میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 30 جولائی، 2015

آپ حافظ ہیں !


بہت سے دوستوں کے ذاتی پیغامات ، ملے کہ آپ حافظ نہیں ، تو قرآن سے فوراً آیت کیسے نکال لیتے ہیں ؟

جواب: یہ پکچر المعجم المفہرس کی ہے ، جو میں نے کوئیٹہ سے 100 روپے کی 1994 میں لی تھی ۔ اِس میں تمام الفاظ عربی حروفِ تہجی میں ۔ لکھے ہوئے ہیں ۔ اگر آپ اِس صفحے کو بڑا کر کے دیکیں تو دائیں طرف " ب ل غ " مادے سے بننے والے الفاظ ہیں ۔ جو اِس صفحے میں ہیں اور پہلے کالم کا پہلا لفظ بلغ ہے جو ،
"الکتاب " میں 10 بار آیا ہے اور جن 10 جگہ آیات میں آیا وہ اِس " المعجم المفیرس " میں درج ہیں -
اور سامنے دوسرے کالم میں ھائی لائٹر سے انڈر لائن کئے ہوئی آیات دیکھیں یہ 6 ہیں ۔ جن میں لفظ
يبلغ آیا ہے ۔  اگر آپ اِن الفاظ پر کلک کریں ، تو آپ کو سمجھ آجائے گا کہ معجم کسے کہتے ہیں اور اُس کی فیرست کیسے ترتیب دی گئی ہے ۔ کلک کرنے سے ، جو ویب پیج آئے گا وہ ،" اوپن برھان " نامی ہے اور ترجمہ " طاہرالقادری صاحب " کا ہے ۔

 بلغ  (10) ،بلغا   ،  بلغت  (5) ، بلغن  (4)، بلغنا  ،  بلغني  ، بلغوا  (2) ،   ابلغ  (2) ،  تبلغ ،  لتبلغوا  (4) ، يبلغ (5) اور ليبلغ  ، يبلغا  ، يبلغن  ، يبلغوا   ، بلغت (5)  ، ابلغكم   ،يبلغون   ، ابلغتكم  (3) ، ابلغوا   ، ابلغه  ،  بالغ (2)،   ببالغيه ،  بالغوه  ، بالغيه   ، بالغة (2) ،البالغة  ، بليغا  ،  بلاغ  (2) ،   البلاغ (11)،

"الکتاب " کو سمجھنے کئ لئے میں نے اِن الفاظ کا فہم سمجھا ، کہ کس لفظ کا کیا مادہ بنتا ہے اور ترجمہ یا ہو سکتا ہے ۔ یہ میرے لئے اللہ کے الفاظ کو سمجھنے میں بہت معاون ثابت ہوا ۔
رنگوں کا استعمال میری مجبوری ہے ، اپنی وضاحت کے لئے ۔ کہ کن نکات کی یہاں ۔ کس اعتبارِ ترتیل و تصریف سے اہمیت ہے ۔ گرائمر بس اتنی معلوم ہو ، کہ:
یہ فعل(1) ہے ، تنوین لگائیں اور یہ اسم (2) بن گیا ۔ یہ ضمیریں ( تیرا ، تم دونوں کا،  تمھارا، اُس کا ،اُن دونوں کا،  اُن کا ، میرا اور ہمارا)  (3) ہیں اور یہ ضمیریں فعل میں جڑ کر ، جملہ (4)  بنا رہی ہیں اور جملہ ، ماضی کا ہے یا مستقبل کا (5) ۔ اور اِن جملوں کو جوڑنے والے حرف (6) اور مذکر و مؤنث کی سمجھ (7) اگر یہ 7 اصول سمجھ لیں تو یوں سمجھیں کہ آپ الکتاب کے فہم سے جڑ گئے ۔


سب سے اہم ، آپ کے ذہن میں اللہ سے ہدایت حاصل کرنے کے لئے جو سوال آئیں وہ لکھ لیں اور اُن کا جواب "الکتاب " میں تلاش کریں ۔ جواب آپ کو آج نہیں تو کل "الکتاب " سے عربی میں ضرور مل جائے گا ۔
لیکن اگر آپ تراجم کے ماہر ہیں تو شائد آپ کو کبھی نہ ملے !

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔