میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 14 جون، 2015

رشتوں کے دھاگے

ایک بیٹے نے باپ سے پوچھا - پاپا یہ 'کامیاب زندگی' کیا ہوتی ہے؟
والد، بیٹے کو پتنگ اڑانے لے گئے.
بیٹا باپ کو غور سے پتنگ اڑاتے دیکھ رہا تھا ...
تھوڑی دیر بعد بیٹا بولا،
پاپا .. یہ دھاگے کی وجہ سے پتنگ اور اوپر نہیں جا پا رہی ہے، کیا ہم اسے توڑ دیں !!
یہ اور اوپر چلی جائے گی ...
والد نے دھاگہ توڑ دیا ..
پتنگ تھوڑا سا اور اوپر گئی اور اس کے بعد لہرا کر نیچے آئی اور دور انجان جگہ پر جا کر گر گئی ...
تب باپ نے بیٹے کو زندگی کا فلسفہ سمجھایا. ،،،،
بیٹا ..
 زندگی میں ہم جس اونچائی پر ہیں ..
ہمیں اکثر لگتا ہے کہ کچھ چیزیں، جن سے ہم بندھے ہوئے ہیں وہ ہمیں اور اوپر جانے سے روک رہی ہیں
جیسے:
گھر،
خاندان،
نظم و ضبط،
والدین وغیرہ
اور ہم ان سے آزاد ہونا چاہتے ہیں ...
اصل میں یہی وہ دھاگے ہوتے ہیں جو ہمیں اس اونچائی پر بنا کے رکھتے ہیں ..
ان دھاگوں کے بغیر ہم ایک بار تو اوپر جائیں
لیکن
بعد میں ہمارا وہی حشر ہوگا جو
بن دھاگے کی پتنگ کا ہوا ... '
"لہذا زندگی میں اگر تم بلندیوں پر بنے رہنا چاہتے ہو تو، کبھی بھی ان دھاگوں سے رشتہ مت توڑنا .."
"دھاگے اور پتنگ جیسے تعلق کے کامیاب توازن سے ملی ہوئی اونچائی کو ہی 'کامیاب زندگی' کہتے ہیں بیٹا"!

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔