا (ضروری)ہے۔ (وہ یہ کہ) وہ اپنے ربّ کے ساتھ عبادت (من و عن حکم ماننے)میں کسی ایک کو بھی شریک نہ کرے۔“ 

  بشراپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا اور نہ ہی کہہ سکتا ہے  بلکہ اس سے حکماُ کہوایا جاتا ہے:

کہو:  بے شک میں تمھاری طرح  بشر(مرکّبِ طین) ہوں  میری طرف وحی ہوئی ہے ۔

 ٭۔  حقیقت میں تمھارا  الہ واحد الہ ہے ۔

 ٭۔  پس جو کوئی  رجوع کرتا ہے  اپنے  رب کے لقاء کا ۔

   @ اس کے لئے عمل صالح پر عمل (ضروری) ہے ۔

   @ اور اپنے  رب کے ساتھ عبادت میں کسی ایک کو بھی شریک نہ کرے ۔
اور نہ ہی کوئی بشر(مرکّبِ طین) کسی کو اپنی اتباع کا کہہ سکتا ہے۔ اتباع صرف اور صرف اللہ کی ہوتی ہے ۔

 اللہ نے محمدﷺ کو بتایا :
مَا کَانَ لِبَشَرٍ أَن یُؤْتِیَہُ اللّہُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُولَ لِلنَّاسِ کُونُواْ عِبَاداً لِّیْ مِن دُونِ اللّہِ وَلَکِن کُونُواْ رَبَّانِیِّیْنَ بِمَا کُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْکِتَابَ وَبِمَا کُنتُمْ تَدْرُسُون۔ (3:79)
” ایک بشر(مرکّبِ طین)کے لئے یہ ممکن نہیں کہ اللہ اسے الکتاب۔الحکمت اور النبوّت دے۔ پھر وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ کے علاوہ میرے عبد  (من و عن حکم ماننے والے)  بن جاؤ۔ بلکہ وہ تو یہ کہے گا کہ تم خود ربّانی ہو جاؤ۔ اس لئے کہ تم الکتاب کا علم رکھتے ہو اور تم درس دیتے ہو"
جس بشر(مرکّبِ طین) کو اللہ الکتاب ، الحکم اور ا  لنبوۃ  دے وہ  نبی ہی ہو سکتا ہے ۔ لیکن اللہ نے اِس باب کو بھی۔ محمدﷺ کو یہ آیت بتا کر بند کر دیا۔ لہذا نہ محمدﷺ نے الْمَلاَءِکَۃَ وَالنِّبِیِّیْْنَ کو ارباب بنایا نہ ہمیں ایسا کرنے کا حکم دے سکتے ہیں :
 
اللہ نے محمدﷺ کو بتایا :
وَلاَ یَأْمُرَکُمْ أَن تَتَّخِذُواْ الْمَلاَءِکَۃَ وَالنِّبِیِّیْْنَ أَرْبَاباً أَیَأْمُرُکُم بِالْکُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُون۔(3:80)
اور وہ تمھیں یہ حکم نہیں دیتا کہ تم ملائکہ اور نبیوں کو ارباب بنا لو۔ کیا وہ تمھیں مسلمان ہونے کے بعد کافر ہونے کا حکم دے گا؟
ربّانی اور ارباب کا ایک مادہ  (ر۔ ب۔ ب) ہے۔ خود ربانی بننے کی اجازت ہے کسی کو ارباب نہیں بنایا جاسکتا خواہ  وہ نبی ہی کیوں نہ ہو۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔ کیا اس سے کوئی انکار کر سکتا ہے؟

  ٭٭٭6- اسلام میں قانون سازی  کا تصور ٭٭٭٭ 

 جمہوریت اور اسلام  - قسط-2

 ٭٭٭٭٭٭٭٭جاری ہے ٭٭٭٭٭٭٭٭
 مزید مضامین ، اِس سلسلے میں دیکھیں :

 


 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔