میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 6 جون، 2015

بقلم خود

منّو میاں کی پر اسرار موت  کے بلاگ  پر آن لائن ہوتے ہی ، دوستوں کی پسندیدگی آنا شروع ہوگئی ۔ ذاتی پیغامات  بھی آئے ۔ جن میں ایک پیغام لطیف طنزلئے ، بلاگرز کے ایک گرو اوربوڑھے کے پیٹی بند بھائی کا بھی تھا ۔ جو خود بھی ایک بلاگر ہیں:  

Sir, AOA, hope you are fine and happy. Munno Mian ki purisrar maut is a very good original effort. I wish u good luck.

جسے پڑھتے ہی بوڑھے کو ، ایک فورم پر ہونے والی،ایک صاحب کی تلخ و شیریں گفتگو یاد آگئی ، جس کے بعد اُس  گروپ کا راستہ ہمارے لئے بند ہو گیا تو ہم نے  بلاگرز اردو فورم پاکستان  ،    بنا لیا  ۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی کی  ، اِس لفظ  اوریجنل ایفرٹ نےبوڑھے کے  ذہن میں ایک بلبلہ پھاڑا ، اور اُس میں سے بقلم خود کا طویل قامت جِن برآمد ہوا ، جس سے نمّو کی ملاقات کوئی نصف صدی سے بھی پہلے غالبا میں کلاس چہارم میں ہوئی تھی  ۔ بقلم خودکے مفہوم سے نئی اور پرانی نسل دونوں واقف ہوں گے لیکن استعمال سے نہیں ۔
اِس سے پہلے کہ   بوڑھا کچھ لکھتا ، بوڑھے  نے اپنے بلاگ پر  اپنی   اوریجنل ایفرٹ کو بقلم خود کے عنوان سے الگ کیا  اور  باقی       دوسروں ایفرٹ  کو  
پلیگیار ازمسے بچنے کے لئے  تحاریر دیگراں  کا عنوان دیا، 

 ادب، اشعار  اور معلومات،   تو ہمیشہ دوسروں کی تحریریں ہوتی ہیں جنہیں آپ انسپائر ہو کر    اپنی تحریروں اور تقریروں میں استعمال کرتے ہیں ۔  
تو  اپنی 315   پوسٹ کی چھانٹی کرتے کرتے بوڑھے  کو  240 منٹ لگے ۔ اب یوں سمجھیں کہ اِس تحریر کو ملا کربوڑھے کی   کل 200 تحاریر بوڑھے نے بقلم خود تحریر کی ہیں ، جو کسی نہ کسی بلبلے کے پھٹنے  کے بعد  
قطرے سے گہر ہونے تک  وجود میں آئیں ۔ جن میں  زیادہ تر   "ہماری ویب " پر ہماری  اوریجنل ایفرٹ  تھیں 

بلاگ کی دنیا میں نو آموز بلاگرز کی طرح ڈرتے ڈرتے  تو نہیں ا لبتہ جھجکتے جھجکتے قد م ضرور رکھا  ،   جیسے  فیس بک کی دختران نیک اختران   میں سے ایک،         دسمبر 2007  سے بلاگ بنائے بیٹھی ہیں  اور بلاگ غریب کے کشکول کی طرح خالی ہے ۔  کیوں کہ

   "پہلا قدم مشکل سے اُٹھتا ہے ، گرنے کا نہیں گرانے والوں کا جو خوف ہوتا ہے "

ہاں تو بات ہو رہی تھی بقلم خود کی  ، اپنے رشتہ داروں کو  امیّ خود پوسٹ کارڈ  لکھ کر بھیجا کرتی تھیں یا آپا لکھا کرتی تھی ، کلاس چہارم میں آئے ہوئے  تین ماہ ہوئے تھے ، آپا مصروف تھی تو امیّ نے "نّمو"کو  تکلیف دی  ،
" نمُو"  خالہ کو خط لکھ دو  ،   کافی دنوں سے آیا ہوا ہے "
" امّی  ! خط ؟   وہ مجھے خط لکھنا نہیں آتا " امی کو حیرانی سے جواب دیا ۔" ہمیں ماسٹر جی نے ابھی نہیں پڑھایا "
" نہیں امّی،   لالہ دُھوت بول لا ہے ۔ ماتر تاب نے اِسے تُتی   تی درتوات لتِنا  تیتھایا ہے " چھوٹے بھائی  چلایا، جو کلاس دوئم  میں پڑھتا تھا ۔
" تو اِس میں مشکل  کون سا ہے بس درخواست کی طرح تو ہوتا ہے " امی نے پُچکارا 
" لیکن امّی نہیں آتا اور پوسٹ کارڈ خراب ہو جائے گا " نمّو  نے بہانہ بنایا  " وہ تو آپا نے درخواست لکھنا سکھایا تھا "
" چلو اچھا میں بولتی جاتی ہوں ، تم لکھتے جاؤ "   امّی نے پہلا قدم اُٹھانے کے لئے  اُنگلی تھامی۔
تو جناب "نّمو" اُس وقت کلاس چہارم کا طالب علم تھا ، بچوں کی دنیا ، تعلیم و تربیت  ، اخبار کے بچوں کا صفحہ تو پڑ ھ لیتا تھا لیکن خط لکھنے جیسا پہاڑ اُٹھا نا اُس کے بس میں نہ تھا ،  لیکن آہستہ آہستہ ، قدم اُٹھاتے  اُٹھاتے"نّمو"    نے خط مکمل کر لیا  ۔

 امی نے دیکھا اور پڑھنے کو کہا   "نّمو" نے  خط پڑھا ،  آپا  اپنی  سہیلیوں کے پاس سے کھیل کر آئی ۔
" آپا ، آپا  ، لالہ نے خالہ کو خط لکھا ہے " چھوٹے بھائی نے بریکنگ نیوز ریلیز کی  ۔
" ہیں ، نعیم ؟ کہاں ہے پڑھ کر سنا ؟ " آپا شک زدہ لہجےمیں بولی 

"نّمو"  نے  بڑی بہن  کو خالہ کا لکھا ہوا خط پڑھ کر سنا دیا ۔
شام کو ابّا  کھیلوں سے واپس آئے تو سب سے چھوٹی بہن ، جو ابّا کی  سب سےلاڈلی تھی پانچ سال کی تھی ابّا کی گود میں بیٹی اور بولا ،
" ابّا ، ابّا ، ایک بات بتاؤں ؟"  اُس کا یہ بریکنگ نیوز ابّا کو ریلیز کرنے کا سٹائل تھا ۔
" بتاؤ ، میری رانی ، کس نے کیا کیا  ؟ "  ابّا سمجھے کہ کسی نے پھر کوئی شرارت کی ہے ۔
" ابّا ، ابّا، وہ جو آپ کا کارڈ ہے نا  " رانی بولی
" کونسا کارڈ  ؟"  ابّا نے پوچھا 
" ابھی بتاتی ہوں "یہ کہہ  وہ دوڑی اور"نّمو" کا لکھا  ہوا کارڈ  ابّا کی آفس  ڈائری  نکال لائی جو امّی نے اِس لئے رکھا کہ ابّا بھی پڑھ لیں اور لیٹر بکس میں ڈلوادیں -
"یہ دیکھیں ، یہ  لالہ نے لکھا ہے "  ابّا کو پوسٹ کارڈ دیتے ہوئے کہا ، اور باہر صحن کی طرف دوڑی جہاں ، تینوں بہن بھائی سٹاپو کھیل رہے تھے ۔  برآمدے میں کھڑے ہو کر چلائی 
" لالہ  ابّا بلا رہے ہیں " 
امّی نے سُنا تو کمرے کی طرف لپکیں ، کہ شاید رانی نے کوئی شکایت لگائی ہے اور اب اُن کےنّموکی خیر نہیں، چنانچہ امّی کمر ے کی طرف لپکیں،   نّمو ، آپا  اور چھوٹا بھائی   کھڑکی کی طرف ،  امّی  اور رانی  اندر کمرے میں  داخل ہوئیں ، اُنہوں نے  ، ابّاکے ہاتھ میں خط دیکھا  ۔
" مبارک ہو ،
نّمو نے پہلی دفعہ خط لکھا ہے ، لکھائی کتنی اچھی ہے " امّی فاتحانہ انداز میں بولیں، ابّا نے پڑھا ،  آواز  لگائی

" نعیم ، یہاں آؤ"

تینوں بہن بھائی  کمرےمیں داخل  ہوئے ۔امّی  اپنا کام  کرنے باہر چلی گئیں
" لالہ ، میں نہیں کہا  تھا،کہ ابّا بلا رہے ہیں " رانی بولی ۔
" لو یہ پڑھ کر سُناؤ" ابّا  نے پوسٹ کارڈ   نمّو  کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔ نمّو  نے خط پڑھ کر سنایا ۔  ابّا نے میز کی دراز کھولی اور اُس میں سے ،  موری والا ایک پیسہ  نکالا ،
"شاباش ، یہ ہے تمھارا انعام "
" ابّا ، ابّا  ، ایک بات کہوں  " رانی بولی
" ہاں کہو "  ابّا نے رانی کو پیار کرتے ہوئے کہا ۔
"ابّا ، ابّا  ، میں نے تو آپ کو بتایا تھا ، مجھے بھی تو انعام دیں نا  " رانی بولی ۔
" چلو تم بھی انعا لو " ابّا نے اُسے  ایک پیسہ دیتے ہوئے کہا ۔
" ابّا ، ادَر  میں تَتط لِتھوں دَا تو مُدھے  بھی اِنام  ملے دا " چھوٹا بھائی بسورتا ہوا بولا
" بالکل تمھیں بھی انعام ملے گا " ابا بولے
" ابّا ، تو پھر دیں نا ، میں تَل تَھت لتھوں دا  "  چھوٹا بھائی بولا
" چل بھئی، تم بھی لے لو " ابّا نے دو پیسے نکالتے ہوئے کہا  اور ایک پیسہ  چھوٹے بھائی کو دیا ۔ 

" ہاں صرف تم بچی ہو " ابّا  آپا کو مخاطب ہو کر مسکراتے ہوئے بولے  ، " تم نے کیا تیر مارا ہے ؟ "
" ابّا ، میں نے نعیم کو چُھٹی کی درخواست لکھنا سکھایا ہے " آپا بولی
" چلو یہ تم لے لو " ابّا  نے چوتھا پیسہ آپا کی طرف بڑھاتے ہوئے پکڑایا
ہم چاروں ، خوشی میں کمرے سے باہر دوڑ گئے ، اور چاروں پیسے  شام کا کھانا بناتی ہوئی امّی کے پاس جمع کروائے  ۔ کیوں کہ  بازاری گھر سے دور اور سکول کے پاس تھی  ۔
"نعیم نے خالہ کو خود خط  لکھا "
مغرب کے کھانے کے بعد ، محلے کی عورتوں ، لڑکیوں اور چھوٹے بچوں کی  ، پریڈ گراونڈ ، جو محلے سے سو گز دور تھا ، کی سیڑھیوں پر بیٹھک کے وقت ، یہ خبر  آپا کی طرف سے " سہیلی بُک " پرسٹیٹس اِپ لوڈ ہوتے ہی ۔  جنگل کی آگ کی طرح پورے محلّے میں پھیل گئی ۔

یہ محلّہ  23  گھرو ں پر مشتمل ، جے سی اوز کورٹر کہلاتا تھا ، " نمّو" کے ابّا ، میڈیکل کور میں صوبیدار تھے  اور ٹریننگ ونگ کمپنی کے ایس جے سی او تھے ۔

" نمّو"   بچوں کے ساتھ کھو کھو کھیل رہا تھا  ، امّی کی آواز آئی ،" نمّو"یہاں آؤ ۔" نمّو"کھیل چھوڑ کے امّی کی پاس دوڑ کر آیا ۔ پاس پہنچتے ہی ، امّی بولیں :

" نمّو چلو شاباش ، خالہ کو خط سناؤ!" ۔   " نمّو"نے  فر فر خط سنا دیا ۔

 دوسرے دن  ، امّی کا  " نمّو" جب سکول گیا  ، تو وہاں  کلاس فیلوز نے  اسمبلی سے  پہلے بے یقینی سے پوچھا ،  " کل تم نے بقلم خود خط لکھا "  

کیوں کہ    نمّو کو   بقلم خود  کا مطلب معلوم تھا ، کوئی چار دن پہلے ، ماسٹر صاحب نے ، تختہ سیاہ پر چھٹی کی درخواست لکھی تھی جس کے آخر میں اُنہوں نے  بقلم  خود لکھا تھا ۔

" ہاں" ،  نمّونے فخر سے سینہ چوڑا کرتے ہوئے کہا ۔ نمو کی کلاس فیلو  نصرت  آپا ، جو مانیٹر تھی  اور پڑوسن بھی اور آپا کی سہیلی بھی  ، اُس نے  ماسٹر صاحب کو اطلاع دی ۔

"ماسٹر صاب ،  کل نعیم نے خالہ کو خود خط  لکھا "

" اچھا ا ا ا ا ا  " ماسٹر صاحب نے نعیم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ،

" نعیم الدین ، یہاں آؤ "

 نعیم الدین  ،  ٹاٹ پر سے اُٹھا اور ماسٹر صاحب کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے ۔
" تمھیں خط لکھنا آتا ہے "  ماسٹر  صاحب نے   نے پوچھا
" جی جناب "  نعیم الدین نے جواب دیا ۔

" یہ لو  " ماسٹر صاحب نے چاک نعیم الدین کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ،" بورڈپر لکھو "
تو جناب ، دوستو   نعیم الدین نے  اپنا  پہلا " بقلم خود "  خط نہ صرف     ذرائع  ابلاغ  (تختہ ء سیا ہ) سے  ایک استاد ، 7 لڑکیا ں اور 15 لڑکوں میں  نشر و منشور  کیا  ، بلکہ اُس تختہ ء سیاہ کو  ، نعیم الدین   اور  کلاس فیلو ازروم  (اسلم)  نے  اُٹھا کر ماسٹر صاحب  کے ساتھ  جاکر ھیڈ ماسٹر صاحب کو دکھایا اور داد پائی ۔

اتنے مشکل کام کو تنہا ماسٹر صاحب کی مدد کے بغیر کرنے کی پاداش میں ، نمّو کو مانیٹر بنا دیا ،

نمو کی کلاس فیلو نصرت آپا ،نے  یہ اطلاع  دے کر  ، 

"ماسٹر صاب ،  کل نعیم نے خالہ کو خود خط  لکھا "

اپنے پیر پر خود کلہاڑی ماری ۔

نصرت آپا ،   یہ نہیں کہ وہ فیل ہوگئی  تھی ، عین امتحانوں کے دنوں میں درخت سے گر کر سیدھا ہاتھ تڑوانے کے بعد وہ  کلاس چہارم کو دوبارہ پختہ کر رہی تھی ، لیکن اِس کے باوجود نصرت آپا کو  بقلم خود خط، لکھنا بالکل نہیں آتا تھا -  واپسی پر سکول سے گھر آتے ہوئے ، اُس نےغصے میں آپا کو کہا ، کہ وہ اُس کے ساتھ آئیندہ نہیں کھیلے گی ، آپا نے پوچھا کیوں اُس نے کہا ،
" وہ جو تمھارا بھائی ہے نا ،
نعیم الدین  - بجائے  بین 
گھڑی میں دیکھو - ساڑھے تین "

" کیوں کیا ہوا ؟ " آپا نے پوچھا  ۔

" میری جگہ وہ مانیٹر بن گیا ہے " وہ  روہانسی ہو کر بولی 

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ: یہ اے  ایم سی سنٹر ایبٹ آباد  کے جی سی اوز  کوارٹر میں سے ایک گھر  نمبر18 کی ہے ، ایک بوڑھا  اپنی بوڑھی کے ساتھ  چم چم ،اور لڈو کی ماں کو    18 جون 2015 دوپہر 3:19منٹ  ، نمّو ، اُس کے امّی ابّا، بہن بھائیوں  اور دوستوں قصّے سُنا رہا ہے  اور چم چم  بوڑھے، اُس  کی بہنوں بھائیوں اور دوستوں کی شرارتوں کے قصّے  سُن کر کھلکھلا کر ہنس رہی ہے ۔

 

اِس محلّے سے،  نمّو  کے  ساتھ گورنمنٹ برکی مڈل سکول  میں پڑھنے والے  دوستوں ، بڑے لڑکوں اور نمّو سے چھوٹے ، بچوں میں سے ، 2جنرل  ،3 بریگیڈئر ،ایک فُل کرنل ، 3 لیفٹنٹ کرنل  اور  نمّو سمیت   5 میجر فوج  میں گئے ۔ لڑکیوں ، میں ڈاکٹرز ، ڈینٹل سرجن اور ٹیچرز    بننے والیوں میں چار کو نمّو  جانتا ہے ، جن میں سے دو ڈاکٹرز اُس کی بہنیں ہیں ۔

نمّو جب اپنے بچوں کے ساتھ   50   سال بعد ، اِس محلّے میں پہنچا  ، تو اُس کے ذہن سے یادوں کے لاتعداد بلبلے بننا شروع ہوگئے ، ہر بُلبلا ، ایک واقعہ  ایک کہانی بن کر نکلنے کو بے تاب تھا ،    اُس وقت اِس محلّے میں  کے ہر گھر میں رہنے والے  ہر بچے کے نام    بوڑھے نے ایک ایک کر کے  چم چم کو بقلم خود بتائے  ۔  

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

 
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔