میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 29 جون، 2015

عجیب و غریب شربت !

بوڑھا آج مغرب سے پہلے اُٹھا ، کیوں کہ کا دن سخت گذرا ۔
افطاری و کھانے کے لئے لاونج میں آیا ۔ اپنی پلیٹ بنائی ۔ بڑھیا نے مرچوں میں مصالہ بھر کر اپنی من پسند ، مرچوں کے پکوڑے اور آلو کے پکوڑے بنائے ، نان بازار سے آئے ، کھجوریں گھر میں تھیں ، چھوٹی بیٹی نے کیلے، دودھ اور کھجوروں کا مکس جوس بنایا ۔
افطاری ہوئی بوڑھے نے اپنی موج میں کھانا شروع کرد یا ۔
" کیسے ہیں ، پکوڑے ؟ " بڑھیا نے پوچھا ۔
بوڑھے نے فورک سے مرچوں بھرا پکوڑا کاٹ کر نان کے نوالے میں لپیٹا اور منہ میں رکھنےسے پہلے کہا ،
" لذیذ ، بہت لذیذ " بوڑھے نے جواب دیا اور نوالہ منہ میں رکھا ۔
" تو آپ نے اپنے دوستوں کو نہیں بتایا !" بڑھیا نے شکوہ کیا ۔
" فضول کی یہ دال وہ دال  کی تصویریں بھجوا کر میرا بھی امیج خراب کرتے ہیں !"

بوڑھا ، نوالہ چباتے چباتے اُٹھا ، اپنے کمرے میں گیا وہاں سے موبائل لیا اورآکر یہ نایاب تصویر کھینچی اور اِس تفصیل کے ساتھ فیس بُک کر دی ۔

کھجور, مسالہ بھری مرچوں کے مرچ پکوڑے, پودینے, ٹماٹر اور دھی کی چٹنی, نان اور کیلے کا شربت.
یہی ہے افطاری, یہی ہے کھانا


اور اُس کے بعد بوڑھا اپنے کھانے میں مصروف ہو گیا ۔

" کیا کمنٹ آئے " بڑھیا نے پوچھا

بوڑھے نے پاس پڑا موبائل اُٹھا ۔ دیکھا تو ایک کمنٹ اور 6 لائکس تھیں ۔ بڑھیا کو معلومات دیں
" کیا کمنٹ ہے ؟ " بڑھیا نے پوچھا
" naan or kailay ka sharbat pehli martba suna hy" ایک نوجوان علی بھٹی نے حیرت کا اظہار کیا ہے ۔
" یہ کیسا کمنٹ ہے ؟ " بڑھیا بولی
" بھئی کمنٹ تو کمنٹ ہوتا ہے جو ذہن سے نکلنے والی پہلی آوازہوتا ہے - اب چاھے وہ استفہامیہ ہو ، مزاحیہ ہو ، طنزیہ ہو اور یا مغلَظاتیہ " بوڑھے نے اپنی منطق جھاڑی ۔
بڑھیا چپ ہو گئی ، اور ہونا ہی تھا وگرنہ کھانے کے دوران ،۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !
بوڑھے نے ، فعل شکیہ کی بو سونگھتے ہوئے ،
" اِس سے پہلے  وہ حادثہ جو ابھی پردہء افلاک میں ہے،  نوجوان بھٹی کہیں اُسے ظہور پذیر نہ کر دے "
 بوڑھے نے بریکنگ نیوز کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے لکھا ۔

"چھوٹی نے کیلے، تھوڑا دودھ اور کھجوروں کو جب شیک کیا تو یہ لذیز شربت ، پینے کو ملا ،
بوڑھے نے مزید دوکیلوں کے شربت کا آڈر کر دیا ، جو وہ رات کو 11 بجے ،
لنگر گپ کے دوران ، لنگوٹیوں سے باتیں کرتے وقت پیئے گا ۔"


علی بھٹی کا جواب آیا :
Ali Bhatti achha .. ab smjha ... naan separte hy or sharbat separate ....

یہ پڑھنا تھا کہ بوڑھا کھلکھلا کر خلافِ آدابِ طعام ہنسا ۔
" کیا ہوا ؟ " بڑھیا بولی ۔
بوڑھے کے ذھن میں یاداشت کا ایک بلبلہ پھٹا
"کچھ نہیں ، شاید تاریخ ایک بار خود کو دوبارہ دھراتی " اورکمنٹ کیا

اوہ میرے خدا :
یہ تو اچھا ہوا کہ میں نے کمنٹ دیکھ لیا ورنہ ۔ آج کیلے اور نان کا شربت ، بھٹی صاحب مجبوراً پیتے ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔۔ اور ۔ ۔ ۔ ۔ اور !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
" آوا، تاریخ اپنے آپ کو کسے دھراتی ہے " چم چم نے پوچھا
" میری شہزادی یہ ایک بہت پرانا قصہ ہے " بوڑھے نے دور خلاؤں میں دیکھتے ہوئے کہا ۔
" آوا ، سٹوری سنائیں ، پلیز " چم چم بولی
یہ اُن دنوں کی بات ہے کہ بوڑھا بولا ،
" غالباً نمّو چوتھی جماعت میں تھا ۔ اور درختوں پر اقبال کے شاھین کی طرح بسیرا کرنا اور اسماعیل میرٹھی کے پرندوں کی طرح اس ڈال سے اُس ڈال تک جانا اور دوستوں کے ساتھ، " باندَر کِلّا" کھیلنا اُس کے مشغلوں میں سر فہرست تھا  -بہار آئی ، تو ایبٹ کے درخت پھولوں سے بھر گئے ، ہفتے بعد ، پھولوں کے نیچے ، خوبانیاں ، ھاڑیاں ، بادام ، سیب ، اخروٹ، انگور ، ناشپاتیاں ، آڑو، آلوچے ، آلو بخارے اور سنجلیاں نمودار ہونے لگیں ۔ اب انتظار تھا کہ یہ کب اتنی بڑی ہوں کہ کھائی جا سکیں ۔
ایک دن بعد از دوپہر کا ذکر ہے کہ نمّو  نے کمرے کی کھڑکی کے شیشے سے جھانک کر سے  " سٹوپ " پر دیگچی میں کچھ پکتے دیکھا ، اور اس کی ڈیڑھ سال بڑی آپا پاس بیٹھی تھی ۔ تھوڑی دیر بعد آپا نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے ، دیگچی سے کچھ نکالا اورخالص چاندی کے (دادی کی نشانی) اُس پیالے میں ڈالا جس میں نمّو کے ابا دہی پیتے تھے جو چائے کی چھ پیالیوں کے برابر تھا  ، پھر آپا نے چینی کے  پیالے میں چھ چاول کے چمچ چینی ڈالی ، چمچ سے ھلایا اور پیالے پر شیشے کی رکابی الٹ کر ڈالی ، ابھی کاروائی جاری تھی کی نمّو نے چھاپہ مارا اور آپا کو رنگے ھاتھوں پکڑ لیا ۔
" یہ کیا ہے " نمّو نے پوچھا
" مربہ ہے اور کیا ! " آپا اپنی پاپائیت جھاڑتی ہوئی بولی ۔
" مجھے چکھاؤ ، ورنہ امّی کو بتاؤں گا " نمّو نے دھمکی دی
امی چھوٹے بھائی اور بہن کے ساتھ محلے کے خیر سگالی دورے پر نکلی ہوئی تھیں ۔ آپا پڑوس میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ گھر گھر کھیل رہی تھی ۔
" اچھا چمچ لاؤ " آپا بولی ۔
پاس سالن کی دیگچی کا چمچ پڑا تھا ، نمّو نے وہ اُٹھا کر آگے کر دیا ۔
" اتنا بڑا چمچ " آپ غصے سے بولی ۔
" میں امی کو بتاؤں گا " نمّو نے دھمکی دی
" اچھا یہ لے منحوس " آپا جل کر بولی ۔
نّمو نے وہ ، مربّہ چائے کی پیالی میں ڈالا اور بولا ۔
"اور دو ورنہ امی کو بتاؤں گا کہ آپا نے مجھے منحوس بولا" ۔

" اچھا یہ لے اور مر " آپا نے بلیک میل ہوتے ہوئے ، دوسرے چمچ کی قربانی دی ۔
سفید پیالے میں ، ہلکے زردئی رنگ کا مربّہ اپنی الگ بہار دکھلا رہا تھا ۔
"یہ کس کا ہے ؟ " نمّو نے پوچھا ۔
ّ ھاڑیوں کا " آپا بولی ۔

اور اپنا پیالہ اُٹھا کر سہیلیوں میں چلی گئی اور بھیانکر غلطی یہ کر گئی ، کہ جس دیگچی میں خوبانیاں ابالیں تھیں اُسے دھویا نہیں ۔ شاید اُس کا خیال تھا کہ ، " بیٹ مین چاچا " دھو دے گا ۔
" بیٹ مین چاچا " نمّو کے ابا کی وردی دھوبی سے استری کروانے گیا تھا ۔

تو بچو ، نمّو نے وہ لذیذ مربّہ خوب مزے سے چاٹ چاٹ کر نہ صرف کھایا بلکہ ، چمچ اور پیالہ بھی چاٹ کر چمکایا -

آپا سے پہلے ، امی گود میں چھوٹی بہن اور انگلی پکڑے ،گھر کی طرف آتی دکھائی دیں
، نمّو اُس وقت اپنے برآمدے میں " چینجو" کھیل رہا تھا ۔ کہ چھوٹا تیزی سے دوڑتا ہوا اُس کے پاس آیا ۔
" لالہ لالہ ، میں نے بسکٹ کھائے " چھوٹے بھائی نے معلومات دیں
" اچھا ، تو کیا ہوا ، میں نے مربّہ کھایا " نمّو کے منہ سے بے ساختہ نکلا

" کہاں سے لیا ؟ " چھوٹے نے پوچھا تو نمّو کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔
لیکن تیر کمان سے نکل کر شائد امی کے کانوں میں پہنچ چکا تھا ، اِس سے پہلے کہ امی کا سوال ہوتا ، نمّو نے دوڑ کر برآمدے سے چھلانگ لگائی اور سامنے کھیلتے ہوئے ، وحید اور مشتاق بھائی کی طرف دوڑا ۔ تو چھوٹا بھی اُس کے پیچھے بھاگا ، امی گھر میں چلی گئیں ۔
کوئی دس منٹ بعد آپا نے ، دونوں بھائیوں کو آواز دی ، کہ امی گھر بلا رہی ہیں ۔
نمّو ، جب آپا کے نزدیک پہنچا ، تو آپا نے پوچھا ،
" تم نے امی کو بتا دیا ؟"
" نہیں، میں نے نہیں بتایا " ، نمّو بولا ۔
"تو پھر کس نے بتایا " آپا غصے میں بولی
" مجھے کیا پتا ؟ " نمّو نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا ۔
جب تینوں امی کے سامنے حاضر ہوئے ، تو امی نے دیگچی اُٹھا کر آپا کو دکھاتے ہوئے غصے میں کہا ،

" میں نے کتنی دفعہ کہا ہے ، کہ آگ کا کام نہیں کرنا ۔ تو پھر کیوں کیا ؟ "
" امی ہم گھر گھر کھیل رہے تھے ہر سہیلی ، کچھ نہ کچھ بنا کر لائی تھی ۔ میں بھی مربّہ بنا کر لے گئی تھی " آپا نے صفائی پیش کی ۔
" آئیندہ نہ کرنا ورنہ ماروں گی " آمی بولیں
" جی اچھا " آپا بولی
" امی میں بھی مربّہ کھاؤں گا " چھوٹا بھائی بولا ۔
" کل کھانا آج نہیں " امی بولیں

دوسرے دن دس بجے ، نمّو گھر ے پاس لگے ہوئے درخت سے ھاڑیاں توڑ کر لایا ۔ آپا کو بولا
ّ آپا ۔ وہ مربّہ بنا دو"
، وہ اُس وقت سہیلیوں کے " چینجو " کھیل رہی تھی

" تم بڑی دیگچی میں آدھا پانی رکھ کر اُس میں خوبانیاں ڈالو اور "سٹوپ پر رکھ دو "
نمّو نے ایسا ہی کیا ۔ اور ہر تھوڑی دیر بعد دیگچی میں جھانکتا ، ھاڑیاں ابلنا شروع ہوئیں ، لیکن زردئی رنگ نہیں بن رہا تھا ۔ کیوں نہیں بن رہا ۔ آپا سے جا کر پوچھتا ہوں ۔
باہر آیا ، سامنے گروانڈ میں ، آپا سے پوچھا ۔ آپا مربّہ نہیں بن رہا " آپا سے پوچھا ۔
" تم ٹہرو میں آتی ہوں " آپا بولی ۔اور گھر کی طرف دوڑی ، تھوڑی دیر بعد واپس آئی ،
" جاؤ بن گیا ہے ، مربّہ کھا لو " مسکراتے ہوئے بولی ۔ آپا یہ مسکراہٹ سخت مشکوک قسم کی تھی ۔

خیر نمّو گھر میں گیا ، چھوٹا پہلے ہی بیٹھا تھا ، امی سہیلیوں کے پاس گئیں تھیں ، یہ امی کی دو ہندوستانی سہیلیاں تھیں اور تیسری امی ۔ اِن تینوں ہندوستانی سہیلیوں کی بہت گاڑھی چھنتی تھی ۔

نمّو نے چینی کے دو چائے پینے والے پیالوں میں ، نفاست سے مربّہ نکالا، سویاں کھانے والا چمچ چھوٹے کو دیا اور خود لیا ۔ چٹائی پر آمنے سامنے بیٹھ کر دونوں بھائیوں نے اپنے اپنے پیالوں کی طرف دیکھا ،
" اِس کا رنگ زردے کی طرح کیوں نہیں ہوا " نمُو نے سوچا ،" شاید زیادہ نہیں پکا خیر " ابھی سوچ میں تھا کہ چھوٹے کی آواز آئی
" لالہ یہ کڑوا ہے "
" کڑوا کیسے کڑوا ؟ میں نے خود آٹھ چمچ چینی ڈالی ہے " نمّو بولا
مربّہ چکھا ، واقعی بہت کڑو تھا ۔ بالکل کونین کی طرح ،
لیکن کل تو میٹھا تھا ۔ یہ کیوں ہوا ؟
آپا نے کل کہا تھا ، کہ ھاڑیوں کا مربہ ہے
اور آج وہ بولی کہ خوبانیاں آدھی دیگچی پانی میں ابال لو !
یا شاید میں نے ھاڑیوں کے بیج نہیں نکالے اِس لئے کڑوا ہو گیا ۔
ارے ھاں ، یہی بات تھی !
نمّو کے ذہن میں گراریایں چل رہی تھیں ۔ نتیجے پر پہنچنے کے بعد ، نمّو نے دونوں پیالے کارنس پر رکھے ،

گھر سے باہر آیا تو دیکھا کہ آپا اور اُس کی سہیلیاں " پِٹّو گرم " کھیل رہی ہیں ، نمّو کا دل بھی چاھا کہ وہ بھی کھیلے لیکن پھر اُسے یہ سننا پڑتا ۔

 منڈے کھیلن کُڑیاں نال
نَک وَڈا وَن چھریاں نال

اور یہ بہت بڑی بے عزتی کی بات تھی ایک لڑکے کے لئے ۔
 
11 بجے امی گھنٹہ بھر کی گپ شپ کے بعد ، چھوٹی کے ساتھ واپس آگئیں ۔  آپا ، نمّو اور چھوٹا  بھی گھر میں داخل ہوئے ۔
 " امی لالہ نے مربّہ بنایا وہ کڑوا ہو گیا " چھوٹا بولا ۔
" امی اِس نے ھاڑیوں کا مربہ بنایا ہے " آپا جھٹ بولی ۔
" آپا ، تم نے کل مجھے کہا تھا کہ ھاڑیوں کا مربہ ہے " نمّو فوراً بولا

" لیکن ھاڑیوں سے مربّہ اتنا کڑوا نہیں ہوتا " امی نے ، مربّہ چکھتے ہوئے کہا ۔اور آپا کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں ،
" تم نے اِس میں کونین ملائی ہے ؟ "

آپا کو نہیں معلوم تھا کی امی اتنی جلدی بات کی تہہ تک پہنچ جائیں گی ۔
تو بچو اُس دوپہر ، آپا روتی جائے اور مربّہ کھاتی جائے اور ساتھ فریاد بھی کرتی جائے ۔

" امی اب کونین نہیں ملاؤں گے ۔ پیاری امی ۔ معاف کر دیں "

٭  ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭٭ 
بوڑھا اپنی بڑھیا اور بچوں کو اِس گھر میں اپنے والدین اور بہنوں اور بھائی کے ساتھ رہنے والے نمّو کے واقعات بتاتے ہوئے


 








خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔