میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 8 جون، 2015

سلطانہ ڈاکو کون تھا ؟

سلطانہ ڈاکو کون تھا ؟
اصل نام سلطان تھا اور مذھباً مسلمان تھا۔
انگریز دور کا ایک مشہور ڈاکو جسے
7 جولائی 1924 کو پھانسی دے دی گئی۔
وہ صوبہ اتر پردیش انڈیا کا رھنے والا تھا۔
وہ امیروں کو لوٹتا اور غریبوں پر خرچ کرتا تھا۔
سلطانہ انگریز راج سے نفرت کرتا تھا۔ اس نے اپنے کتے کا نام
"رائے بہادر" رکھا ھوا تھا اور اس کے گھوڑے کا نام "چیتک" تھا۔
جیل کے دوران ایک نوجوان انگریز جیل آفیسر فریڈی اس کا اچھا دوست بن گیا اور اس نے سلطانہ کو بچانے کے لیے قانونی جنگ بھی لڑی۔
پھانسی سے قبل سلطانہ نے فریڈی سے وعدہ لیا کہ وہ سلطانہ کے بیٹے کو ایک افسر بنائے گا۔
سلطانہ کی پھانسی کے بعد فریڈی نے اس کے بیٹے کو برطانیہ اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجا اور افسر بنا کر اپنا وعدہ پورا کیا۔
فریڈی بعد میں جیل خانہ جات محکمہ سے انسپکتڑ جنرل بن کر ریٹائر ھوا۔
سلطانہ وڈیروں جاگیرداروں کو لوٹتا اور غریبوں میں وہ دولت تقسیم کر دیتا تھا۔ایک انگریز لڑکی اس کے عشق میں مبتلا ھوئی اور یہ عشق سلطانہ کی موت تک چلتا رھا۔
اس کے بارے میں یہ بھی مشہور ھے کو وہ عورتوں کا رسیا تھا اور کافی امیر عورتوں کو اس نے ریپ کر کے مار بھی دیا تھا۔
اس سب کے باوجود لوگوں میں وہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا شائد اس کی ایک وجہ اس کی انگریز دشمنی اور امیروں سے لوٹا ھوا مال غریبوں میں تقسیم کرنا تھا۔
جب اسے پھانسی کے تختہ پہ لایا جا رھا تھا تو لوگوں کا ھجوم باہر اکٹھا ھو گیا جو اس کی شانِ بہادری کے قصیدے اور ترانے پڑھ رھے تھے۔

اُس نے چوری کی ابتداءایک انڈے سے کی تھی لیکن اُس کو گھر والوں نے کوئی تنبیہ نہ کی۔
نتیجتاً اُسے جرا ت ہوئی اور پھر چوری کی عادت نے اُسے
شہرت یافتہ ڈاکو بنا دیا۔
سلطانہ ڈاکو کو انگریز افسر فریڈی نے پھانسی کی سزا دیئے جانے سے پہلے اُس سے آخری خواہش پوچھی تو
اُس نے کہا کہ میری آخری خواہش اپنی ماں سے ملاقات کرنا ہے۔
خواہش کے احترام میں اسکی ماں کو اس کے سامنے لایا گیا۔
اس نے ماں کے قریب جا کر بجائے کچھ کہنے کے اپنی ماں کے کان کو
" دانتوں سے چبا لیا"۔
جب سلطانہ سے دریافت کیا گیا کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟
اُس نے جواب دیا کہ
جس وقت میں پہلی بار انڈا چوری کرکے لے آیا تھا اگر میری ماں نے مجھے روکا ھوتا تو میں ڈاکو نہ بنتا اور نہ ہی آج تختہ دار پر لٹکایا جاتا۔
میری والدہ نے یہ پوچھنے کے بجائے کہ انڈا کہاں سے آیا، انڈا تل کر بیٹے کو کھلا دیا۔
تنگ آمد بجنگ آمد ۔ نفرت اور بھوک ننگِ جسم اور ننگِ آداب ھوا کرتی ھے۔




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔