میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 7 جون، 2015

کہانیوں سے تبلیغِ دین

ایک فیس بک کے دوست ہیں بڑے نفیس اور بڑے غم خوار ، لیکن دکھ یہ ہے کہ اُن کا تعلق ایک ایسے فرقےکی جماعت سے ہے جو صرف خود کو ، راہ ہدایت پر سمجھتی ہے اور باقی سب کو دین سے بھٹکا ہوا اور جاہل ، پھر خود میں شامل ہونے کا کہتی ہے کہ بس ہم سے متفق ہو جاؤ ، راہِ سلوک کی منزلیں طے کرنے کے بعد کہیں جاکر تم ہم میں شامل ہونے کے قابل ہو ر کارکن بنو گے لیکن راہ سلوک پر چلنے کے ئے تمھیں صرف ہمارے امام کی تمام کتابیں پڑھنا ہوں گی-
اُن کا ہر بندہ خود کو درس و تدریس کا قرآنی ماہر سمجھتا ہے - اور اللہ کی آیات کو ایسی چکنی مٹی سمجھتا ہے کہ جسے جب چاھے ترجمے سے اپنی مرضی کے قالب میں ڈھال لے ۔
وہ فیس بک پر رقم طراز ہیں ؛-
کہتے ہیں چند نابیناوّں سے ہاتھی کے بارے میں پوچھا گیا کہ آپ لوگ بتائیَے کہ ہاتھی کیا اور کیسا ہوتا ہے۔ ظاہری بات ہے وہ آنکھوں سے اندھے ہونے کہ وجہ بتا ہی نہ سکے کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے۔ ان سلسلہ میں ان کی معلومات میں اضافے کے لییے انکو کچھ دیر کے لیئے ایک ہاتھی کے پاس لے جایا گیا۔ اب انکی آنکھیں تو تھی نہیں کہ اس سے اس کو دیکھ کر کوئ رائے قائم کرتے۔ سب نے ڈر ڈر کے اس کو چھو کر دیکھا۔ جب اس تجربہ کے بعد ان سے دوبارہ پوچھا گیا کہ ہاتھی کے بارے میں بتایئے تو جس نے اسکی سونڈ کو ہاتھ لگایا تھا اس نے صرف سونڈ کا نقشہ کھینچ کر بتایا کہ ہاتھی اس قسم کا ہوتا ہے ۔ یعنی اس کی نظر میں ہاتھی صرف ایک سونڈ کا نام ہے۔ جس نے اس کے موٹے سے پیر کو ہاتھ لگایا اس کے کہا کہ اس کا نقشہ کھینچ کر بتایا کہ ہاتھی ایسا ہوتا ہے۔ جس نے اس کے بڑے بڑے کانوں کو ہاتھ لگایا اس نے اصرار کیا میری نظر میں تو ہاتھی دو بڑے بڑے کانوں کا نام ہے ۔ علیٰ ھٰذ القیاس ۔۔
کہانی سنانے کے بعد وہ تبلیغ کا پینترا بدلتے ہیں : 
عزیزوں اور دوستوں ۔ ہمارے ہاں دین کے نام پر بنے ہوئے مذہبی گروہوں کا بھی یہی حال ہے ۔ یہ سب نابینا ہیں۔ یہ بصیرت کے ساتھ ساتھ بصارت سے بھی محروم ہیں ۔ انہوں نے بھی دین کے اپنے اپنے ٹکڑے کو پکڑا ہوا ہے اور اسے ہی دین سمجھتے ہیں اور مکمل علم نہ ہونے کی وجہ سے اسی پر اصرار کرتے ہیں کہ وہی دین ہے۔ کوئ صرف دعوت و تبلیغ کو اور ایک مخصوص ظاہری شکل و لباس کو , ایک مخصوص کتاب کو ٹوٹل دین سمجھتا ہے۔ اس کے بر عکس کوئ صرف میلاد کی محفلوں اور نعتیں پڑھننے کو، بزرگوں اور اولیاء اللہ کے مزاروں کے چکر لگانے کو اور چند سنتوں کو اپنانے کو عین دین سمجھتا ہے ۔ کسی نے دین کا منشا اس دور میں صرف مسلح جہاد کو سمجھا ہوا ہے۔ کسی نے شیعہ کو مارنا دین کا حصہ سمجھا ہوا ہے۔ کسی نے سنیوں کو مارنا دین بنارکھا ہے۔ کسی نے نماز میں اونچی آواز سے آمین کہنے اور ہاتھ سینے پر باندھنے کو دین سمجھا ہوا ہے۔ کوئ خلافت کا علم لے کر کھڑا ہوا ہے ۔ کوئ داعش کا پرچم لہرا رہا ہے۔ کوئی  صرف قرآن کو صحیح پڑھنے یا قرآن کے مدرسے کھولنے کو دین سمجھتا ہے ۔ ان سب نے دنیا کا نظام، سیاست و حکومت شیطانوں کے حوالے کردیا ہے اور دین کے من مانے ٹکڑے کر کے اپنے اپنے ٹکڑں میں مگن ہیں اور اسی کو پھیلانے میں مصروف ہیں۔

کیا ان میں اور مزکورہ بالا اندھوں میں کوئ فرق ہے۔ اس لیئے کہ انہوں نے بھی نہ پورے ہاتھی کو دیکھا اور انہوں نے بھی نہ پورے دین کو دیکھا۔ دین کے تکڑے تکڑے کر دیئے اور گروہ اپنے تکڑَے پر فخر کر ہارہے۔

انہی بدبختوں کے بارے میں قرآن نے کہا ہے: 


فتقطعوا أمرهم بينهم زبرا كل حزب بما لديهم فرحون۔۔ 
﴿
ان لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے اُسی میں وہ مگن ہے ۔۔۔۔ اچھا، تو چھوڑو انھیں، ڈوبے رہیں اپنی غفلت میں ایک وقتِ خاص تک۔ سورۃ مومنون ۵۳
میں نے فیس بک پر کمنٹ دیا :
بھائی : اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ، ایک فضول کہانی کو بنیاد بنا کر آپ نے اللہ تعالیٰ کے پیغام کا بیڑا غرق کر دیا ،
اللہ کا پورا پیغام پڑھئیے کہ کیا ہے ،
پرویز بھی ایک آیت پر تانا بانا بُنا کرتا تھا اورمودودی بھی ۔

دوستو اللہ کا پورا پیغام سیاق و سباق کے حوالے سے یہ ہے :-

يَا أَيُّهَا الرُّ‌سُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ (المؤمنون:51)
1-اِس آیت 51 میں اللہ تعالیٰ اپنے تمام الرُّ‌سُلُ کو اپنا امر دے رہا ہے ، کہ طیبات میں سے کھاؤ اور عملِ صالح کرو اور واضح کر رہا ہے کہ میں تمھارے (یعنی رسولوں ) امر کے سلسلے میں کئے جانے والے ، اعمال سے واقف ہوں !

وَإِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَ‌بُّكُمْ فَاتَّقُونِ (المؤمنون:52)
 2- اب اِس آیت 52میں اللہ تعالیٰ رسولوں پر یہ واضح کر رہا ہے کہ یہ جو تمھاری(رسولوں اور رسولوں کی اتباع کرنے والی) اُمتِ ہے اُمتِ واحدۃ ہے ، اور میں تمھارا ربّ ہوں ، پس مجھ سے متقی رہو! کس بنیاد پر اُمتِ واحدۃ ہے ؟ یہ اہم سوال ہے ! میرے فہم کے مطابق  كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا  کی وجہ سے ، اور متقی کیوں رھنا ہے ؟ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ  !یہ بات ضروری ہے ، کہ آیت 50 میں اللہ تعالیٰ کسی اور بات کی نباء دے رہا ہے ۔

فَتَقَطَّعُوا أَمْرَ‌هُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرً‌ا كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِ‌حُونَ (المؤمنون:53)
  3- اب اِس آیت 53میں اللہ تعالیٰ نباء دے رہا ہے  کہ اُنہوں نے اُن کے امر کو(جو انہیں دیا گیا )  آپس میں زُبُرً‌ا ( ٹکڑے) کر دیا - كُلُّ حِزْبٍ (سب حزب) جواُن کے پاس (ٹکڑا ) ہے فرحت محسوس کرتا ہے   (اللہ نے یہ نہیں کہا کہ وہ دوسروں سے جھگڑتے ہیں )-
لیکن پہلے یہ تو سمجھیں کہ اُنہوں نے اپنے کس امر کو قطع کر کے
زُبُرً‌ا ( ٹکڑے) بنا دیا

كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا

 الکتاب میں اللہ تعالیٰ نے لفظ أَمْرَ‌هُمْ لکھا ہے دِینَهُمْ نہیں لکھا امر اور دین میں فرق ہے امر، دین کا جزو ہے کیوں کہ کُل دین اسلام ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے یہاں، یہ نہیں کہا کہ طیبات نہ کھانے والوں اور عمل صالح نہ کرنے والوں ، کو قتل کرو۔
 کیوں کہ یہ أُمَّةً وَاحِدَةً   کا حصہ ہیں لہذا :-

فَذَرْ‌هُمْ فِي غَمْرَ‌تِهِمْ حَتَّىٰ حِينٍ (المؤمنون:54)
5- اُنہیں چھوڑ دو اُن کی اپنی غَمْرَ‌تِ میں چھوڑدو ایک مدت تک ( شاید وہ اپنے دئے گئے امر کے ٹکڑوں کو دوبار جوڑ لیں )

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔