میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ, جولائی 8, 2015

بر صغیر کی ملکہ - مسور




 ملکہ مسور ، سے بوڑھے کا تعارف اوائل 1958 میں ہوا جب وہ ، نمّو تھا اور نوشہرہ میں اپنے والدین ، بڑی بہن اور چھوٹے بھائی کے ساتھ رہتا تھا ۔
ایک اتوار کا ذکر ہے ، نمّو اپنے آپا کے ساتھ ابّا کے کہنے پر شہر کی طرف ، میرون کوٹ پہن کر روانہ ہوا ، اِس کوٹ کی ایک خاص بات یہ تھی کہ کمر پر اَستر کے اندر ایک خفیہ جیب تھی ، جیسا کہ ماضی کے ایک بچے کی تھی ۔
تو نوجوانو! نمّو کی کمر کی خفیہ جیب میں ایک رسالہ ڈالا جاتا ، نمّو کو ہدایت دی جاتیں کہ بلکل سیدھا حکیم صاحب کے گھر جانا اور سیدھا واپس آنا ۔ اِس کا مطلب یہ نہ تھا کہ ، نمّو کو ٹیڑھا (دائیں) میڑھا (بائیں )  چلنے کی عادت تھی ۔ 
دراصل اُن دنوں ، "الاعلیٰ کے ابُو"  کی جماعت پر مکُی دور گذر رھا تھا ۔ چنانچہ ایک نئے فرقے کے بانیوں کے لئے یہ احتیاط لازم تھی ۔ یہ فرقہ خود کو راہ راست پر سمجھتا تھا اور باقی سب کو بھٹکے ہوئے مسلمان ۔ اب بھی یہی حال ہے ۔ دیگر مسلمان اِنہیں وہابی کہتے جو ایک گالی سے کم نہیں سمجھا جاتا تھا ۔
گھر سے باہر نکلتے ہی  نمّو معتبر ہوجاتا ، کیوں کہ ابّا کے فرمان خصوصی کے مطابق ، گھر سے باہر بھائی ، بہنوں سے بڑے ہوتے ہیں - یوں چینج آف کمانڈ کی غیر تحریری کاروائی ہوتی ، جسے آپا اکثر ماننے سے انکار کرتی ، یوں نمّو ہمیشہ آپا کے بائیں ھاتھ پرہی رہا ؛ گھر کے اندروہ اپنی پوری کمانڈ کی دھاک بٹھاتی اور گھر سے باہر وہ  نمّو کمانڈ کو صرف ایک لفظ " آپا" کی ادائیگی سے خاطر میں نہ لاتی ۔
خیر آپا اور نمّو اپنے  گھر کے پاس گذرنے والی سڑک پر گیٹ سے گذر کر جاتے ، جہاں ایک سنتری کھڑا ہوتا ، جہاں سے ٹھیک 500 گز دور سڑک کے دائیں کنارے فٹ پاتھ پرایک درخت تھا جس کے پاس حکیم صاحب کی دکان تھی اور اوپر گھر ، جس کادروازہ پچھلی گلی میں تھا ۔ جہاں پہنچ کر  نمّو کا پہلا مشن ختم ہوجاتا ۔
یہ سڑک ، نوشہرہ ریلوے سٹیشن سے آتی اور حکیم صاحب کی دکا ن کے سامنے سے گذرتی آخر میں بائیں طرف زیارت کاکا صاحب اور دائیں طرف نوشہرہ کشتیوں کے پل پر جی ٹی روڈ کو کراس کرتے ہوئے جاتی ۔

تو توجوانو ، جب  نمّو اور اُس کی آپا مہینے میں ایک دفعہ جاتے تو خالہ جان اُنہیں کھانا ضرور کھلاتیں ، اُس اتوار  نمّو نے بالکل ایسی   ہی چٹخارے دار دال کھائی تھی ، جس میں اِملی بھی تھی ، آپا کو تو پسند نہ آئی ۔ لیکن  نمّو نے ، چنیی سٹک کی طرح ، اپنی انگلیوں کی سٹک سے مزے لے کر کھائی ۔کوٹ تو اتار دیا تھا ، خالہ نےدونوں آستینیں اوپر چڑھا دی تھیں ،  دال انگلیوں سے بہتی ہوئی  کلائی  سے لپٹتی اور کہنی تک جانے سے پہلے  ہی نمّو چاٹ لیتا ،   پلیٹ کو بالکل اچھی طرح صاف کیا ، کہ ملکہ مسور کے فراک کے  گھسیٹنے کا نشان بھی  پلیٹ پر نہ رہا ،  انگلیوں کو بھی مزے سے  چاٹا ۔
خالہ (حکیم صاحب کی بیگم) سے پوچھا ، تو معلوم ہوا یہ ملکہ مسور ہے ۔ اور  نمّو نے یہ دال بھی پہلی دفعہ دیکھی ، کیوں کہ  نمّو کے گھر جو دال سرکاری سٹور سے آتیں وہ آدھی ہوتی تھیں، جن سے لال رنگ جھانک رہا ہوتا ، امّی دال چھلکوں سمیت پکاتی تھیں ، اُمّی کے بقول اصل غذایت چھلکوں میں ہوتی تھی ، مہمان آتے تو امّی دھلّی دال (چھلے بھگوکرا تارے ہوئے ) پکاتیں ۔
گھر آکر امّی کو بتایا ،
"ہاں ، حیدر آبادی دال ہو گی "،
امی بولی، "حیدرآبادی بہت کھاتے ہیں"
 نمّو سمجھا، کہ شاید یہ بھی کوئی ایسی دال ہے جسےحیدرآبادی کے علاوہ دوسرے نہیں کھا سکتے -
جون میں،  نمّو اپے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ اپنی دادی سے ملنے میرپورخاص روانہ ہوا ، راولپنڈی چھوٹے ماموں، عبدالحنیف خان یوسف زئی ،  کے ہاں دو دن ٹہرے ،مجبوری تھی کیوں کہ ٹرین راولپنڈی سے آگے نہیں جاتی تھی ، وہاں سے لاہور کی ٹرین لینا پڑتی تھی ۔ ہمارے بچپن میں ٹرین جنکشن ٹو جنکشن چلتی تھیں ، بڑا مزہ آتا  تھا ۔  اب بچوں کے لئے کیا مزہ ، پشاور سے بیٹھو اور کراچی سٹی جا اترو ۔ ۔  ۔۔  !!
لاھور 3 دن ٹہرے کیوں کہ ساتھ ممانی اور اُن کے تین بچے بھی ساتھ ہولیے ۔ لاہور میں ممانی کے امی ابو رہتے تھے ۔ لاہور سے بہاولپور پہنچے ، جہاں  نمّو کے منجھلے ماموں  عبداللہ خان یوسف زئی ،مہاجر کالونی میں  رہتے تھے وہاں ایک ہفتہ گذارا ۔
بہاولپور سے نوابشاہ پہنچے جہاں  نمّو کے بڑے ماموں  عبدالحکیم خان  یوسف زئی رہتے تھے ۔ ہفتہ گذارنے کے بعد ، نوبشاہ سے ،چھوٹی ریل سے  نمّو اپنے والدین کے ساتھ میرپورخاص دادی کے گھر پہنچا ۔
وہاں ،  نمّو نے وہی ملکہ مسور کھائی ۔  نمّو کو شدید حیرانی ہوئی اور چلایا ،
" دادی یہ تو حیدر آبادی کھاتے ہیں !"
" ارے پوٹے کیا ہم حیدرآبادی نا ہوئیں "
نمّو کی ماں تو اجمیری تھی ۔ لیکن بیوی حیدرآبادی ملی ۔
پھر  نمّو کو معلوم ہوا کہ بیویاں تو کھانوں کا ذائقہ ہی بدل دیتی ہیں ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 
مزید پڑھیئے  

یہ منہ اور مسور کی دال



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔