میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 7 جون، 2015

بے چاری اکیلی عورت

 لکھا " مہر افشاں " نے :-
ہمارے معاشرے میں بہت سارے مرد یہ سمجھتے ہیں کے جس عورت سے وہ شادی کرتے ہیں یہ ان کا اس عورت پر بہت بڑا احسان ہے مگر شاید وہ کچھ باتیں نہیں سوچتے یا یہ کہیں کے سوچنا نہیں چاہتے ..
شادی کے بعد عورت اپنا نام تبدیل کرتی ہے
گھر تبدیل کرتی ہے
اپنا گھر ، رشتے سب کو چھوڑ کر آپ کے ساتھ رہتی ہے
پھر آپ کے گھر کو اپنا بناتی ہے ..
نو مہینے تک اولاد کو اپنے پیٹ میں پالتی ہے اس نو مہینے کی تکلیف اٹھاتی ہے
جسمانی طور پر بد صورت ہو جاتی ہے ..
بچے کی پیدائش کی تکلیف اٹھاتی ہے
اور یہ سب تکلیفیں اٹھانے کے بعد بھی بچے کو " آپ کا نام " ملتا ہے
اپنی آخری سانس تک وہ آپ کے لئے اپنا آپ قربان کر دیتی ہے ..گھر کی صفائی ، کھانا پکانا ، بچوں کو پالنا ، ساس سسر اور دوسروں گھر والوں کا خیال رکھنا ، اور اسی طرح کےبہت سارے دوسرے رشتے نبھانا.... غرض یہ کے ضرورت پڑے تو روزگار کے لئے بھی نکل پڑھنا ، اور پتا نہیں کتنی ہی اور زمداریاں نبھاتی ہے ..
اور بدلے میں آپ سے صرف ایک چیز مانگتی ہے "عزت و احترام " ..
عورتوں کی عزت کیجئے ، احترام کیجئے ، آج کی بچی کل کی ماں بنتی ہے ، تو عزت و احترام صرف ماں کا ہی نہیں ہر عورت کا کیجئے ،
کیوں کے عورت کی زندگی اتنی آسان نہیں جتنی نظر آتی ہے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 " اتنے سارے کام ، بے چاری" ایک عورت " یہ تو سراسر انیائے اور ظلم ہے " ، میں نے بڑھیا سے پوچھا ، " اتنا ظلم کیا میں نے تم پر ؟"
وہ نیم غنودگی میں زبردستی آنکھیں کھول کر بولی ، " عورت نہیں کرے تو کیا مرد کرے ؟"
" ارے ارے ، میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ کام تین اور عورتوں میں بھی تقسیم کر سکتی تھیں نا "
بڑھیا کی نیند غائب ہوگئی اُس نے تھوڑا سا اٹھ کر لیپ ٹاپ پر دختر نیک اختر کا کمنٹ پڑھا ،
" تو ٹھیک کہہ رہی ہے یہ ، مہر افشاں "
ہم ہنس کر چپ ہوگئے ۔ میرا ، بڑھیا کے شکر بنانے کے کارخانے کو تیز کرنے کا کوئی پروگرام نہیں-



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔