میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 13 جون، 2015

گیٹو گرے

اِک تھا گیٹو گرے

اُس کے دو مور تھے
اِک کا کالا تھا سر
اِک کے پیلے تھے پر

دانہ کھاتے تھے وہ
دُم ہلاتے تھے وہ
شام کو، دِن ڈھلے
اپنے گھر سے چلے

تھے بڑی لہر میں
آگئے شہر میں
کچھ وہاں سیر کی
کچھ یہاں سیر کی

ٹرٹراتے ہوئے
گانا گاتے ہوئے
جب اندھیرا ہوا
گیٹو گھبرا گیا

دل میں کہنے لگا
یہ ہے کی ماجرا
اب تک آئے نہیں
جانے کیا وہ کہیں

راستہ کھو گئے
یا کہیں سو گئے
آپ جاتا ہوں میں
اُن کو لاتا ہوں میں

بولی گیٹو کی ماں
“تم چلے ہو کہاں
چھوڑ دو، چھوڑ دو
خود ہی آئیں گے وہ

سر کھجاتے ہوئے
دُم ہلاتے ہوئے“
بولا گیٹو گرے
“مور دونوں مِرے

سخت نادان ہیں
سخت انجان ہیں
وہ تو ڈر جائیں گے
گھٹ کے مر جائیں گے“

بولی گیٹو کی ماں
“بات سن میری جاں
تُو ہے گیٹو گرے
تُو انہیں چھوڑ دے

دیکھتے دیکھتے
مور گھر آگئے
سر کھجاتے ہوئے
دُم ہلاتے ہوئے

بولے گیٹو میاں
“بولو تم تھے کہاں؟
اتنے چالاک ہو
انتے بے باک ہو

پھر جو جاؤ گے تم
مار کھاؤ گے تم“
اُس کی اِس بات سے
مور خوش ہوگئے

پر لگے کھولنے
پھر لگے بولنے
دُم ہلانے لگے
گانا گانے لگے

از صوفی تبسّم

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔