میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 1 جون، 2015

چم چم کہانی

پیارے بچو ! ایک تھی عورت جو آہستہ آہستہ ، اپنے بوڑھے کے ساتھ بوڑھی ہوگئی ۔ اُن دونوں کے چار بچے ہیں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ، باقی بوڑھے لوگوں کے بچوں کی طرح ، اُن کے بچے بھی تلاشِ رزق کے لئے اُڑ گئے اور وہ دونوں اکیلے رہ گئے ۔ اُن دونوں نے اپنی مصروفیت کے لئے ، پرندے پال لئے ۔ دونوں مصروف ہوگئے ۔ پھر ایسا ہوا کہ بڑی بیٹی کے ھاں ایک چاند سی " چم چم " جیسی بیٹی ہوئی ۔ وہ دونوں بہت زیادہ مصروف ہوگئے ۔ تو اُنہوں نے پرندے اپنے ہم عمر جاننے والوں کو دے دیئے تاکہ وہ مصروف ہوجائیں
پیارے بچو ! دراصل "چم چم" کی ماما اور بابا ، پچھلی گلی میں رہتے تھے وہ دونوں جب صبح آفس جاتے تو چم چم کو اُن کے گھر چھوڑ جاتے ۔ اور بچو جب وہ دونوں آفس سے رات کو آتے تو چم چم کو اپنے گھر لے جاتے ، تو ڈھائی سال تک وہ دونوں بوڑھے اور بڑھیا ، چم چم کے ساتھ مصروف رہتے " چم چم " آہستہ آہستہ بڑی ہونے لگی اور بھر ایک دن جب وہ پہلی بار سکول گئی ، تو بوڑھا اور بوڑھی پھر اکیلے رہ گئے ، اُن کی سمجھ میں نہ آئے کہ وہ صبح آٹھ بجے سے 12 بجے تک کا وقت کیسے گذاریں ۔

پہلے دونوں نے سوچا کہ پرندے لے لیں ، مگر پھر ارادہ چھوڑ دیا ۔ ایک دن بوڑھے نے ایک دوست کے ھاں ، ایک بڑے سے جار میں خوبصورت مچھلیاں دیکھیں وہ بوڑھے اور بڑھیا کو بہت پسند آئیں ، تو بوڑھے نے اپنے گھر میں ، ایک شیشے کا بنا ہوا بڑا سا جار لاکراُس میں  مچھلیاں رکھ لیں ۔ چم چم کے لئے یہ ایک سرپرائز تھا وہ بہت خوش ہوئی ۔ وہ سکول سے آکر اُن سے باتیں کرتی اور اُنہیں سبق سناتی ، جار میں بوڑھے نے چھ جوڑے مچھلیاں رکھیں جن میں سے ایک شارک جوڑا بھی تھا ۔ جس کو بہت بھوک لگتی تھی ۔

بچو ! ایک دن چم چم نے دیکھا کہ مچھلیاں بھوکی ہیں اور بے چاری مچھلیاں منہ کھول کھول کر فیڈ مانگ رہی ہیں، بوڑھا سویا ہوا ہے  اور بڑھیا اللہ اللہ کر رہی ہے تو بچو ! ڈھائی سالہ چم چم نے اپنے " اُو ھُو ، اُو ھُو (دودھ)" کا ڈبہ کھول کر ، تھوڑاسا پوڈر دودھ انہیں ڈالنے کی کوشش کی تو ایک بڑی مچھلی ٹارزن شارک ، لپک کر دودھ کی طرف آئی ، چم چم سمجھی کہ وہ اُس کا ھاتھ کھانے آئی ہے ۔ تو بچو ! چم چم نے ڈر کر دودھ کا ڈبہ چھوڑ دیا اور وہ ڈبہ جار میں گر گیا ۔ چم چم ڈر کر بوڑھے کے پاس آکر لیٹ گئی اور سو گئی ۔ بڑھیا جب اپنی سو رکعت نماز، نفل پڑھ کر لاونج میں آئی تو دیکھا ۔ کہ " بِِگ جار " میں پانی سفید ہو گیا ہے ۔ بوڑھی نےتوجہ نہ دی اور وہ بھی ، چم چم کے پاس آکر سو گئی ۔
تو بچو ! چم چم جب اُٹھی اور مچھلیوں کو دیکھنے گئی ، جب اُس نے مچھلیوں کو دیکھا تو واپس دوڑتے ہوئے کمرے میں آئی اور بوڑھے کو اٹھاتے ہوئے ، چلائی ،
" آوا ، آپ کے لئے سرپرائز ہے "
" کیا سرپرائز ہے ؟" بوڑھے نے وقت سے پہلے نیند سے جاگتے ہوئے پوچھا ۔
" آل فِش ڈیڈ" اُس نے زور سے بولا ۔
اِس سے پہلے ، بوڑھا کوئی جواب دیتا ، واش روم میں وضو کرتی ہوئی بڑھیا نے پوچھا ،
" کیسے ؟ "
چم چم ، بڑھیا کو کھینچتی ہوئی ۔ کمرے سے باہر لے گئی ۔ بوڑھا بھی سُستی کے ساتھ  بستر سے اٹھا اور کمرے سے نکلا ۔ جاکر کر دیکھا ۔ اور فوراً معاملہ سمجھ آگیا ۔
" آوا ، یہ کیوں مریں ؟ " چم چم نے پوچھا ۔


" اِن کو " اُو ھُو ، اُو ھُو (دودھ)" پینے سے فوڈ پائزننگ ہوگئی ہے ۔ کیوں کہ یہ " اُو ھُو ، اُو ھُو (دودھ)" نہیں کھاتیں ۔ بوڑھے نے جواب دیا ۔ اور ایک چھوٹی سی تعزیتی تقریب میں ، بوڑھے ، بڑھیا اور چم چم نے ، ایف نائن پارک کے خوبصورت لان میں ، اُن مچھلیوں کو شام کو واک پر جاتے ہوئے اجتمائی قبرمیں دفنا دیا جو چمچے سے کھودی تھی ۔ اور پاس لگے ہوئے پھول کیاری میں سے توڑ کر اُن کی قبر پر ڈالے  اور چم چم کو بڑھیا نے دعا پڑھوائی ۔
بوڑھے نے ، پورے جار کو خالی کیا اُسے اچھی طرح  دھویا اُس میں پڑھی ہر چیز ، ماربل، سیپیاں ، سٹون وغیرہ کو چم چم نے دھویا اور پھر اُنہیں دھو میں رکھ دیا تاکہ ، خوفناک جراثیم مر جائیں ۔ دوسرے دن جب چم چم سکول گئی ، تو بوڑھے نے جار کو دوبارہ سٹینڈ  پر رکھ کر اُس میں پانی بھر دیا اور پانی میں دوائی ڈال دی ۔ جب چم چم سکول سے واپس آئی ۔ تو اُس نے بوڑھے کو کہا،

"آوا ، چلیں مچھلیاں لے کر آئیں " چنانچہ وہ دونوں مچھلیاں لے کر آئے ، یہ چھوٹی اور سستی چھ جوڑے " مولی" مچھلیاں تھیں ۔ چم چم کو بتایا کہ یہ ابھی بچے ہیں ، یہ بہت بڑے ہوں گے ۔ دن گذرتے گئے ۔ چم چم کی بھی ذمہ داری تھی کہ جب وہ سکول سے آئے تو مچھلیوں کو فیڈ ڈالے ۔ بوڑھےنے ایک کھانسی کی دوائی کی خالی بوتل میں ، مچھلیوں کی فیڈ ڈال دی اور چم چم کے لئے چھوٹے چھوٹے شاپر میں 18 دانے ڈال دئے اور چم چم کو بتایا کہ وہ صرف اِس شاپ سے فیڈ ڈالے گی ۔ 
تو پیارے بچو ایک دن کا ذکر ہے کہ آخری شاپر رہ گیا ، بوڑھے نے سستی دکھائی کہ شام کو سو کر اُٹھنے کے بعد چم چم کے لئے شاپر تیار کر دے گا ،تو بچو بوڑھا 11 بجے سو گیا ۔ بوڑھے کے ساتھ ایک یہ مسئلہ تھا کہ وہ بور ہوتا تو سو جاتا ۔ اور جب سو جاتا تو اُسے اٹھانا منع تھا کہ جب تک وہ خود نہ اُٹھے اور یا پھر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جب صور بجے۔ یوں کہ بوڑھا جو تھا اور اب بھی بوڑھا ہے ۔
تو بچو بوڑھے کو سوئے کافی دیر ہو گئی تھی ۔ کہ اچانک صور بجا ۔ چم چم روتے ہوئے کہہ رہی تھی '
" آوا اٹھو ، آوا اٹھو ، ورنہ مچھلیاں مر جائیں گی "
بوڑھا ، ہڑبڑا کر اُٹھا ، چم چم کے ساتھ لاونج میں آیا تو دیکھا ، کہ جار میں ، مچھلیوں کی بوتل میں پڑی ہوئی ساری فیڈ تیر رہی ہے اور مچھیاں موجیں اُڑا رہی ہیں ۔ فوراً ایمر جنسی نافذ ہوئی اورجالی کی مدد سے مچھلیوں کو چھوٹے جار میں ڈالا اور پھر جار کی صفائی شروع ہوگئی ۔
رات کو اپنی ماما کی کورٹ میں صفائی دیتے ہوئے چم چم نے کہا ،
" ماما ۔ میری غلطی نہیں تھی ، شاپر سے پِن نکالتے وقت ، ساری فیڈ گر گئی ۔ تو میں نے آوا ، کو کاپی کرتے ہوئے ، بوتل سے فیڈ ڈالنے کی ٹرائی کی "

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔