میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 19 جون، 2015

یہ منہ اور مسور کی دال

طلعت قریشی : نے  تو جواب الجوب میں بوڑھے کو پچھاڑ دیا  


آپ نے تو کمال کی تحریر لکھ دی۔ نوشہرہ، بھاولپور، میرپور خاص، اجمیر اور آخر میں حیدرآباد دکن۔ آپ بیتی کو جگ بیتی بنا دیا۔ امیروں کی دال کو غریبوں کی دال سے تشبیہ دے ڈالی ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ ۔ محاورہ "یہ مُنہ اور مسور کی دال " تو سُن رکھا ہوگا ۔ آج اِس کی وجہ تسمیہ بھی سہی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کہتے ہیں جب مغلیہ سلطنت زوال پذیر ہوئی اور لاہور میں بادشاہ رنجیت سنگھ کو اقبال نصیب ہوا تو دہلی کے دربار سے وابستہ کئی ماہرین فن نے اپنی قسمت آزمانے کیلئے دربار لاہور کا رخ کیا۔ انہی لوگوں میں ایک نامی گرامی باورچی بھی تھا جس کے کھانوں کی لذت دور دور تک مشہور تھی۔ شب دیگ، قورمہ اور بریانی تو ویسے ہی دہلی والوں کا سرمایہ افتخار ہیں لیکن اس شاہی باورچی کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کے ہاتھ کی پکی ہوئی مسور کی دال بہت لذیذ ہوتی تھی۔ ظاہر ہے کہ بریانی قورمہ پکانے والے تو ہزاروں مل جاتے ہیں لیکن ایسا باکمال شخص جو دال کھلا کر لوگوں کو انگلیاں چاٹنے پر مجبور کردے، آٹے میں نمک کے برار ہوتے ہیں۔



بہرحال یہ شخص سفر کرتا، منزل پر منزلیں طے کرتا لاہور پہنچا۔ رنجیت سنگھ کے دربار میں شرف باریابی حاصل ہوا اور پہلے ہی دن جب آزمائشی طور پر مسور کی دال بارہ کھڑے مصالحوں کے ساتھ پکائی تو وزارت داخلہ یعنی ملکہ معظمہ کی طرف سے فرمان جاری ہوگیا کہ آئندہ سے یہی شخص شاہی باورچی ہوگا اور مزید یہ کہ تاحکم ثانی روزانہ دال ہی پکے گی۔



دربار لاہور کو دہلی کے چٹخارے ایسے راس آئے کہ پورے ہفتے مسلسل دال مسور ہی کھاتے رہے۔ ہفتے بعد جب بادشاہ سلامت کے سامنے باورچی خانہ کا بجٹ پیش ہوا تو وہ غصے سے لال پیلے، کالے، نیلے ہوگئے۔ باورچی کی طلبی ہوئی اور سوال یہ تھا کہ پہلے ہمارے باورچی خانے میں گوشت پکتا تھا مگر خرچہ اس سے کم تھا اب کے پورے ہفتے دال پکی ہے اور بجٹ آسمانوں سے باتیں کر رہا ہے۔ باورچی بے چارے کیلئے یہ صورتحال بالکل نئی تھی، آج تک اس نے کھانے پکائے تھے تو کبھی اس سے کسی نے حساب کتاب نہیں مانگا تھا۔ اس نے بڑی مشکل سے سمجھایا کہ جناب جب دال کو ڈھنگ سے پکایا جائے گا تو مصالحہ جات ڈالے جائیں گے تو خرچہ تو آئے گا۔ مگر رنجیت سنگھ جیسے ’’معقول‘‘ شخص کی تسلی ہونی تھی نہ ہوئی۔ باورچی فوراً برطرف کردیا گیا۔ سو وہ کسی اور دربار میں قسمت آزمائی کیلئے دوبارہ سفر پر روانہ ہوگیا۔



اگلے ہی وقت جب ملکہ معظمہ کے سامنے دال مسور کے بجائے وہی گھسے پٹے قسم کے کھانے آئے اور سخت احتجاج ہوا اور اعلان ہوگیا کہ جب تک وہی باورچی دال مسور نہیں پکائے گا بھوک ہڑتال رہے گی۔ رنجیت سنگھ نے پہلے تو معاہدے کی بہت کوششیں کیں لیکن مجبور ہوکر اپنے سپاہی دوڑائے کہ اس باورچی کو جہاں کہیں پائیں پکڑ کر واپس لے آئیں۔ سیالکوٹ کے قریب کسی مقام پر یہ باورچی سفر کر رہا تھا کہ اچانک چاروں طرف سے اسے شاہی سواروں نے گھیر لیا، اس نے پوچھا تم کون ہو اور کیا چاہتے ہو؟ جواب ملا کہ دربار لاہور سے تمہاری طلبی کا پروانہ لے کر آئے ہیں۔ بادشاہ رنجیت سنگھ تمہیں بلاتے ہیں۔ ایسے خسیس بادشاہ کا نام سن کر باورچی کے منہ پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی اور اس نے جواب میں یہ تاریخی جملہ کہا: ’’یہ منہ اور مسور کی دال‘‘



بتایا جاتا ہے کہ اس باورچی نے اپنے پیشے کے تقدس کی خاطر جان کی بازی ہار دی مگر دربار واپس نہیں گیا اور شاہی باورچی خانے میں پھر کبھی دال مسور نہیں پکی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مزدوروں کی دال -ملکہ مسور


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔