میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 28 جون، 2015

8- طلاق - صرف دو بار -8

 ٭٭  پچھلا مضمون :   ارادہ ء تنسیخ نکاح 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1-  الطلاق دو بار  (تین بار نہیں)
اللہ نے محمدﷺ کو بتایا  :
الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ وَلاَ یَحِلُّ لَکُمْ أَن تَأْخُذُواْ مِمَّا آتَیْْتُمُوہُنَّ شَیْْئاً إِلاَّ أَن یَخَافَا أَلاَّ یُقِیْمَا حُدُودَ اللّٰہِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ یُقِیْمَا حُدُودَ اللّٰہِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہِ تِلْکَ حُدُودُ اللّٰہِ فَلاَ تَعْتَدُوہَا وَمَن یَتَعَدَّ حُدُودَ اللّٰہِ  فَأُولَـٰئِكَ ہُمُ الظَّالِمُونَ (2:229)
الطلاق دو مرتبہ۔ پس ان سے معروف کے ساتھ امساک کرو یاتم انہیں احسان کے ساتھ روانہ کرو۔ تمھارے لئے ”حلال“ نہیں کہ تم  نے جو کچھ اشیاء میں سے ان عورتوں کو دیا ہے  (طلاق دیتے وقت)پکڑ لو۔سوائے اس کے، کہ اُن کو خوف ہو کہ وہ  (میاں اور بیوی)حدود اللہ قائم نہ رکھ سکیں گے۔پس اگر تمھیں خوف ہو یہ کہ حدود اللہ قائم نہ رہ سکیں گی۔پس اُ ن دونوں (میاں اور بیوی) پرکوئی حرج نہیں کہ کہ وہ (بیوی)  اِس (دی گئی اشیاء) میں سے فدیہ دے، یہ اللہ کی حدود ہیں اِن سے تجاوز مت کرواور جس نے تجاوز کیا پس وہ ظالموں میں سے ہے۔
اِس آیت میں حدود اللہ کیا ہیں؟
     طلاق دو مرتبہ ہے۔اِس سے زیادہ طلاق حدود اللہ کا عبور کرنا ہے۔
2۔     مرد عورت کو، دوسری بار طلاق دینے کے بعد معروف کے مطابق روکے، یا اُس پر احسان کرے اور اُس کو جانے دے۔
     مرد نے عورت کو  نکاح کے بعد جو کچھ بھی مال (مہر نہیں)  دیا اُس کا واپس لینا مرد کے لئے حلال نہیں۔
    مرد معروف کے مطابق نہیں جانے دیتا اور عورت سے اپنا دیا ہوا مال حدود اللہ کو عبور کرکے  واپس لیناچاہتا ہے۔
  عورت،  حدود اللہ عبور کرنے والے مرد کو اُس کے دئیے ہوئے مال سے فدیہ دے گی۔

 اللہ تعالی،  ان چیزوں  کے بارے میں بتا یا۔ جو مرد اپنی عائلی زندگی میں اپنی بیویوں  کو اس وقت دیتے ہیں جب وہ ان سے خوش ہوتے ہیں ۔  اب جب وہ انہیں طلاق دیتے ہیں تو انہیں فکر ہو جاتی ہے کہ اب یہ اس کی دی ہوئی مال و  دولت گھر سے جاتے وقت لے جائے گی۔ اور لازمی بات ہے کہ ایک عورت طلاق لے کر جائے گی تو دوسری  نکاح کرکے اِس گھر میں آئے گی:   
 اب اگر عورت واضح فحاشی کی مرتکب نہ ہوئی ہو اور مرد اس بات پر کمر بستہ ہو کہ وہ  عورت سے وہ اشیاء  واپس لے جو اس نے اس عورت کو دی ہیں جسے وہ طلاق دینا چاہتا ہے تو اس صورت میں وہ جو حرکت کرے گا اس کا علم اس علیم و خبیر کو ہے چنانچہ  اللہ تعالی نے  اس کے لئے وضاحت کر دی ہے۔اب اس بیوی سے جس کو طلاق دی جارہی ہے ۔
شوہر کی طرف سے دئے گئے مال و  دولت  واپس لینے کی ایک ہی صورت ہے  اور وہ  یہ ہے۔ کہ الزام لگایا جائے !
1- عورت کا وارث بننا حلال نہیں ۔
 اللہ نے محمدﷺ کو بتایا  :
 یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ یَحِلُّ لَکُمْ أَن تَرِثُواْ النِّسَاء  کَرْہاً وَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ لِتَذْہَبُواْ بِبَعْضِ مَا آتَیْْتُمُوہُنَّ إِلاَّ أَن یَأْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ وَعَاشِرُوہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن کَرِہْتُمُوہُنَّ فَعَسَی أَن تَکْرَہُواْ شَیْْئاً وَیَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْْراً کَثِیْراً(4:19)
اے وہ لوگو جو ایمان لائے! تمھارے لئے حلال نہیں کہ تم عورتوں کے
کَرْہاً وارث بنو۔ اور تم انہیں ضِلت میں نہ ڈالو۔ کہ تم بعض سے وہ اشیا ء لے لو جو تم نے ان کو دیں  سوائے اس کے وہ واضح فحاشی کی مرتکب ہوئی ہوں ۔ اگر تمھیں اُ ن سے کراہت  آئے تب بھی  انہیں معروف کے ساتھ عیش دو۔ ممکن ہے کہ تم کسی شئے سے کراہت کرو اور اللہ اُس میں کثرت سے  خیر بنادے۔
2- سونے کا ڈھیر بھی واپس نہیں لے سکتے۔
 اللہ نے محمدﷺ کو بتایا  :
وَإِنْ أَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ وَآتَیْْتُمْ إِحْدَاہُنَّ قِنطَاراً فَلاَ تَأْخُذُواْ مِنْہُ شَیْْئاً أَتَأْخُذُونَہُ بُہْتَاناً وَإِثْماً مُّبِیْناً (4:20)
اور اگر تمھارا ارادہ ایک زوج کے مکان کو دوسری زوج سے تبدیل کرنا چاہو۔اور اگر تم نے ان کو ڈھیروں خزانہ دے چکے ہو۔ پھر بھی  ان سے کوئی بھی شے واپس نہ لو۔ کیا تم اُس پر بہتان اور گناہ کا واضح الزام لگانا چاہتے ہو۔
3- میثاق کر کے جنسی تعلق قائم کرنے کے بعد، کیسے توڑ سکتے ہو ! 
اب اللہ تعالی نے مرد کے مشتعل جذبات کو ٹھنڈا کرتے ہوئے  مزید نصیحت کی ہے۔  جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے کیا وہ واپس لینے کے لئے دیا تھا؟تم نے تو ان سے مع میثاق ِ غلیظ کیا تھا ۔ اب کیا تم وہ  میثاق ِ غلیظ  توڑنا چاہتے؟  جو ان عورتوں نے  نکاح کے وقت (بذریعہ ولی یا خود) تم سے کیا تھا   ۔ اس میثاق ِ غلیظ کو توڑنے کا بہت سخت جرمانہ ہو گا!!

 اللہ نے محمدﷺ کو بتایا  :
 وَکَیْْفَ تَأْخُذُونَہُ وَقَدْ أَفْضَی بَعْضُکُمْ إِلَی بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنکُم مِّیْثَاقاً غَلِیْظاً(4:21)
اور تم اس(مال) کو کیسے لے سکتے ہو (جو تم نے اپنی بیویوں کو ماضی میں دے چکے ہو)؟ اور حقیقت میں تم ایک دوسرے سے مل چکے ہو۔ اور ان عورتوں نے تم سے (اس مال کے بدلے) غلیظ (پختہ) ”میثاق“ لیا ہوا ہے۔
4- میثاق کر کے جنسی تعلق قائم نہ بھی کیا ہو تو بھی سب واپس نہیں لے سکتے ہو ! 
اگر مرد نے بیوی  سے ملاپ نہ بھی کیا(وجہ خواہ  مرد کی نامردی ہو ی)  اور قبل از  ملاپ طلاق  دی  ہو تو اس صورت میں بھی مطلقہ   سے سب کچھ واپس نہیں لیا جا سکتا  جوا نہوں نے نکاح کے وقت ان کو دیا تھا  ہاں البتہ آدھا لیا جا سکتا ہے ۔  اگر!

 اللہ نے محمدﷺ کو بتایا  :
   وَإِن طَلَّقْتُمُوہُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوہُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إَلاَّ أَن یَعْفُونَ أَوْ یَعْفُوَ الَّذِیْ بِیَدِہِ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ وَأَن تَعْفُواْ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَی وَلاَ تَنسَوُاْ الْفَضْلَ بَیْْنَکُمْ إِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیْرٌ  (2:237) 
اور اگر تم نے انہیں چھونے سے قبل طلاق دی ہو، اور تم نے ان کے لئے فریضہ فرض کر لیا ہو۔ پس اس کا نصف جو تم نے فرض کیا ہو (تم لے  سکتے ہو) اگر وہ عورتیں معاف کریں۔  یاوہ (عورت کا سر پرست)  معاف کرے جس کے ہاتھ میں عُقْدَۃُ النِّکَاحِ  ہو۔اور اگر تم (شوہر آدھا  واپس نہ لے اور) معاف کرو تو یہ اللہ سے ڈرنے کے لئے اقرب ہے  اور آپس میں (ایک دوسرے پرکئے جانے والے) فضل کو مت بھولو۔بیشک اللہ کو  تمھارے کئے جانے والے اعمال پربصیرت حاصل ہے۔ 

          اگر عورت کو قبل از ملاپ طلاق دی جائے تو اللہ تعالی نے نکاح کے وقت ٹہرائے   جانے والے  فریضہ  (مروج مہر) کے آدھے حصے کی مرد کو ادائیگی عورت یا اس کے سرپرست نکاح  کے  معاف کرنے سے مشروط رکھی ہے۔ اور اس کے باوجود مرد  کو کہا ہے کہ تم  یہ آدھا بھی معاف کردو تو تمھارے لئے یہ تقوی  کے قریب ہے۔ مزید یہ کہ اگر بوقت نکاح فریضہ (مروج مہر) نہ ٹہرایا گیا ہو تو اس صورت میں۔

 اللہ نے محمدﷺ کو بتایا  :
   لاَّ جُنَاحَ عَلَیْْکُمْ إِن طَلَّقْتُمُ النِّسَاء  مَا لَمْ تَمَسُّوہُنُّ أَوْ تَفْرِضُواْ لَہُنَّ فَرِیْضَۃً وَمَتِّعُوہُنَّ عَلَی الْمُوسِعِ قَدَرُہُ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدْرُہُ مَتَاعاً بِالْمَعْرُوفِ حَقّاً عَلَی الْمُحْسِنِیْنَ    (2:236)
تم پر کوئی حرج نہیں کہ اگر تم عورتوں کو چھونے سے پہلے طلاق دو۔
یا تم نے ان کا فریضہ فرض نہ کیا ہو۔ اور ان کا متع۔
٭۔ کشائش والے کے اوپر  اس کی قدر(حیثیت) کے مطابق
٭۔ تنگی والے کے اوپر  اس کی قدر(حیثیت) کے مطابق
یہ متع (کشائش یا کم کشائش والے) کے لئے معروف (مروج دستور)  کے  مطابق ہے۔احسان کرنے والوں کے اوپر  ( معروف کے مطابق متع دینا) حق ہے.

         اب  اگر کسی نے  عورت  سے کئے ہوئے  میثاق غلیظ کو توڑ دیااوراللہ کی حدود میں  سے ایک حد کو پار کیا اور عورت کو  فدیہ دے کر طلاق لینی پڑی تو اس صورت میں اللہ تعالی نے کیا، کیا قانون بنایا ہے ؟
2. فدیہ لینے کے جرم میں عورت،  مرد پر حرام ہوگئی۔
اللہ نے محمدﷺ کو بتایا  :فَإِن طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِن بَعْدُ حَتَّیَ تَنکِحَ زَوْجاً غَیْْرَہُ فَإِن طَلَّقَہَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْْہِمَا أَن یَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن یُقِیْمَا حُدُودَ اللّٰہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللّٰہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (2:230)
پس جب اس مرد نے  اس عورت کو (فدیہ لینے کے بعد) طلاق دی  تو وہ اس  (مرد)کے لئے اس وقت تک حلال نہیں، حتی کہ وہ عورت اس کے علاوہ کسی  غیر زوج سے نکاح کرے۔ پس جب اس(غیر زوج) نے اس عورت کو طلاق دی۔ تو ان دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ وہ (پہلا زوج اور عورت)  آپس میں رجوع کر لیں۔(بشرطیکہ) اگر ان دونوں کوظن (قیاس)  ہو کہ وہ حدود اللہ قائم رکھ سکیں۔ یہ حدود اللہ ہیں جن کی وہ علم والوں کے لئے وضاحت کرتا ہے۔
اِس آیت میں حدود اللہ کیا ہیں؟
فدیہ لینے والے مرد پر الطَّلاَقَ تَسْرِ‌يحٌ   دینے کے بعد عورت حرام۔
2۔یہ عورت حلال اُس وقت ہو گی جب یہ دوسرے مرد سے نکاح کرے اور وہ اُسے الطَّلاَقَ تَسْرِ‌يحٌ نہ دے ۔
طلاق فَارِق (65:2) کے بعد دونوں، اپنی مرضی سے  دوبارہ  نکاح کر سکتے ہیں۔
اللہ نے محمدﷺ کوحکم دیا    اور اپنی حدود بتائیں :
  يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ ۖ وَاتَّقُوا اللَّـهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّـهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا ﴿65:1


 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ:  جب تم ، النِّسَاءَ    (عورتوں)   کو  طلاق دو :
1- اُن کی عدّت کی مدت تین ماہ ( یا پیدائش اولاد )  اللہ سے تقی رہتے ہوئے  اُس کا حساب رکھو اور اُس کے بعد طلاق دو  -
2- اور تم  (اے نبی ) اُن  عورتوں کو (اُن کی عدت سے پہلے)  اُن کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں ؛ (عدّت  کے بعد وہ  اپنی گھروں سے جا سکتی ہیں ) -
3- سوائے اِس کے کہ وہ واضح فحاشی میں مبتلا ہوئی ہوں-  (ایلا 
(2/226)کے بعد وہ شوہروں کے گھر نہیں رہ سکتیں)
4- یہ حدود اللہ ہیں ، اِن کو (لوگوں کی جذباتی   خواہشات  کی وجہ سے ) پار مت کرنا ، حدود اللہ کو پار کرنا اپنے نفس پر ظلم کرنا ہے !
5 - (اے نبی) تجھے ادراک نہیں ،اِس امر کے بعد بھی اللہ تجھے  (اپنی حدود پر قائم رکھنے کے لئے) مزیدحدث کرتا رہے ۔  !

 فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا  مِّنكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّـهِ ۚ ذَٰلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا ﴿65:2
  اِس آیت میں   اللہ کا  البنی کو وعظ  کیا ہے  ؟
عزمِ طلاق کی اجل ( عدّت کی   بلوغت  ) کے  بعد  مروّج  دستور کے مطابق روک لینا ۔
یا مروّج  دستور کے مطابق  جانے دینا  ۔
طلاق   (مرتان) کی شہادت  دو ذی  عدل  کے سامنے ہو، جو اللہ اور یوم الآخر پر ایمان رکھتے ہوں  !
4 -جو  اللہ سے تقّی رہتا ہے  اللہ  نے اُس کے لئے مخرج بنایاہے   ۔
 
ہمارا عائلی قانون ، 1963 ۔ اللہ کے قانون کے متضاد ہے۔ یہ  عام جھگڑے کے بعد :
1- مرد کے فدیہ لئے بغیر  طلاق دلوانے پر مرد سے تین طلاق دلواتا ہے۔ تاکہ اگر مرد اپنی غلطی کو واپس لینا چاھتا ہو، تو  حلالہ کے بغیر ممکن نہ بنایا جائے ، جبکہ  اللہ نے صرف دو طلاق پر علیحدگی  رکھی ہے اور حلالہ صرف اپنے لئے حرام کو حلال بنانے والے شوہر کے لئے رکھی ہے ۔ جو مہر کی رقم اور یگر اپنی طرف سے دی گئی مالیتی اشیاء واپس ہے ۔
2- فدیہ ( 
مہر کی رقم اور یگر اپنی طرف سے دی گئی مالیتی اشیاء واپس) لینے والے مرد سے بھی تین طلاق دلواتا ہے۔
3- پھراگر عورت اپنے مرد سے فدیہ دے  کر  خلع لے تو اُسے بھی تین ہی طلاق دلواتا ہے۔ 

کیوں؟
کہ  اُن کے پاس 
مرد اور عورت کے درمیان علیحدگی کروانے پر، انسانی ہدایت کے لئے لکھی گئی کتابوں سے   دلائل  بہت ہیں۔

اللہ نے محمدﷺ کو بتایا  :

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَ‌اضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُ‌وفِ ۗ ذَٰلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ ۗ ذَٰلِكُمْ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَأَطْهَرُ‌ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿2:232
اور  ( اے نبی ) جب تم
جب عورتوں کو طلاق دو اور اپنی  عدت﴿65:2﴾  مکمل کریں  توان کو گمراہی میں مت ڈالو کہ وہ اپنے ازواج سے   نکاح کریں ۔اگر تم آپس میں مروّج دستور کے مطابق (نکاح کروانے پر )  راضی  ہو !  یہ وعظ اُس کے لئے ہے جو اللہ اور یوم الآخر پر ایمان رکھتا ہو ، وہ تمھارے لئے   أَزْكَىٰ ہے اور   أَطْهَرُ‌ہے -  اور کو علم ہے اور جس کا تم کو علم نہیں ۔
 

عدت
٭۔  جنسی تعلق کے بعد   عدت کی مدت
وَالْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِہِنَّ ثَلاَثَۃَ قُرُوَء ٍ وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ أَن یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْ أَرْحَامِہِنَّ إِن کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَبُعُولَتُہُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیْ ذَلِکَ إِنْ أَرَادُواْ إِصْلاَحاً وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْْہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْْہِنَّ دَرَجَۃٌ وَاللّہُ عَزِیْزٌ حَکُیْمٌ (2:228)
اور مطلقات اپنے نفوس کو تین قروء روک کر رکھیں۔ان کے لئے حلال  نہیں کہ وہ اس کو چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں تخلیق کے  عمل سے گذارنا شروع کر دیا ہے۔ اگر وہ اللہ اور یوم الآخر پر ایمان  رکھتی ہیں۔ اور ان کے شوہر حق رکھتے ہیں کہ انہیں اس (تین قروء کی مدت یا حمل ظاہر ہونے) کے  درمیان (طلاق مکمل ہونے سے قبل) انہیں لوٹا  لیں ، اگر ان کا اردہ اصلاح کا ہو ( تنگ کرنے کا نہیں)  ا ن(عورتوں) کے لئے  وہ   (مرد) مروج دستور کے مطابق ا ن (عورتوں)  کے برابر ہے ۔اور رجال (مردوں) کے لئے اُن (عورتوں) کے اوپر ایک درجہ ہے۔ اور اللہ عزیز اور  حکیم ہے۔
 
٭۔  جنسی تعلق  نہ قائم کر سکنے کے بعد    عدت کی مدت  - جن کو چھوا نہ ہو۔  (بوجہ نامردی یا طلاق قبل از ملاپ)
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا إِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوہُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوہُنَّ فَمَا لَکُمْ عَلَیْْہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّونَہَا فَمَتِّعُوہُنَّ وَسَرِّحُوہُنَّ سَرَاحاً جَمِیْلاً  (33:49)
اے وہ لوگو جو ایمان لائے! جب تم مومنات سے نکاح کرو۔ پھر تم انہیں چھونے سے قبل طلاق دو۔تو تمھارے لئے ان کی عدت میں سے نہیں ہے  کہ تم ان پر زیادتی کرو!۔ پس ان کے متع ان کو دے دواور انہیں خوش  اسلوبی سے(مھائدہ نکاح سے) آزاد کر دو۔
٭۔  جنسی تعلق کے بعد حاملہ   منکوحہ ! 
وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْ‌تَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ‌ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ 
ۚ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِ‌هِ يُسْرً‌ا ﴿65:4  
اور وہ تمھاری نساء میں سے جو حیض آنے سے مایوس ہو چکی ہوں ( بوجہ بانجھ پن یا بڑھاپا)۔ تو ان کی عدت (طلاق کے دن سے) تین ماہ ہے (تین قروء نہیں کیونکہ قروء حیض والی عورت کے لئے ہے) تمھیں شک ہو کہ ان کو حیض آنا بند ہو  چکا ہے۔ اور جو حمل سے ہوں تو ان  کی (عدت کی) اجل جب وہ حمل کو وضع کر دیں۔

٭۔   بیوہ  - 
وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجاً یَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِہِنَّ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْراً فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْ أَنفُسِہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْر  (2:234)
اور تم لوگوں میں سے جو فوت ہوں اور ازواج چھوڑ جائیں۔ تووہ(ازواج )  اپنے نفسوں کے ساتھ چار مہینے اور دس دن رکے رہیں۔ اور جب وہ اپنی  اجل کی بلوغت کو پہنچیں تو ان پر کوئی حرج نہیں کہ وہ معروف (مروج  دستور کے مطابق) اپنے نفسوں کے بارے میں فعل کریں۔ اور جو  عمل تم کرتے ہو  اللہ کو اس کی خبر ہے۔

٭۔  عدت  کی مدت کا حساب  کون رکھے گا؟۔

عورت عدت کہاں گزارے گی؟
یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء  فَطِّقُوہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّۃَ وَاتَّقُوا اللَّہَ رَبَّکُمْ لَا تُخْرِجُوہُنَّ مِن بُیُوتِہِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ إِلَّا أَن یَأْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ   وَمَن یَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہُ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللَّہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِکَ أَمْراً (65:1)

اولی الامر کوعَزَمُ الطَّلاَقَ کے بارے میں لازمی آگاہ کیا جائے گا ۔ اور
٭۔    اولی الامر کے سامنے، مرد  عَزَمُ الطَّلاَقَ کرے گا 
٭۔  اولی الامر عورت کو عدت کی مدت عورت کی نسوانی حیثیت کے مطابق کتاب اللہ و الکتاب سے وعظ کرے گا۔
اور ایک ثالث عورت اور ایک ثالث مردکے اہل سے کتاب اللہ کی روشنی میں مقرر کرے گا ۔ اور ان کو عدت کی تکمیل تک کسی بہتر قسم کے نتیجے پر پہنچنے کا مشورہ  دے۔ اور میاں بیوی کو واپس ان کے گھر جہاں  وہ رہتے ہیں بھجوا دے گا۔ اگر بیوی واضح فحاشی کی مرتکب ہوئی  اور مرد کی مرضی اسے اپنے پاس رکھنے کی نہیں تو پھر اسے اس کےسرپرست  کے گھر بھجوا دے گا۔
٭۔     عورت  خود کو اس مدت (إِمْسَاک) تک روکے گی۔  تاکہ رحم میں جو پوشیدہ ہے وہ ظا ہر ہو جائے
٭۔      عورت  الطَّلاَقَ إِمْسَاک کے عمل سے گذرے گی اور شوہر کے گھر تین قروء گذارے گی۔
٭- حمل کی صورت میں یہ مدت ، معروف کے مطابق بڑھ جائے گی ،
٭- اولاد ہونے کے بعد اولاد کا نفقہ اور عورت کا اولاد کو پانے کا نفقہ مرد پر لازم ہوگا ۔
٭۔  مدتِ إِمْسَاک (تین قروء)  پورے ہونے کے بعد اولی الامر مرد اور عورت سے اُن کا اگلا اقدام پوچھے گا ۔
٭۔     اب اگر  میاں بیوی آپس میں دو بارہ ساتھ رہنے پرراضی ہیں۔ تو اولی الامر عورت کے ثالث کی رائے معلوم کر کے کہ کہیں مرد کا پروگرام بیوی کوتنگ کرنے کا تونہیں ۔ طلاق امساک  کے بعد  دونوں کودستورکے مطابق  ساتھ ایک گھر میں رہنے کا حکم  دے گا۔ اور اس پر دو گواہ بنائے گا۔
٭۔     اگر مرد إِمْسَاک پر راضی نہیں تو اولی الامر الطَّلاَقَ تَسْرِیْحٌ  کے شروع ہونے کا اعلان کرے گا ۔ اب عورت کی مرضی کی عدت مرد کے گھر گذارے یا مروج دستور ( معروف ) کے مطابق نان نفقہ لے کر والدین کے گھر عدت کے تین ماہ گذارے -
٭۔  اولی الامر عدت کا شمار رکھے گا۔
(إِمْسَاک  تین قروء  +  تَسْرِیْح تین قروء ) 
٭۔      عدت پوری ہونے پر میاں بیوی دوبارہ  کے پاس آئیں۔عدالت إِمْسَاک یا مفارقت کا پوچھے گی -
٭۔     مرد کی  طرف سے
تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ کی صورت میں اولی الامر کاروائی مفارقت  کرے گا-
 مفارقت  
فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَأَمْسِکُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوہُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْہِدُوا ذَوَیْْ عَدْلٍ مِّنکُمْ وَأَقِیْمُوا الشَّہَادَۃَ لِلَّہِ ذَلِکُمْ یُوعَظُ بِہِ مَن کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَمَن یَتَّقِ اللَّہَ یَجْعَل لَّہُ مَخْرَجاً   (65/2)
 
وَيَرْ‌زُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ بَالِغُ أَمْرِ‌هِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّـهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرً‌ا ﴿65:3
اور اسے رزق دیتا ہے ایسی حیثیت میں سے کہ جس کا احتساب نہیں کیا جا سکتا (کہ کیسے آیا؟ اور کہاں سے آیا؟)اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے پس وہ(اللہ) اس کے حسب کے  لئے ہے۔ بے شک اللہ کے پاس امر کی ابلاغ ہے  حقیقت میں اللہ نے تمام اشیاء  کے لئے اقدار بنائی ہیں۔

٭- متقی اپنی مطلقہ بیوی کو اُس کا تمام مال و متاع دیتا ہے ، چھینتا نہیں۔
وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُ‌وفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ ﴿2:241
اورالْمُطَلَّقَاتِ کے لئے متاع معروف کے ساتھ  ہے ، الْمُتَّقِينَ کے اوپر حق ہے ۔
كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّ
ـهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿2:242

اِس طرح اللہ تمھارے(غیر متقیوں ) لئے  اپنی آیات کوبَيِّنُ کرتا رہتا ہے ، تاکہ تم عقل استعمال کرو ۔


تمت بالخیر
  ٭٭٭٭08- اسلام کا قانونِ نکاح اور طلاق٭٭٭٭٭



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭تمت بالخیر٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔