میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 8 جولائی، 2015

میرے ڈرامے . ڈریگن فلائی

تمام جزئیات طے ہوئیں ،" ون لائن سٹوری " اور سٹاک شاٹ کے بندوبست کی ذمہ داری " جوزی " کی تھی - کہانی لکھوانے کے لئے ایک مشہور تو نہیں لیکن ایک رائیٹر کی خدمات لینا تھیں ، ڈائریکٹر غضنفر بخاری کو امجد بخاری نے ٹیم میں شامل کیا اور جمشید فرشوری کا"نیشنل ٹیلویژن سٹوڈیو" کیمرے و ایڈیٹنگ کے لئےلیا گیا کہ وہ تمام خدمات کا معاوضہ، کریڈٹ کرے گا اور ڈرامہ آن ائر جانے کے بعد لے گا ۔
 میں ، رائیٹر اور جوزی جا کر ایس ایس پی ناصر درانی سے ملے۔ تاکہ اُس کے خیالات و آئیڈیاز کو مد نظر رکھتے ہوئے ، مکمل 12 قسطوں کے ڈرامے بنائے جائیں ۔
جب میٹنگ ختم ہوئی ، تو ناصر درانی نے مجھے ہدایت کی کہ ، ریسکیو 15 کی کاروں اور موٹر سائیکلوں کا ضرورت پڑنے پر انتہائی احتیاط سے استعمال کیا جائے ۔ اِنہیں کسی بھی قسم کا نقصان ہیں پہنچنا چاھیئے ۔
تین دن کے بعد رائیٹر پہلی کہانی میرے آفس میں چھوڑ گیا اور پیغام دیا کہ اُس کا چیک اُسے جلدی دے دیا جائے ، میں نے کہانی پڑھ کر جوزی کو پڑھائی ، ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ یہ ناصر درانی کو ابھی نہ دکھائی جائے - جوزی اِسے ناصر درانی کی رائے کے مطابق مزید بہتر لکھوائے ۔ اِس کے بعد میں کراچی چلا گیا ۔ میرا ہفتے کا بزنس کا دورہ تھا ۔ میں نے سب سے پہلے کمپیوٹر ہارڈ وئیر کا بزنس شروع کیا کیوں کہ مجھے فوج کے زمانے سے مہارت تھی اور میں خود بھی ایک اچھا ٹیکنیشن تھا اور پروگرامر بھی ۔
ابھی دوسرا دن تھا کہ جوزی کا فون آیا ۔
" یار میجر صاحب ، غضب ہو گیا " 
" کیا ہوا جوزی صاحب ؟ " میں نے پوچھا ۔
" اُس نے آپ کے خلاف آخباروں بیان چھپوایا ہے ، کہ میجر صاحب نے اُس سے ریسکیو 15 کے ٹی وی پلے کی کہانیاں لکھوانے کا معاہدہ کیا ہے ، انہوں نے کہانیاں لکھ کر دیں ، ڈرامے کی شوٹنگ شروع ہوگئی لیکن اس کے پیسے اُسے نہیں دیئے گئے " جوزی نے بتایا ۔
" کیا اُس کی کہانی ایس ایس پی صاحب سے  منظور ہو گئی ہے " میں نے پوچھا ، " اور شوٹنگ کب شروع ہوئی ؟"
" کہانی میں نے ایس ایس پی کے پی اے کوآج دی ہے ۔ شوٹنگ تو ابھی شروع نہیں ہوئی " جوزی بولا ، " لیکن یہ مسئلہ ہو جائے گا "
" نہیں ہو گا ۔ ؐمیں کل واپس آرہا ہوں " میں نے بتایا ۔
میں نے موبائل بند کیا ہی تھا کہ ایس ایس پی صاحب کے پی اے نے کہا کہ صاحب بات کریں گے ۔ اور ناص درانی کو ملا دیا ۔
" میجر صاحب ، یہ آپ نے رائیٹر کے پیسے کیوں نہیں دئے اور شوٹنگ مجھے بتائے بغیر کیسے شروع کر دی ۔ نہ کہانی مجھے بتائی " وہ کال ملتے ہی بولے ۔
" کیا ایسا ھو سکتا تھا ۔ سر ! " میں نے جواب دیا " میں کراچی میں ہوں مجھے بھی ابھی ابھی جوزی نے بتایا ہے ۔ کہانی ابھی ہمارے پاس ہے ۔ جوزی صاحب آج آپ کو دیں گے ، آپ منظور کریں گے تو ہم آگے بڑھیں گے " 
" بس اِس سے ایک کہانی لکھوا کر ختم کریں ، یہ آپ کو تنگ کرے گا اور جب آئیں مجھے ملیں ۔ میں کہانی پڑھ کر ڈسکس کروں گا۔ اللہ حافظ " ناصر درانی نے کہا اور فون بند کر دیا ۔

جب ٹیلی پروڈکشن کی زخار وادی میں قدم رکھا ، تو بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اسے سمجھا ، روزانہ پی ٹی وی چلا جاتا ۔ مختلف ڈراموں  کی اِن ہاوس ریکارڈنگ دیکھی ، ون لائین سٹوری کو سمجھا ۔ ریکارڈڈ ڈراموں کے سکرپٹ پڑھے - ایڈیٹنگ سکرپٹ دیکھے، ٹی وی لائبریری سے پروڈکشن کے متعلق کتابیں پڑھیں ، تین آؤٹ ڈور ڈاکیومنٹری کی شوٹنگ دیکھیں ، ایڈیٹر کے پیچھے بیٹھ کر ایڈیٹنگ دیکھی ۔ یوں میں مکمل طور پر کسی بھی ھنگامی حالت کے لئے تیار " سُنی اسسٹنٹ پروڈیوسر " بن چکا تھا ۔

میرے پاس دو راتیں تھیں اور رائیٹر کی سٹوری کے مقابلے میں ایک اچھی کہانی لکھنا تاکہ ، ایس ایس پی کے سامنے شرمندگی نہ ہو !

اسلام آباد پہنچا دوسرے دن ، میں اور جوزی ایس ایس پی کے پاس پہنچے ۔ لبِ لباب یہ تھا کہ پورے ڈرامے میں ریسکیو 15 کو اجاگر کرنا تھا نہ کہ ہیرو ہیروئین کو ۔ اور کہانی کے ہیرو صرف اور صرف ریسکیو 15 والے ہونے تھے اور پاکستانی تناظر میں ہمارے ، جوانی کی ٹیلی سیریل " چپس یعنی کینیڈین ھائی وے پیٹرول" تھی - جس کو بنیاد بنا کر میں نے ، ایس ایس پی درانی کا آئیڈیا ،   Conceive کیا اور کہانی نہیں بلکہ پہلی چار کہانیوں کی ون لائن سٹوری اور پہلے ایپی سوڈ کا مکمل تیار کردہ سکرپٹ ایس ایس پی کو دیا ۔ جو اُس نے اپروو کر دیا لیکن ساتھ یہ بھی کہا ،
" میجر صاحب ، اِس کہانی کے رائیٹر کو اُس کا مسودہ دیں دیں ، میں نے ناٹ اپروڈ لکھ دیا ہے ۔ لیکن آپ اُسے آدھی رقم بھی دے دیں تاکہ خاموش رہے "
جس دوست نے رائیٹر کے ساتھ میری بات چیت کروائی تھی - اُس کے پاس گیا وہاں رائیٹر کو بھی بلوایا ، اُس ے گے شکوے سنیں ۔ دوست کی کڑوی کسیلی باتیں سنی ۔ جب اُن کا غبار نکل گیا ۔ تو دوست سے پوچھا ،
" ماموں ! شرط یہ تھی کہ سکرپٹ ایس ایس پی منظور کرے گا تو پورے پیسے دئے جائیں گے !"
" ھاں " دوست نے جواب دیا ۔
اور اگر میں اِن کی کہانی ایس ایس پی کو نہیں دیتا تو آدھے پیسے دوں گا " میں نے پوچھا ۔
" ھاں " دوست نے کہا
" میں آدھے پیسے دے رہا ہوں " اور چیک دوست کو دیا -
" تو تم یہ کہانی استعمال نہیں کرو گے ؟ " دوست نے پوچھا
" نہیں " میں نے جواب دیا -
"اور اِن کی کہانی کہاں ہے " دوست نے چیک لیے ہوئے پوچھا ۔

" یہ ہے اِن کی اوریجنل کہانی ، میں نے کوئی فوٹو سٹیٹ نہیں بنوائی " میں نے لفافے میں کہانی دوست کو دیتے ہوئے کہا ۔
دوست نے چیک اور لفافہ رائیٹر کو دیا ۔ رائیٹر نے چیک دیکھا ۔ لفافے میں سے کہانی نکالی ۔ ایس ایس پی کی سبز لکھائی میں ریمارکس پڑھے ۔ چہرے کا رنگ بدلا ، میز سے قلم اُٹھایا ، چیک پر بڑا سا کراس کا نشان بنایا ۔ مجھے دیتے ہوئے پوچھا،
" میجر صاحب ، آپ نے جوزی کو کتنے پیسے دیئے ہیں "
" بیس ہزار " میں نے ایمانداری سے بتایا ۔
" آپ پی ٹی وی کے بلیک میلروں میں پھنس گئے ہیں ، اب بھی وقت ہے نکل جائیں ، 20ہزار بڑا نقصان نہیں " وہ بولا 
اور دوست کے آفس سے نکل گیا ۔

اُس وقت مجھے احساس نہیں تھا لیکن میں جو خود کو ٹیلی پروڈکشن کی دنیا میں "ڈریگن فلائی " سمجھ رہا تھا -
لیکن میری دُم پر اَن دیکھا دھاگا بندھا تھا ۔ جس کا ایک سرا دوسرے لوگوں کے ہاتھ میں تھا ۔ جن میں امجد بخاری ، غضنفر بخاری اور اقبال فہیم جوزی پیش پیش تھے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔