میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 26 جون، 2015

چم چم کا منّو جونئیر

بوڑھے سے آج ، " بلنڈر " ہوگیا ۔
'
بوڑھے کے پاس ایک موبائل ہے ۔ سادہ سا ، جس پر بوڑھا ، وٹس ایپ، وٹس ایپ، کھیلتا ہے اور چم چم گیم ۔
جوان پوچھیں گے بھئی یہ کیا ؟
موبائل تو سہولت سے باتیں کرنے کے لئے ہوتا ہے ۔
پہلے یہ دوسروں کی سہولت کے لئے ہوتا تھا ۔
جب سے بوڑھا فارغ البال ہوا ہے ۔ موبائل بھی بوڑھے کی طرح فالتو ہو گیا ہے
بوڑھے کی عادت ہے ، وہ اپنے موبائل کی گھنٹی بند ہی رکھتا ہے کہ بوڑھے نے موبائل اپنے لئے رکھا ہے دوسروں کے لئے نہیں ۔
ویسے بھی جب بڑھیا ساتھ ہو تو کس کو فون کرنا ؟
لہذا دوست یار فون کرتے ہیں، چم چم اپنی گیم ختم کر کے بتاتی ہے ،
" آوا ۔ آپ کی 6 مِس کال آئی ہیں ؟ "
" کوئی مسٹر کال بھی ہے ؟ " بوڑھا پوچھتا ہے ۔
تو وہ نام پڑھ کر بتاتی ہے ، کہ چار مسٹر ہیں اور دو مِس ۔ اور وہ بھی اونچا کہ ، بڑھیا سن لے ۔ بڑھیا کے کان ویسے تو آج کل کم سنتے ہیں ۔ لیکن ۔ " مس کال " پر وہ ، سسپنس میں مبتلا ہوجاتی ہے ۔
'
ارے نہیں ، نہیں ۔ نوجوانو! ایسی بات نہیں ۔ دراصل یہ فیملی کوڈ ہیں !
مسٹر کال کا جواب دینا لازمی ہے ، مِس کال کا نہیں ۔ کیوں کہ
مسٹر کال وہ ہوتی ہیں جن کے نمبر موبائل میں ، محفوظ ہیں ۔ اور جن کے محفوظ نہیں وہ مِس کال ہی رہتی ہیں ۔ ویسے بھی آج کل مجھے موبائل پر، فیس بُک میسنجر سے مِس کال زیادہ آنا شروع ہو گئی ہیں ۔

اِس وجہ تسمیہ کے بعد عرض ہے ۔ کہ بوڑھا ، آج اسلام آباد اکیلا گیا ۔ وہاں بوڑھے نے اپنے کام کئے اور ایک دوست ، جو فیملی ڈاکٹر بھی ہے ، اُس سے ملنا بھی ضروری تھا ۔ پھر اُس سے "تلسہ روڈ " پر ملنے والے ، نمک پارے بھی دینے تھے ۔ جس کا ذکر بوڑھے نے پچھلے مہینے کیا تھا اور اب چکھانا لازمی تھا ، اور ملنا بھی ۔
وہاں سے بوڑھا ، جمعہ بازار کی طرف چکر لگانے گیا ۔ جب بوڑھا ، بڑھیا کے ساتھ نہ ہو تو ۔ اُس کی آوارگی بڑھ جاتی ہے ۔
جمعہ بازار سے بوڑھے نے آم لئے اور پرندوں کے بازار کے پاس آیا ۔ وہاں دو پرانے واقف کاروں سے ملاقات ہوئی ، حال احوال کے بعد ، مچھلیوں کے کھوکھے پر گیا ، وہاں مچھلیاں دیکھ رہا تھا کہ ایک ۔ طوطا مچھلیوں کے درمیان بیٹھا تھا ۔ بوڑھے نے اُس کی طرف ہاتھ بڑھایا ، وہ انگلی پر چڑھا کر ہاتھ سے کندھے پر چڑھا اور بوڑھے کا کان کھجانے لگا -

بوڑھے نے نوجوان سے کہا ،
" یہ میں لے جا رہا ہوں "
" سر لے جائیں ۔ آپ کا ہے " دکاندار بولا ۔
"کتنے کا ہے ؟" بوڑھے نے قیمت پوچھی
 اُس نے قیمت بتائی ، بوڑھے کو افسوس ہوا ، کہ خواہ مخواہ چّنو منّو ، خریدے ۔
" بچوں کو کاٹتا تو نہیں " بوڑھے نے پوچھا ۔
" نہیں سر ۔ یہ گھر کا پلا ہوا ہے " اُس نے پورے یقین سے کہا
" ٹھیک پھر میں پیسے وارنٹی چیک کرنے کے بعد بھجواؤں گا " بوڑھے نے کہا
" سر ، نہ بھی دیں میں مانگوں گا نہیں " وہ ہنستے ہوئے بولا اور چھوٹے سے کپڑے کی تھیلی میں ، طوطا ڈال کر دیا اور ساتھ اُس کی فیڈ بھی ، اُسےمعلوم تھا کہ بوڑھے نے مچھلیاں بھی رکھی ہیں ۔ چنانچہ اُس نے ، مچھلیاں بھی دے دیں بوڑھے نے ، پیسے دئیے اور واپس روانہ ہو گیا ۔
گھر پہنچا تو ، چم چم سمر کیمپ سے واپس آئی ہوئی تھی ۔ وہ دوڑی ہوئی آئی ۔ بوڑھا سمجھ گیا کہ وہ اب آئس کریم مانگے گی ۔ بوڑھے نے کہا ،
"عالی ، اپنا گفٹ ڈکّی سے نکال لو " چم چم نے ڈکی جلدی سے اوپر اٹھائی اور شور مچا دیا ۔
" آوا ، یہاں طوطا ہے "
" ارے طوطا نہیں ، آئس کریم ہے " بوڑھا بولا
" نہیں ، طوطا ہے ۔ مجھے آئس کریم نظر نہیں آرہی " چم چم چلائی
"حیرت ہے، آئسکریم طوطا کیسے بن گئی "  بوڑھا ، ڈکی کی طرف جاتا ہوا بولا ، چم چم ڈر کردور کھڑی ہوئی تھی ۔ بوڑھے نے پیچھے چھپائی ہوئی آئسکریم ، ڈکی میں ہاتھ ڈال کر نکال کر اُس کو دکھاتے ہوئے بولا ۔
" عالی ، یہ طوطا ہے " چم چم کا حیرت کے مارے منہ کھل گیا ۔
" آوا ، میں قسم کھاتی ہوں ، طوطا تھا ، کیا آپ نے میجک ورڈ بولے ہیں " وہ آئس کریم لیتے ہوئے بولی اور آئس کریم لے کر اندر دوڑ گئی ،
بوڑھے نے ہاتھ آگے کیا تو طوطا ہاتھ پر چڑھ آیا ۔ اور وہاں سے کندھے پر بوڑھا ۔ سامان اٹھائے لانج میں آیا تو ۔ چم چم اپنی نانو کو قسم کھا کر بتا رہی تھی ۔
" آوا نے میجک ورڈ بولے ، آئس کریم طوطا بن گئی اور پھر میجک ورڈ بولے ، طوطا یہ والی آئس کریم بن گیا "
بڑھیا کافی سیریس بیٹھی تھی ، بوڑھا سمجھ گیا اب خیر نہیں ۔
چم چم کی خالہ بولی ،" پپا آپ پھر طوطا لے آئے ؟"
تو چم چم کو ادارک ہوا کہ بوڑھے نے ، اُس سے ٹرک کی ہے ۔ خیر وہ طوطے کا بوڑھے کے ساتھ فرینڈلی برتاؤ دیکھ کر ، اُسے لینے آگے بڑھی تو وہ اُڑ کر صوفے کے پیچھے چلا گیا ، چم چم نے فِش دیکھیں تو طوطے کو بھول گئی ۔

عرصے سے خالی ایکیوریم میں بوڑھے نے پانی بھرا اور فِش اُس میں ڈال دیں چم چم نے ، فش کو گنا اور ہر فش کو دو دو کھانے کی گولیاں ہتھیلی میں رکھ ڈالیں ۔ مچھلیوں کا ڈسپلن خراب تھا ، لہذا بڑی مچھلیوں ، نے چھوٹی مچھلیوں کی فیڈ کھا چم چم کے حساب کو خراب کر دیا اور چم چم پریشان ۔
بوڑھے نے حل نکالا ، ایک شیشے کا ٹکڑا ، ڈال کر ایکویریم کو آدھا آدھا تقسیم کر کے ، چھوٹی مچھلیاں ایک حصے میں اور بڑی دوسرے حصے میں۔
اِن سب کاموں سے آدھا گھنٹہ بعد  فارغ ہو کر بوڑھا واپس لاونج میں آیا اور بوٹ اتارنے لگا کہ بڑھیا گویا ہوئی ۔
" آپ کو معلوم ہے کہ میں کتنی پریشان تھی ؟ "
" کیوں خیریت کیا ہوا ؟ " بوڑھے نے پوچھا ۔
" آپ موبائل کیوں نہیں اٹھاتے ؟" وہ غصے میں بولی" میں بیسیوں مرتبہ آپ کے ہر نمبر پر فون کر چکی ہوں "
بوڑھے کا سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ۔ اور بوڑھے کو خیال آیا ۔
" آج ، پھر بلنڈر   ہوگیا ۔"
" تو جب میں جارہا تھا تو کہتی نا ، کہ موبائل کی بیل آن رکھیں " میں اپنی غلطی کی وجہ بڑھیا پر ڈالتے ہوئے بولا ۔
" تو آپ کون سا سنتے ہیں " بڑھیا بولی " اور میں پریشان تھی کی گوشت لے کر آپ کو آجانا چاھئیے تھا ۔ اللہ خیر کرے ، فون بھی نہیں اُٹھا رہے "
ارے بڑھیا نےتو گوشت لانے کا کہا تھا اور بوڑھا بھول گیا ۔

" بھول گیا " بوڑھا بولا " گوشت لانا " ۔
بوڑھا چونکہ تھک گیا تھا ، لہذا اپنے کمرے میں سو گیا ۔ سو کر اٹھا ابھی کروٹ بدل رہا تھا ۔ کہ چم چم جو اپنے بیڈ پر لیٹی لیپ ٹاپ پر کارٹون دیکھ رہی تھی ، پوچھا ، "ایکسکیوز می  آوا ! آپ اُٹھ گئے ہیں "
" ہاں ، میری پیاری چم چم " بوڑھے نے جواب دیا ۔
" ایک بُری خبر ہے " چم چم نے بریکنگ نیوز کی فلیش چلائی ۔
" کیا ہے ، بُری خبر ؟ " بوڑھے نے پوچھا
" مّنو نے ، عوّا کو دو دفعہ کاٹا ، پھر نانو کو کاٹا ، مجھے کاٹنے لگا تو میں نے زور سے شُش کیا وہ ڈر کر صوفے کے نیچے گھس گیا " چم چم نے پوری سٹوری ریلیز کی ۔
" کیا آپ نے خواب دیکھا ہے سوئیٹ ہارٹ ، منّو تو مر گیا ہے " بوڑھا بولا '
پہلے جب میں سوئیٹ ہارٹ کہتا تھا تو تنک کر بولتی ، " میں بابا کی سوئیٹ ہارٹ ہوں، آپ کی گگو گا گا ، نانو کی جانو ، دادو کی مٹھو اور دادا کی بُلبُل " لیکن اب اُس گذارا کرناسیکھ لیا ہے ۔

" آوا ، آپ بھول گئے ہیں ۔ وہ جو آج آپ لائے ہیں ۔ میں اُس کی بات کر رہی ہوں " چم چم بولی ۔" میں نے اُس کا نام "منّو " رکھا ہے "
" ٹھیک ہے لیکن یہ "منّو جونئیر" کہلائے گا " بوڑھا بولا
" اوکے " چم چم بولی
" اچھا ، میرا موبائل دو " بوڑھا بولا
چم چم نے ، دوسرے سائیڈ پر پڑا موبائل اٹھا کر بوڑھے کو دیتے ہوئے بولی ،
" آوا، بیٹری ختم ہونے والی ہے ، چارج کر لیں "
" اچھا " بوڑھے نے موبائل دیکھا ، ایک کال ہو سکتی ہے ،

بوڑھے نے چم چم کے  کے نئے طوطے کے پرانے مالک کو اطلاع دی ۔
" سر ! ممکن ہی نہیں ، وہ تو بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے ۔ آپ کے گھر نئے بچے دیکھ کر پریشان ہو گیا ہوگا ، اِسی لئے وہ ناراض ہو کر کاٹ رہا ہے ۔

دو تین دن میں نہ ہلا تو واپس لے آنا " طوطے کا پرانامالک بولا
" ٹھیک ہے " بوڑھا بولا اور فون بند کر کے چارج پر لگا دیا ۔
" آوا ، اُس نے کیا بولا " چم چم نے پوچھا ۔
بوڑھے نے اُس کو معلومات دیں ۔
" اوہ ۔ اِس لئے وہ ناراض ہو کر موٹا ہو کر صوفے کے نیچے بیٹھا ہے " چم چم بولی ۔

" چم چم  آپ کو یاد ہے نا کہ ۔ توتو اور توتی ، برفی سے ڈرتے ہیں اور آپ کو کاٹتے ہیں " میں نے یاد دلایا
" ہاں ، وہ ڈمّو، ڈمّو ،چلتی ہے اور جا کر اُن کی دُم پکڑ لیتی ہے ۔ وہ چھپ جاتے ہیں " چم چم بولی ،" لیکن وہ مجھ سے کیوں نہیں ڈرتے "
برفی جب چلنے کے قابل ہوئی ، اور ایبٹ آبا سے آئی تو وہ مست گینڈے کی طرح ، توتو اور توتی کی طرف لپکی اور اور اُنہیں پجرے سمیت گرا دیا خود بھی گری ، لیٹے ہوئے پجرے کی طرف دیکھا اور توتی کی دُم پکڑ لی جو پجرے سے باہر کل رہی تھی وہ دن اور آج کا دن ، برفی سے توتو اور توتی بدکتے ہیں اور چھپ جاتے ہیں ۔ لیکن اگر چم چم ہاتھ بڑھائے تو اُسے کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
" وہ اِس لئے کہ آپ اُن سے ڈرتی ہو ، تو وہ آپ کو ڈراتے ہیں " میں نے چم چم کو بتایا
" آوا ، اُسے نیچے سے نکال کر ۔ پنجر ٓے میں ڈالیں ، میں اُسے پوئم سکھاؤں گی " چم چم بولی
آپ جاؤ اور منّو جونئیر کو صوفے کے نیچے سے نکالو ، میں آکر اُسے پنجرے میں ڈالتا ہوں " میں نے اُسے حوصلہ دیا ۔
" آوا ، آوا جلدی کریں یہ پنجرے کی پاس آگیا ہے " چم چم چلائی ۔ لیکن میرے جانے سے پہلے وہ پنجرے میں چلا گیا ۔

یہ چم چم کی پہلی کامیابی تھی ۔





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔