میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 16 جون، 2015

10- اسلام میں عورت کی استشنائی حیثیت


کتاب اللہ میں لفظ عورۃ (عورات جمع)، (Woman)کے معنوں میں نہیں آیا  بلکہ ستر اور خلوت کے معنوں میں آیا ہے ۔
 وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿24/31﴾

یا وہ طفل جن کے اوپر عورات(ستورِ) النساء ظاہر نہیں ہوئے۔ 

 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِّن قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُم مِّنَ الظَّهِيرَةِ وَمِن بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَّكُمْ لَيْسَ عَلَيْكُمْ وَلَا عَلَيْهِمْ جُنَاحٌ بَعْدَهُنَّ طَوَّافُونَ عَلَيْكُم بَعْضُكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمُ الْآيَاتِ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿24/58﴾

تین بار ۔ صلوٰۃ الفجر سے قبل۔ اور اس وقت جب تم  ظہر میں سے کپڑے اتارتے ہو ۔ اور صلوٰۃ عشاء کے بعد میں ۔  تمھارے لئے تین عورات(اوقاتِ خلوت)  ہیں۔

 وَإِذْ قَالَت طَّائِفَةٌ مِّنْهُمْ يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِّنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ إِن يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا ﴿33/13﴾
اور ان میں سے ایک طائفہ بولا، اے اہل یثرب!تمھارے لئے کوئی مقام(standing) نہیں پس تم رجوع کرو!اور ان میں سے ایک فریق اپنے النبی سے اذن مانگتا، اور وہ کہتے ہیں! حقیقت میں ہمارے گھروں (میں) ستر (یا خلوت) ہے۔ اور وہ(گھر)ستر (یا خلوت) کے ساتھ نہیں۔ وہ  سوائے  فرار کے کچھ نہیں چاہتے! 

جن معنوں میں  ہم عورت  کا لفظ استعمال کرتے ہیں (یعنی Woman) اس کے لئے نساء (نسوۃ جمع) اور  امرأۃ کے الفاظ آئے ہیں (المرء کے معنی مرد ہیں)۔  اسی طرح  انثی (بمقابلہ مذکر)  اور زوج  (یہ شوہر اور بیوی   دونوں کے لئے  بولا جاتا ہے)  بھی آیا ہے۔ مونث کے لحاظ سے عورت کی اور بھی حیثیتیں ہیں مثلاً ماں، بہن،  بیٹی،  اور دیگر رشتہ دار خواتین۔

انسانی معاشرے میں عورت کی حیثیت 
انسانی معاشرے میں سب سے چھوٹی اکائی گھر ہوتا ہے اور اس گھر میں پائے جانے والے کنبے میں  باپ ماں (میاں بیوی)  ۔ بیٹااور  بیٹی (بھائی بہن)  شامل ہوتے ہیں ۔ اس لحاظ سے کسی گھر میں عورت کی چار بنیادی حیثیتیں ہوتی ہیں۔  ماں، بیوی، بیٹی اور بہن۔ 
 اب ہم کتاب اللہ سے دیکھتے ہیں کہ:
٭۔   اللہ نے عورت کو مرد کی مقابلے میں کیا حیثیت دی ہے ؟
٭۔ اور مرد کے مقابلے میں اس کی استشنائی حیثیت کیا ہے؟

مرد اور عورت وجہء تخلیق

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ﴿4/1﴾
اے لوگو:  اپنے رب  سے ڈرو، جس نے تم کو نفس واحدۃ سے خلق کیا اور اس (نفس واحدۃ) سے اس کا زوج خلق کیا۔ اور ان دونوں سے کثیر(تعداد میں)  مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ اور اس اللہ  سے ڈرو جس سے تم ”الارحام“ کا سوال کرتے ہو (کہ اگر تو ہمیں صالح عطا کرے۔ 7/189) بے شک اللہ تم پر رقیب (نگران) ہے۔


نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُم مُّلَاقُوهُ ۗ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ﴿2/233﴾
تمھاری بیویاں تمھارے لئے کھیتی ہیں پس آؤ اپنی کھیتیوں میں جس طرح تم چاہو۔ اور پیش قدمی کرو اپنے نفسوں کے لئے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ بے شک تم نے اس سے ملاقات کرنی ہے اور مومنین کوبشارت دو۔ 

 هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا ۖ فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ ۖ فَلَمَّا أَثْقَلَت دَّعَوَا اللَّـهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ ﴿7/189﴾ 
وہ جس نے تم کو نفس واحدۃ سے خلق کیا۔ اور اسی سے اس کی زوج بنائی۔ تا کہ وہ اس سے سکون حاصل کر ے۔پس جب اس نے زوج کو ڈھانپا تو زوج نے خفیف حمل اٹھا  لیا۔ وہ حمل کے ساتھ چلتی رہی۔ پس جب وہ  بوجھل ہوئی (حمل کا یقین ہو گیا)  تو دونوں نے اپنے رب، اللہ سے دعا کی۔ اگر تو ہمیں صالح(بیٹا) عطا کرے۔تو ہم ضرور تیرا شکر کرنے والوں میں ہو جائیں گے۔ 

حکم اللہ کے مطابق کتاب اللہ میں مرد کے مقابلے میں عورت کی استشنائی حیثیت 

 اہلِ مغرب نے اپنی خواہشات کو فوقیت دیتے ہوئے عورت کو مرد کے برابر قرار دیا۔بلکہ یہ تو ازل سے انسانی، قیاس، گمان اور اجتحاد کی انتھک کوششیں ہیں جہاں وہ عورت کو مرد کے برابر قرار دیتے ہوئے اُس کا استحصال کرتا رہا ہے۔
اِس کے بعد مجتحدین نے نعرہ لگایا کہ مسلم معاشرے میں عورت کو مرد کے برابر حقوق نہیں دیئے جاتے۔ عورت مرد سے کمتر ہے اُس سے معاشرے میں جینے کاحق چھین لیا گیا ہے۔ اُس بغیر جرم زندانِ گھر میں مقیّد کر دیا ہے۔ ہم اُن سے منہ چھپاتے ہیں اور مختلف تاویلیں گھڑتے ہیں کہ نہیں، ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت برابر ہیں۔ کئی پڑھی لکھی عورتیں ہمارے ہاں مردوں کے برابر ملازمت کرتی ہیں۔ بلکہ ہماری وزیراعظم خاتون تھی۔عورتیں اسمبلیوں میں ممبر ہیں۔بلکہ اِن میں کئی اسلامی پسِ منظر کی ہیں باقائدہ حجاب پہن کر آتی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ 

وَيَجْعَلُونَ لِلَّـهِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَهُ ۙ وَلَهُم مَّا يَشْتَهُونَ ﴿16/57﴾
اور وہ اللہ کے لئے البنات بناتے ہیں۔ اس(اللہ) کے لئے سبحان ہے۔ اور ان کے لئے جوکچھ اشتھاء کرتے ہیں۔ 

 أَوَمَن يُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ ﴿43/18﴾
کیا وہ جس کی نشوونماء الحلیہ (زیورات)میں ہو اور وہ جھگڑے میں غیرواضح ہو۔

وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمَـٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ (43/17)
اور جب ان میں سے کسی ایک کو بشارت دی جائے جس مثال کی اس نے رحمٰن کے لئے ضرب لگائی۔ اس کا منہ سْوَدًّا(کالا) ہو جاتا ہے۔ اوروہ غم سے بھر جاتاہے۔ 

کیا کتاب اللہ کی یہ آیات منسوخ ہوگئی ہیں یا اِن پر اِجماع امت ہو کر اجتحادِ سکوتی ہو چکا ہے؟  
کتاب اللہ کی یہ آیات کبھی منسوخ یا تبدیل نہیں ہو سکتیں۔ چاہے جن و انس کے گروہ اور اُن کے مددگار بھی جمع ہو جائیں۔تب بھی مرد اور عورت برابر نہیں ہو سکتے۔
بعینہی اُسی طرح جیسے کچھ لو گ تمام انسانوں کو کسبِ رزق کے ایک معیار پر لانا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا نظامِ کائینات چلانے کے لئے کسی ذی حیات اور غیر حیات کو برابر پیدا نہیں کیا۔ ہر کسی کو،کسی نہ کسی صفت میں ایک کو دوسرے پرفضیلت دی ہے۔

تمام اِنسان برابر نہیں یہاں تک تقویٰ کا معیار بھی اللہ کے نزدیک مختلف درجات رکھتاہے۔ السابقون الاولون میں بھی مختلف درجات کے لوگ ہیں۔
مردوں میں بحثیت عقل، جسم، صحت، طاقت، پُھرتی اور ظاہری وجاہت  سبے مختلف ہیں تو پھر مرد اور عورت تو ہیں ہی مختلف صنف یہ کیسے برابر ہو سکتے ہیں۔ 

مرد اورعورت برابر نہیں ہو سکتے - 

بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ ۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ  (6/101)
سموات اور الارض کو نئی طرز پر بنانے والا۔ اس کے ولد کیسے ہو اس کے لئے تو صاحبۃ نہیں۔ اور اس نے ہر شئے تخلیق کی اور وہ ہر شئے کے ساتھ علیم ہے۔ 

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنثَىٰ وَاللَّـهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنثَىٰ ۖ وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ  (3/36)
پس جب اس نے اس(مونث) کو وضع کیا، اس نے کہا! اے میرے رب میں نے مونث کو وضع کیا ہے۔ اور اللہ کو علم ہے جو اس نے وضع کیا۔ مذکر مونث کی طرح نہیں ہے۔ اور میں نے اس کانام ”مریم“ رکھا ہے  اور میں نے اس کو اور اس کی ذریت کو تیرے ساتھ، شیطان رجیم سے پناہ میں دیا۔

وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ ۚ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (16/43)
اور نہیں ارسال کئے ہم نے تجھ سے پہلے مگر مرد ان کی طرف ہم نے وحی کی۔پس اہل الذکر سے سوال کرو  اگر تمھیں علم نہیں!

بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ ۗ وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (16/44)
 بینات اور الزبر کے ساتھ، اور ہم نے تیری طرف الذکر نازل کیا۔ تاکہ تو لوگوں کے لئے بیان کرے جو ہم نے ان کی طرف نازل کیا اور تاکہ وہ تفکر کریں۔

 مندرجہ بالا کتاب اللہ کی آیات  سے معلوم ہورہا  ہے:
٭۔ لوگ  اپنے لئے بیٹے اور اللہ کے لئے بیٹیاں چاہتے  ہیں۔
٭۔ جب خود کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو پریشان اورغمگین ہو جاتے ہیں۔
٭۔ کیونکہ بیٹیوں کی پرورش ناز و نعم میں ہوتی ہے اور وہ اپنا مدعا بھی صحیح طرح بیان نہیں کر سکتیں۔
٭۔ بہر حال اللہ کی کوئی اولاد نہیں وہ ان سے بے نیاز ہے۔
٭۔ مذکر اور مونث  برابر نہیں ہو سکتے۔ اس کا اللہ کو علم ہے۔

يُوصِيكُمُ اللَّـهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ ۚ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۚ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔  (4/11)
اللہ تمھیں تمھاری اولاد میں وصیت کرتا ہے! یہ وصیت اللہ کی طرف سے فرض ہے  اور بالکل صاف اور سیدھا قول ہے- مذکر  کے لئے  دو مونث  کے برابر  (حصہ) ۔پس اگرنساء دو سے زیادہ ہوں تو ان کے لئے تیسرا (حصہ) جو چھوڑا ہے اور اگر ایک (نساء) ہو تو اس کے لئے آدھا (ترکہ)  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

٭۔ اللہ تعالیٰ نے  مذکر کو مونث پر فوقیت کیوں دی ہے ؟ 
مرد عورتوں کے اوپر ایک درجہ رکھتے ہیں: 
٭۔ اس لئے کہ اللہ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔  (اور با  عث فضیلت)۔
٭۔   ان کے وہ اموال ہیں۔ جس میں سے وہ انفاق کرتے ہیں۔ 

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّـهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّـهُ ۚ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا (4/34)
  
یہ وہ سب سے بڑی وجہ ہے۔ جس کے لئے اللہ تعالٰی نے مردوں کو عورت پر فوقیت دی ہے ۔  آفاقی سچائیوں کے مطابق ہر دور میں مردوں کی عورتوں کے اوپر فوقیت رہی ہے،باپ کو بیٹی پر۔ بھائی کو بہن پر۔ شوہر کو بیوی پر، بیٹے کو ماں پر، ولی کو یتیم بچیوں پر۔ یہ فوقیت، کسب معاش اور اں کی حفاظت اور  تربیت کی وجہ سے ہے۔ لیکن مروج دستور میں پائے جانے والے باقی تمام قوانین او رکتاب اللہ کے مطابق، اللہ کے نزدیک مرد اور عورت کے درجے برابر ہے۔

إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّـهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا - (33/55) 
  بے  شک مسلمین اور مسلمات، مومنین اور مومنات، قناعت کرنے والے اور قناعت کرنے والیاں، صادقین اور صادقات صابرین  اور  صابرات، خاشعین اور خاشعات، متصدقین اور  متصدقات، اور صائمین اور صائمات، اپنی عصمت کی حفاظت کرنے والے اور حفاظت کرنے والیاں، اللہ کی نصیحت کثرت سے کرنے والے اور نصحیت کرنے والیاں، ان کے لئے اللہ نے  مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ رکھا ہے۔

لہذا مرد اور عورت کو آپس میں جو ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔اُنہیں اِس فضیلت کی تمنّا نہیں کرنی چاہیئے۔مرد کا حصہ عورت کونہیں دیا جاسکتا اور عورت کا مرد کو۔خواہ یہ کسبِ صنف ہو یعنی عورتوں کو یہ دعویٰ کہ ہم مردوں کے برابر کیوں نہیں قرار دیئے جاسکتے یہ تفریقِ اصناف کیسی؟  یا کسبِ مال۔ کہ ہمارا حصہ بھی مردوں کے برابر ہونا چاہیئے!

وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّـهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوا ۖ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ ۚ وَاسْأَلُوا اللَّـهَ مِن فَضْلِهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا  (4/32)
اور تم مت تمنا کرو۔ جو اللہ نے تم میں سے بعض پر بعض کو اللہ نے اس کے ساتھ فضیلت دی۔ مردوں کے لئے ان کے نصیب میں وہ جو انہوں نے کمایا اور نساء کے لئے ان کے نصیب میں وہ جو انہوں نے کمایا۔ اور اللہ سے اس کے فضل میں سے سوال کرو۔ بے شک اللہ ہر شے کے ساتھ علیم ہے۔ 

اس کے باوجود کہ مرد اور عورت  اللہ کے نزدیک برابر ہیں ان کی اس خصوصیات کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نہ ان دونوں کو تفویض کی ہیں۔  عورت کو مرد پر مندرجہ ذیل استشنائی حیثیت  حاصل ہے ۔ 

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّـهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ ۙ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (60/12) 
 ٭۔ النبیﷺ کی صرف عورتوں سے بیعت۔  
اے  نبی:  جب  تیرے  پاس  مومنات  آیئں۔  وہ  اس  (بات)  پر  تیری  بیعت  کریں، 
٭۔ کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی شے کو شریک مت کریں۔  
٭۔ اور نہ چوری کریں اور نہ وہ زنا کریں 
٭۔ اور  نہ وہ اپنی اولادوں کو قتل کریں۔  
٭۔ اور  وہ  ا فتراء (بے بنیاد جھوٹ) کے ساتھ اپنے ہاتھوں اور اپنی ٹانگوں  کے  درمیان بہتان نہ لایئں  
٭۔ اور  وہ  رواج  (معروف)  میں  تیرے  نافرمانی  نہیں  کریں  گی
پس  ان  سے  بیعت  لے  اور  اور  ان  کے  لئے  اللہ سے  استغفار  مانگ۔  بے  شک  اللہ غفور  اور  رحیم  ہے۔ 

 ٭۔عورت  فاحشی کی مرتکب ہو توگھروں میں قید کی جائے۔

وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِن نِّسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِّنكُمْ فَإِن شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّـهُ لَهُنَّ سَبِيلًا ﴿4/15﴾
اور  تمھاری عورتوں میں کوئی فحاشی لاتی ہیں۔ اور تم اپنوں میں سے (غیر میں سے نہیں) ان کے  اوپر چار شہادت مانگو، اُنہیں البیت میں روکے رکھو ۔ یہاں کہ وہ الموت سے فوت ہو جائیں یا اللہ اُن کے لئے کوئی راستہ بنائے گا -

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ ۗ ذَٰلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ مِنكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۗ ذَٰلِكُمْ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَأَطْهَرُ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (2/232)
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو پس وہ  بلوغت کریں اپنی اجل(مروج عدت) کی۔ پس ان کو مشکل میں مت ڈالو کہ وہ اپنے ازواج سے نکاح کریں -
اگر وہ آپس میں معروف (مروج دستور)  کے مطابق آپس میں راضی ہوں ۔
اس (نصیحت) کے ساتھ اس کو وعظ کیا جاتا ہے جو اللہ اور یوم الآخر پر ایمان لاتا ہے۔یہ تمھارے لئے ازکی اور اطہر ہے۔اور اللہ علم رکھتا ہے جبکہ تم علم نہیں رکھتے ۔

 ٭۔عورت عدت مرد کے گھر پرگزرے گی۔ 

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ ۖ وَاتَّقُوا اللَّـهَ رَبَّكُمْ ۖ لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ ۚ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّـهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا (65/1) 
اے نبی! جب تم النساء کو (بحیثیت اولی الامر) طلاق دو۔ پس ان کو ان کی عدت کے لئے طلاق دو اور العدۃ کا شمار کرو۔ اور اللہ سے ڈرو جو تمھارا رب ہے۔ انہیں ان کے گھروں میں سے مت نکالو۔ انہیں صرف اس وقت ان کے گھروں سے نکالو جب  وہ  (انہیں)  واضح فحاشی  (زنا)  کی مرتکب (ہونے پر طلاق مل رہی) ہوں۔ اور وہ اللہ کی حدود ہیں اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرتا ہے وہ صرف اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے۔ تجھے ادراک نہیں! شاید اللہ اس حکم کے بعد کوئی اور حدیث کہے!!

 ٭۔ عدت کے دوران،عورت کے نان و نفقہ کی ذمہ داری مرد پر ہوتی ہے 

أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ ۚ ----
اور ان کو اس طرح رکھو جس طرح تمھاری حیثیت ہے۔   اور ان کو تنگی میں ڈال کر ان کو ایذا مت دو  ......

 ٭۔ زچہ ہونے کی صورت میں اگر عورت  بچے کے دودھ کا خرچ طلب کرے تو وہ  ادا کرے گا۔

--- وَإِن كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ۖ --
اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان کے اوپر انفاق کرو یہاں تک کہ وہ اپنا حمل وضع کریں۔ اور اگر وہ تمھارے لئے رضاعت کریں تو ان کو ان کے اجور دو۔
--- وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ ۖ وَإِن تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَىٰ  (65/6)
 اور معروف(مروج دستور) کے مطابق معاملہ کرو۔ اور اگر تم ایک دوسرے کو تنگ کرو پس اس کے لئے رضاعت کرو دوسری۔

 ٭۔  ازواج النبی، بنات النبی اور نساء المومنین کے لئے پردے کی استشنائی صورت۔ 

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا - (33/59)
اے النبی۔ اپنی ازواج اور بنات اور نساء المومنین سے کہہ! کہ وہ اپنے اوپر چادر لے لیں۔ یہ ان کے لئے کم از کم ہے تاکہ وہ پہچانی جائیں (کہ مومن عورتیں ہیں) اور انہیں اذیت نہ دی جاسکے۔  اور اللہ غفور اور رحیم ہے۔

  یہ استشنائی صورت حج کے موقع پر دیکھی جاسکتی ہے  جہاں  وہ مومنوں کے درمیان ہوتی ہیں منافقوں اور لعنتیوں کے درمیان نہیں۔

٭۔  مومنات کے لئے  اپنی زینت ظاہر کرنے کی استشنائی صورت۔ 

 وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (24/31)
اور(مومنات) مت ظاہر کریں اپنی زینت سوائے اس کے جواس میں سے (ڈھانپنے کے باوجود) ظاہر ہو جائے اور چاہئے کہ(اچھی طرح) ضرب لگائیں اپنی خمر(اوڑھنی) کے ساتھ اپنے جیوب (سینوں)  پر۔
اور(مومنات) مت ظاہر کریں اپنی زینت سوائے اپنے شوہروں کے لئے یا اپنے آباء، یا شوہروں کے آباء، یا ان(مومنات) کے بیٹے یا ان(مومنات) کے شوہروں کے بیٹے، یاان(مومنات) کے بھائی، یا ان (مومنات) کے بھائیوں کے بیٹے، یا ان(مومنات) کی نساء، یا ان (مومنات)  کی قسموں کی ملکیت (خادم و خادمہ)، یامردوں میں سے غیر حاجت مند تابعین یا بچے جن کے اوپر عورات النساء ظاہر نہیں ہوئے۔اور (مومنات)مت ضرب لگائیں اپنے پاؤں کے ساتھ تاکہ انہیں علم ہو جو انہیں نے چھپایا ہے اپنی (جسمانی)  زینتوں میں سے۔ 
اے مومنوں تم اکھٹے ہو کر اللہ کی طرف توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاؤ
 ٭۔عورت گھریلو کام کاج کے علاوہ  باہر کے کام بھی کر سکتی ہے  اورضرورت کے مطابق غیر محرم مرد سے بات بھی کر سکتی ہے۔

وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُونَ وَوَجَدَ مِن دُونِهِمُ امْرَأَتَيْنِ تَذُودَانِ ۖ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا ۖ قَالَتَا لَا نَسْقِي حَتَّىٰ يُصْدِرَ الرِّعَاءُ ۖ وَأَبُونَا شَيْخٌ كَبِيرٌ (28/23) 
اور جب وہ(موسٰی) مدین کے پانی پر وارد ہوا وہاں اس نے الناس کی امت پائی وہ پانی پلاتے تھےء ان دوسروں کے علاوہ اس نے وہاں دو عورتوں کو پایا وہ ہٹ کر کھڑی ہوئی تھیں۔ پوچھا تمھارا مسئلہ کیا ہے؟ بولیں! ہم اس وقت تک پانی نہیں پلا سکتے جب تک (مرد) چرواہے دور نہ ہٹ جائیں اور ہمارا باپ بہت شیخ(بوڑھا) ہے (وہ یہ کام نہیں کر سکتا)۔

 ٭۔ عورت مشورہ بھی دے سکتی ہے ۔

قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ ۖ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ (28/26)
ان دونوں میں سے ایک بولی اے باپ! اس(موسٰی) کو استاجر (ملازم) رکھ۔ بے شک  استاجرت (ملازمت) میں بہتر وہ ہے جوالقوی اور الامین ہو۔

 ٭۔ عورت کی عددی زیادتی  باعث فساد ہوتی ہے ۔

إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ (28/4)
بے شک فرعون (رعمیس نہیں)  نے الارض میں خود کو اعلٰی بنایا اور اس کے اہل کو شیعا۔ اور  ان کے ایک طائفہ کو ضعیف بناتا ان کے ابناء کو ذبح کرتا اور ان کی نساء کو حیات رکھتا۔  بے شک وہ فساد کرنے والوں میں سے ہوا۔ 

النبی کی نساء کے لئے خصوصی  استشناء۔ 

 ٭۔ازواج النبی ، حیات الدنیا اور اس کی زینت کی خواہش نہیں کر سکتیں۔

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا (33/28)
اے نبی! اپنی ازواج سے کہہ!اگر تم حیات الدنیا اور اس کی زینت کی طلبگار ہو!۔ پس آؤ! میں تمھیں متع دوں اور تمھیں رخصت کروں خوش اسلوبی سے۔

٭۔  ازواج  النبی ،مومنین کی مائیں ہیں۔

النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ ۗ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ إِلَّا أَن تَفْعَلُوا إِلَىٰ أَوْلِيَائِكُم مَّعْرُوفًا ۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا ﴿33/6﴾
النبی مومنین کے ساتھ ان کے نفوس میں مددگار (ولی) ہے  اور اس کی ازواج ان کی مائیں ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ 

 ٭۔  ازواج  النبی ، سے کوئی  اور نکاح نہیں کر سکتا۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَـٰكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنكُمْ ۖ وَاللَّـهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ۚ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ ۚ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ ۚ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّـهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّـهِ عَظِيمًا(33/53) 
اور تمھارے لئے یہ نہیں کہ تم رسول اللہ کو اذیت پہنچاؤ  اور تم اس کے بعد اس کی ازواج سے کبھی بھی  نکاح  مت کرو    بے شک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی (حکم عدولی) ہے   

 ٭۔  نساء النبی ،عام عورتوں کی مانند نہیں ہیں۔

 يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ ۚ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا (33/32)
اے نساء النبی! تم النساء میں سے ایک جیسی نہیں ہو! اگر تم اللہ سے ڈرتی ہو، تو بولتے وقت نرمی اختیار مت کرو (اس لئے کہ)  جن کے دل میں مرض ہے پس (کہیں) وہ (غلط فہمی سے) طمع کریں اور تم قول معروف میں بات کرو۔


 ٭۔  نساء النبی ،بناؤ سنگھار نہیں کر سکتیں ۔

 وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ﴿33/33﴾
اور اپنے گھروں میں ٹہری رہو اور تم برج(سنگھار) مت کرو پہلی جاہلیت کے برج(سنگھار کی طرح)۔ اور تم صلٰوۃ قائم کرو ایتائے الزکوٰۃ کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ 

اہل البیت! بے شک اللہ چاہتا ہے کہ تم(مذکر و مونث) پر سے الرجس دور کرے اور تمھیں پاک صاف کر دے۔  

وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّـهِ وَالْحِكْمَةِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا ﴿ 33/34 ﴾ 
 اور ذکر کرو جس کی تمھارے گھروں میں آیات اللہ اور الحکمت میں سے تلاوت کی جاتی ہے ۔ بے شک اللہ  باریک ترین خبر رکھتا ہے

-------- تمت بالخیر ------------





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔