میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 15 جولائی، 2015

بڑھیا کے گھر میں بوڑھے کا گھر

پیارے بچو یہاں سے اُس کہانی کی ابتداء ہوتی ہے کہ جس کے بارے میں ایک دوست کے سوال پر
"؟ بوڑھے کا کمرہ تو بہت سجا ہوا ہے "

ہوا یوں بوڑھے نے خلا میں افق کے پار دیکھتے ہوئے بتایا کہ چم چم کے اُردو کے پیپر سے پہلے اُس کی ماما، چم چم کی " اُدرو " کو اُردو بنانے کے لئے ، چم چم کو اسلام آباد سے دور افتادہ علاقے میں، اپنی ماں کے گھر چھوڑ کر گئی تو ، چم چم کو ایک دن خیال آیا ، کہ اِس دفعہ  گرمیوں کی چھٹیوں میں نانو کے گھر رھنا چاھئیے ۔
" نانو ! میں گرمیوں کی چھٹیاں آپ کے ہاں گذاروں گی " چم چم نے اپنا فیصلہ سنایا ۔
" کیا اپنی ماما سے پوچھا ہے ؟ " بڑھیا اپنے دل میں اُٹھے والے خوشی کے جوار بھاٹا کو چھپاتے ہوئے بولی -
" یہ میرا فیصلہ ہے ! ماما سے کیوں پوچھوں؟ " چم چم بھرپور قوتِ ارادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولی ۔
" لیکن پھر بھی ، آپ پوچھ لو تو بہتر ہے ؟" بوڑھی بولی
" مجھے اپنا موبائل دیں " چم چم بولی ۔
ایڈریس بک سے ماما کا نام دیکھا اور نمبر دبایا ۔
" جی ماما " بڑھیا کی بیٹی بولی ،" اگر کوئی ضروری کام ہے تو جلدی بولیں میں میٹنگ میں ہوں "
بڑھیا  بیٹی میٹنگ میں صرف اپنی ماں کا فون اُسی وقت اُٹھاتی ہے جب اُس کی بیٹی ، اُس کی ماما کے گھر ہو ۔
" ماما ، میں ہوں عالی " چم چم بولی " میں گرمیوں کی چھٹیاں نانو کے ہاں گذاروں گی "
" ٹھیک ہے سوئیٹ ھارٹ " ماما بولی " اور کچھ "
ٹھیک ھے سننے کے بعد چم چم نے موبائل، نانو کو دے دیا ۔ بڑھیا اور اُس کی بیٹی کے درمیان ،بات ہوئی ۔
اب چم چم کو فکر ہوئی کہ وہ کہاں سوئے گی ۔
" نانو، میں کہاں سوؤں گی ، میرا کمرہ کون سا ہوگا ؟ " چم چم بولی ۔
" آپ کہیں بھی سو جاؤ ، سارا گھر آپ کا ہے " بڑھیا بولی " لیکن میرے پاس سوؤگی تو مجھے خوشی ہو گی "
چم چم نے ، پڑھائی چھوڑ اور تنقیدی نظر سے پورے گھر کا جائزہ لیا کہ وہ کہاں سوئے گی ، آخر وہ ایک فیصلے پر پہنچ کر بوڑھے کا دوازہ کھٹکھٹایا ۔
بوڑھا سو رہا تھا ، دوازے کی طرف دیکھا ، چم چم کھڑی تھی ۔" آوا ، میں آجاؤں "
" جی مائی سوئیٹ ھارٹ " بوڑھا بولا ،" آجاؤ "
چم چم بوڑھے کے پاس آئی اور بتایا کہ وہ گرمیوں کی چھٹیاں ، یہاں گذارے گی ۔
" یہ تو بہت اچھا فیصلہ کیا ۔ مجھے آپ پر فخر ہے " بوڑھا بولا
" لیکن میرا بیڈ روم کہاں ہو گا ؟ " چم چم بولی
 " سارا گھر آپ کا ہے کوئی بھی بیڈ روم لے لو"بوڑھا بولا
" نانو نے بھی یہی کہا تھا " چم چم بولی " لیکن میں آپ کے ساتھ شیئر کروں گی "
" یہ تو بہت اچھی بات ہے " بوڑھا خوش ہو کر بولا
" لیکن میں کہاں سوؤں گی " چم چم بولی
" یہاں " بوڑھے نے اپنے بیڈ کی طرف اشارہ کر کے بولا ۔
" اور آپ کہاں سوئیں گے " چم چم بولی
" آدھا بیڈ آپ کا اور آدھا میرا " بوڑھا بولا
" نہیں آپ بہت زور سے خراٹے لیتے ہیں " چم چم بولی " 
" آپ کو کیسے پتا چلا " بوڑھے نے پوچھا
" نانو نے بتایا " چم چم بولی
" آہ " بوڑھا سرد آہ بھرتے ہوئے بولا، " تو پھر میں بیسمینٹ میں شفٹ ہو جاتا ہوں-"
" نہیں ، آپ میرے لئے یہاں بیڈ لگا دیں، اپ کے ٹی وی پر میں کارٹون دیکھوں گی اور آپ کے لیپ ٹاپ پر مووی " چم چم نے اپنا پروگرام بتایا ۔


بڑھیا کے گھر میں جو چار نوجوان بچوں کی ماں ایک نواسی کی نانی اور ایک پوتی اور پوتے کی دادی ہے ۔ اور بے چارے بوڑھے کا گھر ، بوڑھے کی سٹڈی ہے جو اب بوڑھے کا کمرہ بن چکا ہے ۔ کیسے ؟
بوڑھے کو اپنے کمرے میں بے بی بیڈ بچھانا پڑا ، جو چم چم کے گھر سے بمع سائڈ ٹیبل، ڈریسنگ ٹیبل لایا گیا ، بوڑھے کا سامان ، بیسمنٹ میں بھجوادیا گیا ۔ صرف بوڑھے پر رحم کھا کر اُس کی سٹڈی ٹیبل اور سائیڈ شیلف اور ایل سی ڈی مانیٹر(برائے ٹی وی) رہنے دیا ۔
بوڑھا اب چم چم کے کھلونوں کے درمیان زندگی گذار رہا ہے جو معلوم نہیں کس کس گوشے سے نکل کر بوڑھے کے کمرے میں قبضہ جما چکے ہیں-
آج جب برفی اپنے ماما بابا کے ساتھ ایبٹ آباد آئی اور آتے ہی ، بوڑھے کی گود میں بیٹھ کر ، بوڑھے کے لیپ ٹاپ پر اپنا ھنگامی سٹیٹس اَپ لوڈ کرنے لگی -
بوڑھا تو خوشی سے دیوانہ ہو رھا تھا ۔ پھر بوڑھے نے سونے کا پروگرام بنایا اور کمرے میں آیا ۔ ابھی وہ غنودگی میں تھا کہ کمرے کی لائٹ جلی ، دیکھا تو برفی اور چم چم کمرے میں ۔
" آوا ، انابیہ کی ماما اور بابا سو رہے ہیں اور نانو بھی، ہم آپ کے کمرے میں کھیلیں گے " چم چم بولی
"آجاؤ ، آجاؤ " بوڑھا بولا
اُس کے بعد ، بوڑھے نے برفی اور چم چم کی تصویریں اپ لوڈ کیں تو یہ کمنٹ آیا ۔
" بوڑھے کا کمرہ تو بہت سجا ہوا ہے "
جب چم چم کا سامان آگیا تو اُس کی سیٹنگ کچھ اِس طرح کی:
1- چم چم کا بیڈ
2- چم چم کا بلیٹن بورڈ
3- چم چم کی سائیڈ ٹیبل ۔ جس پر ٹیبل لیمپ ، دو مائیک گلابی (چم چم کا ) اور نیلا (بوڑھے کا) تاکہ دونوں آپس میں ، اینکر پرسن بن کر پروگرام کر سکیں ۔
4- بوڑھے کا پرانا بیڈ ۔
5- چم چم کا شیلف ۔ جس پر چم چم کے کھلونے ، چم چم کی بکس اور بوڑھے کی کچھ چیزیں
6- چم چم کے کھلونوں کا سوٹ کیس جو اُس نے برفی اور لڈو کو دے دیئے ہیں ۔


 7- بوڑھے کا سٹڈی کارنر ۔جس میں کوئی خاص چیزیں نہیں سوائے ۔ ایک چم چم کے بارنی کے ، جس سے وہ لڈو کو سکائپ پر کھلاتی ہے ۔
8- چم چم کا کھلونا اور ڈریسنگ کارنر ، جس میں ایک ، ٹنگو اور اُس پر برائے پوشیدن خفتگی ایک دوپٹہ زنانہ جس کے نیچے بوڑھے کے ھنگامی کپڑاجات ، بنیانات اور دیگر لباسات ، خالص استری شدہ ۔
9-چم چم کی سائیڈ ٹیبل جس پر۔ ڈرائینگ کے لئے کاغذ، کیمرہ ، ٹیپ ، دودھ کی بوتل گھڑی اور دراز میں کلرز

یہ وہ سجا ہوا کمرہ جسے دیکھ کر ، گھر میں بطور مہمان آنے والے یا تصاویر دیکھنے والے ہر نانا اور دادا کی نظرِ تحسین و نظر بد سے بچانے کے لئے ایک نظر وٹو بھی لگایا گیا ہے ۔ 
ہاں تو بات ہو رہی تھی چم چم کی ہوا یوں کہ چم چم کی ماما نے چم چم کی چھٹیوں کا پروگرام یوں بنایا ، کہ
ا- چھٹیوں کا پہلا ہفتہ دادو کے گھر ۔
2- چار دن لاہور
3- دو دن بابا کے گاؤں
جب دو ہفتے گذار کر واپس آئی تو ، پروگرام ٹیبل بنایا گیا جس پر دو دن تو عمل ہوا پھر چم چم نے عمل کرنے سے انکار کر دیا -
بوڑھے نے چم چم کی ماما سے شکایت کی ، ماما نے بلیٹن بورڈ پر لگا ٹائم ٹیبل دیکھا ۔
" پپا یہ آپ نے ، عالی کی مرضی سے بنایا ہے " چم چم کی ماما نے بوڑھے سے پوچھا ۔
" عالی سے پوچھو " بوڑھا بولا
" ماما ، یہ بنایا تو میں نے ہے لیکن ، آوا نے مجھ سے اِس پر سائن نہیں لئے " چم چم بولی
" اوہ ، تو یہ بات ہے "
چم چم کی ماما بولی
" لیکن عالی ، یہ تو ہم دونوں نے مل کر بنایا " بوڑھا بولا " دیکھو یہ آپ نے لکھا ہے نا "
" میں نے لکھا ہے ، لیکن آوا آپ نے میرے سائن نہیں لئے " چم چم بولی
" ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے ؟ " بوڑھا حیرانگی سے بولا
" پپا ! یہ آپ کا قصور ہے " بوڑھے کی بیٹی بولی ،" اب عالی کی مرضی اِس پروگرام پر عمل کرے یا نہ کرے ، میں تو اِس سے سائن کرواتی ہوں ۔ تو یہ بندھ جاتی ہے "
لیکن آج معلوم نہیں ، چم چم کو پورے دو ہفتے بعد کیا ہوا ، اُس نے بلیٹن بورڈ سے پروگرام اتارا ۔ اُس پر سائن کئے اور بوڑھا کو دکھاتے ہوئے بولی ،
" آوا میں نے سائن کر دیئے ۔ آج سے ہم اِس پروگرام کے مطابق چلیں گے "
بوڑھا اُس وقت ایک مذھبی فورم پر ، اپنے ہسپتال میں داخل ہونے کا ایک محیّر العقل بلکہ فاتر العقل واقعہ لکھ رہا تھا اور خوب بخود ہنس بھی رہا تھا ۔ بڑھیا نے دیکھا بولی،
" کیا بات ہے بڑے ہل ہل کر ہنس رہے ہیں "
 بوڑھا بولا،" بتاتا ہوں لیکن یہ چم چم نے آج پروگرام پر خود بخود سائن کر دیئے - یہ کیسا بورژوائی انقلاب آگیا ؟"
"کل آپ نے ، اُس بچے کو انڈے کی تصویر بنانے پر چار بڑے سٹار دیئے ۔ یہ اُس کا کمال ہے "
بوڑھے کو یاد آیا کہ جنگل ریسٹورینٹ میں ایک خاندانی افطار پارٹی میں ، چھوٹی بیٹی کی ایک سہیلی کے بیٹے اسد کو جو چم چم ے برابر ہے ، بوڑے نے اُس سے پوچھا کیا وہ ڈرائینگ جانتا ہے ، اسد نے جواب میں ہاں کہا تو بوڑھے نے ایک ویٹر سے کاغذ اور قلم مانگا ، وہ سمجھا کہ بوڑھا ، انفارمیشن سپ پر کچھ لکھنا چاھتا ہے ۔ سلپ کی پشت خالی تھی ۔ اسد سے بوڑھے نے انڈا بنوایا جو اُس نے بڑی خوبصورتی سے بنا دیا اور ساتھ Egg بھی لکھا تو بوڑھے نے اُسے 4 سٹار دئے ۔ اتفاق سے چم چم نے اُس کے ہاتھ میں کارڈ دیکھا تو اُس سے پوچھا یہ کیا ہے اُس نے چم چم کو بتایا ۔ کہ وہ جو بوھے انکل ہیں انہوں نے مجھے 4 سٹار دئے ہیں ۔ بس یہ بات چم چم کے دل پر لگ گئی ۔ کہ اُس کے آوا نے ایک بچے کو جسے وہ جانتے بھی نہیں 4 سٹار کیوں دیئے ؟ واپسی پر کار میں چم چم نے بوڑھے سے پوچھا ،
" آوا ، آپ نے اُس بچے کو 4 سٹار کیوں دیئے ؟ "
" وہ اِس لئے کہ مائی سوئیٹ ہارٹ اُس نے بہترین
Egg بنایا تھا "
"اگر میں بناؤں تو آپ مجھے بھی 4 سٹار دیں گے " چم چم بولی ۔
" میں آپ کو 6 سٹار دوں گا ۔ اگر آپ نے
Egg بنایا تو " بوڑھا بولا ۔ تو چم چم نے فوراً بوڑھے کی ڈرل پپّی لی ۔
چم چم ، پروگرام واپس ٹانک کر آئی اور بولی
" آوا ، آج ڈرائینگ کریں "
" بالکل ٹھیک " بوڑھا بولا اور چم چم کی پہلے سیریس ڈرائینگ کلاس شروع ہوئی ۔ جس میں چم چم نے ، بوڑھے کے مطابق ، ڈائینگ کی اور بلیٹن بورڈ پر ٹانگیں ۔ آپ بھی دیکھئیے ۔
1- انڈے سے مشکل پراجیکٹ ـ
آسمان میں واٹر کلر سے سورج اور چاند بنانا

2- واٹر کلر سے سیدھی لائنیں لگانا اور پھر مکس کلر لائین لگانا





3- دائرے کے اندر واٹر کلر کرنا کہ باہر نہ نکلے -








اور چم چم کا بلیٹن بورڈ ۔



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔