میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 7 جولائی، 2015

میرے ڈرامے - فرینڈز ایسوسی ایٹس

بہت پرانی بات ہے ، جب میں اٹک سے اسلام آباد شفٹ ہوا ۔ تو جی نائن وَن میں ایک کرائے پر مکان لیا ۔ پرسکون کینٹونمنٹ کی طرح ماحول کھلی سڑکیں ۔ اچھے لوگ ۔ زندگی پر سکون گذر رہی تھی ۔ میں بھی ملازمت کی تلاش میں مختلف جگہ درخواست ڈال رہا تھا ۔کیوں کہ پہلی پنشن کو یکم نومبر 1999 کو بنک میں آئی 6،690 روپے سکہ رائج الوقت تھی ۔  اور قسمت یاوری نہیں کر رہی تھی ۔
4 سکول و کالج جانے والے بچے اور خرچ پھر بقر عید آنے والی تھی ، جمع کردہ پونجی کی سطح آہستہ آہستہ کم ہو رہی تھی ۔ بُرے وقتوں کے لئے بچائی ہوئی کچھ رقم قومی بچت میں جمع کروائی تھی ، اُس سے دن اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے گذر رہے تھے ۔
ملنے والی پنشن کو فکسڈیپازٹ میں جمع کروادیا تھا ، کیوں کہ فوج کی طرف سے ملنے والے مکان کی یکمشت ادائیگی بھی کرنا تھا ۔

فروری میں چھوٹی بہن کا انتقال ہوا ۔ بس بھاگم دوڑ گھوٹکی پہنچا واپسی میں ابّا جان کو سکھر سے اسلام آباد بذریعہ جہاز لے آیا جو میرپورخاص سے گھوٹکی آئے ہوئے تھے ۔
مارچ کا وسط تھا ، اسلام آباد عید کی وجہ سے خالی ہونا شروع ہو گیا تھا ۔ ہفتے کا دن تھا ۔ کوئی رات دس بجے اچانک آڈیو ڈیک پر پورے والیوم سے گانے بجنے شروع ہو گئے ۔ پہلے انتظار کیا آواز سے لگتا تھا کہ پچھلی گلی والے گھر سے آواز آرہی ہے ۔ ابّاجان  بھی سوتے ہوئے ھڑبڑا کر اُٹھ گئے ۔  میں نے دیوار سے آواز دے کر بلایا ۔ تو اُنہوں نے بتایا کہ آپ کے پڑوس سے آواز آہی ہے ۔
پڑوس میں گیا ۔ گھنٹی بجائی ، پہلی منزل پر ایک نوجوان آیا ۔ اُس سے درخواست کی کہ
" ذرا والیوم کم کر دیں ، بچوں کے سالانہ امتحان ہو رہے ہیں اور وہ ڈسٹرب ہو رہے ہیں "۔
"ہمارے ہاں منگنی ہے اِس لئے خوشی میں گانے سن رہے ہیں " نوجوان نے بتایا
" لیکن گھر تو خالی لگتا ہے باقی افراد کہاں ہیں ؟ " میں نے پوچھا ۔
" جی منگنی گاؤں میں ہے ۔ " اُس نے معلومات دی ۔
" تو پھر آپ اِس کو بند کر دیں " میں نے ذرا اونچی آواز میں کہا
" نہیں کریں گے جس کو کہنا ہے جا کرکہیں " نوجوان اکڑ کر بولا ۔
اب بحث بے کار تھی ۔ میں واپس مڑا ایک اور صاحب نظر آئے جو یہ سب مکالمات سُن رہے تھے ۔ اُنہوں نے رائے دی،
" آپ ، پولیس والوں کو بتائیں وہ انہیں روک دیں گے "
ّ پولیس والے ، اب کہاں آئیں گے وہ بھی سو رہے ہوں گے " میں نے کہا
" نہیں ایک نیا محکمہ بنایا ہے ۔ اُن کا ٹیلیفون نمبر 15 ہے ، اُنہیں بتائیں ، شائد وہ مدد کریں !" اُنہوں نے راہ سجھائی ۔
" جی آپ ا شکریہ میں کوشش کرتا ہوں " یہ کہہ کر میں اُن سے ھاتھ ملا کر گھر آگیا اور فون پر 15 ملایا ۔

السلام و علیکم ریسکیو 15 ، سر ! میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟ " خلاف توقع ایک شائستہ آواز نے مجھے خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا
" میں میجر خالد بول رہا ہوں ، فوج سے ریٹائر ہو کر اسلام آباد آیا ہوں " میں نے اپنا تعارف کروایا
" جی سر ! " آواز آئی ۔
" میرے پڑوسی، عید پر اپنے گاؤں گئے ہیں ، پیچھے شائد دو نوجوان بچے ہیں اُنہوں نے فل والیوم پر ڈیک لگایا ہے اور  میرے بچوں کے امتحان ہونے والے ہیں وہ ڈسٹرب ہو رہے ہیں !" میں نے شکایت کی " آپ اگر کچھ کرسکتے ہیں تو مہربانی ہوگی "
" میں ابھی ڈیوٹی پر موجود آدمی بھجواتا ہوں " آواز آئی " آپ ایڈریس لکھوائیں اور انتظار کریں "
ایڈریس لکھوایا اور شکریہ کہہ کر فون رکھ دیا ۔ کوئی پانچ منٹ بعد گھنٹی بجی ۔ ارسلان نے باہر جاکر دیکھا اور بتایا کہ گاڑی پر پولیس والے آئے ہیں ۔ میں باہر نکلا ۔ اُنہیں لے کر پڑوس میں گیا ۔ پولیس والے نے گھنٹی بجائی ۔ اوپر سے اُسی نوجوان نے جھانکا ۔
" آپ نیچے آئیں " پویس والے نے کہا ۔
" کیوں " وہ جوان تنتا کر بولا ۔
" اچھا تو پھر ہم اوپر آتے ہیں " پولیس والا نرمی سے بولا
" میں آرہا ہوں " نوجوان بولا ۔
تھوڑی دی بعد گھر کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی ۔ پھر قدموں کی چاپ اور مین گیٹ کا چھوٹا دروازہ کھلا اور ایک 25 سالہ جوان باہر نکلا ۔ میری طرف دیکھ کر بولا ۔
" آپ اسلام آباد میں نئے آئے ہیں یہاں رہنے ے طریقے سیکھیں ۔ آپ ہماری پرائیویسی میں دخل کیوں دے رہے ہیں "
"آپ اپنے سر پ ہیڈ فون لگائیں اور فل والیوم سے گانے سنیں ۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ، لیکن آپ مجھے گانے نہ سنائیں " میں نے جواب دیا ۔
" آپ اپنے کان بند کر لیں ، میں کچھ نہیں کر سکتا " وہ غصے سے بولا اور گھر جانے کے لئے مڑا ۔ تو پولیس سب انسپکٹر نے اُس کا بازو پکڑ لیا ۔
" آپ میرے ساتھ تھانے چل رہے ہیں " سب انسپکٹربولا ۔
نوجوان یک دم بوکھلا گیا ۔ " میں نہیں جاؤں گا " وہ ہکلاتا ہوا بولا ۔
" انہوں نے آپ کے خلاف شکایت کی ہے اور میں نے آپ کا جواب سن لیا ہے ۔ اب آپ کی ضمانت کل ہوگی - آج رات آپ تھانے میں گذاریں گے " سب انسپکٹر بولا
دروازے سے ایک اور نوجوان نکلا ، " سر معاف کر دیں یہ بے وقوف ہے میں معافی مانگتا ہوں " وہ سب انسپکٹر سے بولا
" نہیں معافی یہ اِن سے مانگے گا اگر انہوں نے معاف کیا تو ورنہ یہ تھانے جائے گا" سب انسپکٹر بولا
نوجوان نے گڑگڑا کر معافی مانگی ۔ ہم نے بھی رعایت کر دی ۔ پولیس والوں کا شکریہ ادا کیا ۔ نوجوانوں نے ڈیک بند کر دیا پھر اُس گھر سے کبھی گانوں کی آواز نہ آئی ۔

عید کے بعد ، میں نے ریسکیو 15 کے متعلق معلومات اور ایک دن ایس پی ناصر درانی کا شکریہ ادا کرنے اُن کے آفس گیا ۔ وہاں جاکر معلوم ہوا کہ جب میں 1982 میں جہلم میں تھا تو اِن کا بیج آرمی کے ساتھ ٹریننگ کرنے آیا تھا - تب آفیسر میس میں گروپ ے ساتھ ملاقات ہوتی تھی ۔ اُنہیں نے ریسکیو 15 کے بارے میں مکمل معلومات دیں اور کئی دلچسپ واقعات بھی بتائے ، 
آپ بہترین کام کر رہے ہیں ۔ میں نے کہا " سر ، اِس کو لازمی پبلسٹی دینا چاھئیے ! "
" کیسے ؟ " انہوں نے پوچھا
" اِس پر ڈرامہ بنا کر آپ نے جو واقعات بتائے ہیں ہر واقعہ ایک کہانی ہے " میں نے کہا
" گڈ آئیڈیا ، اچھا کوشش کرتے ہیں ، میری پی ٹی وی میں تھوڑی بہت واقفیت ہے ، اُن کو ٹاسک دیتا ہوں " ناصر درانی نے کہا اور ہم وہاں سے آگئے ۔
نوکری تو نہ ملی ، اگر نوید ملی بھی وہ شہر سے کوسوں دور کی تھی ۔ کیا کیا جائے ؟
مختلف مشورے دوستوں سے مل رہے تھے۔ ایک دوست نے کہا کہ اُس کے ایک دوست کی دکان ہے جو پی ٹی وی میں سرکاری ملازم ہے ۔پہلے وہاں اُس کا سالا بیٹھتا تھا ۔ آپ وہاں بیٹھ کر ۔ " ٹینڈرنگ " کا کام کریں ۔ وہ آپ کی مدد کرے گا ۔
میں نے ، ایم ای ایس کامرہ میں ایک "عزیز دوست سعید خالد" کے توسط کنسٹرکشن کا کام شروع کیا تھا۔ لیکن جب دی جانے والی رشوت اور منافع کا تناسب نکالا تو معلوم ہوا کہ ایمانداری سے کام کرنے پر صرف رشوت ہی دی جا سکتی ہے اور وہ بھی 23فیصد اور اپنے ھاتھ صرف نیک نامی آتی ہے کہ کام کر ہے ہیں فارغ نہیں ۔ وہ کام بھاری پتھر سمجھ کر چھوڑ دیا لیکن نقصان اٹھانے کے بعد ۔

بہرحال پھر وہ دکان بھی اپنے پرانے اور بوسیدہ مال سمیت ہمارے گلے پڑ گئی ۔ وہ کیسے ؟
کہ یہ دکان ایک پی ٹی وی کے اکاونٹ آفیسر " شجاعت علی "  کی تھی - ہمارے دوست اور اُنہوں نے بڑی مہارت اور پیار سے ہمیں گھیر لیا ۔
کہ آپ پی ٹی وی میں سپلائی کے لئے رجسٹر ہوں ، ہم آپ سے سپلائی مانگیں گے آپ یہ سب سامان ہمیں دے دیں ۔ بلکہ مزید بھی ۔ ہم دکان کے پچھلے حصے میں افس بنا کر بیٹھ گئے ۔ پھر کیا ہوا یہ الگ کہانی ہے بلکہ کہانیاں ہیں ۔

سردست بات ہو رہی تھی ۔ ریسکیو 15 کی ۔ ایک دن ایک بوڑھا مجہول سا شخص میرے آفس میں آیا اور مجھ سے اپنا تعارف " اقبال فہیم جوزی " کی حیثیت سے کروایا ۔ " جوزی " علامہ اقبال یونیورسٹی میں 60 سال پورے کر کے بحیثیت ڈائریکٹر ریٹائر ہوا ۔ اب وہ پی ٹی وی میں مارننگ شو کا سکرپٹ لکھتا ہے ۔ میں نے وجہ آمد پوچھی ، تو بتا یا کہ اُسے ناصردرانی کی معرفت معلوم ہوا ہے کہ میں ریسکیو 15 کو ٹی وی پر دکھانے کا خواہشمند ہوں ۔ مجھے " جمیل احمد " نے بھیجا ہے ۔

" بھائی ، میں دلچسپی نہیں رکھتا ہاں اُنہیں رائے ضرور دی تھی " میں نے جواب دیا " اور مجھے ڈرامے دیکھنے میں بھی دلچسپی نہیں "
" میں یہاں سے فون کر سکتا ہوں " جوزی نے پوچھا ، تو میں نے فون آگے کر دیا ۔ اُس نے نمبر ملایا
" یار جمیل صاحب، میجر صاحب تو راضی نہیں ۔ میں درانی کو کیا کہوں ؟" جوزی بولا اور کچھ سن کر میری طرف فون بڑھا دیا ۔
" میجر صاحب ! بس آپ جوزی کے ساتھ میرے آفس آجائیں " 
جمیل صاحب کی آواز آئی ۔ میں جوزی کو لے کر پی ٹی وی پہنچا ۔ وہاں شجاعت علی بھی تھا اور" امجد بخاری " کے آفس میں ہم جمع ہوئے تھے ۔ وہاں امجد بخاری نے مجھے قائل کیا کہ سامنے آپ اور جوزی ہوں گے اور پس پردہ وہ اور جمیل صاحب ، ایک ڈرامہ 40 یا 45 ہزار میں بنے گا بلکہ اِس سے بھی کم کیوں کہ اصلی پولیس والے استعمال ہوں گے اورایک ڈرامہ پی ٹی وی65 ہزار کا خرید لیتا ہے اور اگر آپ خود چلائیں تو آپ کو ٹائم خریدنا پڑتا ہے اور ڈرامے کی کوالٹی پر منحصر ہے کہ وہ پرائم ٹائم میں چلے یا دیگر ٹائم میں ۔ جس کے لئے اشتہارات کے ذریعے پروڈیوسر کو آمدنی ہوتی ہے ۔

لیکن شروع میں کچھ رقم دینا ہو گی اور پھر جب ڈرامہ چلے گا تو وہ اپنی آمدنی سے بنتا ہے گا ۔
" کتنی رقم دینا ہو گی اور کہاں سے آئے گی ؟" میں نے پوچھا
" کوئی 60 یا 65 ھزار دو قسطوں کے لئے چاھئیے کیوں کہ ہم دو دو قسطوں کی کہانے بنائیں گے تاکہ ناظرین کی دلچسپی بھی ہے اور خرچ بھی کم آئے اور یہ بھی یک مشت نہیں ہوگا ۔ پہلے ہم پرومو پی ٹی وی کو دیں گے اپروو ہونے کے بعد پہلی قسط ، سنسر اور منظوری کے لئے دیں گے ، قسط منظور ہونے کے بعد ہم باقی قسطیں بنانا شروع کریں گے ، پرومو بنتے ہی میں دو منٹ کے اشتہارات دلوادوں گا ، جوزی کے پاس بھی ایک کمپنی ہے جو ڈیڑھ منٹ کے اشتہار دے دے گی " امجد بخاری نے تفصیل بتائی ۔
" میں سوچتا ہوں اور آپ کو بتاتا ہوں " میں نے نیم حامی بھری ۔
واپس آیا اور اپنے بزنس کے گرو،" اکرم خورشید " کے پاس پہنچا ۔ بزنس میں مجھے اکرم نے ڈالا تھا، اُسے ساری بات بتائی ، اُس نے منظوری دے دی بلکہ اپنا خوبصورت آفس بھی ریکارڈنگ کے لئے دے دیا ۔
یوں ایک رجسٹرڈ کمپنی " فرینڈس ایسوسی ایٹس " 27 جولائی 2000 میں وجود میں آئی ۔ 
کچھ پرانی تصاویر ڈھونڈنے کے لئے فائلیں دیکھ رہا تھا کہ یہ دو پلیٹیں زمین پر گریں ، اُٹھا کر دیکھا تو ۔۔۔۔۔۔!

 امجد بخاری، جمیل خان ، شجاعت علی ۔ اسلم ناز ، اقبال فہیم جوزی ، غضنفر بخاری اور ہمارے میرپورخاص کے سکول فیلو ، راؤ مختار احمد اور ہاں اپنے ضیاء اللہ خان نیازی کے علاوہ کئی اور نام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

شِک کر کے دماغ کی سکرین سے ایک دم دمدارستارے کی طرح گذر گئے ۔ لیکن اُس کی چھوڑی ہوئی لکیر نے یادوں کو تازہ کر دیا ۔





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔