میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 3 جولائی، 2015

الکتاب - آیاتِ النکاح و الطلاق

عربی آیاتِ النکاح ، الکتاب میں

*-
مشرک عورتوں سے نکاح مت کرو ! 

 وَلاَ تَنکِحُواْ الْمُشْرِکَاتِ حَتَّی یُؤْمِنَّ وَلأَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْْرٌ مِّن مُّشْرِکَۃٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْکُمْ وَلاَ تُنکِحُواْ الْمُشِرِکِیْنَ حَتَّی یُؤْمِنُواْ وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْْرٌ مِّن مُّشْرِکٍ وَلَوْ أَعْجَبَکُمْ أُولَـٰئِكَ یَدْعُونَ إِلَی النَّارِ وَاللّٰہُ یَدْعُوَ إِلَی الْجَنَّۃِ وَالْمَغْفِرَۃِ بِإِذْنِہِ وَیُبَیِّنُ آیَاتِہِ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُونَ(2/221)
اور مشرک عورتوں سے نکاح مت کرو جب تک وہ ایماں نہ لائیں۔ وَلأَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ (مومن کنیز) بہتر ہے ایک مشرک عورت سے اگرچہ وہ تمھیں پسند ہو۔ اور مشرک مرد سے نکاح مت کرو جب تک وہ ایمان نہ لائیں۔ ایک مومن عبد بہتر ہے ایک مشرک مرد سے اگرچہ وہ تم کو بہت پسند ہو۔وہ (مشرکین) تمھیں آگ کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اللہ اپنی اجازت سے مغفرت اور جنت کی طرف بلاتا ہے۔ اور وہ(اللہ) اپنی آیات لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں -



٭۔  مطلقہ عورت کا اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح۔
فَإِن طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِن بَعْدُ حَتَّیَ تَنکِحَ زَوْجاً غَیْْرَہُ فَإِن طَلَّقَہَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْْہِمَا أَن یَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن یُقِیْمَا حُدُودَ اللّٰہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللّٰہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُون ﴿2/230
پس جب اس نے (فدیہ لینے کے بعد) اس عورت کو طلاق دی  تو وہ اس کے لئے اس وقت تک حلال نہیں  حتی کہ وہ عورت اس کے علاوہ کسی  غیر زوج سے نکاح کرے۔ پس جب اس(غیر زوج) نے اس عورت کو طلاق دی۔ تو ان دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ وہ آپس میں رجوع کر لیں۔(بشرطیکہ) اگر ان دونوں کوظن (قیاس)  ہو کہ وہ حدود اللہ قائم رکھ سکیں۔ یہ حدود اللہ ہیں (طلاق فدیہ دی گئی عورت کی حرمت وغیرزوج سے نکاح کے بعد مطلقہ ہونے پر حلت) جن کی وہ علم والوں کے لئے وضاحت کرتا ہے۔
٭۔  مطلقہ عورت کا اپنے شوہر سے دوبارہ نکاح۔
وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء  فَبَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ أَن یَنکِحْنَ أَزْوَاجَہُنَّ إِذَا تَرَاضَوْاْ بَیْْنَہُم بِالْمَعْرُوفِ ذَلِکَ یُوعَظُ بِہِ مَن کَانَ مِنکُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ ذَلِکُمْ أَزْکَی لَکُمْ وَأَطْہَرُ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ ﴿2/232   اور جب تم النساء کو طلاق دو، اور جب وہ اپنی مدت (عدت) پوری کریں، اور وہ مروج دستور کے مطابق آپس میں راضی ہوں کہ اپنے ازواج سے نکاح کریں  تو ان کو مت  روکو۔ یہ وعظ اس کو کیا جاتا ہے جو اللہ اور یوم الاخر پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ تمھارے لئے ازکی اور اطہر ہے۔ تم علم نہیں رکھتے، اللہ علم رکھتا ہے۔
٭۔  بیوہ عورت کا اپنے زوج کے بارے میں خود فیصلہ کرنا -
وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنکُمْ وَیَذَرُونَ أَزْوَاجاً یَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِہِنَّ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْراً فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَہُنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْ أَنفُسِہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْرٌ ﴿2/234  
 اور تم میں سے جو فوت ہو جائیں اور اپنی ازواج چھوڑ دیں، تو وہ (ازواج)  خود کو 4 ماہ اور 10 دن روکے رکھیں اور جب یہ مدت (عدت) پوری ہو جائے، تو تم پر کوئی حرج نہیں کہ وہ اپنے  (زوج) بارے میں مروج دستور کے مطابق عمل کریں، اور جو تم کرتے ہو، اللہ اس کی خبر رکھتا ہے-


٭- نکاح کے لئے ، الکتاب کی تبلیغ مکمل کرو
4. وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّ‌ضْتُم بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنتُمْ فِي أَنفُسِكُمْ عَلِمَ اللَّـهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُ‌ونَهُنَّ وَلَـٰكِن لَّا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّ‌ا إِلَّا أَن تَقُولُوا قَوْلًا مَّعْرُ‌وفًا وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنفُسِكُمْ فَاحْذَرُ‌وهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ‌ حَلِيمٌ  ﴿2/235 
اور تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم خطبہ النساء میں سے اسے (نکاح کے پیغام کو) عرض کرو یا تم اپنے نفسوں میں چھپاؤ   اللہ کو علم ہے کہ بے شک تم ان سے (ضرور)  تذکرہ کرو گے۔ البتہ تم ان سے خفیہ وعدہ مت کرو۔  سوائے اس کے کہ تم قول معروف (مروج دستور کے مطابق) کہو   -اور تم عزم عقدۃ النکاح مت کرو۔ یہاں تک کہ ”الکتاب“ اس کی اجل پر پہنچے (الکتاب کی تبلیغ مکمل کرو)۔  اور تم آگاہ رہو کہ اللہ کو اس کا علم ہے  جو تمہارے نفسوں میں ہے۔ پس اس سے حذر (تبلیغ تک عمل در آمدنہ) کرو   اور آگاہ رہو کہ اللہ غفور اور رحیم ہے 

٭- انسان نفسِ واحدۃ ہے تخلیق ہوئے ۔
 یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالاً کَثِیْراً وَنِسَاء وَاتَّقُواْ اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَاء لُونَ بِہِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْْکُمْ رَقِیْباً(4/1)
اے انسانو! تم تقی رہو تمھارے رب سے تمھیں خلق کیا نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ میں سے اور اس (مونث) سے خلق کیا، اس (مونث) کا زَوْجَ، اور ان دونوں میں سے اٹھائے کثیر رِجَالً اورنِسَاء اور تم تقی رہو اللہ سے جس کے ساتھ تم اورالأَرْحَامَ اس کا سوال کرتے ہو بے شک اللہ تمھارے ساتھ رَقِیْبً ہے

٭-  الیتامیٰ (مذکر و مؤنث) سے عدل کے لئے دو دو ، تین تین اور چار چار ۔نکاح
وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُ‌بَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا﴿4/3

اوراگر تمھیں خوف ہو کہ الیتامیٰ (مذکر و مؤنث) میں تم قسط نہیں کرسکتے ، پس نکاح کریں ! جو تمھارے لئے طاب (طَيِّبَةً ) ہو النساء میں سے ، دو دو ، تین تین اور چار چار ۔ اوراگر تمھیں خوف ہو کہ تم عدل نہ کرسکو گے توپس (نکاح کے لئے ) واحدۃ یا جو مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ہیں - یہ ادنیٰ ہے یہ کہ تم عول (بعل) ہو!
٭-  الیتامیٰ (مذکر و مؤنث) کا بالغ (مشہور) ہونے کے بعد نکاح
وَابْتَلُوا الْيَتَامَىٰ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُ‌شْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَ‌افًا وَبِدَارً‌ا أَن يَكْبَرُ‌وا وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَن كَانَ فَقِيرً‌ا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُ‌وفِ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ حَسِيبًا﴿4/6

 اورالیتامیٰ کو آزماتے رہو ، یہاں تک کہ النکاح کے لئے بالغ (مشہور) ہوں، اوراگر تمھیں اُن میں (احمقانہ پن کے بجائے ) رُشد دکھائی دے ، تو اُن کے اموال اُن کی طرف دفع کرو ، اوریہ کہ وہ بڑے ہوجائیں ۔  تم (اُن کے اموال کو) اسراف اور بدر ( جلد بازی) میں مت کھاؤ- اور جو غنی ہیں تو وہ ( مالِ الیتامیٰ سے) عفف ( بچے ) رہیں ۔ اور جو فقیر ہیں تو وہ معروف کے ساتھ کھائیں ۔ اور جب تم اُن کے مال اُن کی طرف دفع کرو تواُن پر پس اُن پر  شاھد ( گواہ) لو - اور اللہ حساب کے لئے کافی ہے ۔  

٭- آباء (باپ، چچا وغیرہ )  کی منکوحات سے نکاح مت کرو۔
وَلاَ تَنکِحُواْ مَا نَکَحَ آبَاؤُکُم مِّنَ النِّسَاء إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَمَقْتاً وَسَاء سَبِیْلاً (4/22)
اور ان عورتوں سے نکاح مت کرو۔ جن سے تمھارے آباء نے نکاح کیا ہے سوائے اس کے جو (ان ا حکامات کے نازل ہونے سے پہلے) ہو چکا سو ہو چکا۔ بے شک یہ فحش اور قابل نفرت اور برا راستہ ہے۔


٭- اِن خواتین سے نکاح مت کرو۔
حُرِّ‌مَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْ‌ضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّ‌ضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَ‌بَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِ‌كُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ غَفُورً‌ا رَ‌حِيمًا  (4/23)
 تم پر حرام کی گئیں،تمھاری مائیں، تمھاری بیٹیاں، تمھاری بہنیں، تمھاری پھوپیاں، تمھاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمھاری رضاعی مائیں اور رضاعی بہنیں تمھاری بیویوں کی مائیں اور تمھاری ربائب تمھاری حجور میں ان نساء میں سے جن سے تم صحبت کر چکے ہو اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو پھرتم پر کوئی حرج نہیں۔   وہ جوحلائل ہوئیں تمھارے بیٹوں پر جو تمھاری صلب میں سے ہیں اور یہ کہ تم دو بہنوں کو اکٹھا کرو۔
سوائے اس کے جو (ان احکامات کے تم پر نازل ہونے سے پہلے) ہو چکا سو ہو چکا۔ بے شک اللہ غفور اور رحیم ہے

٭-
الْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاء سے نکاح مت کرو۔
وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاء إِلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْْمَانُکُمْ کِتَابَ اللّٰہِ عَلَیْْکُمْ وَأُحِلَّ لَکُم مَّا وَرَاء ذَلِکُمْ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِکُم مُّحْصِنِیْنَ غَیْْرَ مُسَافِحِیْنَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِہِ مِنْہُنَّ فَآتُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ فَرِیْضَۃً وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْْکُمْ فِیْمَا تَرَاضَیْْتُم بِہِ مِن بَعْدِ الْفَرِیْضَۃِ إِنَّ اللّہَ کَانَ عَلِیْماً حَکِیْماً (4/24)
 

 اور النساء میں سے محصنات سوائے جو تمھاری قسموں کی ملکیت ہیں۔ اللہ نے تمھارے لئے لکھ دیا ہے اور ان(محصنات النساء) کے علاوہ باقی (محصنات) تمھارے لئے حلال کی گئی ہیں۔ بشرطیکہ تم محصنین بنو اپنے اموال کے ساتھ نہ کہ مسافحین۔ پس نے تم اس(مال) کے ساتھ ان(نساء) سے جو متع کیا ہے۔ تو ان کو ان کے اجورِ فریضہ دے دو۔ اور تم پر کوئی حرج نہیں کہ جس میں سے تم (دونوں) راضی ہوئے اس(مال) سے کہ الْفَرِیْضَۃِ (عورتوں کے اجور) بعد میں دو۔ بے شک اللہ علیم اور حکیم ہے -

٭-  فَتَیَاتِکُمُ الْمُؤْمِنَات ( مومنات کنیزوں) سے نکاح کرو۔
وَمَن لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنکُمْ طَوْلاً أَن یَنکِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مَا مَلَکَتْ أَیْْمَانُکُم مِّن فَتَیَاتِکُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَاللّٰہُ أَعْلَمُ بِإِیْمَانِکُمْ بَعْضُکُم مِّن بَعْضٍ فَانکِحُوہُنَّ بِإِذْنِ أَہْلِہِنَّ وَآتُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَاتٍ غَیْْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلاَ مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَیْْنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیْْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ذَلِکَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْکُمْ وَأَن تَصْبِرُواْ خَیْْرٌ لَّکُمْ وَاللّٰہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ  ﴿4/25
اگر تم میں  سے  کوئی  اس  بات  کی  استطاعت  نہیں  رکھتا  کہ  وہ  الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَات  سے  نکاح  کرے،  تو  پس جو  مَلَکَتْ أَیْْمَانُ  تمھاری  فَتَیَاتِکُمُ الْمُؤْمِنَات ( مومنات کنیزوں)  میں سے ہیں جو  تمھاری  قسموں  کی  ملکیت  ہیں۔ اللہ تمھارے ایمان سے واقف ہے اور تم  ایک دوسرے میں سے ہو،  پس ان  کے  اہل  کی  اجازت  سے  ان  سے  نکاح  کرو،  اور  ان  کے  اجور  (مہر) دستور  کے  مطابق  انہیں  دے دو،  وہ  (مومنات فتیات) محصنات ہوں نہ کہ مسافحات۔ اور  (اجورکی خاطر) دھوکہ(Conspire) دینے والی نہ ہوں۔ جب وہ (نکاح کے بعد) محصن ہوجائیں اور فحاشی لائیں ، پس اُن کے اوپر  الْمُحْصَنَات کی نسبت  نصف عذاب (سزا) ہے ، یہ اُس کے لئے  تم میں سے جو لعنت سے  خَشِی  رہتا ہے۔ اور اگر تم صبر کرو  تمھارے لئے خیر ہے اور اللہ غفور رحیم ہے۔

٭- یتیم النساء کے بارے میں اللہ کا فتویٰ !

وَیَسْتَفْتُونَکَ فِیْ النِّسَاء  قُلِ اللّہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْہِنَّ
وَمَا یُتْلَی عَلَیْْکُمْ فِیْ الْکِتَابِ فِیْ یَتَامَی النِّسَاء  الَّلاتِیْ لاَ تُؤْتُونَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنکِحُوہُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ وَأَن تَقُومُواْ لِلْیَتَامَی بِالْقِسْطِ وَمَا تَفْعَلُواْ مِنْ خَیْْرٍ فَإِنَّ اللّہَ کَانَ بِہِ عَلِیْما ﴿4/127

وہ تجھ سے النساء(کے بارے)  میں فتویٰ لیتے ہیں۔
کہہ! اللہ تم کو ان(کے بارے) میں فتویٰ دیتا ہے
اور جو تم پر  ”الکتاب“ میں سے (آیات) تلاوت ہوتی ہیں۔ یتیم النساء کے(بارے میں) اور ضعیف بچوں (کے بارے) میں تم ان کو ادا نہیں کرتے جو ان کے لئے (الکتاب میں)لکھا گیا ہے، اور تم رغبت رکھتے ہو کہ ان یتیم  النساء سے تم نکاح کر لو،اور یہ کہ (اس طرح) تم یتیموں (یتیم النساء اور ضعیف بچوں) کے لئے انصاف پر قائم رہو۔اور جو خیر بھی تم کرو گے۔ بالحقیق اللہ اس سے واقف ہے۔

وَإِنِ امْرَأَۃٌ خَافَتْ مِن بَعْلِہَا نُشُوزاً أَوْ إِعْرَاضاً فَلاَ جُنَاْحَ عَلَیْْہِمَا أَن یُصْلِحَا بَیْْنَہُمَا صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَیْْرٌ وَأُحْضِرَتِ الأَنفُسُ الشُّحَّ وَإِن تُحْسِنُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ اللّہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْراً
﴿4/128 
اور اگر اایک عورت (امراۃ) کو اپنے شوہر سے خوف محسو س کرے کہ وہ اس سے جھگڑا کرے یا اعراض برتے   پس ان دونوں پر  کوئی حرج نہیں کے وہ صلح کریں ان دونوں کے درمیان صلح   اور الصلح بہتر ہے    اور نفس کے سامنے حرص موجود رہتی ہے   اور اگر تم احسان کرو اور تم اللہ سے ڈرو   پس اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے   ۔

وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَ‌صْتُمْ ۖ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُ‌وهَا كَالْمُعَلَّقَةِ ۚ وَإِنْ تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ غَفُورً‌ا رَ‌حِيمًا﴿4/129
تم ہرگز استطاعت نہیں رکھتے  کہ تم عورتوں کے درمیان عدل کر سکو  اور اس(عدل) کے لئے تم حرص کرو، تم ہرگز استطاعت نہیں رکھتے  کہ تم عورتوں کے درمیان عدل کر سکوایسی صورت میں۔ پس تم  مکمل جھکا ؤ  (عدل کے لئے)نہ جھکو۔  پس تم اس (جھگڑا کرنے والی مونث) کو چھوڑ دو جیسے  معلق (المعلق)   اور اگر تم صلح کرواور تم اللہ سے ڈرو   پس اللہ غفور اور رحیم ہے  -

وَإِن یَتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰہُ کُلاًّ مِّن سَعَتِہِ وَکَانَ اللّہُ وَاسِعاً حَکِیْماً ﴿4/130
اور اگر وہ (مذکر، دونوں کو) الگ الگ  رکھےاللہ اپنی وسعت سےکُل کوغنی کرے گااور اللہ حکمت سے کشادگی دینے والا ہے 

٭- الْمُحْصَنَاتُ الْمُؤْمِنَاتِ اورالْمُحْصَنَاتُ أُوتُواْ الْكِتَابَ سے نکاح کرو۔
 الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلاَ مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَن يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿5/5
آج  کے  دن  تم  پر  طبیعات  حلال  کی  گئیں۔ اور  تم  پر  ان  لوگو ں  کا  کھانا  جن  کو  الکتاب  دی گئی  اور تمھارا   کھانا  ان  کے  لئے  حلال  کیا  گیا- اور  ”محصنات  مومنات“   میں  سے  اور  محصنات  ان لوگوں  میں سے  جنہیں  تم  سے  پہلے  الکتاب  دی گئی۔
جب تم ان(محصنات کو ان کے اجر (مہر) دے چکو  جب محصنین  بنو  نہ  کہ  مسافخین۔  اور  (اجورکی خاطر) دھوکہ(Conspire)  مت پکڑو۔ جس  نے  ایمان  سے  انکار  کیا  اس  کا  عمل  برباد  ہوا۔  وہ  آخرت  میں  خسارہ  اٹھانے  میں  سے  ہو  گا۔

٭- انسان نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ میں سے خلق ہوا -
ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَجَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا لِیَسْکُنَ إِلَیْْہَا فَلَمَّا تَغَشَّاہَا حَمَلَتْ حَمْلاً خَفِیْفاً فَمَرَّتْ بِہِ فَلَمَّا أَثْقَلَت دَّعَوَا اللّہَ رَبَّہُمَا
لَئِنْ آتَیْْتَنَا صَالِحاً لَّنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِیْنَ(7/189)
وہی ہے جس نے تمھیں نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ میں سے خلق کیا اور اُس (نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ) میں سے اُس (نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ) کا زَوْجَ بنایا۔ تاکہ وہ (زَوْجَ) اُس (نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ) کی طرف سکون محسوس کرے۔ پس جب اُس (زَوْجَ) نے جب اُس (نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ) کو ڈھانپا تو اُس (نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ)نے حَمَلَ اُٹھایا، خفیف سا حَمَلَ، وہ اِ س (حَمَلَ) کے ساتھ گھومتی پھرتی پس جب وہ (حَمَلَ) ثَقَلَ  (وزن دار) ہوا۔ اُ ن دونوں نے اپنے ربّ سے دعا کی اگر تو نے ہمیں صَالِح (مذکر) دے گا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔


٭- زَانِیْ اور زَانِیَۃً سے نکاح حرام ہے ! جب تک وہ کوڑے نہ کھائیں ۔
الزَّانِیْ لَا یَنکِحُ إلَّا زَانِیَۃً أَوْ مُشْرِکَۃً وَالزَّانِیَۃُ لَا یَنکِحُہَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذَلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْن (24/3)
زَانِیْ مرد سوائے زَانِیَۃً یا مشرک عورت کے کسی اور سے نکاح نہیں کرتا زَانِیَۃً عورت سے سوائے زَانِیْ یا مشرک مرد کے کوئی اور نکاح نہیں کرتا اور وہ (زَانِیْ اور زَانِیَۃً سے نکاح) مومنین پر حرام ہے۔

٭   ۔  إِمَاءِ  (ملازمہ)  (مؤ منوں کے لئے نہیں)
 وَأَنکِحُوا الْأَیَامَی مِنکُمْ وَالصَّالِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَإِمَاءِکُمْ إِن یَکُونُوا فُقَرَاء  یُغْنِہِمُ اللَّہُ مِن فَضْلِہِ وَاللَّہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ﴿24/32
اور نکاح کریں!  تم میں سے الْأَیَامَی (غیر مسلم مرد ملازم)۔ اورصالحین تمھارے عِبَادِ (ملازم)  اور  تمھاری إِمَاءِ  (غیر مسلم ملازمہ)  اگر وہ فُقَرَاء میں سے ہو تو اللہ اسے اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ اور اللہ واسع علیم ہے۔ 

 

٭   ۔ نکاح نہ کر سکنے والے پاک دامن رہیں ۔
 وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّىٰ يُغْنِيَهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرً‌ا وَآتُوهُم مِّن مَّالِ اللَّـهِ الَّذِي آتَاكُمْ وَلَا تُكْرِ‌هُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَ‌دْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوا عَرَ‌ضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَن يُكْرِ‌ههُّنَّ فَإِنَّ اللَّـهَ مِن بَعْدِ إِكْرَ‌اهِهِنَّ غَفُورٌ‌ رَّ‌حِيمٌ(24/33)
اور چاہیئے کہ جو لوگ نکاح نہیں کر سکتے پاکدامن رہیں حتیٰ کہ اللہ اپنے فضل سے اسے غنی کر دے اورتمھارے قسموں کی ملکیت میں سے وہ لوگ جو ”الکتاب“ کی خواہش رکھتے ہیں پس ان کے لئے لکھو اگر تک علم ہو کی اس میں اِن کے لئے خیر ہو۔ اور ان کے لئے اس مال میں سے مہیا کرو جو اللہ نے تمھیں مہیا کیا ہے۔ اور اپنی فَتَیَاتِ  (ملازماؤں)  سے تم بغض میں کراہت نہ کرو اگر وہ  تم سے حصّن (پاکدامن)رہنا چاہیں حیات الدنیا کی خواہش کرتے ہو۔ اور جو ان سے کراہت کرے گا تو اللہ ان سے کراہت کے بعد غفور اور رحیم ہے۔


وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِنْ يَكُونُوا فُقَرَ‌اءَ يُغْنِهِمُ اللَّـهُ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَاللَّـهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (24/32)
اور نکاح کریں!  تم میں سے ”ایامی“ (مجرد مرد)۔ اورصالحین تمھارے عباد (ملازم)  اور  تمھاری إِمَاءِ  (ملازمہ)  اگر وہ فقراء میں سے ہو تو اللہ اسے اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ اور اللہ واسع علیم ہے۔
وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْ‌جُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَن يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ‌ مُتَبَرِّ‌جَاتٍ بِزِينَةٍ وَأَن يَسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ‌ لَّهُنَّ وَاللَّـهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (24/60)
النساء میں سے وہ القواعد  جنہیں نکاح کی امید (اور خواہش ہی) نہ رہی ہو  و ہ اگر اپنے کپڑے اتار  رکھیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ وہ اپنا بناؤ سنگار ظاہر کرنے والیاں نہ ہوں  تاہم اگر ان سے بھی احتیاط رکھیں  تو ان کے لئے خیر ہے،  اور اللہ تعالیٰ سنتا اور جانتا ہے.

٭   ۔ایک بہترین نکاح اور شرائط و عہد  ۔
قَالَ إِنِّیْ أُرِیْدُ أَنْ أُنکِحَکَ إِحْدَی ابْنَتَیَّ ہَاتَیْْنِ عَلَی أَن تَأْجُرَنِیْ ثَمَانِیَ حِجَجٍ فَإِنْ أَتْمَمْتَ عَشْراً فَمِنْ عِندِکَ وَمَا أُرِیْدُ أَنْ أَشُقَّ عَلَیْْکَ سَتَجِدُنِیْ إِن شَاء  اللَّہُ مِنَ الصَّالِحِیْنَ  (28/27)
کہا! میں چاہتا ہوں، کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح اس (عہد) پر تجھ سے کروں کہ تو آٹھ حجج(سال) میری تاجر(ملازمت) کرے گا پس اگر تو دس حجج (مکمل) کرے تو یہ تجھ پر منحصر ہے اور میں نہیں چاہتا کہ تجھے مشقت میں ڈالوں اور تو مجھے انشاء اللہ صالحین میں پائے گا۔

قَالَ ذَلِکَ بَیْْنِیْ وَبَیْْنَکَ أَیَّمَا الْأَجَلَیْْنِ قَضَیْْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ وَاللَّہُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیْلٌ   (28/28)
(موسیٰ نے) کہا! یہ(معاہدہ) تیرے اور میرے درمیان ہے کہ دونوں میں سے جو اجل (مدت) پوری ہو پس مجھ پر دشمنی نہیں ہو گی اور جو ہم قول کر رہے ہیں اللہ اس پر وکیل ہے۔ (کیوں کہ گواہ کوئی نہیں)


٭   ۔ زوجہ کو مرد کے سکون اور آپس کی مَّوَدَّۃً کے لئے تخلیق کیا گیا ہے۔
 وَمِنْ آیَاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکُم مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجاً لِّتَسْکُنُوا إِلَیْْہَا وَجَعَلَ بَیْْنَکُم مَّوَدَّۃً وَرَحْمَۃً إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُون (30/21)
اور اس کی آیات یہ کہ اس نے تمھارے نفسوں سے تمھارے جوڑے خلق کئے تاکہ تم اس (زوجہ) کی طرف سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمھارے درمیان چاہت اور رحمت بنائی بے شک اس میں تفکر کرنے والی قوم کے لئے آیات ہیں


٭  النَّبِیُّ ۔ ہر لحاظ سے مومنین میں اوّل ہے - 
النَّبِیُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أَنفُسِہِمْ وَأَزْوَاجُہُ أُمَّہَاتُہُمْ وَأُوْلُو الْأَرْحَامِ بَعْضُہُمْ أَوْلَی بِبَعْضٍ فِیْ کِتَابِ اللَّہِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُہَاجِرِیْنَ إِلَّا أَن تَفْعَلُوا إِلَی أَوْلِیَاءِکُم مَّعْرُوفاً کَانَ ذَلِکَ فِیْ الْکِتَابِ مَسْطُوراً (33/6)
النبی، المومنین اُن کے نفوس سے اول ہے اور اُس کی ازواج اُن (المومنین) مائیں ہیں اور َأُوْلُو الْأَرْحَامِ کتاب اللہ میں بعض اول ہیں بعض سے المومنین اور المھاجرین میں سوائے اِس کے کہ تم اپنے اولیاء کی طرف معروف کے مطابق فعل کرو یہ الکتاب میں مسطور ہے۔
جن کو چھوا نہ ہو۔  (بوجہ نامردی یا طلاق قبل از ملاپ)
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا إِذَا نَکَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوہُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوہُنَّ فَمَا لَکُمْ عَلَیْْہِنَّ مِنْ عِدَّۃٍ تَعْتَدُّونَہَا فَمَتِّعُوہُنَّ وَسَرِّحُوہُنَّ سَرَاحاً جَمِیْلاً  (33/49)
اے وہ لوگو جو ایمان لائے! جب تم مومنات سے نکاح کرو۔ پھر تم انہیں چھونے سے قبل طلاق دو۔تو تمھارے لئے ان کی عدت میں سے نہیں ہے  کہ تم ان پر زیادتی کرو!۔ پس ان کے متع ان کو دے دواور انہیں خوش  اسلوبی سے(مھائدہ نکاح سے) آزاد کر دو۔

 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَ‌هُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْ‌نَ مَعَكَ وَامْرَ‌أَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَ‌ادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ
قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَ‌ضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَ‌جٌ وَكَانَ اللَّـهُ غَفُورً‌ا رَّ‌حِيمًا
(33/50)
  اے النبی! ہم نے تیرے لئے حلال کیں۔ تیری وہ ازواج جن کے تو نے اجور(مروج مہر) ادا کردئے۔ اور جو تجھ پرافاء اللہ میں تیرے سیدھے ہاتھ کی ملکیت بنیں۔ تیرے چچا، تایا اور پھوپی کی بیٹیاں، اور تیرے ماموں اور خالہ کی بیٹیاں جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی۔ اور مومن عورت خود کو النبی (سے نکاح)کے لئے ہبہ کرے اور النبی بھی ارادہ کرے کہ وہ اس سے نکاح کرے۔ یہ دیگر مومنین سے خالص تیرے لئے ہے۔
ہمیں علم ہے کہ ہم نے ان کے اوپران کی ازواج اور جو ان کی قسموں کی امانت ہیں، میں سے کیا فرض کیا ہے! تاکہ تیرے اوپر (ان مومنوں کے متعلق) کوئی حرج نہ رہے۔ اور اللہ توغفور اور رحیم ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَن يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَىٰ طَعَامٍ غَيْرَ‌ نَاظِرِ‌ينَ إِنَاهُ وَلَـٰكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانتَشِرُ‌وا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنكُمْ وَاللَّـهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَ‌اءِ حِجَابٍ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ‌ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ

 وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَ‌سُولَ اللَّـهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّـهِ عَظِيمًا(33/53)
اور تمھارے لئے یہ نہیں کہ تم رسول اللہ کو اذیت پہنچاؤ اور تم اس کے بعد اس کی ازواج سے کبھی بھی نکاح مت کرو بے شک یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑی (حکم عدولی) ہے

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا إِذَا جَاء کُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوہُنَّ اللَّہُ أَعْلَمُ بِإِیْمَانِہِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوہُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوہُنَّ إِلَی الْکُفَّارِ لَا ہُنَّ حِلٌّ لَّہُمْ وَلَا ہُمْ یَحِلُّونَ لَہُنَّ وَآتُوہُم مَّا أَنفَقُوا وَلَا جُنَاحَ عَلَیْْکُمْ أَن تَنکِحُوہُنَّ إِذَا آتَیْْتُمُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ  وَلَا تُمْسِکُوا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ وَاسْأَلُوا مَا أَنفَقْتُمْ وَلْیَسْأَلُوا مَا أَنفَقُوا ذَلِکُمْ حُکْمُ اللَّہِ یَحْکُمُ بَیْْنَکُمْ وَاللَّہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ  ﴿60/10 
اے وہ لوگو جو ایمان لائے:  جب تمہارے پاس ایمان والی مہاجر مؤمنات  آئیں تو ان (کے ایمان) کا  امتحان لے لو۔ اللہ ان کے ایمان کے بارے میں علم رکھتا ہے۔اور جب تمھیں ان مومنات کے بارے میں علم ہو جائے تو انہیں کفار (ان کے سرپرست یا شوہروں)  ی طرف مت لوٹاؤ۔ یہ عورتیں ان کے لئے (بحیثیت مومنہ) حلال نہیں اور نہ وہ ان کے لئے (بحیثیت کافر) حلال ہیں۔اور تم  ان کے (سرپرست یا شوھروں) کو جو انہوں نے خرچ کیا ہے۔اور اس پر تم پر کوئی اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم ان مومنات کو ان کے اجور (مہر) ادا کرنے کے بعد نکاح کرو۔۔۔۔
  اور الکوافر(عورتوں جو امتحان میں پورا نہ اتریں) کوپناہ میں مت روکے رکھو۔ اور تم سوال کروجو تم نے انفاق کیا۔ اور چاھیئے کہ وہ  سوال کریں جو انہوں نے انفاق کیا۔یہ اللہ کا حکم ہے۔ وہ تمہارے(مومنوں کے) درمیان  حکم کرتا ہے۔ اور اللہ علیم اور حکیم ہے۔




عربی آیاتِ الطلاق ، الکتاب میں
لِّلَّذِیْنَ یُؤْلُونَ مِن نِّسَآءِہِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَۃِ أَشْہُرٍ فَإِنْ فَآؤُوا فَإِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ  (2/226)
جو لوگ اپنی نساء میں سے ایلاکرتے(دوررہتے) ہیں تو ان کو  (Abstention  کی) چار مہینے کی مہلت ہے پس اگر وہ (ایلاء سے چار مہینے کے  اندر) باز آجاتے ہیں، تو اللہ غفور اور رحیم ہے  


 وَإِنْ عَزَمُواْ الطَّلاَقَ فَإِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْم (2/227)
اور اگر تم طلاق کا عزم کرو، بے شک اللہ سمیع اور علیم ہے۔

  وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَ‌بَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُ‌وءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّـهُ فِي أَرْ‌حَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَ‌دِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنْ أَرَ‌ادُوا إِصْلَاحًا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُ‌وفِ وَلِلرِّ‌جَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَ‌جَةٌ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
(2/228)


اور مطلقات اپنے نفوس کو تین قروء روک کر رکھیں۔ان کے لئے حلال نہیں کہ وہ اس کو چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں  تخلیق کے عمل سے گذارنا شروع کر دیا ہے۔ اگر وہ اللہ اور یوم الآخر پر  ایمان رکھتی ہیں۔ اور ان کے شوہر حق رکھتے ہیں کہ انہیں اس (حمل کا سن کریا تین قروء کی مدت) کے  درمیان انہیں لوٹا  لیں (طلاق سے)، اگر ان کا اردہ اصلاح کا ہو ( تنگ کرنے کا نہیں) 
ا ن(عورتوں) کے لئے  وہ   (مرد) مروج دستور کے مطابق ا ن (عورتوں)  کے برابر ہے ۔ اور رجال (مردوں) کے لئے اُن (عورتوں) کے اوپر ایک درجہ ہے۔ اور اللہ عزیز اور  حکیم ہے۔

 الطلاق دو بار  (تین بار نہیں)
الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ وَلاَ یَحِلُّ لَکُمْ أَن تَأْخُذُواْ مِمَّا آتَیْْتُمُوہُنَّ شَیْْئاً إِلاَّ أَن یَخَافَا أَلاَّ یُقِیْمَا حُدُودَ اللّٰہِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ یُقِیْمَا حُدُودَ اللّٰہِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہِ تِلْکَ حُدُودُ اللّٰہِ فَلاَ تَعْتَدُوہَا وَمَن یَتَعَدَّ حُدُودَ اللّٰہِ  فَأُولَـٰئِكَ ہُمُ الظَّالِمُونَ (2/229)  
الطلاق دو مرتبہ۔ پس ان سے معروف کے ساتھ امساک کرو یاتم انہیں احسان کے ساتھ روانہ کرو۔ تمھارے لئے ”حلال“ نہیں کہ تم  نے جو کچھ اشیاء میں سے ان عورتوں کو دیا ہے  (طلاق دیتے وقت)پکڑ لو۔سوائے اس کے، کہ اُن کو خوف ہو کہ وہ  (میاں اور بیوی)حدود اللہ قائم نہ رکھ سکیں گے۔پس اگر تمھیں خوف ہو یہ کہ حدود اللہ قائم نہ رہ سکیں گی۔پس اُ ن دونوں (میاں اور بیوی) پرکوئی حرج نہیں کہ کہ وہ (بیوی)  اِس (دی گئی اشیاء) میں سے فدیہ دے، یہ اللہ کی حدود ہیں اِن سے تجاوز مت کرواور جس نے تجاوز کیا پس وہ ظالموں میں سے ہے۔
جب شوہر نے حرام کام کرتے ہوئے بیوی کو الطلاق مرتان ، دیتے وقت قنطارا واپس لیا یا شوہر نے بیوی سے فدیہ لیا اور طلاق  دی تو بیوی،  مرد پر دوبارہ نکاح کے لئے حرام ہوگئی۔
فَإِن طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِن بَعْدُ حَتَّیَ تَنکِحَ زَوْجاً غَیْْرَہُ فَإِن طَلَّقَہَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْْہِمَا أَن یَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن یُقِیْمَا حُدُودَ اللّٰہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللّٰہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (2/230)

پس جب اس مرد نے  اس عورت کو (فدیہ لینے کے بعد) طلاق دی  تو وہ اس  (مرد)کے لئے اس وقت تک حلال نہیں، حتی کہ وہ عورت اس کے علاوہ کسی  غیر زوج سے نکاح کرے۔ پس جب اس(غیر زوج) نے اس عورت کو طلاق دی۔ تو ان دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ وہ (پہلا زوج اور عورت)  آپس میں رجوع کر لیں۔(بشرطیکہ) اگر ان دونوں کوظن (قیاس)  ہو کہ وہ حدود اللہ قائم رکھ سکیں۔ یہ حدود اللہ ہیں جن کی وہ علم والوں کے لئے وضاحت کرتا ہے۔


 وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُ‌وفٍ أَوْ سَرِّ‌حُوهُنَّ بِمَعْرُ‌وفٍ وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَ‌ارً‌ا لِّتَعْتَدُوا وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ وَلَا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّـهِ هُزُوًا وَاذْكُرُ‌وا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنزَلَ عَلَيْكُم مِّنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِ وَاتَّقُوا اللَّـهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
(2/231)
اور جب تم النساء کو طلاق دو اور وہ اپنی اجل کو پہنچیں! ۔پس ان سے معروف کے مطابق امساک کرو۔ یا معروف کے مطابق انہیں تسریح کردو۔ ان سے امساک اس لئے مت کرو کہ ضرر کے لئے تم تجاوز کرو۔  اور جو یہ فعل کرے گا اس نے صرف خود پر ظلم کیا۔اور اللہ کی آیات کو مذاق میں مت اڑاؤ۔اور تم نصیحت کرو اپنے اوپر اللہ  کی نعمت سے جو تمھارے اوپر نازل ہوئی۔ الکتاب میں سے اور الحکمت سے،   تم اس (الکتاب اور الحکمت)  کے ساتھ وعظ کرو۔ اور اللہ سے ڈرو، اور  جان لو! بے شک اللہ ہر شے کے ساتھ علیم (جاننے والا) ہے-

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَ‌اضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُ‌وفِ ذَٰلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ مِنكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ ذَٰلِكُمْ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَأَطْهَرُ‌ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (2/232)
٭- میثاق کر کے جنسی تعلق قائم نہ بھی کیا ہو تو بھی سب واپس نہیں لے سکتے ہو !

 لَّا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِ‌ضُوا لَهُنَّ فَرِ‌يضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُ‌هُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ‌ قَدَرُ‌هُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُ‌وفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ
(2/236)
تم پر کوئی حرج نہیں کہ اگر تم عورتوں کو چھونے سے پہلے طلاق دو۔
یا تم نے ان کا فریضہ فرض نہ کیا ہو۔ اور ان کا متع۔ کشائش والے کے اوپر  اس کی قدر(حیثیت) کے مطابق، تنگی والے کے اوپر  اس کی قدر(حیثیت) کے مطابق
یہ متع (کشائش یا کم کشائش والے) کے لئے معروف (مروج دستور)  کے  مطابق ہے۔احسان کرنے والوں کے اوپر  ( معروف کے مطابق متع دینا) حق ہے.


وَإِن طَلَّقْتُمُوہُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوہُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیْضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إَلاَّ أَن یَعْفُونَ أَوْ یَعْفُوَ الَّذِیْ بِیَدِہِ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ وَأَن تَعْفُواْ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَی وَلاَ تَنسَوُاْ الْفَضْلَ بَیْْنَکُمْ إِنَّ اللّٰہَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیْرٌ  (2/237) 
اور اگر تم نے انہیں چھونے سے قبل طلاق دی ہو، اور تم نے ان کے لئے فریضہ فرض کر لیا ہو۔ پس اس کا نصف جو تم نے فرض کیا ہو (تم لے  سکتے ہو) اگر وہ عورتیں معاف کریں۔  یاوہ (عورت کا سر پرست)  معاف کرے جس کے ہاتھ میں عُقْدَۃُ النِّکَاحِ  ہو۔اور اگر تم (شوہر آدھا  واپس نہ لے اور) معاف کرو تو یہ اللہ سے ڈرنے کے لئے اقرب ہے  اور آپس میں (ایک دوسرے پرکئے جانے والے) فضل کو مت بھولو۔بیشک اللہ کو  تمھارے کئے جانے والے اعمال پربصیرت حاصل ہے۔

 ٭- الصَّلَوَاتِ کے اوپرحَافِظُ اورالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ پر اللہ کے لئے قانتین کا قیام - 
 حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّـهِ قَانِتِينَ ﴿2/238  
  اور وہ الصَّلَوَاتِ کے اوپرحَافِظُ ہوں ورالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ پر اللہ کے لئے قانتین بنتے ہوئے، وہ قیام کریں -

فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِ‌جَالًا أَوْ رُ‌كْبَانًا ۖ فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُ‌وا اللَّـهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ﴿2/239
پس اگر تمھیں خوف ہوتا ہو پس رِ‌جَالً  یا رُ‌كْبَانً ہو(رہو) پس جب تم امن سے ہوتے ہو ، پس ذکراللہ کر ، جیسے تمھیں عَلَّمَ (تعلیم ) دیا ہے جس کاتمھیں پہلے علم نہیں تھا !
 نوٹ:الصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ اور الصَّلَوَاتِ حفّاظ کے لئے یہ آیت ترتیل الطلاق کے ضمن میں پروئی ہوئی ہیں !


 ٭- بیواؤں کے لئے وصیّت ۔
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُ‌ونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ‌ إِخْرَ‌اجٍ ۚ فَإِنْ خَرَ‌جْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُ‌وفٍ ۗ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿2/240  

اور تم میں سے جو لوگ وفات پاتے ہیں اور (اپنی) بیویاں چھوڑ جائیں وصیّت ہے اُن کی ازواج کے لئے،اخراج کئے بغیر الْحَوْلِ (جب تک وہ خاص گھیرے میں رہیں) کے لئے متاع، پھر اگر وہ خود (اپنی مرضی سی) نکل جائیں تو دستور کے مطابق جو کچھ بھی وہ اپنے حق میں کریں تم پر اس معاملے میں کوئی گناہ نہیں، اور ﷲ عزیز حکیم ہے ۔

٭- الْمُطَلَّقَاتِ کے لئے مَتَاعٌ بِالْمَعْرُ‌وفِ ۔
وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُ‌وفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ ﴿2/241
اورالْمُطَلَّقَاتِ کے لئے متاع معروف کے ساتھ  ہے ، الْمُتَّقِينَ کے اوپر حق ہے ۔

كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
﴿2/242
 

 اِس طرح اللہ تمھارے(غیر متقیوں ) لئے  اپنی آیات کوبَيِّنُ کرتا رہتا ہے ، تاکہ تم عقل استعمال کرو ۔

٭- فحاشی کا الزام عورت پر لگانے والے(دو مرد) چار گواہ لائیں ۔

 وَاللاَّتِیْ یَأْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِن نِّسَآءِکُمْ فَاسْتَشْہِدُواْ عَلَیْْہِنَّ أَرْبَعۃً مِّنکُمْ فَإِن شَہِدُواْ فَأَمْسِکُوہُنَّ فِیْ الْبُیُوتِ حَتَّیَ یَتَوَفَّاہُنَّ الْمَوْتُ أَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلاً   ﴿ 4/15
اور  تمھاری عورتوں میں کوئی  فحاشی لاتی  ہیں۔اورتم  اپنوں  میں سے (غیرمیں  سے  نہیں)  ان  کے  اوپر  چار  گواہ لاؤ ۔
 پس  اگر  وہ  (چاروں گواہ ) شہادت  دیں  تو  ان  کو  گھروں  میں  بند  رکھو  یہاں  تک  کہ   الموت  ان  کو  فوت  کرے۔  یا  اللہ ان  کے لئے  کوئی  راہ  بنائے۔


٭- چار گواہ نہ لا سکیں تو دونوں (جھوٹے) مردوں کو اذیت دی جائے ۔
وَاللَّذَانَ يَأْتِيَانِهَا مِنكُمْ فَآذُوهُمَا فَإِن تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُواْ عَنْهُمَا إِنَّ اللّهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِيمًا ﴿ 4/16
اور وہ دونوں مرد، دونوں لاتے ہیں ، اُس ( مؤنث ) پر ، پس اُن دونوں کو اذیت ( مارنا پیٹنا نہیں)دیتے رہو ، اور اگر وہ (اذیت کے بعد) توبہ کرتے ہیں اور اپنی اصلاح کرتے ہیں تو اُن دونوں کو اذیت دینا بند کر دو ۔ بےشک اللہ تواب اور رحیم ہے 

 
٭- غلط فہمی ء جہالت کی توبہ ہے !
إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٍ فَأُوْلَـئِكَ يَتُوبُ اللّهُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللّهُ عَلِيماً حَكِيماً (4/17)

بے شک توبہ تو اُن کے لئے ہے جو (عورتوں پر فحاشی کا الزام لگانے کا) گناہ جہالت  کے ساتھ کرتے ہیں ، پھر وہ جلد ہی  توبہ کرتے ہیں۔  پس یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کی توبہ اللہ قبول کر لیتا ہے۔ اور اللہ علیم اور حکیم ہے۔

 
٭- جھوٹ پر ڈٹے رہنے والوں کی توبہ نہیں !

 وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ وَلاَ الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ أُوْلَـئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا (4/18)
اور اُن کی توبہ قبول نہیں ہوتی کہ جو گناہوں کا عمل کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اُن میں سے کسی ایک کے سامنے الموت آ جاتی ہے، تو وہ کہتا ہے ۔ کہ میں اب (اپنے گناہوں کی) توبہ کرتا ہوں۔اور وہ  لوگ کفّار  مرتے ہیں۔ اُ ن کے لئے عذاب الیم تیار ہے 

 
عورت کا وارث بننا حلال نہیں ۔

 یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ یَحِلُّ لَکُمْ أَن تَرِثُواْ النِّسَاء  کَرْہاً وَلاَ تَعْضُلُوہُنَّ لِتَذْہَبُواْ بِبَعْضِ مَا آتَیْْتُمُوہُنَّ إِلاَّ أَن یَأْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ وَعَاشِرُوہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن کَرِہْتُمُوہُنَّ فَعَسَی أَن تَکْرَہُواْ شَیْْئاً وَیَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْْراً کَثِیْراً(4/19)
اے وہ لوگو جو ایمان لائے! تمھارے لئے حلال نہیں کہ تم عورتوں کے کَرْہاً وارث بنو۔ اور تم انہیں ضِلت میں نہ ڈالو۔ کہ تم بعض سے وہ اشیا ء لے لو جو تم نے ان کو دیں  سوائے اس کے وہ واضح فحاشی کی مرتکب ہوئی ہوں ۔ اگر تمھیں اُ ن سے کراہت  آئے تب بھی  انہیں معروف کے ساتھ عیش دو۔ ممکن ہے کہ تم کسی شئے سے کراہت کرو اور اللہ اُس میں کثرت سے  خیر بنادے۔

 
سونے کا ڈھیر بھی واپس نہیں لے سکتے۔

  وَإِنْ أَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ وَآتَیْْتُمْ إِحْدَاہُنَّ قِنطَاراً فَلاَ تَأْخُذُواْ مِنْہُ شَیْْئاً أَتَأْخُذُونَہُ بُہْتَاناً وَإِثْماً مُّبِیْناً(4/20)
اور اگر تم ایک زوج کو دوسری زوج سے تبدیل کرنا چاہو اور اگر تم  ان کو ڈھیروں خزانہ دے چکے ہو  تو تم ان سے کوئی شے واپس نہ لو۔ کیا تم ان پر بہتان لگا کر واپس لو گے (کیونکہ ان سے واپس لینے کا ایک یہی تمھارے پاس ذریعہ ہے) ؟  یہ واضح گنا ہ ہے ۔

میثاق کر کے جنسی تعلق قائم کرنے کے بعد، کیسے توڑ سکتے ہو !

 وَکَیْْفَ تَأْخُذُونَہُ وَقَدْ أَفْضَی بَعْضُکُمْ إِلَی بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنکُم مِّیْثَاقاً غَلِیْظاً(4/21)
اور تم اس(مال) کو کیسے لے سکتے ہو (جو تم نے اپنی بیویوں کو ماضی میں دے چکے ہو)؟ اور حقیقت میں تم ایک دوسرے سے (جنسی طور پر ) مل چکے ہو۔ اور ان عورتوں نے تم سے (اس مال کے بدلے) غلیظ (پختہ) ”میثاق“ لیا ہوا ہے۔ 


٭- رجال،  النِّسَاء کے اوپر قوّام ہیں۔
الرِّ‌جَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّـهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّـهُ ۚ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُ‌وهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِ‌بُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرً‌ا (4/34)

 رجال،  النِّسَاء کے اوپر قوّام ہیں۔ اس لئے کہ نے ان میں سے بعض کو بعض پرفضّل اللہ ہے۔اور اس لئے کہ وہ اپنے اموال سے انفاق کرتے ہیں۔ پس صالحات، قانتات اور الغیب سے حفاظت کرنے والیاں جس کی اللہ نے حفاظت کی ہے۔ اور وہ نساء تمھیں اُن کی نشوز (سرکشی) کا خوف ہو۔تو انہیں وعظ کرو، اور انہیں ان کے مضاجع سے ہجرت دو  اور انہیں ضرب لگاؤ۔ اگر وہ تمھاری اطاعت کریں۔ تو تم ان پر بغی کی راہ نہ نکالو بے شک اللہ علیّ کبیر ہے۔

٭- میاں بیوی کے درمیان ، خلیج بننے کا شبہ پیدا ہوتے ہی کاروائی کرو 

وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْْنِہِمَا فَابْعَثُواْ حَکَماً مِّنْ أَہْلِہِ وَحَکَماً مِّنْ أَہْلِہَا إِن یُرِیْدَا إِصْلاَحاً یُوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْْنَہُمَا إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْماً خَبِیْراً  (4/35)اور اگر تمھیں خوف ہو کہ وہ آپس میں پھٹ پرنے پر ہوں۔  تو تم اس (مرد)کے اہل میں سے ایک حکم (منصف) کھڑا کرو۔ اور اس (عورت)کے اہل میں سے ایک حکم (کھڑا کرو)۔   اگر وہ (دونوں میاں بیوی)  اصلاح کا ارادہ کریں تو اللہ ان کے درمیان موافقت پیدا کرے گا۔ بے شک اللہ علیم اور خبیر ہے۔
 
٭- فضول قسموں پر پکڑ نہیں ۔ 

 لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغْوِ فِیْ أَیْْمَانِکُمْ وَلَ کِن یُؤَاخِذُکُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الأَیْْمَانَ فَکَفَّارَتُہُ إِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسَاکِیْنَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَہْلِیْکُمْ أَوْ کِسْوَتُہُمْ أَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ ذَلِکَ کَفَّارَۃُ أَیْْمَانِکُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَیْْمَانَکُمْ کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُون(5/89)
اللہ تمھارا مواخذہ تمھاری ان قسموں میں نہیں کرے گا جو لغو(بے دلی) کے  ساتھ ہیں۔بلکہ تمھارا مواخذہ کرے گاجس قسم کی تم نے عقد(گرہ) لگائی  ہے   پس اس کا کفارہ (جس قسم کی دل سے عقد لگی ہے)۔ دس مسکینوں کواوسط میں سے وہ کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل کو کھلاتے ہویا ان کو(کپڑے) پہنانایاایک گردن آزاد کرانا
، پس جو یہ نہیں کر سکتا وہ تین ایام کے صوم رکھے۔یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے جس کا تم حلف لیتے ہو۔اپنی قسموں کی تم  حفاظت کرو!۔ اس طرح اللہ تمھارے لئے اپنی آیات بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر گزاربنو۔


٭- المحصنات پررمی (تہمت) کرنے والے 4 گواہ لائیں  

وَالَّذِیْنَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوا بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَاء  فَاجْلِدُوہُمْ ثَمَانِیْنَ جَلْدَۃً وَلَا تَقْبَلُوا لَہُمْ شَہَادَۃً أَبَداً وَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْفَاسِقُون(24/4)
وہ لوگ جو ”المحصنات“ پر ”رمی“ (تہمت) کرتے ہیں اور گر وہ چار شھداء  (گواہ) لے کر نہ آئیں تو اسّی (80) کوڑے مارے جائیں ، اور تم ان کو شھادۃ (گواہی) کے لئے  ابد تک قبول  نہ کرو۔ کیوں کہ وہ فاسق ہیں۔

إِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَلِکَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (24/5)

اگر وہ (اسّی کوڑے)  کھانے کے بعد توبہ کر لیں اور اپنی صلاح کر لیں۔تو بے شک اللہ غفور اور رحیم ہے۔ 

وَالَّذِينَ يَرْ‌مُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْ‌بَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّـهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ ﴿24/6
اور وہ لوگ جو اپنی ازواج پر رمی کرتے  ہیں۔ اور ان کے پاس سوائے اپنے نفس کے کوئی شاہدنہیں ۔
پس   وہ  اکیلا (شوہر)  شھادت دے۔  اللہ کو گواہ بنا کر چار شہادتیں ۔کہ بے شک وہ صادقین میں سے ہے۔

وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّـهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ﴿24/7
اور پانچویں دفعہ وہ (شوہر) کہے: اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت۔ وَيَدْرَ‌أُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ أَرْ‌بَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّـهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ ﴿24/8
  اور یہ (عمل) اس (عورت) سے (بھی) سزا کو ٹال سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کے ساتھ شھادت دے کہ وہ (شوہر) جھوٹا ہے

وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّـهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ
﴿24/9

اور پانچویں مرتبہ یہ (کہے) کہ اس (بیوی) پر اللہ کا غضب ہو اگر یہ (شوہرکا الزام) سچا ہو

وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَرَ‌حْمَتُهُ وَأَنَّ اللَّـهَ تَوَّابٌ حَكِيمٌ ﴿24/10
اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی (تو عورت بے چاری ماری جاتی) اور بیشک اللہ تواب حکیم ہے


٭- محبت کی جانے والی کا سوال

وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ ﴿81/8 
 اور جب محبت کی جانے والی سوال کرے گی !

 بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ ﴿81/9
وہ کس جرم میں قتل کر دی گئی ؟


 ٭- الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا کی زِیْنَتَ کی خواہش کھنے والی کے لئے سادہ اصول ۔ 
 یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُل لِّأَزْوَاجِکَ إِن کُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا وَزِیْنَتَہَا فَتَعَالَیْْنَ أُمَتِّعْکُنَّ وَأُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحاً جَمِیْلاً  (33/28)
اے نبی! اپنی ازواج سے کہہ!اگر تم حیات الدنیا اور اس کی زینت کی طلبگار ہو!پس آؤ! میں تمھیں متع دوں اور تمھیں  خوش اسلوبی سے رخصت کروں۔


٭-
نامرد کی طلاق کی صورت میں عدت نہیں ۔ 
 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّ‌حُوهُنَّ سَرَ‌احًا جَمِيلًا (33/49)
اے وہ لوگو جو ایمان لائے! جب تم مومنات سے نکاح کرو۔ پھر تم انہیں چھونے سے قبل طلاق دو۔تو تمھارے لئے ان کی عدت میں سے نہیں ہے  کہ تم ان پر زیادتی کرو!۔ پس ان کے متع ان کو دے دواور انہیں خوش  اسلوبی سے(مھائدہ نکاح سے) آزاد کر دو۔
٭- اپنی نساء کو ماں کہنے والوں کے لئے سزا !
 الَّذِیْنَ یُظَاہِرُونَ مِنکُم مِّن نِّسَاءِہِم مَّا ہُنَّ أُمَّہَاتِہِمْ إِنْ أُمَّہَاتُہُمْ إِلَّا اللَّاءِیْ وَلَدْنَہُمْ وَإِنَّہُمْ لَیَقُولُونَ مُنکَراً مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوراً وَإِنَّ اللَّہَ لَعَفُوٌّ غَفُور (58/2)
وہ لوگ جو تم میں سے اپنی نساء میں سے ظہار  کرتے ہیں   (اس ظہار)  سے وہ ان کی مائیں نہیں ہو جاتیں۔ بے شک ان کی مائیں تو صرف وہ ہیں  جنہوں نے انہیں ولد کیا۔اور بے شک وہ القول میں سے منکر اور فضول  گوئی کرتے ہیں۔اور بے شک اللہ معافی کے لئے غفور ہے۔

وَالَّذِیْنَ یُظَاہِرُونَ مِن نِّسَاءِہِمْ ثُمَّ یَعُودُونَ  لِمَا قَالُوا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مِّن قَبْلِ أَن یَتَمَاسَّا ذَلِکُمْ تُوعَظُونَ بِہِ وَاللَّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْرٌ (58/3)
وہ لوگ جو اپنی نساء میں سے ظہار  کرتے ہیں   پھرجو انہوں سے کہا اس  کو واپس لیتے ہیں- ایک دوسرے کو مس کرنے سے پہلے ایک گردن چھڑائیں۔ تمھیں اس(تنبیہ)   کے ساتھ وعظ کیا جاتا ہے کہ اللہ تمھارے اعمال کی خبر ہے۔

فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَہْرَیْْنِ مُتَتَابِعَیْْنِ مِن قَبْلِ أَن یَتَمَاسَّا فَمَن لَّمْ یَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْکِیْناً ذَلِکَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ وَلِلْکَافِرِیْنَ عَذَابٌ أَلِیْم (58/4)
اگر وہ نہیں پاتے(کہ گردن چھڑا سکیں) ایک دوسرے کو مس کرنے سے  پہلے دو مہینے کے لگاتار روزے رکھیں۔اور جو کوئی (گردن چھڑانے اور  روزے رکھنے کی) استطاعت نہیں رکھتا، تو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا  کھلائے۔یہ اس لئے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان لاؤ، اور یہ  اللہ کی حدود ہیں (ظہار نہ کرنا اور کر دیا تو کفارہ ادا کرنا) اور (حدود  اللہ) کے کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔ 


٭- مطلقہ کے لئے عدت !
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللَّـهَ رَ‌بَّكُمْ لَا تُخْرِ‌جُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُ‌جْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ لَا تَدْرِ‌ي لَعَلَّ اللَّـهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرً‌ا (65/1)
اے نبی! جب تم النساء کو (بحیثیت اولی الامر) طلاق دو۔ پس ان کو ان کی  عدت کے لئے طلاق دو اور  العدۃ کا شمار کرو۔اور اللہ سے ڈرو جو تمھارا رب ہے۔ انہیں ان کے گھروں میں سے مت نکالو۔ انہیں صرف اس وقت ان کے گھروں سے نکالو جب  وہ  (انہیں)  واضح  فحاشی  (زنا)  کی مرتکب (ہونے پر طلاق مل رہی) ہوں۔ اور وہ اللہ کی  حدود ہیں۔ اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرتا ہے وہ صرف اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے۔ تجھے ادراک نہیں! شاید اللہ اس امر کے بعد کوئی اور حدیث  کہے!

٭- عدت کے بعد معروف کے مطابق رکنے یا فراقت کے لئے دو گواہ لازمی !
 !فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ ذَلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَن كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا  (65/2)
پس جب وہ اپنی اجل (عدت) کی بلوغت کو پہنچیں تو(اے النبی)  انہیں معروف کے مطابق روک لو یا انہیں معروف کے مطابق(مھائدہ نکاح سے)  فراق دو۔ اور تم میں سے دو  ذوالعدل (ان کےإِمْسَاک وتَسْرِیْحٌ وفَارِق کی)شہادت دیں  اور اللہ کے لئے اپنی شہادت پر قائم رہو۔ تم کو اس (نصیحت)  کے ساتھ وعظ کیا جاتا ہے کہ جو اللہ اور یوم الآخر پر ایمان لاتا ہے۔اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے مخرج(باہر نکلنے کا راستہ)  بناتا ہے 

وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا
﴿65/3
اور اسے رزق دیتا ہے ایسی حیثیت میں سے کہ جس کا احتساب نہیں کیا جا سکتا (کہ کیسے آیا؟ اور کہاں سے آیا؟)اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے پس وہ(اللہ) اس کے حسب کے  لئے ہے۔ بے شک اللہ کے پاس امر کی ابلاغ ہے  حقیقت میں اللہ نے تمام اشیاء  کے لئے اقدار بنائی ہیں۔


٭- بانجھ یا بڑھیا کے لئے عدت 3 ماہ-

  وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْ‌تَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ‌ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ۚ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِ‌هِ يُسْرً‌ا ﴿65/4  
اور وہ تمھاری نساء میں سے جو حیض آنے سے مایوس ہو چکی ہوں ( بوجہ بانجھ پن یا بڑھاپا)۔ تو ان کی عدت (طلاق کے دن سے) تین ماہ ہے (تین قروء نہیں کیونکہ قروء حیض والی عورت کے لئے ہے) تمھیں شک ہو کہ ان کو حیض آنا بند ہو  چکا ہے۔ اور جو حمل سے ہوں تو ان  کی (عدت کی) اجل جب وہ حمل کو وضع کر دیں۔

 
ذَلِكَ أَمْرُ اللَّهِ أَنزَلَهُ إِلَيْكُمْ وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يُكَفِّرْ عَنْهُ سَيِّئَاتِهِ وَيُعْظِمْ لَهُ أَجْرًا ﴿65/5
یہ اللہ کا امر ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے۔ اور جو شخص اللہ سےمتقی رہتا ہے وہ اُس کے گناہوں کو اس سے مٹا دیتا ہے اور  اُس کے لئے اَجرکوعظم کرتا ہے،

٭- زچہ و بچہ کے لئے اللہ کی ہدایات برائے شوہر۔
 أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ وَلَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ وَإِن كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ وَإِن تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَى  ﴿65/6
تم اُن (مطلّقہ) عورتوں کو وہیں رکھو جہاں تم اپنی وسعت کے مطابق رہتے ہو اور انہیں تکلیف مت پہنچاؤ کہ اُن پر (رہنے کا ٹھکانا) تنگ کر دو، اور اگر وہ حاملہ ہوں تو اُن پرانفاق کرتے رہو یہاں تک کہ وہ اپنا بچہ پیداکر لیں، پھر اگر وہ تمہارے لئے بچے کودودھ پلائیں تو انہیں اُن کا معاوضہ ادا کرتے رہو، اور آپس میں معروف کے ساتھ  چلو پھرو، اور اگر تم باہم دشواری محسوس کرو تو اسے (کوئی) دوسری عورت دودھ پلائے گی-
لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِ وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا ﴿65/7
صاحبِ وسعت کو اپنی وسعت (کے لحاظ) سے خرچ کرنا چاہئے، اور جس شخص پر اُس کا رِزق تنگ کر دیا گیا ہو تو وہ اُسی (روزی) میں سے (بطورِ نفقہ) خرچ کرے جو اُسے اللہ نے عطا فرمائی ہے۔ اللہ کسی شخص کو مکلّف نہیں ٹھہراتا مگر اسی قدر جتنا کہ اُس نے اسے عطا فرما رکھا ہے، اللہ عنقریب تنگی کے بعد کشائش پیدا فرما دے گا-
عَسَی رَبُّہُ إِن طَلَّقَکُنَّ أَن یُبْدِلَہُ أَزْوَاجاً خَیْْراً مِّنکُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُّؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَیِّبَاتٍ وَأَبْکَاراً (66/5)
اس کے رب کے لئے ممکن ہے۔ اگر وہ  (نبی) تم کو طلاق دے تو وہ  (اللہ)  ازواج کا بدل دے گا۔ وہ تم سے بہتر مسلمات، مومنات، قانتات تائیبات، عابدات، سائحات، ثیبات اور ابکارہوں گی۔

 - -  ----------------------------------------

طلاق کا لفظ اِن آیات میں بھی آیا ہے :
 
فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا رَ‌كِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَ‌قَهَا قَالَ أَخَرَ‌قْتَهَا لِتُغْرِ‌قَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرً‌ا (18/71)
پھر وہ دونوں طلاق ہوئے (موسیٰ کے ساتھی سے )، یہاں تک کہ ایک
السَّفِينَةِ میں سوار ہوئے، اُس (عَلَّمْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا عِلْمًا ) نے اس کے تختے توڑ دیئے، موسٰی نے کہا کیا تواسے توڑ کر کشتی والوں کو غرق کرنا چاہتا ہے ؟ یہ کیسا کام کیا ہے ؟

فَانطَلَقَا
حَتَّىٰ إِذَا لَقِيَا غُلَامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ‌ نَفْسٍ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُّكْرً‌ا
(18/74)

پھر وہ دونوں طلاق ہوئے (کشتی سے)،یہاں تک کےوہ ایک غلام سے ملے ۔ پس اُس کو اُس (عَلَّمْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا عِلْمًا ) نے قتل کر دیا، کیا تو نے ایک زَكِيَّةً نفس کوبغیر (قصاصِ نفس ) کر دیا ہے ۔  یہ کیسا کام کیا ہے ؟

فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْ‌يَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَن يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارً‌ا يُرِ‌يدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقَامَهُ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرً‌ا (18/77)
پھر وہ دونوں طلاق ہوئے (مقتول زَكِيَّةً نفس ایک بستی کے پاس آکر ان  سے  کھانا طلب کیا تو انہوں نے اُن دونوں کی ضیافت سے انکار کر دیا،  دونوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو گرا ہی چاہتی تھی، اس(عَلَّمْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا عِلْمًا )  نے اسے ٹھیک اور درست کر دیا، موسیٰ بولا اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے ۔

وَيَضِيقُ صَدْرِ‌ي وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْ‌سِلْ إِلَىٰ هَارُ‌ونَ
(26/13) 
اور مجھے ضِيقُ صَدْرِ‌ ہے اور میری لِسَانِ بھی طَلِقُ (جدا) نہیں ہے تواُن کی طرف هَارُ‌ونَ کو رسول کر ۔


وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُ‌وا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ يُرَ‌ادُ ﴿38/6
اور اُن کے الْمَلَأُ  (باقی لوگوں سے )  طَلَقَ ہوئے ، یہ کہ تم بھی چل پڑو، اور اپنے الہہ  پر صبر کرو، بے شک یہ (عقل کو ) گھمانے والی چیز ہے
سَيَقُولُ الْمُخَلَّفُونَ إِذَا انطَلَقْتُمْ إِلَىٰ مَغَانِمَ لِتَأْخُذُوهَا ذَرُ‌ونَا نَتَّبِعْكُمْ يُرِ‌يدُونَ أَن يُبَدِّلُوا كَلَامَ اللَّـهِ قُل لَّن تَتَّبِعُونَا كَذَٰلِكُمْ قَالَ اللَّـهُ مِن قَبْلُ فَسَيَقُولُونَ بَلْ تَحْسُدُونَنَا بَلْ كَانُوا لَا يَفْقَهُونَ إِلَّا قَلِيلًا (48/15)
مخالفون یقیناً بولیں گے !  جب  تم( اُن سے)  مَغَانِمَ کی طرف طلق کرو گے تاکہ تم اُن ( مَغَانِمَ ) کو حاصل کرو ہمیں چھوڑ دو ہم تمھاری اتباع کرتے ہیں ۔  وہ چاہتے ہیں کہ کلام ﷲ کو بدل دیں۔ کہہ : تم ہرگز ہماری اتباع نہیں کر سکتے اسی طرح ﷲ نے پہلے کہا۔ پس اب وہ  یقیناً بولیں گے ! بلکہ تم ہم سے حسد کرتے ہو، بلکہ یہ لوگ فقہ نہیں کرتے سوائے قلیل کے -
 

فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ ﴿68/23
 سو وہ لوگ طَلَق ہوئے اور وہ آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے،

انطَلِقُوا إِلَىٰ مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ ﴿المرسلات: ٢٩﴾

اس کی طرف طَلِقُ  کرو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے -

انطَلِقُوا إِلَىٰ ظِلٍّ ذِي ثَلَاثِ شُعَبٍ ﴿المرسلات: ٣٠﴾
اس ظِلٍّ کی طرف طَلِقُ  کرو جس کے تین شُعَبٍ  ہیں،




٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید مضامین ، اِس سلسلے میں دیکھیں :







اسلام کا قانونِ نکاح اور طلاق -1   - نکاح  (مرد و عورت کے جسمانی تعلقات کی ابتداء)

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔