میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 6 جولائی، 2015

عمران خان ، 9 نمبری !

اور دنیا ہے 10 نمبری

ہمارے فیس بک کے دوست ڈاکٹر افضل چوہدری  نے اِن افتتاحیہ بیان کے ساتھ ، یہ تصویر پوسٹ کی :اگر عمران اپنی سوچ پر چلتا یے تو بہت کم لوگ سا تھ چلنے کو تیا ر ہیں, لوگ طعنہ دیتے ہیں کہ مقبولیت نہیں,اگر را ئج سسٹم میں جگہ بنا نے کو کچھ سمجھوتے کر تا ہے تو طعنہ ملتا ہے , نئی بوتل پرانی شراب ,نا پا ئے رفتن نا جا ئے ما نندن۔
ڈاکٹر صاحب صاحبِ علم و درد ہیں !

مزید ستم یہ کہ دوستوں کے دوست ، یعنی آٹھ مشترکہ دوست رکھنے والے نوجوان علی احمد نے جواباً ، دل کا غبار نکالا :

اگر پہلے نمبر پر بھی ھو تو کیا فرق پڑتا ھے ۔۔۔ ۔۔۔۔۔
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ۔۔ یہ بھی اول نمبر کا چوتیہ ھے جب بنی گالہ تک سڑک بنوانی ھو پھر میاں صاحب کی "ٹی سی" کہ اپنے صوابدیدی فنڈ سے بنوا کر دیں ۔۔
اول نمبر کا زانی شرابی عیاش اس کو تو لیڈر کہنا ہی شرم کا باعث ھے زینت امان سے سکینڈل شروع ھوتے ہیں ۔۔ آخ تھو

بات تو سچ ہے مگر ، تلخی سے بھر پور ، ہم نے اپنے 63 سالہ تجربات کو نچوڑتے ہوئے لکھا :

اتنی سخت اور بے لاگ رائے !
نہیں چلے گی ، نوجوان !
اب دیکھو میں یہی الفاظ لکھوں گا !

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ایچیسن کالج لاہور ، رائل گرائمر سکول
اور کیبل کالج آکسفورڈ کا پڑھا ہوا ، عمران خان نیازی ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ۔ میرے تجربے کے مطابق ، جب تک عمران خان ایچیسن کالج میں داخل نہیں ہوا ہوگا ، اِس کی والدہ نے جو ایک مسلمان مہاجر خاتون تھیں ، اُنہوں نے اسلامی تعلیم ضرور دی ہو گی ۔ جبھی تو وہ کہتا ہے کہ اُس کا نصب العین ۔
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
کرکٹ کی گلیمرس دنیا میں نام روشن کرنے والے عمران خان کا ماضی ، یقیناً اِسی نصب العین کی 80 فیصد نہ سہی 40 فیصد عبارت تو ضرور رہا ہوگا ۔ جو اُس کی ماں شوکت خانم نے اُس کی رگوں میں ٹپکایا ہو گا !
مگر دشمنانِ ملک و وطن نے اُس کا کردار ، اِس نصب العین کے متضاد دکھانے کی بھر پورکوشش کی ، اداکارائیں و حسیناؤں کے ساتھ اِس بے چارے کا نام جوڑ جوڑ کر اُن خواتینِ حشر و قیامت اُن کی مقبولیت اور عمران بے چارے کی تضحیک میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔
تو ایک بہترین نصب العین کے دلدادہ کو اُنہیں چپ کروانے کے لئے اعلان کرنا پڑا ۔ میں ایک "پلے بوائے" ہوں اور پلے کرنا میری گُھٹّی میں یورپی تعلیم نے ڈالا ہے۔ جہاں ، یہ خوراک تسلیم کیا جاتا ہے جس کی بھوک مٹانا ،جنسِ مخالف کی رضاء پر منحصر ہے ۔ اور جنسِ مخلاف تو اِس عمر یعنی 64 سال تک بھوک مٹانے کے لئے میرے ارد گرد منڈلاتی ہیں ۔ جن کی رضامندی سے بھوک مٹانے کو ایک عظیم مُفتی نے نکاح کے مقدّس اور اسلامی نام سے منسوب کیا ہے ، جس کا استنباط اُس نے حضرت صفیہ رض کے نکاح سے لیا ہے !
فتویٰ ءِ مُفتی : 


 لوگ عمران خان کے بارے میں عجیب عجیب باتیں کرتے تھے ، حالانکہ کے اُس نے اپنے بڑے بھائی کی نصیحت ، پلّے باندھی ہوئی تھی ، کہ ہم پٹھان ہیں، اور ساری غیر اسلامی دنیا ہمارے لئے سومناتھ کا مندر، لہذا تمام مالِ غنیمت کو بے دھڑک مقبوضہ بنانا ہمارے اجداد کا طریق ہے ۔
ایرانیوں کا چھوٹا بھائی ہونے کا بڑا تلخ تجربہ ہے ، جبھی تو اِس قسم کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے، جب ایک چھوٹے بھائی کی قوتِ باہ ،بڑے بھائی کی نصیحت پر عمل کرتے کرتے بہے (بیٹھ ) گئی تو اُس نے فلک کی طرف دیکھ  کہا :
خدا سگ باش برادرِ خورد مباش ( خدایا ، کُتا بنا دیتا چھوٹا بھائی نہ بناتا )

لیکن اِس کے باوجود ، اِس بہادر ، غیور نیازی پٹھان نے ، ایک یہودی کی لڑکی کو ایک اِسی طرح کے دانا کا قول بتایا کہ ،
مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا ۔
لہذا وہ " کتخدا" ، 20 سالہ الہڑ مٹیار سیتا وائیٹ گولڈ کی دختر مان گئی - عمران خان نے اپنا بچپن انارکلی یا ایمپریس مارکیٹ میں گھومتے ہوئے نہیں گذارا ، لہذا وہ وائیٹ گولڈ ، سے واقف نہیں تھا ۔ لیکن اِس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟
وائیٹ گولڈ (رولڈ گولڈ)  ہو یا یلو گولڈ ، لوگ بھول جائیں گے ۔ اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

خیر  لیکن دین سے ناواقف مخالفین نے عمران خان کا پیچھا نہ چھوڑا ، پھر اُس کی مدد کو ایک اور نابغہء روزگار مُفتی کو آنا پڑا اُس نے بھی ،
حضرت صفیہ رض کے نکاح سے استنباط لے کر ، ٹی وی پر اعلان کیا :
جس پر ناقدین عمران خان کے منہ بند ہوگئے۔
 

یہ فتویٰ عظیم ، غالباً جسٹس حمود الرحمٰن کی نظروں سے نہیں گذرا ، جبھی تو بڑے نیازی صاحب جو مشرقی کمانڈ کے ہر دل عزیز سپہ سالا تھے ، جس کے بارے اُنہوں نے یہ " سیاہ" باب لکھا :
" جنرل  اے کے نیازی کے لاہور کی سعیدہ بخاری کے ساتھ مراسم تھے جس نے سینوریٹا ہوم کے نام سے گلبرگ میں ایک گھر کو کوٹھا بنایا ہوا تھا۔ یہی سعیدہ بخاری اس وقت لاہور میں جنرل آفیسر کمانڈنگ اور بعد میں کورکمانڈر “ٹائیگر نیازی” کی ٹاؤٹ تھی اور غیرقانونی کاموں اور رشوت ستانی میں اس کی مدد کرتی تھی۔ سیالکوٹ کی بدنامِ زمانہ شمیم فردوس بھی نیازی کے لئے اسی خدمت پر مامور تھی۔ فیلڈ انٹیلیجنس کی 604 یونٹ سے میجر سجادالحق نے کمیشن کو بتایا کہ ڈھاکہ کےایک گھر میں میں جرنیلوں کی عیاشی کے لئے بارہا ناچنے گانے والیاں لائی جاتی تھیں۔ ٹائگر نیازی اپنی تین ستاروں اور کور کی جھنڈے والی سٹاف کار پر بھی ناچنے والیوں کے در کے طواف کرتا تھا۔"

اب اگر چیف آف آرمی سٹاف یہ اعلان کر دے کہ مقبوضہ عورتوں سے ، جنسی تعلقات بغیر نکاح کے رکھے جاسکتے ہیں ، تو پھر اجازت ہے ۔ 

گو،  راحیل شریف کو ، یہ فتویٰ دینے کی فرصت نہیں ۔ حالانکہ اُس بے چارے کو  " طالبان " کو لگانے والی ضربوں سے ابھی تک فرصت ہی نہیں ملی ۔ عمران خان تو بچپن سے ، ملکہء برطانیہ کا باجذار شہری ہے اور وہاں مالِ مفتوحہ برائے مسلمین کی بہتات ہے ۔ کیوں کہ اقبال نے انگلینڈ میں بیٹھ کر ہی یہ ڈھارسِ نوجواں مسلم بڑھائی تھی ۔
۔
مؤمن کے جہاں کی حد نہیں - مؤمن کا مقام ھر کہیں

ویسے بھی نوجواں مسلم بھینسوں کے باڑے میں رہ رہ کر بالآخر تنگ آجاتا ہے اور چلا اُٹھتا ہے ۔
وجودِ زن سے ہے تصویرِکائینات میں رنگ


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔