میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر, جون 8, 2015

غلام لڑکی اور جسمانی تعلقات

غامدی انٹر نیشنل پر بڑی ، سوچ کو گدگدانے والی بحث ہوتی ہیں ، جن کا تعلق دین سے کم اور مذھب سے زیادہ ہوتا ہے ۔
جن میں سے ایک یہ بھی ہے غلام لڑکی اور جسمانی تعلقات



یہ وہ نوجوان ہیں جو  تراجم کی تلواروں سے ذہنی لڑائی کے ماہر ہیں اور یہی اطوار ، پرویزی سوچ سے متاثر نوجوانوں کے بھی ہیں ۔
میرے فہم کے مطابق ، دین اور مذھب دو الگ الگ برتن سمجھ لیں ۔

1- الدین ایک فکس برتن ہے جس کا مکمل احاطہ ، الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ سے لے کر مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ کے اندر ہے- جن کی وضاحت اللہ تعالیٰ  نے یاایھاالناس پر کی اور محمد الرسول اللہ نے یا ایھاالذین آمنو پر کی ، جو اٹل ہیں لیکن ایک فرد پر خصوصی حالات کے تحت ، زندگی بجانے پر چھوٹ بھی ہے  ۔

إِنَّمَا حَرَّ‌مَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ‌ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ‌ اللَّـهِ فَمَنِ اضْطُرَّ‌ غَيْرَ‌ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ ﴿البقرة: 183﴾

2- اور دوسرا برتن مذھب کا ہے ، جس میں اجتہادی اور فقہی ، فتاویٰ ہیں جو مختلف مذہبی افراد نے مختلف حالات کے دوران دیئے۔ جن میں قول منسوب الی الرسول بھی ہیں ۔ جو صاح الستہ یا حضرت علی سے منسوب ہیں ۔
دوسرے پر عمل نہ کریں سے آپ الدین سے کفر  نہیں کریں گے
لیکن پہلے کی کسی آیت سے انکار یا اُس کے ترجمے سے  لوگوں کو اپنے مقصد کے لئے بہکانے پر، آپ کا شمار اللہ کے نزدیک اِن لوگوں میں ہو جائے گا :-

إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللّهِ الْإِسْلاَمُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوْتُواْ الْكِتَابَ إِلاَّ مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَمَن يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللّهِ فَإِنَّ اللّهِ سَرِيعُ الْحِسَابِ  ( آلِ عمران : 19)
 ********************************
موجودہ حالات میں ایک لایعنی بحث و تکرار پر غلام لڑکی اور جسمانی تعلقات
عظیم شاہ خان کی شروع کی ہوئی اِس پوسٹ نے مجھے درج ذیل کمنٹس نے متوجہ کیا :
Azeem Shah Khan Mehar please can you share relevant verses (with correct interpretations). You stated that it was permitted for the existing slave girls at that time, please can you elaborate as per which Quranic verse you have restricted its applicability to those slave girls only. As per my limited knowledge there isn't any verse which categorically abrogated the verse which permitted intimate relationship with wives and slaves

Thanks

Mehar Afshan Azeem Shah Khan، 
جی سورہ نساء کی آیات 3 سے 5 تک میں اللہ پاک فرماتا ہے بیوہ عورتوں میں سے دو تین یا چار تک سے نکاح کرلو اور اگر ڈر ہو کہ انصاف نہ کرسکو گے تو ایک ہی پر بس کرو یا جو تمھارے قبضے میں ہین۔بے انصافی سے بچنے کے لیئے یہ زیادہ درست ہے۔ان عورتوں کے مہر بھی خوش دلی سے ادا کرو۔البتہ اگر وہ اپنی خوشی سے کچھ چھوڑ دیں تو اسے تم مزے سے کھا سکتے ہو
اب آپ خود غور کر لیں کہ یہاں اللہ پاک کیا فرمارہے ہیں
میں نے کمنٹس دئیے :
مہر افشاں:
1- پہلے ابتسام کی بات پر غور کرو ،
2- پھر اِس پوسٹ کو اسلام کے خلاف نفرت پیدا کرنے والے پر غور کرو ۔

3- اُس کے بعد سوچو کہ کیا اب غلام ہوتی ہیں ؟
اُس کے بعد سورہ انساء کی آیات کو عربی میں لکھ کر سمجھاؤ ، ترجمہ تو وہی ہے جو ، اللہ کے یتیم بچوں کی کفالت کے لئے، اللہ کے حکم کے خلاف ہے ۔

آپ کا اس حوالے سے کیا نظریہ ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
میں نے کمنٹس دئیے :
 مہر افشاں ، بیٹی :

میرا کوئی نظریہ نہیں ، میں اِن حالات سے ابھی تک نہیں گذرا ۔ اور نہ ہی کبھی ایسا موقع آسکتا ہے ۔
دوسرا یہ ، اُس وقت کے حالات کا اجتہادی نظریہ ہے جب وہ پیدا ہوں ۔




مزید مضامین ، اِس سلسلے میں دیکھیں :









خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔