میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 27 جون، 2015

جلدی کیوں سوئے ؟

رات بوڑھا خلافِ توقع ، افطاری کھا کر سو گیا ۔
ڈیڑھ بجے آنکھ کھلی ، تو چم چم کے بیڈ پر بڑھیا کو سوئے ہوئے دیکھا ۔
بوڑھا واش روم جانے کی نیت سے اٹھا، وضو کر کے واپس آیا تو بڑھیا بھی جاگی ہوئی تھی ۔
" طبیعت کیسی ہے ؟ " بڑھیا نے پوچھا ۔
" کیوں خیر یت ؟ مجھے کیا ہوا ! " بوڑھے نے پوچھا
کل آپ جلدی سو گئے ، میں پریشان ہو گئی " بڑھیا بولی ۔

اب بوڑھا کیا جواب دیتا ، کہ بیگم، چار بجے سے چھ بجے تک سی ایس ڈی، پر آدھی ٹرالی سامان لینے کے لئے پھرکی کی طرح گھمایا اور بوڑھا تھک کر سوئے بھی نا۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔