میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار, اگست 30, 2015

ذہن سازی۔ تعمیرِ نو !

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 ٭- بچپن سےہم اپنے والدین  اور دیگر  افراد   کی راہنمائی اور دباؤ میں پرورش پاتے ہیں۔
٭- بعض دفعہ ہم  اپنی خوبیوں کے بارے میں ،اُن کے سرسری  ، غیر سنجیدہ  اور طنزیہ   ریمارکس سنتے ہیں ۔
٭- یہ رویے  ہمارے  ذہن میں پیوست ہو جاتے ہیں  ۔
٭- ہماری  سوچ کی قوت اور خوبیاں   میں رکاوٹ پیدا کرتی رہتی ہیں ۔
٭- ہم اپنے آپ میں سمٹنے لگتے ہیں اور اپنے ارد گرد ایک خول بنا لیتے ہیں ۔
یہ ہمارے معاشرے میں تمام بچوں کے ساتھ  مشترک ہے ۔ اِس خول کو توڑنے کے لئے پوری قوت  نہیں،  بلکہ ہلکا سا دھکا لگانا پڑتا ہے ، اُتنا جتنا ایک ننھا سا چوزہ لگاتا ہے ۔ 

٭-  خود کو اِس دنیا میں کسی دوسرے سے موازنہ  مت  کریں ۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو خود اپنی توھین کریں گے!
٭-  کیا کوئی بھی تالا بغیر چابی کے بنایا جاتا ہے ؟  تو یقین رکھیں کہ  ہر مشکل کا اللہ نے حل بنایا ہے!
٭- زندگی آپ پر ہنستی ہے جب آپ ناخوش ہوتے ہیں!
٭-
زندگی آپ پرمسکراتی ہے جب آپ خوش ہوتے ہیں!
٭- جب آپ دوسرے کو خوش کرتے ہیں ، تو زندگی آپ کو سلام کرتی ہے !
٭- ہر کامیاب انسان کے پیچھے ایک دکھ بھری داستان ہوتی ہے !
٭-  ہر دکھ بھری داستان کا خاتمہ  ، کامیابیوں پر ہوتا ہے !
٭- دکھوں کے لئے تیار رہیئے تا کہ کامیابیاں آپ کے قدم چومے !
٭- زمین کو قالین سے ڈھانپنے کے بجائے  ، اپنے پاؤں کو  کانٹوں سے بچانے کے لئے سلیپر پہنیں !
٭- کوئی بھی ماضی میں جا کر اپنی غلطیوں کو درست نہیں کر سکتا !
٭- غلطیاں نہایت تکلیف  دہ ہوتی ہیں  جب وہ کی جائیں !
٭-سالوں بعد غلطیوں کا انبار ، تجربے میں تبدیل ہو کر  ہر نئی شروعات   کو  کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے !
٭- اگر کسی مسئلے کا حل   مل جاتا ہے  تو پریشان ہونے کی کیا ضرورت ؟
٭۔ اور اگر کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا تو پریشان نہ ہوں ، زور سے قہقہہ لگا کر چھوڑ دیں ۔
٭- اگر آپ موقع گنوا بیٹھتے ہیں تو آنکھوں میں آنسو نہ لائیں ، یہ  آنکھوں کے سامنے والے مواقع کو چھپا لیں گے !
٭- فیس  تبدیل  کرنے سے  کچھ تبدیل نہیں ہوتا ، لیکن تبدیلی کو فیس  کرنا ہر چیز کو تبدیل کردیتا ہے !
٭- دوسروں کی شکایت کرنے سے بہترہے   ، امن سے رہنے کے لئے خود کو تبدیل کریں !

٭۔ کامیابی    ذہنی کیفیت کا نام ہے ، خود کو کامیاب انسان سمجھیں کامیابی   ملے گی !
٭- کامیاب انسان وہ ہے ۔جو دوسروں کی بیکار سمجھ کر پھینکی ہوئی اینٹوں سے مضبوط بنیاد بناتا ہے !
٭- ناکامی کو برداشت کرو اور کامیابی پر پرسکون رہو !
٭-  گرم کیا ہوا سونا زیورات میں ڈھل جاتا ہے !
٭- تانبے کو کوٹ کر تار میں تبدیل کر نے کےبعد  اہمیت بڑھائی جاتی ہے  ۔
زندگی کے سفر میں  تکالیف اُٹھانے کے بعد خود اعتمادی  ،   انسان کی قدر بڑھا دیتی ہے ! 
لیکن شرط یہ ہے کہ انسان  پانچ ستونوں  پہ قائم اپنی شخصیت کی عمارت کو گرنے نہ دے  ، جو ذہن سازی کی بنیاد ہیں ۔ یہ ستون  شکستہ ہونے کے باوجود  تعمیر نو سے گذر سکتے ہیں ۔جو قطعی مشکل نہیں ۔ تاریخِ انسانی میں کئی افرادہیں  جنہوں نے اپنی   پریشانیوں ، تکلیفوں اور ناکامیوں کو اپنی قوتِ ارادی کے بل کر  کامیابیوں کے دھارے میں موڑا ۔
اور کئی ایسے ہیں جنہوں نے مرتے وقت  یہ گلہ کیا :
٭- کاش میں نے دوسروں کے بجائے اپنی حقیقی زندگی گذاری ہوتی !
٭- میں ساری زندگی دوسروں کے کہنے پر چلتا رہا اور اپنا کہنا نہیں مانا !
٭- میں ساری زندگی تنہا رہا اور اب تنہائی کا شکار ہوں !
 ٭- میں  اپنے دوستوں کے ساتھ عام انسان کی زندگی گذارنا چاہتا تھا ، مگر محنت نے فرصت نہ دی !



یقین مانیں ، کہ آپ ہر لمحہ خوشی سے گذار سکتے ہیں یا  سارادن  منہ بسور کر ایک کونے میں بیٹھے ہوئے !

 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگلا مضمون: شخصیت کے ستون  ---------------  
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ذہن سازی-حواس خمسہ اور شعار

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 انسانی شخصیت کی تعمیر اُس کی پیدائش سے شروع ہو جاتی ہی ۔اُس کے سیکھنے کی رفتار انتہائی تیز ہوتی ہے ۔
1-  شعور کاعمل -( Conscious Function) : شعوری ذہن میں جنم لیتا ہے ، جب وہ اپنی پانچ حسیات    کی مدد سے کسی بھی چیز سے متعلق معلومات وصول کرتا ہے ۔
٭- اُسے  پہچانتا ہے-  Perceives
٭-   اُسے اپنے پاس  موجودہ معلومات سے    ملاتا ہے-Associates
٭ - اِن دونوں معلومات  کو  جانچتا ہے۔Evaluates
٭-    فیصلہ کرتا ہے ۔ Decides
یہ  ذہن    کا شعوری عمل ہے ، جو دماغ کی اندرونی دنیا  کو بیرونی دنیا سے جوڑتا ہے ۔جس کے لئے وہ :
٭-  معلومات  کا موازنہ(Compare) کرتا ہے ، منتخب کرتا ہے (Select)،مختلف توجیہات
(Reasoning)  کے مطابق   جانچتا ہے   (Evaluate)
٭- منطق     (Logicکی بنیاد پر کام کرتا ہے ۔
٭- اپنے اردگرد پھیلے ہوئے ماحول سے  ہدایت اور راہنمائی لیتا ہے ۔
٭- ہمیشہ غور و خوض ، تعلیم اور  تجربات،  سے سیکھتا ہے ۔

٭- خوبصورتی ، آرٹ اور ذائقہ کو سراہتا ہے ۔
٭- منطق او ر توجیہات  پر  چلایاجاتا ہے ۔

شعور کی استعداد  -( Conscious Faculties) :
٭- پہچاننا ، لکھنا اور پڑھنا ۔
٭- کھیلنا ، حساب کرنا ، اعداد و شمار رکھنا۔

٭-  توجیہ  ، بحث  اور جانچنا
٭-  پہچان رکھنا ، ترتیب رکھنا اور  منطق کی راہنمائی کرنا
٭- بولیاں، بولنا ، تقریر ، گانا اور فیصلہ کرنا 



شعوری استعداد  قطر قطرہ تحت الشعوری استعداد میں جمع ہوتی رہتی ہیں۔ 

 2-  تحت الشعور کاعمل -( Subconscious Function) : اپنے اندر تمام معلومات  ، شعور سے جمع کرتا رہتا ہے ، اور پھر :
٭۔ سب کام  خودکار ہوتا ہے ۔
٭ -  سیکھنے کی تمام خصوصیات پر عمل کراتا ہے ۔
٭-یاداشت   کو واپس لانے کا عمل کرتا ہے ۔
٭- تمام جسمانی افعال  پر عمل کرواتا ہے ۔
٭-روحانی سفر پر لے جاتا ہے ۔
٭- چھٹی حِس  کو بیدار کرتا ہے ۔


تحت الشعور کی استعداد  -( Subconscious Faculties) :
٭۔ پانچوں حواسِ خمسہ سے بے نیاز   ، اپنے اردگرد پھیلے ہوئے ماحول سے  آگاہ ہوتا  ہے ۔
 ٭۔ شعوری  ذہن   کے ناکام ہونے پر  بالا دست ہو جاتا ہے ۔  نہایت  تیزرفتار  جوابی کاروائی کرتا ہے ۔ 
٭۔ باریک  سے باریک چیزوں تک  رسائی رکھتا ہے  ، سچی اور صحیح معلومات فراہم کرتا ہے ۔ 
٭- نہایت دور سے معلومات لانے کے لئے ،جسم  کی رسائی سے باہر کام کرتا ہے۔
 ٭۔الہام  (خیر و شر کی پہچان)  سے روحانی فہم لیتا ہے -
 ٭۔ جذباتی اور روحانی قوتوں کا ٹھکانہ ہے ۔
٭۔ 
چھٹی حِس(Extra Sensory Perception)  کو استعمال میں لاتا ہے  ۔ 
 ٭۔ غیب سے تعلق رکھتا ہے ، لیکن وہاں سے معلومات، لایعنی   ٹکڑوں کی صورت میں وصول کرتا ہے -
٭۔ خیالات کو عمل میں تبدیل کرتا ہے ۔

٭-معلومات کو یاداشت میں  واقعات اور تجربات  میں محفوظ رکھتا ہے ۔
٭۔حقیقت
(Genuine)   میں رنگ آمیزی   (Ingenuity)   کی گود ہے ۔ 
٭-جدّت ، تخیل ، بصیرت ، ہر فن مولا، اختراعیت ، جذبات ، ذہانت ، جرءت ،، قوتِ ارادی کے سوتےتحت الشعور کی استعداد  کی بنیاد  سے اپنے پروگرام کو حاصل کرنے کے لئے  پھوٹتے ہیں،   ورنہ تحت الشعور کےمدفن میں دبے رہتے ہیں.

ہم اپنی  زندگی اور  اپنی منزل  کا حصول ،  معلومات ، مہارت ، کوشش ، تجربات،   ذاتی عکس اور  خود کو جانچنے سے کر سکتے ہیں !
انسان  کے پاس خود کو یا اپنے خالق کی پہچان کے ذرائع نہیں ۔
  اپنی پہچان دوسروں کی جانچ سے معلوم ہوتی ہے ، اور خالق کی پہچان صاحب عرفان و ذکاء کرواتے ہیں ۔


ہماری پہچان کیا ہے ؟
٭- ہم میں سے ہر ایک  ، ایک اچھوتی شخصیت رکھتا ہے ۔
٭- ہم جیسا  پہلے کوئی ہمارے خالق نے پیدا نہیں کیا ۔
٭- ہم جیسا نہ کوئی اِس دنیا میں موجود ہے اور نہ ہی پیدا ہوگا ۔
٭- ہماری جسمانی ساخت ،خوبیاں اور  خصوصیات  کسی سے بھی نہیں ملتیں ۔
٭- ہمارے خالق  نے  ہمیں بے حساب خوبیاں عطا کی ہیں  ۔ جن کا ہم صرف     
0.09%استعمال کر تے ہیں  باقی   99.1 % چھپی رہتی ہیں ۔ کیوں کہ ہم اپنے دماغ کو ساری زندگی ، اُن راہوں پر چلاتے ہیں جو پہلے ہی کھوجی جا چکی ہیں ، ہم نئی راہیں تلاش کرنے سے ڈرتے ہیں ۔

اِس لئے کہ ہماری  ذہن  سازی ، خوف کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگلا مضمون ---------------  ذہن  سازی-تعمیرِ نَو
٭٭٭٭٭یہ بھی پڑھیں  ٭٭٭٭٭٭٭٭
مراقبہ: آپ کی سوچ سے زیادہ آسان۔
ریکی : اپنا علاج خودکریں۔

زندگی کا فن : سائنسی حقیقت

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔