میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 8 جولائی، 2015

بڑے آپریشن سے بچے کی پیدائش

بڑے آپریشن سے بچے کی پیدائش ۔۔۔۔۔۔ خطرے کا نشان
عورتوں کے لئے ایک معلوماتی تحریر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




برٹش میڈکل جرنل میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ڈاکٹر میگی لکھتی ہیں:-
عورتوں جس قدر ممکن ہو نارمل ڈیلیوری کی حوصلہ افزائی کرنی چائیے ۔ برطانیہ میں کچھ عرصہ سے بڑے اپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائیش کی شرح بڑھتی جا رہی ہے ۔ جو عورتوں میں اک فیشن ک صورت اختیار کر گیا ہے-

اک سروے کے مطابق برطانیہ میں ہر چوتھا بچہ بڑے اپریشن کی پیداوار ہے ، 
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اگر میڈیکل مسائل کی بنا پر یہ آپریشن ہو رہے ہیں تو کل آبادی کازیادہ سے زیادہ 10 فیصد ایسا ہونا چاہئے ۔
 تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اگر ایک دفعہ یہ آپریشن کرا لیا جائےتو آیندہ کے لئے اس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔
 

2 تبصرے:

  1. رابعہ خرم درانی نے لکھا :

    .. مجهے اس بات کی سمجه نہیں آتی کہ ڈاکٹر ایسا کہیں کہ ہم دو میں سے ایک جان کو بچا سکتے ہیں .. ماں اور بچہ دونوں ہی جانیں ایک دوسرے سے منسلک ہوتی ہیں .. دونوں ہی بیک وقت ایک سی درد برداشت کرتی ہیں اور ایک سے حالات سے گزرتی ہیں .. ان دونوں کو ہی خطرات لاحق ہوتے ہیں .. ایک کی جان بچانے کے لئے دوسرے کی جان کی قربانی کوئی شرط نہیں ہے .. ہاں بعض صورتوں میں کسی ایک یا دوسرے کی جان کو نسبتاً زیادہ خطرات لاحق ہوتے ہیں اور ایسا دوران زچگی پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث ہوتا ہے ..
    یہ ایک غلط العام سوچ ہے جو کہ عموماً انڈین فلموں اور ڈراموں سے پھیلی ہے .کہ شائد ماں کو مرنے دیں تو بچہ بچ جائے گا یا بچہ کو جانے دیں تو ماں کو بچا سکتے ہیں ..
    نہیں بهئ ایسا نہیں ہے .. درحقیقت یہ دونوں اپنی اپنی جگہ دو مکمل انسان ہیں جو زچگی کے عمل سے گزر کر اپنی الگ حیثیت میں دنیا پر ظاہر ہوتے ہیں .. ایسا ممکن ہوتا ہے کہ ڈاکٹر عزیزان ارب کو یہ سمجه آنا چاہیں کہ اگر آپ نارمل ڈیلیوری پر اصرار کرتے رہے تو شائد آپ ماں کو '' آپریشن '' سے تو بچا لیں لیکن اس دوران آکسیجن کی کمی کے باعث بچہ دم گھٹنے کا شکار ہو سکتا ہے ..
    تو بچانا ماں یا بچے کی جان میں سے ایک کا نہیں ہرتا بلکہ نارمل لیبر یا آپریشن میں سے کسی ایک کے انتخاب کا ہوتا ہے ..

    ایک اور وضاحت کرتی چلوں کہ حمل کا دورانیہ ایک عورت کے لئے جہاد کا میدان ہے .. اور عمل زچگی کو آپ حالت جنگ سمجه لیں .. اگر عورت ایک کامیاب زچگی سے سرفراز ہوئی ہے تو وہ ''غازی'' ہے اور اگر دوران زچگی وہ جان کی بازی هار دیتی ہے تو وہ ''شہید'' ہے .. اور شہید کی جگہ جنت کے باغات میں ہے ..
    اسی طرح جو بچہ اس دوران اپنی جان ج..جان آفریں کے سپرد کر دیتا ہے وہ اپنی والدہ کا جنت میں انتظار کرتا ہے .. .
    محبتیں دعائیں پیار

    جواب دیںحذف کریں
  2. رابعہ خرم درانی نے مزید لکھا :

    اس بچے کے گلے میں لپٹی کارڈ دیکھیں اگر اس بچے کو نارمل زچگی کے عمل سے گزارا جاتا تو یہ پیدا تو شاید ہو جاتا لیکن زندہ پیدا ہونا مشکل تھا .. کیونکہ یہ کارڈ یا فوڈ پائپ اس کے گلے میں پھانسی کا پھندا ثابت ہوتی ..
    اب کیونکہ یہ ہم دیکھتے ہیں اور عزیز و اقارب نہیں تو ان کا سمجھ پانا مشکل ہوتا ہے کہ بچے کو خطرہ کیا تھا ..

    اس بچے کے لئے اگر آپریشن نہ کیا جاتا تو اس کا بچنا مشکل تها۔

    جواب دیںحذف کریں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔