میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 17 جون، 2015

آیات اللہ پرانسانی ردِعمل - 4

 22 -  منہ پھیرتے ہوئے دور ہٹ جاتے ہیں- 

أَوْ تَقُولُواْ لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَیْْنَا الْکِتَابُ لَکُنَّا أَہْدَی مِنْہُمْ فَقَدْ جَاء کُم بَیِّنَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَہُدًی وَرَحْمَۃٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن کَذَّبَ بِآیَاتِ اللّہِ وَصَدَفَ عَنْہَا سَنَجْزِیْ الَّذِیْنَ یَصْدِفُونَ عَنْ آیَاتِنَا سُوء َ الْعَذَابِ بِمَا کَانُواْ یَصْدِفُونَ ﴿6:157﴾
یاوہ تجھ سے کہیں۔ کیوں نہیں الکتاب ہم پر نازل ہوئی؟ہم تم سے بہتر ہدایت پر ہوتے۔پس حقیقت میں تمھارے ربّ کی طرف سے تم پر ایک بیّنۃ (الکتاب) ، ہدایت و رحمت آ چکی ہے۔ اب اُس سے زیادہ ظلم کرنے والا کون ہو گا جو اللہ کی آیات کا کذّب کرتا ہے اور اُن سے منہ پھیرتے ہے۔ وہ لوگ جو ہماری آیات سے منہ  پھیرتے ہیں اُن کی جزاء  سخت عذاب ہے جس کے لئے وہ منہ پھیرتے تھے۔
 23    لہو الحدیث کو فوقیت دیتے ہیں
 وہ اللہ کی آیات کو فوقیت دے ہی نہیں سکتے کیونکہ ان کے پاس  ”لہو الحدیث“ جو ہوتی ہیں اور ان کے خیال میں وہ ان کی بہترین راہنما ہیں۔
وَمِنَ النَّاسِ مَن یَشْتَرِیْ لَہْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَن سَبِیْلِ اللَّہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَیَتَّخِذَہَا ہُزُواً أُولَءِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ ﴿31:6﴾
 اور  انسانوں میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے لہو الحدیث کا کاروبار  کیا تاکہ وہ  لوگوں کو بغیر علم کے سبیل اللہ سے گمراہ کریں اور وہ  (الکتاب الحکیم کی آیات کو) کو مذاقاً  پکڑیں رکھیں۔اُن کے لئے اہانت انگیز عذاب ہے۔
24   کچھ آیات کا علم آجائے تو اس کا مذاق اڑاتا ہے 
وَإِذَا عَلِمَ مِنْ آیَاتِنَا شَیْئاً اتَّخَذَہَا ہُزُواً أُوْلَءِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ ﴿45:9﴾
 اور جب ہماری آیات میں سے (کچھ)شئے کا اسے علم آجائے تو انہیں مذاق اڑانے کے لئے پکڑتا ہے۔اُن کے لئے اہانت انگیز عذاب ہے۔
25-  اعراض برتتا ہے
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُکِّرَ بِآیَاتِ رَبِّہِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْہَا إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنتَقِمُونَ  ﴿32:22﴾
اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے؟ کہ جب اس کے سامنے اس کے رب کی آیات کے ساتھ ذکر (نصیحت)کیا جائے تو وہ ان سے اعراض برتے۔ بے شک ہم مجرموں سے انتقام لینے والے ہیں۔
  26  جرح  کرتے ہیں
وَإِذَا رَأَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوضُونَ فِیْ آیَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْہُمْ حَتَّی یَخُوضُواْ فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہِ وَإِمَّا یُنسِیَنَّکَ الشَّیْطَانُ فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرَی مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ ﴿6:68﴾
 اور جب تجھے نظر آئے کہ لوگ ہماری آیات میں جرح کرنے لگے ہیں تو ان سے اعراض کر۔ حتی کہ وہ کسی غیر کی حدیث پر جرح شروع کر دیں۔ اگر تجھ سے شیطان  (یہ حکم) بھلا دے۔ تو پھر الذکر کے بعد ظالمین کی قوم کے ساتھ مت بیٹھ۔
27    الحاد کرتے ہیں
إِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُونَ فِیْ آیَاتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا أَفَمَن یُلْقَی فِیْ النَّارِ خَیْرٌ أَم مَّن یَأْتِیْ آمِناً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اعْمَلُوا مَا شِءْتُمْ إِنَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیْرٌ ﴿41:40﴾
بے شک وہ لوگ جو ہماری آیات  میں الحاد کرتے ہیں ہم سے مخفی نہیں ہیں۔ پس کیا وہ جو آگ میں ڈالا جائے بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امان میں ہو۔تم جیسا بھی چاہو عمل کروبے شک تمھارے اعمال کی اُس کو بصیرت ہے۔
28    جحد (اجتحاد) کرتے ہیں 
وَکَذَلِکَ أَنزَلْنَا إِلَیْْکَ الْکِتَابَ فَالَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَمِنْ ہَؤُلَاء  مَن یُؤْمِنُ بِہِ وَمَا یَجْحَدُ بِآیَاتِنَا إِلَّا الْکَافِرُونَ ﴿23:47﴾ 
اور اسی طرح ہم نے تیری طرف الکتاب نازل کی۔ اور وہ لوگ جنہیں الکتاب دی گئی ہے وہ اس کے ساتھ ایمان لاتے ہیں۔ اور اُن میں سے جو بھی ہیں جو اِس کے ساتھ مومن ہیں  ہماری  آیات سے کافروں کے علاوہ کوئی جحد (اجتحاد) نہیں کرتا۔
بَلْ ہُوَ آیَاتٌ بَیِّنَاتٌ فِیْ صُدُورِ الَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَمَا یَجْحَدُ بِآیَاتِنَا إِلَّا الظَّالِمُونَ﴿29:49﴾
  بلکہ وہ تو ہماری واضح آیات ہیں ان لوگوں کے سینوں میں جنہیں علم دیا گیا اورسوائے ظالموں کے کوئی بھی ہماری آیات  سے جحد (اجتحاد) نہیں کرتا۔
 پوری  الکتاب، میں اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات میں مومنوں کوجھد (اجتھاد ) یا   جحد(اجتحاد) کا نہیں کہا  اور اگر کہاتو فکر، عقل اور تدبّر استعمال کرنے کا کہا ہے
  29   آیات کو جھٹلاتے ہیں
وَالَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَلِقَاء  الآخِرَۃِ حَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ ہَلْ یُجْزَوْنَ إِلاَّ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ﴿7:147﴾
اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، (ہم سے)آخرت کی ملاقات کے لئے اُن کے اعمال غارت ہوئے۔ کیا اِس کے علاوہ تمھارے اعمال کی کوئی جزاء ہو سکتی ہے۔
  30    اپنے ربّ کی (حرام و حلال میں) برابری کرنے والے ہیں
قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَاء کُمُ الَّذِیْنَ یَشْہَدُونَ أَنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ ہَ ذَا فَإِن شَہِدُواْ فَلاَ تَشْہَدْ مَعَہُمْ وَلاَ تَتَّبِعْ أَہْوَاء  الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَالَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ وَہُم بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُونَ﴿6:150﴾
کہہ۔اپنے گواہوں کو لے آؤ جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے اس چیز کو حرام قرار دیا ہے۔ پس اگر وہ اس کی شہادت دیں تو، تو ان کے ساتھ شہادت نہ دے اور ان لوگوں کی خواہشات کی اتباع نہ کر جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور جن کا آخرت پر ایمان نہیں ہے اور جو اپنے ربّ کی (حرام و حلال میں) برابری کرنے والے ہیں۔
وَلاَ تَقُولُواْ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہَذَا حَلاَلٌ وَہَذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُواْ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ إِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لاَ یُفْلِحُونَ ﴿6:116﴾
وہ بات مت کہو جو تمھاری زبانیں کذب تَصِف کرتی ہیں۔ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے۔ تاکہ تم اللہ پر کذب افتراء کرسکو۔ بے شک وہ لوگ جو اللہ پر کذب افتراء کرتے ہیں وہ مفلحون نہیں ہیں۔
31   چہروں سے انکار نظر آتا ہے اور حملہ کرنے پر تیار ہوتے ہیں
بَلْ قَالُواْ أَضْغَاثُ أَحْلاَمٍ بَلِ افْتَرَاہُ بَلْ ہُوَ شَاعِرٌ فَلْیَأْتِنَا بِآیَۃٍ کَمَا أُرْسِلَ الأَوَّلُونَ ﴿21:5﴾
بلکہ وہ کہتے ہیں کہ یہ ناقابلِ عمل تصورات ہیں، بلکہ اِس نے انہیں خود بنایا (گھڑا)ہے بلکہ وہ شاعر ہے،  پس وہ ہمارے پاس آیت کے ساتھ آئے جیسے پہلے (رسول)بھیجے گئے۔
 32   چہروں سے انکار نظر آتا ہے اور حملہ کرنے پر تیار ہوتے ہیں
 وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ تَعْرِفُ فِي وُجُوهِ الَّذِينَ كَفَرُوا الْمُنكَرَ ۖ يَكَادُونَ يَسْطُونَ بِالَّذِينَ يَتْلُونَ عَلَيْهِمْ آيَاتِنَا ۗ قُلْ أَفَأُنَبِّئُكُم بِشَرٍّ مِّن ذَٰلِكُمُ ۗ النَّارُ وَعَدَهَا اللَّـهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ﴿22:72﴾
اور جب ان پر ہماری واضح آیات تلاوت کی جاتی ہیں  تو وہ لوگ  جنہوں نے کفر کیا  تو ان کے چہروں پر انکار پہچان لے گا۔ ممکن ہے کہ وہ  تقریباً حملہ کر دیں ان لوگوں پر جو ان کو ہماری آیات سناتے ہیں۔ کہہ۔ کیا میں تمھیں اس سے بدتر شے کی بشارت دوں ؟  جو آگ ہے۔جس کا وعدہ اللہ نے ان لوگوں سے کیا ہے جو کافر ہیں اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے
  ٭.۔  اوپر پیش کی گئی تمام آیات کتاب اللہ کی ہیں وہ لوگ جو اللہ کی آیات کا  انکار کرتے ہیں ان کے بارے میں  مزید کہا ہے 
أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَی قُلُوبٍ أَقْفَالُہَا﴿47:24﴾
کیا یہ لوگ القرآن میں تدبر نہیں کرتے؟  یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں
 ٭.۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ واضح آیات اور ھدایت ملنے کے باوجود لوگ آباواجداد کی فلاسفی سے چمٹے ہوئے ہیں۔ کیوں؟ 
إِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوا عَلَی أَدْبَارِہِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمُ الْہُدَی الشَّیْْطَانُ سَوَّلَ لَہُمْ وَأَمْلَی لَہُمْ ﴿47:25﴾
بے شک وہ لوگ جو ارتداد کرتے ہوئے واپس پھرے اس کے باوجود کہ انہیں واضح ھدایات دکھائی جاچکی ہیں۔ دراصل شیطان نے انہیں ورغلایا اور جھوٹی امیدیں دلا کر سہارا دیا ۔
 أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّـهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَىٰ أَبْصَارَهُمْ ﴿47:23﴾
 یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی۔ پس اللہ نے انہیں بہرہ بنا دیا اور ان کی بصارت کو اندھا کر دیا۔
 32   اوپر دی ہوئی تصریف الآیات کے مطابق اُن کا حتمی عمل اور اللہ تعالیٰ کی جزاء
 وَقُلْ إِنِّي أَنَا النَّذِيرُ الْمُبِينُ ﴿15/89﴾
اور کہہ بے شک میں واضح آگاہ (وارننگ) کرنے والا ہوں
كَمَا أَنزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِينَ ﴿15/90﴾
جس طرح ہم نے المقتسمین پر نازل کیا  
الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ ﴿15/91﴾ 
وہ لوگ جنہوں نے القرآن کو عضو (عضو) کر دیا۔
فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ﴿15/92﴾
پس تیرے ربّ کے لئے ہم اُ ن سے مجمع میں پوچھیں گے
عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿15/93﴾
کہ اُن کے اعمال کیا    ہیں ؟
 فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ ﴿15/94﴾
پس اُن سے جدا ہو جس کے ساتھ تجھے امر کیا ہے اور المشرکین سے اعراض کر
 إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ ﴿15/95﴾
بے شک مذاق اُڑانے والوں کے لئے ہم کافی ہیں  
الَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ﴿15/96﴾
  (مذاق اُڑانے والے) وہ لوگ  جو اللہ کے ساتھ دوسرے الہہ بناتے ہیں۔ افسوس کہ جو اعمال وہ کرتے ہیں۔
٭.۔     اللہ تعالیٰ، نے  انسانوں کی راہنمائی کے لئے ادا کئے گئے اپنے الفاظ  اور محمد الرسول اللہﷺ کا استہزا، اُڑانے والوں کی جزاء اپنے ہاتھ میں رکھی ہے۔انسانوں کے ہاتھ میں نہیں دی۔
انسانوں نے خود اپنے ہاتھ میں لے ”من دون اللہ“ قوانین بنائے  اور اللہ کے”من دون“ بن کر، اللہ، اُس کے الفاظ اور اُس کے الرسول کا استہزا، اُڑانے والوں کی جزاء اپنے ہاتھ میں لے لی۔ 
 اللہ کو معلوم ہے کہ اُس کے رسولوں کا ستھزاء ہر وہ قوم اُڑائے گی جو ”من دون اللہ“ کی عبادت کرتی ہے جبکہ اللہ اور اُس کے رسول ”اللہ واحد“ کے احکام پر عمل کرنے کے لئے انسانوں کود عوت دیتے ہیں۔
اگر اللہ کے رسول، استھزاء اُڑانے والوں کی جزاء اپنے ہاتھ میں رکھتے تو انسان اُن سے دور دور بھاگتے۔
فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنتَ لَہُمْ وَلَوْ کُنتَ فَظّاً غَلِیْظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِکَ  فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمْ وَشَاوِرْہُمْ فِیْ الأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ ﴿3:159﴾
 اللہ تعالیٰ کی رحمت کے باعث تو ان پر نرم دل ہے اور اگر تو بدزبان اور سخت دل ہوتا تو یہ سب تیرے پاس سے دور ہو جاتے،
سو تو اِنہیں معاف کر اوران کے لئے  استغفار کر اوراُن سے امر میں مشورہ کر۔ پھر جب تو عزم کرلے  تو اللہ پر توکّل کر بے شک اللہ تعا لیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
 ٭.۔      قارئین!یہ سب اللہ کے الفاظ (کُن)  ہیں جو اللہ تعالیٰ عربی میں ہی محمد ﷺ پر تلاوت کر رہا ہے اور زبانِ صاحب الوحی ﷺ سے ہم عربی میں سن رہے۔
تِلْکَ آیَاتُ اللَّہِ نَتْلُوہَا عَلَیْْکَ بِالْحَقِّ فَبِأَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَ اللَّہِ وَآیَاتِہِ یُؤْمِنُونَ ﴿45:6﴾
یہ ہیں اللہ کی آیات جو تلاوت کی ہم نے تجھ پر حق کے ساتھ،  تو پھر اللہ کی حدیث اور اس کی آیات کے بعد وہ کس پر ایمان لا ئیں گے۔
 یَسْمَعُ آیَاتِ اللَّہِ تُتْلَی عَلَیْْہِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَکْبِراً کَأَن لَّمْ یَسْمَعْہَا فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ أَلِیْمٍ ﴿45:8﴾
 اللہ کی آیات جو اُس پر تلاوت کی جاتی ہیں سنتا ہے پھر تکبّر سے مصر رہتا ہے کہ اُس نے سنا ہی نہیں۔ اُس کو دردناک عذاب کی بشارت دے دو۔
وَمَا أَنتَ بِہَادِیْ الْعُمْیِ عَن ضَلَالَتِہِمْ إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن یُؤْمِنُ بِآیَاتِنَا فَہُم مُّسْلِمُونَ ﴿30:53﴾
 اور نہ ہی تو اندھوں کو سنا کر گمراہی سے ھدایت پرلا سکتا ہے۔بے شک تو اُن کو سنا سکتا ہے جو ہماری آیات پر ایمان لا ئیں پس وہ مسلمانوں میں سے ہیں۔

قارئین! آیئے تو پھر ہم اُسوہ ء الرسول ﷺ پر چلتے ہوئے اُن کو اللہ کی آیات سناتے ہیں جو مسلمانوں میں سے ہیں۔
- - -- - تمت بالاخیر -----

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔