میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 27 جولائی، 2015

انمول جواب

ایک ماچس کی ڈبیا نکالی ، اُس میں سے تین تییاں نکالیں ، اُنہیں غور سے دیکھا ۔
ماچس و واپس جیب میں رکھتے ہوئے ۔ بزرگ نے نوجوان کی طرف دیکھا ۔

تینوں تیلیوں کو سامنے پڑی میز پر اِس ترتیب میں رکھا کہ تینوں کے جلنے والے سے ، برابر تھے ۔ لیکن ایک تیلی باقی دو تیلیوں سے لمبی تھی ۔
بزرگ نے لمبی تیلی اُٹھائی ، اور الگ رکھ دی اور جیب سے ماچس نکالی ، باقی دونوں تیلیاں اُٹھائیں  اور ماچس میں رکھ کر ماچس کو واپس جیب میں رکھا ۔
جو تیلی میز پر الگ رکھی تھی اُس اُٹھایا ۔ اُسے درمیان سے آدھا توڑا ۔ جلنے والے حصے کو واپس جیب سے ماچس نکال کر اُس میں رکھا ۔
جو حصہ ھاتھ میں تھا ، اُسے نوکیلا بنایا ۔







اور منہ کے قریب لاکر دانتوں میں خلال کرنے کے بعد ، تیلی کو زمین کر پھینک گر گویا ہوا ۔ 



" مجھے کیا پتا بیٹا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !




 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔