میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ, جون 5, 2015

قانونِ شہادت

قانون شہادت (گواہی )۔

 انسانی قانون شہادت کا یہ اصول ہے۔ گواہان جب بھی گواہی دینے کے لئے بلائے جائیں تو وہ پیچھے (ڈر یا خوف یا لالچ یا رشتہ داری کے باعث) نہ ہٹیں ورنہ وہ شہادت نہ دینے یا چھپانے کے مجرم قرار پائے جائیں گے اور یہ اصول بلا تخصیص مسلم یا غیر مسلم معاشرے میں لاگو ہے۔ غیر مسلم معاشرے میں اسے معاشرتی اخلاقیات کہتے ہیں۔ جبکہ مسلمان کے لئے یہ اللہ کا حکم ہے اور کتاب اللہ میں درج ہے۔

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُونُواْ قَوَّامِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاء لِلّٰہِ وَلَوْ عَلَی أَنفُسِکُمْ أَوِ الْوَالِدَیْْنِ وَالأَقْرَبِیْنَ إِن یَکُنْ غَنِیّاً أَوْ فَقَیْراً فَاللّٰہُ أَوْلَی بِہِمَا فَلاَ تَتَّبِعُواْ الْہَوَی أَن تَعْدِلُواْ وَإِن تَلْوُواْ أَوْ تُعْرِضُواْ فَإِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْراً (4/135)

اے وہ لوگو جو ایمان لائے: تم عدل پر قائم رہنے والے اور اللہ کے لئے شہادت (گواہی) دینے والے بنو۔ اگرچہ وہ (شہادت) تمہارے اپنے نفس یا والدین یا قربتداروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ کوئی (اس شہادت کے باعث) غنی ہو جائے یا محتاج اللہ ان کا (تم سے زیادہ) ولی (خیر خواہ) ہے۔ عدل کرنے میں تم اپنی خواہش نفس کی اتباع مت کرو۔ اگر تم پیچیدگی پیدا کرو گے یا اعراض برتو گے تو (جان لو کہ) اللہ اس بات سے خبردار ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

گواہی کے لئے سخت اور واضح اصول ہیں۔ ہو بہو یہی اصول غیر مسلم معاشرے میں بھی پائے جاتے ہیں۔ سوائے اس فرق کہ وہ اللہ کے ڈر سے قانون شہادت پر عمل نہیں کرتے۔ بلکہ ان کے مدنظر صرف اور صرف ضمیر ہے۔ ضمیر ایک قابل تغیر چیز ہے اس کے تغیرات میں ڈر، خوف، لالچ، رشتہ داری، نسلی تفاخر اور خونی رشتے شامل ہیں۔اور سچ صرف اپنی قوم کے لوگوں کے لئے بولتے ہیں دوسری قوم کے لئے وہ نہایت مکار اور دھوکے باز ہوتے ہیں ۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک مسلمان بھی اپنے مسلمان بھائی کو بچا نے دوسری قوم کے خلاف جھوٹی شھادت دے سکتا ہے؟

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُونُواْ قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَاء بِالْقِسْطِ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَی أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ ہُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَی وَاتَّقُواْ اللّہَ إِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (5/8)
اے وہ لوگو جو ایمان لائے: تم اللہ کے لئے عدل سے شہادت (گواہی) دینے والے بنو۔ اور تمہیں قوم کی دشمنی اس جرم سے آمادہ نہ کرے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو:: وہ تقوی کے قریب ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک اللہ اس بات سے خبردار ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

بہر حال سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غیر مسلم کو قانون شہادت کے یہ اصول کیسے معلوم ہوئے؟
اس سوال کا جواب عموما یہ دیا جاتا ہے کہ بھئی انھوں نے یہ کتاب اللہ سے لئے ہیں۔ جبکہ انہوں نے شائد کتاب اللہ پڑھی ہی نہ ہو۔ اس سوال کا جواب اللہ نے اپنی کتاب میں درج کر دیا ہے وہاں سے دیکھتے ہیں۔

أَفَغَیْْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُونَ وَلَہُ أَسْلَمَ مَن فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ طَوْعاً وَکَرْہاً وَإِلَیْْہِ یُرْجَعُونَ (3/83)

کیا وہ دین اللہ کے علاوہ چاہتے ہیں؟ سماوات اور الارض میں جو کچھ بھی ہے اس کے لئے خوشی سے یا مجبوراً اسلم (حکم ماننے والا) ہے اور سب اسی کو رجوع (Refer) کرنے والے ہیں اس کائنات میں جو بھی حق (سچائیاں) ہیں۔ جسے عام طور پر غیر مسلم آفاقی سچائیاں (Universal Truths) کہتے ہیں۔ جنہیں ان کے خیال میں انہوں نے صدیوں کے تجربے کے نچوڑ سے حاصل کیا ہے اور اس پر وہ فخر کرتے ہیں اور انہیں اپنے معاشرتی قانون کا حصہ بنایا ہوا ہے اور اس قانون کو وہ تسلیم کرتے ہیں۔ جبکہ تمام سچائیاں یا آفاقی سچائیاں (Universal Truths) اللہ کی طرف سے ہیں (یہ اللہ کا دین ہے اور تمام باطل شیطان کی طرف سے ہے)۔٭ چنانچہ ایک غیر مسلم اپنے وہ تمام قانون جو آفاقی سچائیوں کو مدنظر بناتا ہے گویا وہ نہ چاہتے ہوئے (کرھاً) بھی اللہ کی سچائیوں کو تسلیم کرتا ہے۔ دراصل وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔٭ جبکہ ایک مسلم دل سے چاہتے ہوئے (طوعاً) اللہ کے حق (سچائیوں) کو تسلیم کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ تمام حق (سچائیاں) اللہ نے کتاب اللہ میں درج کر دی ہیں۔ چنانچہ وہ جب بھی انہیں کتاب اللہ سے دیکھتا ہے۔ تو گویا وہ اللہ کو رجوع کرتا ہے۔ لہذا ایک ایمان لانے والا اس لئے گواہی نہیں دیتا کہ لوگ اسے سچا، اصول پرست اور نڈر کہیں گے بلکہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ چنانچہ اگر اس نے ایمان والا رہنا ہے تو اسے اللہ کی خاطر گواہی دینی پڑے گی۔ 

 معاہدوں کے اصول

         ہر قسم کا  معاہدہ  مروج قواعد و ضوابط کی روشنی میں کیا جاتا ہے  جس کے لئے:
٭۔         دو یا دو  سے زائد افراد کی باہم رضامندی سے طے ہوتا ہے ۔
٭۔        مروج اصولوں کے مطابق ہوتا ہے۔
٭۔          تحریری یا زبانی ہوتا ہے ۔
٭۔        گواہوں کی موجودگی لازمی شرط ہوتی ہے ۔
٭۔        کسی معتبر فرد یا حاکم سے تصدیق کرائی جاتی ہے ۔
٭۔         اگر گواہ میسر  نہ ہوں تو رہن (ضمانت) کے طور پر  کوئی چیز رکھی جاتی ہے۔

    یہ معاہدے کے وہ اصول ہیں جو ہر معاشرے میں لاگو ہیں۔ تمام معاہدے اپنی مدت تکمیل کے بعد ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن  بعض اوقات کسی ناگزیر وجہ کی بنا پر   معاہدہ  مدت تکمیل سے پہلے ختم کرنا پڑتا ہے ۔  چنا  نچہ  ایسے   معاہدے ختم  کرنے  کی  مند رجہ  ذیل  صورتیں  ہو  سکتی  ہیں:۔
٭۔       جن  افراد  میں  معاہدہ   ہوا  ہو۔  ان  کی  با ھمی  رضا مندی  کے  بعد گواہانکی  موجودگی  میں  معاہدہ  ختم کر  دیا  جاتا  ہے  یا
٭۔     فریق  اول  معا ہدے کے فریق  دوم  سے  معاہدہ  ختم  کرنا  چا ہتا  ہے۔

اب  اس  معاہدے  کو  ختم  کرنے  کے  دو  طریقے  ہیں:۔

٭۔      مھائدہ  اصولوں  کے  مطابق  ختم  کیا  جاے  اور  معا ہدے کی  شرائط  کے مطابق  مھائدہ ختم  کرنے  والا  دوسرے  کو  جرما نہ  ادا  کرے۔  یا

٭۔      مھائدہ ختم  کرنے  والا  یہ  ثابت  کرے کہ  دوسرے  فریق  نے  معا ہدے کی  خلاف  ورز ی  کی ہے۔
        لیکن  ایسا  بھی  ہو  سکتا  ہے  کہ  کوئی  بھی  فریق  معاہدہ ختم  نہیں کرنا  چاہتا۔ لیکن  ایک  فریق  معاہدے  کی  شرائط  کی  خلاف  ورزی  کرتا  ہے۔ معاہدے  کی  خلاف  ورزی  پر معاہدے گواہان  کے  پاس  تصفیہ کے  لئے  پیش  کیا  جاتا  ہے   -  جو  وجہ ء تنازع ،  صلح  صفائی  سے  رفع  کراتے  ہیں  اور معاہدہ  برقرار  رہتا  ہے۔  اگر  صلح  صفائی  سے  معا ملہ  حل  نہ  ہو  تو:۔
٭۔      گواہان  معا ہدے  کی  گئی  شرائط  کے  مطابق  معاہدہ  توڑنے  والے شخص  پرجرمانہ  کی  ادائیگی پر  عمل  کرواتے  ہیں۔
٭۔      معاہدہ  توڑنے  والے  شخص کی  ہٹ  دھرمی  کی  صورت  میں  دوسرے شخص کومعاہدہ توڑنے والے شخص سے آئندہ معاہدہ  نہ کرنے  کا  مشورہ  دیتے  ہیں۔
٭۔    کسی  معتبر  آدمی  یا  مجاز  حاکم  سے  معا ہدے  کے  خاتمے کی تصدیق کرا ئی  جاتی  ہے۔ اور  اس کا  اعلان  کیا  جاتا  ہے۔

        ایک  بات یقینی ہے  کہ کوئی بھی انسانی  معاہدہ  ابدی نہیں  ہوتا۔ اس کی مضبو طی  کا دارومدار فریقین کی کلّی رضامندی پر ہوتا ہے۔



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 معاہدوں  کے  بارے  میں  اللہ کا  حکم
         ہم کتاب  اللہ میں دیکھتے ہیں کہ اللہ نے معاہدوں کے بارے میں کیا راہنمائی کی ہے   -ایک بات غور طلب ہے، کہ انسان صدیوں سے آپس میں لین دین کرتے آئے ہیں اور معاہدے  بھی کرتے تھے، خواہ  زبانی ہوں یا تحریری اور رھن بھی رکھتے تھے، قیمتی شئے ہو یا مونچھ کا بال۔

 یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِذَا تَدَایَنتُم بِدَیْْنٍ إِلَی أَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوہُ ۔۔۔
اے لوگو جو ایمان لائے! اگر تم آپس میں ایک مقررہ مدت کیلئے دین(مطابقت (Agreement- کرو تو اسے لکھ لو۔ 
۔۔۔ وَلْیَکْتُب بَّیْْنَکُمْ کَاتِبٌ بِالْعَدْلِ وَلاَ یَأْبَ کَاتِب ۔۔۔
٭۔    اور تمھارے درمیان کاتب کو یہ (مطابقت)عدل سے لکھنی چاہیئے   اور لکھنے والا لکھنے سے انکارنہ کرے

۔۔۔۔ أَنْ یَکْتُبَ کَمَا عَلَّمَہُ اللّٰہُ  ٌ ۔۔۔
 ٭۔      اور ایسا لکھے جیسا کہ اللہ نے اسے (لکھنے کا) علم دیا ہے۔
۔۔۔ فَلْیَکْتُبْ وَلْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْْہِ الْحَقُّ وَلْیَتَّقِ اللّہَ رَبَّہُ وَلاَ یَبْخَسْ مِنْہُ شَیْْئاً ۔۔۔
٭۔      اور جو حق پر ہے اس کا مطلب لکھے۔اور چاھئے کہ اپنے رب اللہ سے ڈرے۔اور اس (لکھوانے) میں کوئی کمی(اپنی علمی چالاکی کے باعث) نہ کرے۔

۔۔۔ فَإن کَانَ الَّذِیْ عَلَیْْہِ الْحَقُّ سَفِیْہاً أَوْ ضَعِیْفاً أَوْ لاَ یَسْتَطِیْعُ أَن یُمِلَّ ہُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّہُ بِالْعَدْلِ ۔۔۔

 ٭۔     اور اگر جو حق پر ہے۔ بے وقوف(جاہل) ہو یا ضعیف ہو  یا (کسی اور سبب کے باعث)اس کی استطاعت  نہ رکھتا ہو کہ اپنا مطلب  بیان کر سکے تو اس کا ولی (جس کو نامزد کرے یا سر پرست)  عدل کے ساتھ(مطابقت کی شرائط کا) مطلب بیان کرے۔

۔۔۔ وَاسْتَشْہِدُواْ شَہِیْدَیْْنِ من رِّجَالِکُمْ ۔۔۔

٭۔   اور اپنے(جاننے والے) مردوں میں سے دو کو (اس مھائدے کی تحریر پر) گواہ بنا لو

۔۔۔۔  فَإِن لَّمْ یَکُونَا رَجُلَیْْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَاء ۔۔۔
٭۔  پس اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم (مطابقت کرنے والے) گواہ بنانا پسند کرو (گواہ بنا لو)دوسری  عورت  کی  شرط  اس  لئے  ہے

۔۔۔ أَن تَضِلَّ إْحْدَاہُمَا فَتُذَکِّرَ إِحْدَاہُمَا الأُخْرَی ۔۔۔

٭۔  تاکہ ان میں سے ایک بھٹک(یا بھول) جائے تو دوسری اسے نصیحت  کرے (یاد دلا دے)۔
۔۔۔ وَلاَ یَأْبَ الشُّہَدَاء  إِذَا مَا دُعُواْ ۔۔۔
٭۔ جب گواہ (شہادت) کے لئے بلائے جائیں تو وہ انکار نہ کریں۔  
ہر قسم کا مھائدہ جو طویل المیعاد ہو یا قلیل المیعاد، چھوٹا ہو یا بڑا  اسے ضرور مکمل لکھا جائے

۔۔۔ وَلاَ تَسْأَمُوْاْ أَن تَکْتُبُوْہُ صَغِیْراً أَو کَبِیْراً إِلَی أَجَلِہِ ذَلِکُمْ أَقْسَطُ عِندَ اللّٰہِ وَأَقْومُ لِلشَّہَادَۃِ وَأَدْنَی  ۔۔۔
٭۔     اور نہ ہی (اپنی مطابقت(Agreement)  کو) خواہ چھوٹا ہو یا  بڑا اس کی اجل(مکمل لکھے جانے تک) لکھنے میں سستی نہ کرو۔یہ  اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ ہے اور شھادت کے لئے (باعثِ تحریری  ہونے کے) زیادہ معتبر اور آسان ہے تاکہ شبھات پیدا نہ ہوں۔
سوائے دست بدست تجارت کے جو اسی وقت مکمل ہو جائے
۔۔۔ أَلاَّ تَرْتَابُواْ إِلاَّ أَن تَکُونَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً تُدِیْرُونَہَا بَیْْنَکُمْ فَلَیْْسَ عَلَیْْکُمْ جُنَاحٌ أَلاَّ تَکْتُبُوہَا ۔۔۔
٭۔     ہاں اگردست بدست تجارت میں جو کچھ اسی وقت تمھارے  درمیان طے ہو ا ہو اس (صورت) میں تم پر کوئی حرج نہیں کہ اگر  تم اسے  نہ لکھو

۔۔۔ وَأَشْہِدُوْاْ إِذَا تَبَایَعْتُمْ وَلاَ یُضَآرَّ کَاتِبٌ وَلاَ شَہِیْدٌ وَإِن تَفْعَلُواْ فَإِنَّہُ فُسُوقٌ بِکُمْ ۔۔۔
٭۔     اور جب تم بیع کرو تو اس پر گواہ بنا لو۔ کاتب اور گواہ کو نقصان  نہ پہنچاؤ اور اگر تم نے ایسا کیا تو یہ تمھاری طرف سے معاھدے  کی نافرمانی ہو گی 

وَاتَّقُواْ اللّٰہَ وَیُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ (2/282)
اور اللہ سے تقی رہو  اور تمھیں اللہ جانتا ہے اور اللہ ہر شئے کا علم رکھتا ہے۔

        اس  آیت  میں  ’دین‘ (دی  ن) ، تجارت  (ت  ج  ر) اور بیع  (ب ی ع)‘  ہے۔  نیز  ان  کے  علاوہ  کتاب اللہ میں  ایک  لفظ ’ اشتری  (ش ت  ر)‘  بھی  آیا  ہے۔ 

ان  چاروں  کا  مادہ  مختلف  ہے۔  لیکن  ان  سب  کا  مفہوم  اردو  زبان  میں  ’دو  یا  دو  سے  زیادہ  افراد  کے  درمیان  باہمی  لین  دین  ہے‘  (خواہ  یہ  لین  دین، نقد  بمقابلہ  نقد  ہو،  نقد  بمقابلہ  جنس  ہو یا  جنس  بمقابلہ  جنس  ہو)  لیکن  عربی  زبان  میں ان چاروں الفاظ کی  ’حالت  استعمال‘ میں  فرق  ہے  ’حالت  استعمال‘  سے  مراد  کسی  بھی  زبان  کا لفظ  جملے  میں  اس  کے  مقام  پر  خاص  مقصد  کے  لئے  استعمال  کیا  جاتا  ہے۔  وہی  لفظ  اگر  دوسری  جگہ  استعمال  کیا  جائے  تو  جملے  کا  مطلب  سمجھنے  والے  کو  غلط  معنی  کی  طرف  لے  جاتا  ہے۔   یوں  سمجھئے  کہ  علم و ادب  سے  نا  آشنا  یا  دوسری  زبان  بولنے  والے  افراد  اگر ادب سے واقف نہ ہو ں تب بھی وہ  بنیادی الفاظ کے ذریعے اپنا  مطلب بہتر  طریقے  سے  واضح  کر  سکتے  ہیں۔  لہذا کسی ہمہ گیر اور جامع زبان کی یہ بنیادی خوبی ہوتی ہے کہ وہ آسان  ہو۔ اللہ تعالی کے مطابق:

وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ (54/22)
اور حقیقت میں  ہم نے القرآن کوالذکر کے لئے آسان کیا۔پس ہے کوئی مُّدَّکِرٍ؟

 مُّدَّکِر ہی جانتے  ہیں کہ  16علوم جانے بغیر  الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ کے لئے، کتنا آسان ہے!  مزید وضاحت ہوئی  کہ عجمی میں القرآن  نہ مفصّل ہے اور نہ ہی مفسر

  وَلَوْ جَعَلْنَاہُ قُرْآناً أَعْجَمِیّاً لَّقَالُوا لَوْلَا فُصِّلَتْ آیَاتُہُ أَأَعْجَمِیٌّ وَعَرَبِیٌّ قُلْ ہُوَ لِلَّذِیْنَ آمَنُوا ہُدًی وَشِفَاء  وَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُونَ فِیْ آذَانِہِمْ وَقْرٌ وَہُوَ عَلَیْْہِمْ عَمًی أُوْلَءِکَ یُنَادَوْنَ مِن مَّکَانٍ بَعِیْدٍ (41/44)
اگر ہم بناتے قرآن(پڑھائی) کو عجمی  تو وہ ضرور کہتے اس کی آیات  مفصّل کیوں نہیں؟ کیا عجمی اور عربی؟ کہہ!  وہ ان  لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ھدایت اور شفا ہے  اور جو  ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور اِن کے اوپر اندھا پن ہے ، جیسے انہیں دور جگہ سے پکار جارہا ہو۔

        اب یہ آیت اتنی جامع اورواضع  ہے  اور  ہمیں  اس  تردد  سے  نکالتی ہے کہ عربی  بہت  ہی  مشکل  زبان  ہے۔  یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالی  عربوں  سے مخاطب نہیں بلکہ الناس سے مخاطب ہے اور خود کہہ رہا ہے کہ ’ اگر  ہم  قرآ ن  کو عربی  کے  بجائے عجمی  (یعنی  دنیا  کی کسی اور زبان میں)  نازل  کرتے  تو  وہ  (لوگ جو اس کو مشکل سمجھتے ہیں) ضرور  کہتے  کہ، ”اس  کی  الحمد  سے لے کر والناس تک جتنی بھی آیات ہیں  مفصّل نہیں ہیں؟“ یہ  اللہ کے الفاظ  ہیں جو الکتاب میں درج ہیں مگر اس کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی تمام آیات  مفصّل نہیں ہیں  -  (نعوذ  باللہ)  مجمل  (مادہ  ج  ۔ م۔ ل  )ہیں ۔

کِتَابٌ فُصَّلَتْ آیَاتُہُ قُرْآناً عَرَبِیّاً لَّقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (41/3)
ایک کتاب (الکتاب) جس کی آیات مفصل ہیں اور علم والوں کے لئے قران (پڑھائی) عربی میں

        دراصل بات یہ ہے کہ اللہ کے  مطابق الکتاب کی آیات مفصل ہیں۔ یعنی  ہر آیات عربی پڑھائی  میں تفصیل لئے  ہوئے  ہے مگرشرط یہ ہے  کہ یہ صرف علم والوں کے لئے مفصل ہے۔ بے علم اسے مجمل ہی سمجھیں گے۔ جیسا  کہ پہلے لکھا ہے  کہ دین کا  مادہ  ’د۔ی۔ ن‘ ہے۔  چنانچہ  اس  مادے  سے  بننے  والے  تمام  الفاظ  ہم  معنی  ہونے  چاہیئں ورنہ اس آیت  (جملے)  کی  تفصیل ہمیں سمجھ نہیں آ سکے گی۔

دین کے مادے سے بننے والے الفاظ  کا ترجمہ۔الدین  (مذہب, Religion) ۔  دین  (قرض ,  Loan) ۔ یدینون (قبول  کرنا,  Acknowledge)  اور  مدینون, مدینین (جز ا، Account / Award   )  کیا  گیا  ہے۔جبکہ  دین  کا  انگلش  میں  صحیح  لفظ  (Accept/ Acceptable/ Acceptance) ہے۔ چنانچہ  اس کے ہم  معنی  الفاظ  (Accedence/ Acquiescence/ Acknowledge/ Assent/ Aggrement/ Approval/  Deference/ Recognition/ Security/  ہوتے  ہیں۔  چنانچہ الدین  کو (Acceptance )   کی  بجائے  مذہب ,  (Religion)  اور  دین  کو  مطابقت (Agreement)  کی  بجائے  قرض (Loan)  لکھنا اس  بنیادی  مطلب سے انحراف  ہے  جو  اللہ تعالی  بتانا  چاھتا  ہے۔

لہذا ، ہر قسم کے معاہدات زبانی یا تحریری یا بارٹر سسٹم یا رہن رکھ کر قرض لینے کے لئے البقر ۃ  کی  آیت  282  نہایت  اہم  آیت  ہے،
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ جب سے انسانی قتصادیت وجود میں آئی ہیں انسانوں کا طریق لین دین و خرید و فروخت ایسا ہی رہا ہے ۔ لیکن کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ نماز کو طریقہ یا حج کی تفصیل بتانے کے بجائے اللہ تعالیٰ نے اتنا مفصّل " زبانی یا تحریری یا بارٹر سسٹم یا رہن رکھ کر قرض لینے کے انسانی معاملات کو بتایا ہے ! 

کاش کوئی  مُّدَّکِرٍ بنے :۔
1۔     ہر  قسم  کی مطابقت  خواہ قلیل  المیعاد  ہو  یا  طویل  المیعاد لکھنے  میں  تساھل سے کام  نہ  لو۔
2۔     اگر  تم  تجارت (لین  دین) دست بدست کرتے ہو  یعنی  اسی  وقت  اشیاء  کا تبادلہ  ہو  تو  لکھنے  کی  ضرورت  نہیں۔   تمام  قسم  کے  لین  دین  پر  گواہ  لازمی  بناؤ
4 ۔      اور  گواہ  کم  از  کم  دو  مرد  اور  اگر  دو  مرد  نہ  ہوں  تو  ایک  مرد  اور  دو   عورتیں  ہوں۔
5 ۔      دو  عورتیں  اس  لئے  کہ  اگر  وہ  عورت  جو  گواہی  دے  کوئی   بھٹک جائے یا  بات  بھول  جائے  تو  دوسری  اسے  یاد  دلائے۔  اس دوسری عورت  کا کام صرف  اور  صرف  گواہی  دینے  والی  عورت  کو  (اگر  وہ  بھولتی  ہے)  یادکرانا  ہے۔  گویا  دوسری  عورت  ضمنی  گواہ  ہے  جسے  رکھنے  کا واحد  مقصداس عورت (جو  گواہی  دے  رہی  ہے)  کی بھولنے پر  مدد کرنا  ہے  نہ  کہ دوسری  عورت  سے  بھی  بیان  لیا  جائے۔  تمام  عدالتی  سوالات  گواہی دینے  والی عورت  سے  ہی  کئے  جا ئیں  گے۔  اگر  گواہی  دینے  والی  عورت  نہیں بھولتی  یعنی  اس  کی  ساتھی  نے  اسے  نہیں  ٹوکا  تو  پہلی  عورت  کی گواہی مکمل  سمجھی  جائے  گی
6 ۔      اگر  مطابقت  لکھوانے  والا  شخص  اپنی  بے  وقوفی  یا  ضیعفی  یا  اس  بات  کی استطاعت  نہ  رکھتا  ہو  (باعث  قانونی  کم  علمی  یا  گھریلو  خاتون  یا  نا  بالغ  اور کم سن  بچہ)  کہ  خود  لکھوا  سکے  تو  ایسی  صورت  میں  اس کا ولی  (جسے  وہ  نامزد  کرے  یا  باعث قریبی  رشتہ  وہ  اس  کا  قانونی  سرپرست  ہو)  دستاویزلکھوائے
       کاتب  اس  لکھنے   سے  انکار  نہ  کرے  اور  ایسے لکھے  جیسے  اللہ نے  اسے علم  دیا  ہے  اور  وہ  علم  یہ  ہے کہ حق  لکھے  (بعینہی وہی  لکھے  جو  اسے  لکھوایا  جائے )  اور  اپنی  طرف  سے  کوئی  ایسی  قانونی  پیچید گی  یا سقم  نہ دالے  جو  اس  فرد  کا  جو  حق  پر ہو  (فریق  اول  یا  دوئم)  کا  حق  ساقط کرے
8۔      فریق  اول  اور فریق  دوئم  کے  درمیان  ہونے  والی  مطابقت کو خواہ  کسی قسم کا  ہو  اور  دونوں  فریق  اس  پر   (بشمول  ولی)  راضی  ہوں  اور  لکھ  لیا جائے  تو  اب  یہ  عہد  (میثاق)  بن  گیا  لہذا  اب  اس  معاہدے کو  قا ئم رکھنے  کے  ذمہ  دار  دونوں  فریق  (بشمول  ولی)،  گواہان  اور  کاتب  ہیں
9۔      دونوں  فریق  (بشمول  ولی)  میں  سے  کوئی  فرد  یا  افراد۔  گواہان  یا  /اور  کاتب کو  عیاری  سے  معاہدے کے الفاظ تبدیل  کرنے  یا  گواہی  سے  پیچھے   ہٹنے  کے لئے  نقصان  پہنچانے  کی  صورت  میں  مجرم  قرار  دیئے  جائیں  گے
10۔      گواہان  (بشمول  کاتب)  جب  گواہی  دینے  کے  لیئے  بلائے  جائیں  تو  وہ  پیچھے  (ڈر  یا  خوف  یا لالچ  کے  باعث)  نہ  ہٹیں  ورنہ  وہ  اللہ کے  مجرم ہوں  گے۔ کیونکہ  یہ  اللہ کا حکم  ہے۔  





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔