میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 14 جون، 2015

قرض ، سود ، منافع اور الرِّبَا -4

کتاب اللہ :

 اللہ کے علاوہ کائینات میں پھیلی ہوئی ۔ اللہ کی وحی " کتاب اللہ " کا حصہ ، "کُن" جو اللہ کا کلام ہے ۔ "کُن" جو اللہ کی آیات کی ابتداء کو "یَکُن" کی انتہا تک پہنچاتا ہے ۔ "اللہ کی آیات " جو انسان کے چاروں طرف بکھری ہوئی ہے ، جو حاضر بھی ہے اور ہماری نظروں سے غائب بھی ۔ سب خالق کائینات کے "کُن" سے اس کے "امر" کی ابتداء اور پھر آیات کا سلسلہ اتنا طویل ہے ۔ کہ اللہ کے "کلمات" کا شمار ،ناممکنات میں سے ہے ۔ تو پھر فانی انسان ، نا ممکن کو ممکن کیسے بنا سکتا ہے ؟
 ہمارے جسم کا ایک ایک خلیہ اللہ کے
"کُنکا مرھون منت ہے ، انسانی جسم ، ایک مکمل کتاب ہے ، اسی طرح کائینات کی ہر شئے ایک قیم کتاب ہے اور کتاب اللہ " کا حصہ ہے ۔ انسانی حواس خمسہ اسے محسوس کرتے ہیں ۔ ان کی تصدیق کرتے ہیں اور اپنے علم میں اضافہ کرتے ہیں ۔ جس سے انسان کو بصیرت آتی ہے اور وہ " کتاب اللہ " کی مدد سے اپنے لئے نئی راہیں دریافت کرتا ہے ۔
 غور کریں کتنی" قیم کُتب " ہمارے ارد گرد موجود ہیں ۔ یہ سب وحی (کلام اللہ ) کی کرشمہ سازیاں ہیں ، ان سب کے لئے فلاحی ریاست قائم ہے ۔ جس میں یہ رہ رہے ہیں ۔ اور فلاح پارہے ہیں ۔ ہر جاندار اپنی ذات میں ایک مکمل ، حیات ہے اپنے کام سے آگاہ ہے ۔ اور "کتاب اللہ" سے راہنمائی حاصل کر رہا ہے ۔ اور اپنی فلاحی ریاست کو خوب سے خوب تر بنا رہا ہے ۔ جو رزق مل جائے ، کھا لیتا ہے ، پیٹ بھر جائے تو بچا ہوا چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے ۔ اپنی فلاحی ریاست کی چہار دیواری جو اس نے بنائی ہے ۔ اس کی حفاظت کرتا ہے ، ہمت نہیں پاتا تو ھجرت کر جاتا ہے ۔ کیوں کہ اس کے لئے اللہ کی زمین بہت وسیع ہے ۔

 ہمارے پیروں تلے کچلی جانے والی جیونٹی یا تالی کی زد میں مسلا جانے والا مچھر ، اللہ کی فلاحی ریاست کے مقیم ہیں ۔ " وحی کے بغیر آپ انسان کے لئے ایک فلاحی ریاست قائم نہیں کرسکتے ، البتہ حیوانی فلاحی ریاست آپ بنا سکتے ہیں "

الکتاب :  "الحمد" سے لے کر "والناس" تک وحی کا خزانہ ، " کتاب اللہ " کی تصدیق ۔ کائینات کے خالق کی پہچان ، اس کے احکامات و ممنوعات، ھدایت و بشارت، تادیب و تخفیف ، رحم و ستائش ، عروج و زوال کے حقائق اور یوں انسان کی اپنی ذات کے لئے "الکتاب " تکمیل کا ایک خزانہ ہے ۔ جس پر عمل کر کے وہ ، حیوانی حیات سے بلند ہوتا جاتا ہے ۔

 القرآن: انسانوں کے لئے ھدایت اور" الَّذِينَ آمَنُوا " کی مستند تاریخ کا آغاز ، 
اقْرَ‌أْ بِاسْمِ رَ‌بِّكَ الَّذِي خَلَقَ سے شروع ہو کر الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَ‌ضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا پر ختم ہونا ۔ جو احسن الحدیث کا حصہ ہیں ۔ اور خالق کائینات کا حتمی "امر " انسانوں کے لئے ، جس میں کسی قسم کی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں:
 لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا ۔ (21: الاحزاب)

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

قرض ، سود ، منافع اور الرِّبَا 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

انسانی نظام معیشت:
   موجودہ نظام معیشت میں سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع (Profit ) کو ”سود“ کہا جاتا ہے۔ اورکہا جاتا ہے کہ یہ”رباء“ہے۔ اگر سود واقعی رباء ہے تو اس میں کسی دوسرے کے فتوے کی ضرورت نہیں اللہ نے خود ہی رباء کے بارے میں فتوی دیا ہوا ہے لیکن کیا کتاب اللہ کی آیات کی تفصیل کے مطابق رباء سے سود ہی کا مفہوم نکلتا ہے؟ جو موجودہ نظام معیشت میں سرمائے سے حاصل ہونے والا منافع ہے۔اس سے پہلے کہ ہم کتاب اللہ کی وہ آیات جو رباء کے بارے میں ہیں کو ترتیل دیں۔ کیوں نہ انسانی معاشی کاوشوں اور اس کے مشتملات پر ایک نظر اس دور سے ڈالیں جب انسان کو اس کرۃ الارض میں اتارا گیا۔

 انسانی تاریخ کے مطابق جب انسان اس کرہ ء ارض پر وارد ہوا تو اللہ کی وسیع و عریض زمین اس کی میزبانی کے لئے موجود تھی۔ انسان نے اپنے علم، تجربے، واقعات اور مشاہدات کی روشنی میں ترقی کی طرف قدم بڑھانے شروع کر دیئے۔ انسانی ترقی کی کئی جہتیں ہیں۔ مگر ہمارا موضوع انسانی معاشی ترقی ہے۔ لہذا ہم اس جہت کو دیکھیں گے۔

 عاملینِ معیشت 
انسان معاشی جد و جہد کا سب سے پہلا عامل۔غیر منقولہ ملکیت (زمین)۔ دوسرا محنت۔اور۔ تیسرا منقولہ ملکیت(سرمایہ)۔قرار پایا-

٭۔ محنت
انسان کے لئے کرہ ء ارض پرخوراک کی کوئی قلت نہ تھی۔ زمانہء قدیم کا انسان خود بھی کھاتا اور اپنے کنبے کو بھی وہی کھلاتا ۔ کنبے سے قبائل بنے اور آبادی میں اضافے اور تلاش رزق کے باعث قبائل ایک جغرافیائی حدود سے نکل کر دوسری جغرافیائی حدود میں آباد ہونا شروع ہو گئے۔خانہ بدوشی سے نکل کر انسان شہری تمدن سے آشناء ہوا۔ یہ تمام تمدّنی مقامات دریاؤں کے کنارے آباد تھے۔ بیابانوں اور پہاڑوں میں وہ افراد آباد ہوئے جو تمدّنی زندگی کے باغی تھے۔ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی جان بچا کر وہاں پہنچے۔ بہرحال انسانی آبادی وقت کی گردش میں پھیلتی رہی -
شروع میں انسان جو بھی خوراک لاتا سب مل کر کھاتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ کنبے میں شامل افرادنے اپنی اپنی معاشی ذمہ داریوں کو تقسیم کر لیا اور یہ ان کی قوت استعداد کے مطابق تھا۔ کنبے اشیائے خورد و نوش کا آپس میں تحائف کی صورت میں تبادلہ کرتے۔ تبادلے کی یہ صورت آہستہ آہستہ تحا ئف سے، تبادلہ ء اشیائے ضرورت میں ہو گیا۔ کسان کو بھیڑ کی ضرورت پڑی تو اس نے چرواہے کو اس کے بدلے گندم دے دی۔ کاشتکار نے کاشتکاری چھوڑی اور تجارت شروع کی تو اسے کوئی مشکل پیش نہ آئی، گلہ بان نے کاشتکار کی چھوڑی ہوئی زمین پر کاشتکاری شروع کی تو کوئی معترض نہیں ہوا۔ ملکیت کا تصور منقولہ اشیاء تک محدود تھا اور اللہ کی زمین وسیع ۔ سیلاب اوردیگر آسمانی آفات انسانی آبادیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا باعث بنتی رہیں۔
 انسان اپنی ضروت کے مطابق اللہ کی زمین سے اپنا منافع حاصل کرتا رہا ۔

وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُونٍ (15/19)
 ”اور ہم نے الارض کو پھیلایا اور اس میں رواسی (پہاڑ)القا کئے اور اس میں ہر موزوں شئے اگائی“۔

 وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ وَمَن لَّسْتُمْ لَهُ بِرَازِقِينَ (15/20)
”اور ہم نے اس میں تمھارے لئے معیشت بنائی اوران کے لئے بھی جن کے تم رازق نہیں ہو“۔

وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ (15/21)
”اور کوئی شئے ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں۔ اور ہم اس کو معلوم مقدار میں نازل کرتے ہیں“۔    

اللہ تعالیٰ نے اپنے خزانوں سے معلوم مقدار میں، انسان کو عطا کرنا شروع کیا۔اور یہ مقدار ہر انسان کی ضرورت کے لئے کافی ہوتی تھی۔

 ٭۔ منقولہ ملکیت
 انسان نے آہستہ آہستہ اللہ کے عطاء کیے ہوئے معاشی وسائل کو اپنی ملکیت میں لینا شروع کردیا ۔ اشیائے خورد و نوش کی ذخیرہ اندوزی شروع ہو ئی تو انسان کو دولت کی قدر معلوم ہوئی سونا اور چاندی اعتبارِ زر اور زر بن گئے۔ چنانچہ معاشی نظام نے جو صورت اختیار کی اس میں تحفے، امداد، تبادلہ اشیا ء (جنس برائے جنس اور جنس برائے زر) شروع ہوئے ۔ وہ تمام اشیاء جو خراب نہیں ہو سکتیں ان کا انسان نے آڑے وقتوں کے لئے ذخیرہ شروع کر دیا۔ مثال کے طور پر ایک کسان کی سالانہ ضرورت دس من گندم تھی تو اس نے دس من گندم اپنے لئے رکھی اور باقی گندم اپنی دوسری اشیائےضرورت کے لئے یا تو تبادلہء جنس میں یا تبادلہء زر میں دے دی۔ 
اب چونکہ تاجر نے تمام کسانوں سے گندم خریدی۔ لہذا اس کے پاس وافر مقدار میں ذخیرہ ہو گیا۔ 
تاجر کی اس قوت خرید اور ذخیرہ اندوزی نے نظام سرمایہ داری کو جنم دیا۔ جس نے معاشرے کے معاشی نظام کو تلپٹ کر دیا۔ وہ تمام اشیاء جن کی لچک کم تھی (یعنی وہ اشیاء جنہیں لوگ ہر قیمت پر خریدتے ہیں) ان کے لئے اجارہ دارانہ مقابلہ شروع ہو گیا اس اجارہ دارانہ مقابلے نے غریب کی کمر جھکا دی اور امیر امیر تر ہونے لگا۔

 تجارتی ذخیرہ اندوزی، اپنی ضروریات کے لئے ذخیرہ اندوزی یا ہنگامی حالات کے لئے ریاستی ذخیرہ اندوزی نے اتنا نقصان نہیں پنچایا جتنا اس ذخیرہ اندوزی نے پہنچایا جو صرف اور صرف ہوس زر کے لئے تھی ذخیرہ اندوزی ہر انسانی ضرورت کی اشیاء میں ہوئی۔ زرعی اراضی کی ذخیرہ اندوزی ، مال و دولت کی ذخیرہ اندوزی ، ناجائز منافع کے لئے اشیائے خورد و نوش و اشیائے صرف کی ذخیرہ اندوزی،  پلاٹوں۔ مکانوں اور پلازوں کی ذخیرہ اندوزی۔

 اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ذخیرہ اندازی کیوں کی جاتی ہے ؟
 اور اس کے کیا نقصانات ہیں ؟
 معاشی زندگی میں زر کی اہم اقسام سونا اور چاندی ہیں۔ جن میں سونا بنیادی اکائی ہے، لہذا باقی تمام اشیاء کی قیمتوں کا تعین سونے کی مقدار سے ہوتا ہے کہ ایک تولہ سونے سے کیا کیا اشیاء کتنی مقدار میں خریدی جاسکتی تھیں / ہیں۔ گو کہ ہمارے پاس ابھی اور ماضی میں پائی جانے والی اشیاء کا سونے کے مقابلے میں تناسب موجود نہیں مگر ایک اہم نسبت معلوم ہے جو سونے اور چاندی کی ہے۔
630 ء میں ایک تولہ سونا =7 تولہ چاندی (بحوالہ نصاب زکوۃ)
1850 ء میں ایک تولہ سونا =16 تولہ چاندی (بحوالہ سرسید کے مضامین)
1999 ء میں ایک تولہ سونا = 50 تولہ چاندی۔
2004 ء میں ایک تولہ سونا = 77    تولہ چاندی۔

 جب سونے، نے اشرفی اور چاندی نے روپے کی شکل اختیار کی تو ایک روپے کا سکہ ایک تولہ خالص چاندی کا ڈھلا ہوتا تھا۔ چونکہ روپیہ گردش زر میں استعمال ہوتا۔ لہذا چاندی اور سونا زر قرار پایا ۔ سونے کی اہمیت نے اس کی ذخیرہ اندوزی میں اضافہ کیا اورآہستہ آہستہ سونے اور چاندی کے درمیان فاصلہ بڑھتا رہا۔
اگر ہم یہ کہیں کہ 630 ء میں 7 روپے(خالص چاندی) میں ایک تولہ ملنے والا سونا 2004 ء  میں خالص 60 روپے(چاندی) میں اور پھر چاندی کا قد اتنا چھوٹا ہو گیا  کہ اب 15 جون 2015 میں ایک تولہ سونا 77 روپے(چاندی) میں  ملنے لگا - آج کل کیونکہ چاندی کا روپیہ استعمال نہیں ہوتا لہذا یہ نسبت عجیب لگے لیکن یہ حقیقت ہے کیونکہ موجودہ 607  کاغذی روپے کی قیمت ایک تولہ خالص چاندی کے برابر ہے۔
ماضی میں سونا اور چاندی، سکّوں کی صورت میں استعمال ہونے لگے اور بارٹر سسٹم ختم تو نہیں ہوا بلکہ کم ہو گیا ۔

زر کی قیمتوں میں تغیر اور تبدل لازم ہے۔ چاندی کا استعمال چونکہ زیورات اور دیگر اشیاء میں ہوتا لہذا جدید معیشت دانوں نے گردش زر کے طور پر اس کا استعمال کم کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کی جگہ اعتبار زر کے طور پر تانبے، پیتل اور کانسی کے سکے بنے اور بالآخر اپنی وزن کی خرابی کے باعث یہ کاغذی نوٹ میں تبدیل ہو گئے ۔ لیکن معیار زر اور زر سونا ہی رہا۔

بین الاقوامی قانون کے مطابق کوئی بھی حکومت اپنی مرضی سے کاغذی نوٹ نہیں چھاپ سکتی ۔ ایک مخصوص مقدار میں نوٹ چھاپنے کے لئے اس حکومت کے پاس بین الاقوامی قانون کے مطابق مطلوبہ مقدار میں سونا ہونا چاہیئے۔ ہم فرض کرتے ہیں کہ ایک حکومت کے پاس صرف 100 تولے سونا ہے۔ لہذا وہ صرف 30 فیصد سونے کے معیار کے مطابق نوٹ چھاپ سکتی ہے۔ اس حکومت میں ایک تولہ سونا 1000 روپے کا ہے لہذا اس حکومت نے 30,000 روپے کے نوٹ چھاپے ۔ یہ 30,000 روپے حکومت اور عوام کے درمیان گردش کریں گے۔ ہم عوام کی تعداد اس حکومت میں 100 افراد فرض کر لیتے ہیں تو اس طرح ہر فرد کے حصے میں 300  روپے آئیں گے -
اب ہم آتے ہیں نوٹوں کے ذخیرہ اندوزی کی طرف ۔ ان سو افراد میں سے 10 افراد ایسے ہیں جو1000 روپے فی کس، اپنے لئے تجوریوں میں ذخیرہ کر لیتے ہیں۔ اس ذخیرہ اندوزی کے باعث اب گردش میں جو زر ہے وہ 20,000 روپے ہیں۔ جو ریاست کے افراد کے 200 روپے فی کس بنتے ہیں جبکہ ہر فرد کو ماہانہ اخراجات کے لئے 300 روپے ماہانہ چاہیئیں ۔  
لہذا ریاست مجبوراً اس 100 تولے سونے پر مزید 10,000 روپے کے نوٹ چھاپے گی۔ اس طرح ریاست کے پاس موجود سونا ایک لاکھ روپے سے بڑھ کر ایک لاکھ دس ہزار روپے کا ہوگیا۔ تو کیا اس ذخیرہ اندوزی سے جو چند لوگوں نے اپنی تجوریوں میں کیا اس اعتبارِزر کی قیمت گری یا بڑھی؟ لازمی بات ہے کہ روپے کی قیمت گر گئی !

اگر یہ لوگ ان دس ہزار روپوں کو اپنی تجوریوں کے بجائے بنکوں میں رکھتے تو کیا حکومت کو مزید نوٹ چھاپنے کی ضرورت پڑتی؟
کیا اس صورت میں بھی اعتبار زر (روپے) کی قیمت گرتی۔ بالکل نہیں! کیونکہ بنکوں نے ان نوٹوں کو گردش میں رکھا ہوتا ہے۔ بنکوں میں کی جانے والی یہ ذخیرہ اندوزی، پیداواری ذخیرہ اندوزی کہلاتی ہے اور گھروں میں کی جانے والی ذخیرہ اندوزی غیر پیداواری ذخیرہ اندوزی کہلاتی ہے۔

 اب ہم یہ فرض کرتے ہیں کہ ایک  ریاست کے افراد کے پاس 100 تولے سونا ہے جو انہوں نے زیوارت اور دفینوں کی صورت میں رکھا ہے گو کہ ریاست میں 200 تولے سونا موجود ہے لیکن اس کے باوجود ریاست 30 تولے سونے کی مقدار سے زیادہ نوٹ نہیں چھاپ سکتی۔
اسی طرح ایک دوسری ریاست ہے وہاں بھی بعینی یہی صورت حال ہے یعنی ریاست کے پاس100 تولے سونا اور ریاست کے افراد کے پاس 100 تولے سونا۔ گویا دونوں ریاستوں میں اعتبار زر کے طور پر استعمال ہونے والی کرنسی کی قیمت برابر ہے۔ لیکن اگر پہلی ریاست کے افراد کرنسی کی غیر پیداواری ذخیرہ اندوزی کرنے لگیں تو دونوں ریاستوں کے درمیان کرنسی میں برابری کا توازن اس نسبت سے خراب ہوتا جائے گا جس نسبت سے پہلی ریاست مزید نوٹ چھاپتی جائے گی۔ گویا نوٹوں کی اس غیر پیداواری ذخیرہ اندوزی نے معیار زر کی قیمت نہ صرف ریاستی بلکہ بین الریاستی سطح پر گرا دی۔ لیکن اگر پہلی ریاست کے عوام اپنے روپوں کی ذخیرہ اندوزی بنکوں میں کریں جو پیداواری ذخیرہ اندوزی ہے تو دونوں ریاستوں کے درمیان کرنسی میں برابری کا توازن قائم رہے گا۔ اور اگر پہلی ریاست کے عوام اپنے جمع کئے ہوئے 100 تولے سونے کو قومی آمدنی میں شامل کرانے کے لئے حکومت کے پاس جمع کرادیں تو حکومت کے پاس 200 تولے سونے کی وجہ سے چھاپے جانے والے نوٹوں کا تناسب 30 فیصد سے گھٹ کر 15 فیصد رہ جائے گا۔ او ر بین الریاستی سطح پریہ تناسب 1=2 ہو جائے گا۔
 یہ وہ معاشی پیچیدگیاں ہیں جن کو حل کرنے کے لئے معیشت دانوں نے بنکوں اور خزانوں (Treasury) کا آغاز کیا۔  
٭۔ غیر منقولہ ملکیت
 ایک فرد کی ضرورت ایک مکان ہے جو وہ اپنی رہائشی علاقے میں بناتا ہے۔ اور اس کی رہائشی گنجائش اس کے اہل خانہ کی تعداد کے مطابق ہوتی ہے۔ جب انسان نظام سرمایہ داری کی جکڑ میں نہیں آیا تھا تو وہ اپنی رہائش کے لئے ایک مناسب مکان تعمیر کرتا ۔ اور اگر تلاش معاش کی وجہ سے اسے کسی دوسری جگہ نقل مکانی کرنی پڑتی تو وہ بمع کنبہ اس جگہ سے ہجرت کر جاتا ۔ وہ مکان کسی دوسرے کے استعمال میں آتا۔ یا اس کے رشتہ دار اس مکان میں رہتے۔ بہر حال ہر دو صورت میں وہ شخص مکان کی ملکیت سے دستبردار ہو جاتا ۔
آہستہ آہستہ ملکیتی احساس نے دل میں گھر کیا ۔ تو اس نے نہ صرف پہلے مکان کو اپنے قبضے میں رکھتا بلکہ اس کے بعد اپنے لئے بنائے جانے والے مکانات کو بھی۔ لیکن یہ رویہ صرف صاحب دولت افراد میں مقبول تھا۔ ورنہ عام لوگ اپنا مکان فروخت کرتے اور دوسری جگہ منتقل ہو جاتے۔ اس وجہ سے تعمیر سستی تھی اور تعمیراتی سامان بھی ۔ فروخت کی صورت میں مالک مکان کو صرف مکان کی قیمت اتنی کم ملتی کہ اسے بمشکل فائدہ ہوتا۔ بعض اوقات تو اسے زیادہ مدت گزر جانے کی وجہ سے تعمیری قیمت بہت کم ملتی۔
 یہ حالات اس وقت تھے جب سرمایہ دارانہ ذھنیت بیدار نہ ہوئی تھی۔ لہذا روٹی، کپڑا اور مکان انسانی پہنچ میں تھے۔ مٹی اور لکڑی تعمیرتی سامان تھا لہذا مکانات کی تعمیر آسان تھی۔

 لوگ زیادہ تر اپنی بچتیں گھروں میں کرنسی، زیورات اور دفینے کی صورت میں رکھتے ۔ جن کی چوری کا ڈر انہیں رہتا۔ نیز کساد بازاری کے باعث کرنسی اپنی قیمتیں کم کرتی جارہی تھیں۔ لہذا اس جمع شدہ رقوم کا محفوظ حل یہ نکالا گیا کہ اس کا ذخیرہ جائداد کی صورت میں کیا جائے۔ تجارت میں اتنا منافع نہ تھا۔ نیز ہر کوئی تجارت میں ایمانداری سے کامیابی حاصل نہیں کر سکتا لہذا جائداد کی خریداری مقبول عام ہوئی۔ نیز وقت کے ساتھ نہ صرف جائداد کی قیمت بڑھتی بلکہ بصور ت کرایہ اُن کو معقول آمدنی بھی ملتی چنانچہ صاحب حیثیت افراد کی اس جائدادی ذخیرہ اندوزی نے معاشرے میں غیر متوازن صورت حال پیدا کر دی۔ کسی بھی معاشرے میں کسی بھی قسم کی غیر پیداواری ذخیرہ اندوزی (رزق، مال یا جائداد)، معاشی افراط و تفریط کا سبب ہوتی ہے۔ لیکن اگر یہ ذخیرہ اندوزی پیداواری ضرورت کے تحت کی جائے تو اس سے معاشرے کی بھلائی ہوتی ہے۔
 مثلا حکومت ایک مناسب قیمت پر غلہ خرید کر ذخیرہ کرتی ہے ۔ اس میں سے کچھ حصہ بطوربیج اور کچھ بصورت خوراک ۔ اگر ملک میں قحط پڑ جائے اور حکومت غذائی اجناس کی راشننگ کر دے کہ ہر فرد کو بمشکل دن بھر میں بھوک ختم کرنے کے لئے غلہ ملے تو ایسی صورت میں بیج کے لئے ذخیرہ کی گئی گندم کو سنبھال کر رکھنا غلط نہ ہو گا۔  
اس طرح ایک شخص اپنی زائدالضرورت آمدنی زکوۃ اور صدقات نکال کر حکومت کے خزانے میں رکھتا ہے۔ حکومت اس کی نیابت کرتے ہوئے اس رقم کو تجارت میں لگاتی ہے اور منافع اس شخص کو ادا کرتی ہے تو یہ عمل اس عمل سے بدرجہا بہتر ہے اگر وہ شخص اپنی تمام دولت، دفینے کی شکل میں اپنے گھر میں غیر پیداواری ذخیرہ اندوزی کی صورت میں رکھے۔کیونکہ اس کے اس عمل سے ذخیرہ شدہ دولت گردشِ زر سے نکل جاتی ہے۔

لیکن اگر وہ شخص، وہ رقم حکومت کو دینے کے بجائے اس رقم سے زمین خرید کر ایک فیکٹری لگا لیتا ہے اور اس فیکٹری کے ورکرز کے لئے رہایشی مکانات بناتا ہے۔ تو بادی النظر میں یہ مکانات غیر پیداواری اخراجات کے مد میں آتے ہیں۔ لیکن Indirectly یہ معاشی اعتبار سے پیداواری مد میں شامل ہیں۔ کیونکہ یہ مکانات مہیا کرنے سے فیکٹری کامالک اپنے کارکنوں کو مکان کا کرایہ اور کنوینس الاؤنس دینے سے بچ جائے گا۔ اور طویل المیعاد منصوبے میں اس کا یہ عمل منافع کی پیداوار میں معاون ثابت ہو گا۔ لیکن اگر ایک سرمایہ دار اپنی رقم سے زرعی زمین یا تعمیراتی زمین خرید کر یوں ہی چھوڑ دیتا ہے کہ آئیندہ اسے زیادہ منافع ملے تو یہ منافع غیر پیداواری ذخیرہ اندوزی پر ہو گا۔ جو معاشرے کے معاشی بگاڑ کی سب سے خطرناک قسم ہے۔ اس قسم کی غیر پیداواری ذخیرہ اندوزی سے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جاتا ہے۔ جبکہ پیداواری ذخیرہ اندوزی میں سب افراد کسی نہ کسی حیثیت میں پیداواری ذخیرہ اندوزی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

 اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ذخیرہ اندوزی کی کتاب اللہ کے مطابق اجازت ہے؟


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔