میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 17 جون، 2015

الکتاب اور القرآن

  الکتاب

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سے لے کر مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ  تک وحی کا خزانہ ، " کتاب اللہ " کی تصدیق ۔ کائینات کے خالق کی پہچان ، اس کے احکامات ، اس کے ممنوعات ،  اور ، خود انسان کی اپنی ذات کے لئے "الکتاب " تکمیل کا ایک خزانہ ہے ۔ جس پر عمل کر کے وہ ، حیوانی حیات سے بلند ہوتا جاتا ہے ۔   بشرط کہ ، کتاب اور قرآن دونوں عربی میں رہیں :



كِتَابٌ فُصِّلَتْ آيَاتُهُ قُرْ‌آنًا عَرَ‌بِيًّا لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴿فصلت: 41/3﴾

عجمی میں تبدیل ہوتے ہی ، قرآن کی  فُصِّلَتْ تبدیل ہوجاتی ہے :  
وَلَوْ جَعَلْنَاهُ قُرْ‌آنًا أَعْجَمِيًّا لَّقَالُوا لَوْلَا فُصِّلَتْ آيَاتُهُ ---- ﴿فصلت: 41/44﴾

القرآن ۔ 

حفاظ کے ذہنوں میں محفوظ ، ایک حقیقت،

   انسانوں کے لئے ھدایت اور

الَّذِينَ آمَنُوا " کی مستند تاریخ کا آغاز ،



 احسن الحدیث کا حصہ ہیں ۔ اور خالق کائینات کا حتمی "امر " انسانوں کے لئے ، جس کی عربی میں، کسی قسم کی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں، جن کی آیات  پر   محمدﷺ  نے  بلا تخصیص کو اکراہ   عمل کیا  ، جس کی وجہ سے  ، یہی  ذَكَرَ اللَّهَ ،   أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ قرار پائیں ،اور    الْيَوْمَ الْآخِرَ کے لئے  یہی  اللَّهَ سے    رَجُوکا نصاب ہیں ۔
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا ۔ ( الاحزاب 33:21 )
شاندار ، بے داغ اور اجلے ماضی کا امین ،محمد بن عبداللہ تاریخ سے نکل کر “کتاب اللہ “ میں لازوال ہوگیا ،  اس کی اسوہ حسنة ، قیامت تک اللہ نے ،مسلمانوں(منافقوں نہیں) کے لئے اتباع قرار دے دی ،   اور اللہ سے “محبت کرنے والوں “ کے لئے وسیلہ بنادی گئی ۔  

افسوس : لیکن ، منافقوں نے "القرآن"  کے تراجم میں "لھو الحدیث " ملا کر اسے انسانوں کے لئے سب سے زیادہ "ناقابل اعتبار نوشتہ"  بنا دیا ۔ اس کے باوجود کہ اللہ کا "امر"  ہے :


إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْ‌آنًا عَرَ‌بِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿يوسف: 12/2﴾

إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْ‌آنًا عَرَ‌بِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿الزخرف: 43/3﴾

وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَاهُ حُكْمًا عَرَ‌بِيًّا وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم بَعْدَ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّـهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا وَاقٍ ﴿الرعد: 13/37﴾


قُرْ‌آنًا عَرَ‌بِيًّا غَيْرَ‌ ذِي عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ﴿الزمر: 39/28﴾
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ بھی دیکھئے 
کتاب اللہ ۔ 
عربی و عجمی،

              

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔