میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 22 جون، 2015

پچپن اور بچپن

بتایا ایک مردِ دانا بشیر بلوچ کورائی نے ، وٹس ایپ پر :

" ۔ چھوٹے آدمی کو چھوٹا نہ سمجھو‘ بڑا آدمی بڑا نہ رہے گا۔ "

جیسے میرا بیٹا مجھ سے بڑا ہو گیا ، اور آج نانو نے چم چم کو بتایا ، کہ کی آغا جی کو سمر کلاس پر لے جاؤ ۔
تو کہا چم چم نے ، " وہ صرف بچوں کی ہے ،"
نانو نے چم چم کو معلومات دی ،" یہ بھی پچپن کے بعد بچپن میں چلے گئے ہیں اور بچّے ہیں"
اُس نے ہاں میں سر ہلایا اور بولی ،" ہاں پارک میں یہ بچوں کے ساتھ بچوں کی طرح کھیلتے ہیں "
اور بوڑھے کو یقین دلاتے ہوئے امید دلائی ،" اچھا میں اپنی ٹیچر سے پوچھو کر اجازت لے کر دو گی "

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔