میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 13 جون، 2015

قرض ، سود ، منافع اور الرِّبَا -2

  ”رباء“ اور  ”سود“ عربی اور اردو  کے دو الفاظ ۔ جو ہم معنی  کہے جاتے ہیں ۔اگر ہم ”سود“ کو عربی زبان کا ہی لفظ سمجھیں تو اس کا مادہ  ”س۔و۔د“ہے۔یعنی کالا (کالی رقم تو ویسے ہی جائز نہیں)۔

بہر حال، رباء کا مادہ  ”ر۔ب۔و“ہے ۔  اس سے بننے والے  الفاظ کا کتاب اللہ سے جو مفہوم نکلتا ہے وہ ’بڑھوتی ’ یا  ’اضافہ’کے معنی میں آتا ہے۔ یعنی Increase،یہ دو طرح کی ہوتی ہے ایک رباء سے اور دوسری زکوٰۃ سے۔

وَمَا آتَیْْتُم مِّن رِّباً لِّیَرْبُوَ فِیْ أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُو عِندَ اللَّہِ

اورتم جو  رِّبا  میں سے  دیتے ہو تاکہ   أَمْوَالِ النَّاس  میں رَبُو (اضعافہ)  ہو جائے پس وہ اللہ کے نزدیک  رَبُو (اضعافہ)  نہیں ہوتا  ۔

 وَمَا آتَیْْتُم مِّن زَکَاۃٍ تُرِیْدُونَ وَجْہَ اللَّہِ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُونَ (30/39)

 اورتم جو   زَکَاۃٍمیں سے اللہ کی خوشنودی کی خواہش میں  دیتے ہو۔ پس وہ  الْمُضْعِفُون (اضعافہ کرنے والوں) میں سے ہیں ”اور جو کچھ تم ایتاء کرتے ہو 

نوٹ:  یہ یاد رہے ، کہ  عربی میں  فعل مضارع ، اردو کےفعل حال جاریہ اور مستقبل دونوں میں استعمال ہوتا ہے   ۔  "   جیسے  کرتے ہویا کرتے رہتے ہو یا کرتے رہو گے  یا کرو گے " اپنی فہم کے مطابق   ہم کوئی بھی صیغہ لگا سکتے ہیں ۔ اہمیت  ترجمے اورصیغے کی نہیں، اللہ کے عربی میں احکامات کی ہے ۔


وَلاَ تَکُونُواْ کَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَہَا مِن بَعْدِ قُوَّۃٍ أَنکَاثاً

اور تم  اس (نساء) کی مانند مت ہو جس نے اپنی غَزْلَ  کو  نَقَض (توڑا) اس کے بعد جب اسے قُوَّۃٍ أَنکَاثً آئی۔ 

 تَتَّخِذُونَ أَیْْمَانَکُمْ دَخَلاً بَیْْنَکُمْ أَن تَکُونَ أُمَّۃٌ ہِیَ أَرْبَی مِنْ أُمَّۃٍ 
کیا تم اپنے  أَیْْمَان کو اس لئے پکڑتے ہو، تاکہ(عھد توڑ کر)   تم وہ   أُمَّۃٌ بنو، جو (دوسری)  أُمَّۃٌ سے أَرْبَی(بلند)  ہو۔
إِنَّمَا یَبْلُوکُمُ اللّٰہُ بِہِ وَلَیُبَیِّنَنَّ لَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُونَ(16/92)-
بے شک  اللہ تمھیں اس  کے ساتھ آزماتا ہے  اور تمھارے لئے  یَوْمَ الْقِیَامَۃ، واضح کرتا رہے گا  جس میں تم اس  کے ساتھ اختلاف کرتے ہو۔ 

وَمَثَلُ الَّذِیْنَ یُنفِقُونَ أَمْوَالَہُمُ ابْتِغَاء  مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَتَثْبِیْتاً مِّنْ أَنفُسِہِمْ 
اور اُن لوگوں کی مثال جو اپنے اموال سے انفاق، اللہ کی رضا اور اپنے نفسوں کی تثبیت کے لئے کرتے ہیں۔
کَمَثَلِ جَنَّۃٍ بِرَبْوَۃٍ أَصَابَہَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُکُلَہَا ضِعْفَیْْنِ فَإِن لَّمْ یُصِبْہَا وَابِلٌ فَطَلٌّ 
 اُن (کے مال)کی مثال جنت ِ کی ہے جوربوۃکے ساتھ ہے۔ اس پر موسلا دھاربارش ہو تو اضعافی خوراک لاتی ہے۔پس اگر  موسلا دھار بارش نہ ہو تو پس شبنم
وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیْرٌ (2/265)
۔ اور جو تم عمل کرتے ہو اللہ کو اس کی بصارت ہے“۔ 

  رِّباً ۔یَرْبُوَ۔ أَرْبَی  اور رَبْوَۃٍ
 یہ”ر۔ ب۔ و“کے مادے سے بننے والے الفاظ ہیں ۔ جن سے مراد بڑھوتی  ہے۔  کتاب اللہ میں اضعافے (ض۔ ع۔ ف)  کے الفاظ بھی آئے ہیں  لیکن  ر۔ ب۔ و ۔ مادے سے بننے والے الفاظ اور”ض۔ ع۔ ف“   مادے سے بننے والے الفاظ میں لازمی بات ہے کوئی فرق ضرور ہے جبھی اللہ تعالی نے  Increase کے لئے دو الگ الفاظ استعمال کئے ہیں ۔ 

وَمَا آتَیْْتُم مِّن رِّباً لِّیَرْبُوَ فِیْ أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا یَرْبُو عِندَ اللَّہِ
اورتم جو  رِّبا  میں سے  دیتے ہو تاکہ   أَمْوَالِ النَّاس  میں رَبُو (اضعافہ)  ہو  ِ پس وہ اللہ کے نزدیک  رَبُو (اضعافہ)  نہیں ہوگا۔
 وَمَا آتَیْْتُم مِّن زَکَاۃٍ تُرِیْدُونَ وَجْہَ اللَّہِ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُونَ (30/39)
 اورتم جو   زَکَاۃٍ میں سے اللہ کی خوشنودی کی خواہش میں  دیتے ہو۔ پس وہ  الْمُضْعِفُون (اضعافہ کرنے والوں) میں سے ہیں ”اور جو کچھ تم ایتاء کرتے ہو 

 ایتاء الزکوٰۃ  اور  ایتاء الربا

انسانی اموال میں  اضعافے کے دو ماخذ ہیں 
جن میں سے ایک میں اللہ کے نزدیک اضعافہ ہوتا ہے اسے ”ایتاء الزکوٰۃ“ کہا جاتا ہے  اور
دوسرے میں انسانوں کے نزدیک اضعافہ ہوتا ہے۔ اسے ایتاء الرباء“ کہا جاتا ہے۔
ایک  حلال ہو اور دوسرا حرام!
 ”ایتاء الرباء“  کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ 

 تو کیا موجودہ دور میں  ”ایتاء الرباء“  کو کسی طریقے سے  حلال بنانے کے لئے اجتہاد ہو سکتا ہے ؟  (جبکہ آج سے چودہ سو سال پہلے انسانی معاشی وسائل اور ضروریات نے 
 ترقی کی اتنی پیچیدہ شکل اختیار نہیں کی تھی)۔
 یہ وہ سوال ہے کہ جس کا جواب ڈھونڈنے کے لئے شریعت بنچ بیٹھی تھی ۔

 اس سوال کے جواب میں بجائے اس کے کہ ہماری  شریعت بنچ نے جو فتوی دیا سو،دیا کیوں نہ خود اللہ کے فتویٰ کو دیکھا جائے!

 لیکن پہلے کچھ آیات کی تصریف کر لی جائے تاکہ نفس مضمون میں اللہ کی آیات کے کسی بھی گوشے سے تشنگی کا احتمال نہ رہے ۔

قُلْ أَرَأَیْْتُم مَّا أَنزَلَ اللّٰہُ لَکُم مِّن رِّزْقٍ فَجَعَلْتُم مِّنْہُ حَرَاماً وَحَلاَلاً 
کہہ! کیا تم اس رزق کو دیکھتے ہو جو اللہ نے تمھارے لئے نازل کیا۔ پس تم اس (رزق) میں سے حرام اور حلال بناتے ہو؟ 
قُلْ آللّٰہُ أَذِنَ لَکُمْ أَمْ عَلَی اللّٰہِ تَفْتَرُونَ(10/59) 
کہہ! کیا اللہ نے تمھیں (اس حرام اور حلال کے فتووں کی) اجازت دی ہے یا تم اللہ پر افتراء کرتے ہو؟

  اللہ نے سب سے پہلے تو یہ فتویٰ دیا کہ۔ حرام و حلال کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار صرف اللہ کا ہے۔ اور جو لوگ یہ فتوے خود سے دیتے ہیں وہ اللہ پر کذب افتراء کرتے ہیں۔
وَلاَ تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھَذَا حَلاَلٌ وَھَذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُواْ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ
 اور مت کہو! جو جھوٹ تمھاری زبانیں وصف کرتی ہیں (کہ) یہ حلال ہے اور یہ حرام تاکہ تم اللہ کے اوپر کذب افتراء کرو۔ 
إِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لاَ یُفْلِحُونَ(16/116)
بے شک وہ لوگ جو اللہ پر کذب افترا کرنے والے ہیں وہ فلاح پانے والوں میں سے نہیں ہیں۔

جو لوگ حرام اور حلال کے فتوے گھڑ کر بیچتے ہیں اور۔

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ(16/117) 
 قلیل متاع حاصل کرتے ہیں۔ اور ان کے لئے عذاب الیم ہے۔
 فتوے گھڑ کر بیچنے والوں سے یہ کام کون کراتا ہے؟
تَاللّہِ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَی أُمَمٍ مِّن قَبْلِکَ فَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْْطَانُ أَعْمَالَہُمْ 
تاللہ! حقیقت میں ہم نے تجھ سے پہلے کئی امتیں ارسال کیں۔ پس ان کے اعمال شیطان نے(بذریعہ فتاویٰ)  ان کے لئے مزین کردیئے۔ 
 فَہُوَ وَلِیُّہُمُ الْیَوْمَ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ (16/63)
پس وہ اب ان کا ولی ہے اور ان کے لئے عذاب الیم ہے۔ 
 شیطان کی ولایت سے نکالنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے وضاحت کر دی کہ۔

مَّا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ 5/99)- (
 الرسول کے اوپر کچھ نہیں سوائے البلاغ(آشکارا (Tansmit)) کے۔ اور اللہ کو علم ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو

الرسول صرف البلاغ(Tansmit) کرتا ہے اور کس چیز میں سے کرتا ہے۔

وَمَا أَنزَلْنَا عَلَیْْکَ الْکِتَابَ إِلاَّ لِتُبَیَّنَ لَہُمُ الَّذِیْ اخْتَلَفُواْ فِیْہِ
 اور نہیں نازل کی ہم نے تیری طرف الکتاب سوائے اس کہ، کہ تو ان کے لئے (اس الکتاب میں سے) بیان کرے جو اس (الکتاب) میں اختلاف کرتے ہیں۔
 وَھُدًی وَرَحْمَۃً لَّقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ (16/64)
 اور (الکتاب) ایمان لانے والی قوم کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭  

قرض ، سود ، منافع اور الرِّبَا -قسط 3

قرض ، سود ، منافع اور الرِّبَا - قسط 1


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔