میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 3 جون، 2015

برابری مرد اور عورت کی

جہانزیب تم نہیں جانتے ۔۔۔ میں جس معاشرے میں رہتی ہوں وہاں عورت ایک جنس ِ بیکار سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ۔۔ اُس کی چاہتیں ، خواہشیں ، الفتیں بازار کی اُس سستی ترین شے سے زیادہ نہیں جسے ٹکے ٹوکری گاہگ بھی اچھی طرح کھنگال کر دیکھتا ہے کہ کہیں وقت اور پیسہ تو ضائع نہیں کر رہا ۔۔ میں نے مرد کے اس معاشرے میں بے حس مردانگی کی حیوانیت تلے شب و روز کچلی جانے والی عورت کو لُٹتے دیکھا ہے ۔۔۔ یہاں عورت کے دام لگتے ہیں ۔۔ یہاں عورت کو عزت دینے سے پہلے تخمینہ لگایا جاتا ہے ۔۔۔۔
عورت گھر سے باہر گلی میں جھانک بھی لے تو مرد کی غیرت کا جنازہ نکل جاتا ہے ۔۔۔ مرد زمانے کی کھے کھا لے اُسے کوئی کچھ نہیں کہتا ۔۔ یہاں عورت جتنی خدمت گزار ہے اُس کی سانسیں اتنی ہی سہل ہیں اتنی ہی عزت کی مستحق ہے ۔۔۔۔۔ مرد گھر کے اندر ہو یا باہر اپنی صفت سے جدا نہیں ہو سکتا ۔۔ ہمارے معاشرے کی عورت استحصال کی چکی میں پس رہی ہے ۔ کبھی شعوری استحصال ، کبھی گھمنڈ طاقت کا استحصال ، کبھی مفلس حقوق کا استحصال اور سب سے بڑھ کر جسم پر داغے پنجوں کے نشانوں کا جنسی استحصال جس سے روز اُس کی روح منوں مٹی بے گوروکفن دفنا دی جاتی ہے ۔۔۔۔ اور ستم ہائے ظریفی کہ اُسے ذرا کُسکنے کی جرت بھی فرعونیت بھرے لہجے کی قیمت میں چکانی پڑتی ہے ۔۔۔
۔
اور پھر آخر تم کیا ہو ؟؟؟ تم بھی تو اس معاشرے کا ہی حصہ ہو ۔ اس بدقمعاش معاشرے کی تہذیب بھی تہماری دید کے طفیل ہی زندہ ہے ۔۔۔۔۔ تم بھی تو مجھے اُسی نظر سے دیکھتے ہو گے ۔۔۔۔۔۔

۔
 سبین مسلسل بولتی جا رہی تھی ۔۔ اُس کے منہ سے الفاظ سُلگتے انگاروں کی طرح برس رہے تھے ۔۔۔ دوسری طرف جہانزیب خاموشی کا ادھ بدھ ضبط لئے اُسے سُن رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ : یہ اقتباس ، اپریشن ارتقائے فہم و دانش پر ““ تقدس کی بارگاہ ““ سید شاکر حسین رضوی  سے لیا گیا ہے ۔

سبین وہ بچی ہے ،جسے کراچی میں قتل کر دیا گیا ہے ۔ جہانزیب کے بارے میں ، میں نہیں جانتا ، اِس اقتباس کا انتخاب سبین کے الفاظ کی وجہ سے نہیں ۔ بلکہ وجہ تسمیہ،  بلاگ پر موجود ہمارے چہیتے دوست کے کمنٹس ہیں اور ہمارا جواب الجواب :
-----------------------------------------------------
بشیر احمد کورائی بلوچ : مرد و عورت کے کردار کو بہت اچھے طریقے سے اُجاگر کیا-
// میں جس معاشرے میں رہتی ہوں وہاں عورت ایک جنس ِ بیکار سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ۔(سبین)۔//
میرا تپتے ہوئے  جواب !یہ یورپی معاشرے کے خد و خال ہیں ؟
جہاں عورت ہر رات شبِ عروس مناتی ہے ۔

کیوں کہ جنسِ بے کار کا یہی کار ہے ۔


بشیر احمد کورائی بلوچ : واہ جی واہ نعیم صاحب دھماکہ خیز انٹری لی ہے 
 بشیر صاحب کے جواب نے میرے ذہن میں ایک پاپ اَپ ، دماغ کی سکرین پر ابھارا !
 بشیر بھائی : میں عورتوں کے ہمدردوں پر حیران ہوتا ہوں ۔
وہ دنیا کی ساری عورتوں کو آزادی دینے اور مرد ی برابری کروانے پر تیار ہیں لیکن ۔ ۔ ۔ ۔

اپنے گھروں کی عورتوں کے وارث بنے ہوئے ہیں ۔


جدید تہذیب کے دلدادؤں کی ایک مخلوط محفل میں ، مجھے بھی ایک دعوت نامہ ملا ۔ میریٹ ہوٹل میں۔ میں بھی گیا ۔
وہاں عورت کی آزادی پر دھانسو تقریریں ہوئیں ۔
قران و حدیث سے حوالے دئے گئے ۔ کہ میرا بھی دماغ عرشِ معلا سے تحت الثریٰ میں جاگرا َ
کہ کتنے فراغ دل ہیں یہ لوگ ۔
اورمیں کتنا کمینہ اور کم ظرف ہوں ۔
خواتین کی آزادی پر تقریر کرنے والے یہ کتنے عظیم لوگ ہیں ؟
مجھے بھی غلطی سے بولنے کا موقع دیا میں کیا بولتا ، پہلے ہی کھسیانی بلّی ہو رہا تھا ۔
چنانچہ کھمبا نوچتے ہوئے کچھ الفاظ ادا کئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ! کیا ؟

وہ بلاگ پر لکھوں گا پڑھ لینا ۔
یہاں لکھا تو مجھے ، بلاگ سے نکال دیا جائے گا ۔
لہذا حق لکھنے کے لئے میں نے بلاگ بنایا ہے ۔
آپ بھی بنائیں !
 -------------------------
تو میرا بلاگ پڑھنے والے ، عظیم لوگو و لوگاں ۔
یہ ذکر بہت پرانا ہے ۔ جب مشرف کی حکومت تھی اور عورتوں کی آزادی کے متوالے سمینار پر سمینار کروا رہے تھے ۔ کبھی اسلام آباد کلب میں اور کبھی میریٹ ہوٹل میں ۔ تو میریٹ میں ہونے واے اِس سمینار میں ہمیں بھی ایک دوست یہ کہہ کر لے گئے ۔ کہ چلو تمھیں اچھی چائے پلوائیں ۔ او ایک دعوت نامہ میرے ھاتھ میں تھما دیا ۔
---------------------------------------
 اسلام آباد کی ایک بڑی پیاری اور جاذب نظر خاتون نے ابتدائی تقریر کی ۔
دو مقرر ، ایک مرد اور ایک خاتون ، بولیں اور خوب بولیں ۔

ایسا لگتا تھا کہ پاکستان کی خواتین ، دنائے خواتین کی سب سے مظلوم اور پسی ہوئی خواتین ہیں - جن کا کام صرف وہی ہے جس کا سبیبن کے حوالے سے ذکر
سید شاکر حسین رضوی اوپر لکھا ہے ۔
ھال میں مرد خواتین کے مقابلے میں زیادہ تھے ، ہماری عمر کے لوگ کم 20 سے 40 سال کے زیادہ  چار خواتین بلکہ بچیاں ، جو جاذب نظر خاتون کی ، این جی او کی مددگار تھیں ، اُن کو نکال کر 20 یا 25 اسلام آباد کے "ایف اور G-9/4 " سیکٹر کی تھیں ۔

گھنٹہ خواتینِ پاکستان کی مظلومیت کی داستان سننے کے بعد ، میرے فشارِ خون میں اضافہ ہوچکا تھا ۔ کہا گیا کہ جو حضرات سمینار کے عنوان کی بابت اپنی رائے دینا چاہتے ہیں ، وہ اپنا نام لکھ کر بھجوا دیں ، اپنا تعارف کروانے کے بعد اپنی رائے ، روسٹرم پر آکر دیں گے ۔ ہم نے دوست کی طرف دیکھا اور پوچھا،
" اجازت ہے ؟ "
" جی جی بالکل اجازت ہے " انہوں نے رسانیت سے کہا
' اگر آپ کچھ کہنا چاھتے ہیں تو میں نہیں بولتا " میں بولا ۔
"ارے نہیں آپ بولیں یا میں ایک ہی بات ہے "۔ اور یہ کہتے ہوئے انہوں نے ایک چِٹ پر میرا نام لکھ کر اپنا نام لکھ کر اور دستخط کر کے ، سیمینار سیکٹری کو بھجوا دیا ۔
لوگوں نے رائے دینا شروع کی ۔ آخر میں بولنے والے ایک صاحب سے پہلے میرا نام پکارا گیا ۔ کیوں کہ بولنے والے خواتین اور حضرات کے نام سکرین پر جگمگا رہے تھے، میں روسٹرم پر گیا ۔ اپنا تعارف کروایا اور اپنی رائے کا اظہار شروع کیا ۔
'
خواتین و حضرات ، مردوں کی حاکمیت اور خواتین کی مظلومیت  کے بارے میں سمینار کے مقررین نے ، اپنی مساعی سے بڑھ کر اعلیٰ قسم کی تقریریں کیں ۔اگر یہ بین الکلیاتی مباحثہ ہوتا ، تو میرے لئے مشکل ہوجاتا کہ میں کس مقرر کو پہلا انعام دوں ۔ اگر خواتین پہلے کو مد نظر رکھتا تو ، پر بھی مشکل کہ خواتین دو اور مرد بے چارہ ایک ، بہر حال مرد کو پہلا نمبر دے کر میں ظلم اور زیادتی کے علمبرادورں میں ، میں دوبارہ کھڑا نہیں ہونا چاہتا ، جہاں میں ، اِس سمینار کے شروع ہونے سے پہلے تھا ۔  (تالیاں و قہقہے )
آپ لوگوں نے قرآن و حدیث سے مثالیں دیں ، میری آنکھیں پھٹ گئیں ، میری سوچ مرد کی حاکمیت کے عرشِ معلا سے گر کر خواتین
کی سسکیوں و آنسوں کے سمندر کے تحت الثریٰ میں جاگری ہے ۔ ( تالیاں)
میں یہ سوچ رہا ہوں ، ہ اِس ٹھنڈے ٹھار ھال میں بیٹھے ہوئے لوگ ، پاکستان کی سسکتی اور مظلوم خواتین کے لئے کتنے گرم جذبات رکھتے ہیں ۔ کتنے فراغ دل ہیں یہ لوگ اورمیں کتنا کمینہ، کم ظرف اور چھوٹا ہوں ۔ جو "خواتین کی آزادی" پر تقریر کرنے والے عظیم لوگوں کے درمیان آج موجود ہوں ۔
میں آپ لوگوں کا تھوڑا سا وقت لوں گا تاکہ میں اپنی ذہنی ، کج روی ، فوجی باغیانہ خیالات ، خواتین کے بارے میں دو رائے اور آزادی ء نسواں کی سوچ میں  تبدیلی کر سکوں ۔

( لوھا کافی تپ چکا تھا ، سیکریٹری سے پہلے ، صدر مجلس ، ایک عمر رسیدہ مگر جوان نظر خاتون نے ھاتھ کے اشارے سے سوال پوچھنے کی اجازت دے دی )

پہلا سوال : صرف شادی شدہ ، خواتین سے ہے ،  جو اپنے شوہروں کے ساتھ آئی ہیں وہ ھاتھ کھڑا کریں ۔
(صرف 2عورتوں نے اپنا ھاتھ کھڑا کیا )
دو سوال صرف شادی شدہ مردوں سے :
1 : اِس ھال میں مجھ سمیت کتنے شادی شدہ مرد ہیں ۔ ( جواب میں 15 ہاتھ کھڑے ہوئے )
2: کتنے مرد اپنی بیویوں کے ساتھ آئے ہیں ؟ ( صرف 2 ھاتھ کھڑے ہوئے )
آخری سوال : اُن مردوں سے ہے جو کہتے ہیں کہ ، قرآن او حدیث کی روشنی میں مرد اور عورت برابر ہیں ،عورتوں کو بھی معاشرے میں رہنے کے اتنے ہی حقوق حاصل ہیں جو مردوں کو حاصل ہیں، جو اپنا ھاتھ کھڑا کرے گا تو میں اُن میں سے ایک کو اپنے ساتھ مری لے جاؤں گا ۔ کون میرے ساتھ جائے گا فیصلہ قراءاندازی سے ہو گا ۔
( سب مردوں نے اپنے ھاتھ اوپر کھڑے کئے سوائے چند ایک کے )
جنہوں نے ھاتھ کھڑے کئے ہیں اُن کے گھر میں جو خواتین اُن کے برابر کے حقوق رکھتی ہیں ، کیا وہ اُس کو میرے ساتھ مری بھیج سکتے ہیں ؟
( تمام عورتوں کی آزادی کے دلدادا مردوں کو سانپ سونگھ گیا- عورتیں غصے سے کسمسائیں ، لیکن اُن کو موقع دیئے بغیر )
خواتن و حضرات ، اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت کو برابر پیدا نہیں کیا ، عورت کو مرد کی وراثت نہیں بنایا ۔ ہاں عورتوں کے حقوق بڑھا دیئے ، عورتوں کی عزت بڑھا دی ، مردوں کو پہلے " غص البصر " کا حکم دیا ہے اور اپنی عصمت کی حفاظت کرنے والی عورتوں کو ایسا مقام عطا کیا جس سے عورت خود واقف نہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے پورے قرآں میں مردوں سے بیعت لینے کا محمد رسول اللہ کو نہیں کہا ، صرف عورتوں کے لئے سورۃ الممتحنہ میں کہا ہے ۔
میں حیران ہوں آج کی عورت کیوں خود کو مرد کے برابر لا کر اُس بلندی سے اترنا چاہتی ہے جہاں اُسے اللہ تعالیٰ نے بٹھایا ہے ۔
میری ہمت نہیں کہ میں ، اپنی بیٹیوں کو کہوں کہ تم بھائیوں کے برابر ہو ، تم بھی کمانے نکل جاؤ ،
بیوی سے کہوں ، میں سارا دن جھک مارتا ہوں اور تم گھر میں رانی بنی بیٹھی ہو تم بھی باہر نکلو۔

کبھی نہیں ، خواتین و حضرات کبھی نہیں ،

میرے آفس میں چار خواتین اپنے گھریلو معاشی حالات کی وجہ سے ملازمت کرتی ہیں ، مردوں کے لئے آفس ٹائمنگ 9 بجے ہیں اور خواتین کے لئے ۔ 10 بجے ، تا کہ وہ گھر میں اپنی ذمہ داریاں پوری کر کے ، رش ٹائم کے بعد آفس آرام سے آئیں ۔ ہر خاتون کو میرا حکم ہے کہ وہ مغرب کی آذان سے آدھا گھنٹہ پہلے اپنے گھر پہنچ جائے ۔

میرے نزدیک ، عورت کا درجہ ، مرد سے بلند ہے اگر وہ خود کو اِس درجے سے گرانا چاہتی ہے ۔ تو اُس کی مرضی ۔ اُسے نہ صرف وہ کام کرنا پڑیں گے جو مرد کرتا ہے ، بلکہ بحثیت خواتین ذمہ داریوں کا بوجھ بھی اُٹھانا پڑے گا ،
کیوں کہ میں نے اپنی 52 سالہ عمر میں کسی مرد کو حاملہ بنتے نہیں دیکھا ۔

آپ سب کا شکریہ






خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔