میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 9 جون، 2015

مرد و عورت کے جسمانی تعلقات

ایک درخواست وہ یہ کہ لفظ لونڈی ایک مکروہ لفظ ہے ،جس کا سنتے ہی وہ مظلوم غیر مسلم عورتیں ذہن میں آجاتی ہیں جنھیں بردہ فروش اغوا کر کے ، بیچا کرتے تھے ، اور وہ تاریخ میں " جنسی غلام  " کے نام سے مشہور ہیں ، جس سے الدین اور ایمان کا کوئی واسطہ نہیں ۔  اِس کے بجائے اگر ہم اللہ ہی کا دیا ہوا بہترین لفظ استعمال کریں تو ، نہ صرف ہمیں مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ کی اللہ کے الفاظ میں حیثیت کو سمجھنے میں آسانی ہوگی بلکہ ہم اُس تردد سے بھی نکل سکیں کے جو آسیب بن کر مسلم ذہنوں پر سوار ہے ۔

نکاح ، کسی بھی   مرد اور عورت کے درمیان ، جسمانی تعلقات کی شروعات کے لئے وہ ایجاب و قبول  جو اُس معاشرے کے معروف کے مطابق ہو  اور  یہ میثاق ِ غلیظ کہلاتا ہے ، 
اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ کو سب سے پہلے اصولِ نکاح کی جنسی حلّت سے متعارف کرایا ۔
  یہ  مخصوص خواتین کے علاوہ مَلَكَتْ يَمِينُكَ بھی شامل ہے جوأَفَاءَ اللَّـهُ سے حاصل ہوئی ہے  :
اور خصوصی اجازت برائے کزن میرج بھی بتائی گئے اور مؤمنوں کے لئے بھی جو فرض کیا اُس کی اطلاع بھی دی : 

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّاأَفَاءَ اللَّـهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴿الأحزاب: 50﴾

 اور الْمُؤْمِنِينَ کے لئے ازواج النبی امھات ہیں  
النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ ۗ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ إِلَّا أَن تَفْعَلُوا إِلَىٰ أَوْلِيَائِكُم مَّعْرُوفًا ۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا﴿الأحزاب: 6﴾

ایک  الْمُحْصَنَاتُ جو کسی بھی  طبقے یا معاشرے سے ہو  اِس میثاق کے  شاہد اُس فرد کے ذریعے بناتی ہے جس  کے ہاتھ  میں اُس نے عقدۃ النکاح دی ہو  ، یہ  محرم رشتے میں سے کوئی بھی فرد ہو سکتا ہے اور قبیلے کا سربراہ ( وجودہ حالات میں ریاست ) بھی   ، یہ غلط  فہم ہے  کہ   عقدۃ النکاح شوہر کے ہاتھ میں ہوتی ہے او ر وہ جب چاہے اپنی مرضی سے اِسے توڑ دے  ۔
 ایمان والوں میں  اِ س میثاق سےمرد  اور عورت دونوں کے آزاد ہونے کے لئے کچھ شرائط اللہ نے رکھی ہیں – وہ الگ مضمون ہے  ،
یہاں  مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ باب میں ، میں نکاح  اِس لئے لایا ہوں کہ یہ  مرد و عورت کے جسمانی تعلقات میں  الْمُحْصَنَاتُ کا امین ہے  ، بصورت دیگر یہی تعلقات  زنا کے  باب میں چلے جاتے ہیں ۔ یہاں الْمُحْصَنَاتُ کے باب کی وضاحت  بھی ضروری ہے ، جس کی اِس سے بہترین وضاحت کی ہی نہیں جا سکتی  :


وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ ﴿التحريم: 12﴾

یہ بات تو سب ہی مسلمان جانتے ہیں کہ غیر مسلم عورت سے نکاح نہیں ہوتا ،  نکاح صرف :
الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَ‌هُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ‌ مُسَافِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَن يَكْفُرْ‌ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَ‌ةِ مِنَ الْخَاسِرِ‌ينَ ﴿المائدة: 5﴾  

اور اِس نکاح میں وہ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم بھی آجاتی ہیں جو الْمُؤْمِنَاتِ بن کر مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم کا ٹائیٹل چھوڑ کر فَتَيَاتِكُمُ میں شامل ہو جاتی ہیں اور   مُحْصَنَاتٍ  کا ٹائیٹل اختیار کر لیتی ہیں ۔

وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلًا أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَاللَّـهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُم بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ  مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلَا مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنكُمْ وَأَن تَصْبِرُوا خَيْرٌ لَّكُمْ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴿النساء: 25﴾

  سورۃ   النساء  کی آیت  22 اور 23 ، محّرمات( جنسی حرمت )   کے بارے میں ہے اور آیت 24 بھی اسی کا تسلسل ہے  جس میں    الْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ  محّرمات میں شامل ہیں  جبکہ   الْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ اور  الْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ کو حلّت  میں لانے کی اجازت دی جاتی ہے   ،   تو یہاں   وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ   کا ترجمہ  وہ  کفّار کی عورتیں جو شادی شدہ ہوں  جچتا نہیں ،
الْمُحْصَنَاتِ
 ٹائیٹل بھی وہی ہے جو کہ   الْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ اور  الْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ  کا ہے  ۔آیت پڑھیں :-


وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۖ كِتَابَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ ۚ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا﴿النساء: 24﴾

اور النساء میں سے محصنات سوائے جو تمھاری قسموں کی ملکیت ہیں۔ اللہ نے تمھارے لئے لکھ دیا ہے اور ان(محصنات النساء) کے علاوہ باقی (محصنات) تمھارے لئے حلال کی گئی ہیں۔ بشرطیکہ تم محصنین بنو اپنے اموال کے ساتھ نہ کہ مسافحین۔ پس نے تم اس(مال) کے ساتھ ان(نساء) سے جو متع کیا ہے۔ تو ان کو ان کے اجورِ فریضہ دے دو۔ اور تم پر کوئی حرج نہیں کہ جس میں سے تم (دونوں) راضی ہوئے اس(مال) سے کہ الْفَرِیْضَۃِ (عورتوں کے اجور) بعد میں دو۔ بے شک اللہ علیم اور حکیم ہے 


  لیکن  الْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ کا ٹائٹل ااُس وقت تبدیل ہو گا جب قتال فی سبیل اللہ کے خاتمے پر وہ قیدی عورت بن کر  بطور  أَفَاءَ اللَّـهُ قتال کرنے والوں کو خاص شرائط پربحیثت مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ    دی جائیں-

مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ  عورتوں کے بھی ہوتے ہیں ۔
لَّا جُنَاحَ عَلَيْهِنَّ فِي آبَائِهِنَّ وَلَا أَبْنَائِهِنَّ وَلَا إِخْوَانِهِنَّ وَلَا أَبْنَاءِ إِخْوَانِهِنَّ وَلَا أَبْنَاءِ أَخَوَاتِهِنَّ وَلَا نِسَائِهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ وَاتَّقِينَ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا  ﴿الأحزاب: 50﴾

 مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ اورمردوں کی بھی ، لیکن اُن سے جنسی تعلق کی اجازت صرف مردوں کو ہے ۔

وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ  ﴿اللمؤمنون: 5﴾   
إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ  ﴿اللمؤمنون: 6﴾
فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ  ﴿اللمؤمنون: 7﴾


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔