میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل, اگست 11, 2015

ھندوستانی-7- اجمیر کا گھر

    حنیف خان، بھائی نماز پڑھ کر واپس آئے امی نے سارا قصہ بتایا بھائی خاموشی سے سنتے رہے۔ امی نے بھائی کی رائے پوچھی بھائی نے جواب دیا آپ جو بہتر سمجھیں کر لیں۔ پیسوں کاا نتظام کیسے ہو گا۔بھائی نے کہا اِس پر سوچتے ہیں  زیتون نے بھائی کو بتا یا کہ تقریباً پچاس روپے خرچ ہوں گے۔ دوسرے دن صبح حنیف خان اپنے استاد کو ملنے چلے گئے۔جمعہ سے پہلے واپس آئے زیتون کو بتا یا پیسوں کا انتظام ہو گیا ہے۔ کھانا کھا کر جمعہ پڑھنے چلے گئے۔ پھر شام کو مغرب سے پہلے واپس آئے اور زیتون کے ہاتھ میں پچاس روپے رکھ دیئے اور کہا سنبھال کے خرچ کرنا۔ مغرب کے  کھانے کے بعد  بعد لڑکیوں نے زیتون کو بلایا، حویلی کے صحن کے بیچوں بیچ دریاں بچھا کر اُ س پر سفید چادریں بچھائی ہوئی تھیں۔ لڑکیاں اور اُن کی مائیں بیٹھی ہوئیں تھیں۔ خاتون ایک چوکی پر بیٹھی تھی سامنے  ایک تھالی تھی جس میں مہندی تھی۔ تھوڑی دیر میں زیتون کی امی بھی آگئیں اور ایک طرف عورتوں کے ساتھ بیٹھ گئیں۔لڑکیوں نے گیت گانے شروع کر دئے، مہندی کی رسم ہوئی۔ اُس کے بعد سب سونے کے لئے چلے گئے۔
    دوسرے دن، زیتون بھائی کی سائیکل پر پیچھے بیٹھ کر بھائی کے ساتھ شہر گئی، ہونے والی بھابی کے لئے خریداری کی،اور واپس آگئے۔ہفتے کے دن عصر کے بعد مسجد میں نہایت سادگی سے نکاح ہوا۔ اور دلہن اپنے کمرے سے عورتوں کے ہمراہ  کلثوم کی امی کے کمرے میں آگئی جسے حویلی کی لڑکیوں نے دلہن کے کمرے کے طور پر پھولوں ، رنگ برنگے کاغذوں، اپنے دوپٹوں سے  سجا دیا تھا۔
زیتون کے خاندان میں ہندوستان سے پاکستان ہجرت کے بعد یہ پہلی شادی تھی بلکہ، حویلی والے مہاجرین کی بھی یہ پہلی تقریب تھی۔ چنانچہ حویلی کے باہر لڑکوں نے خوب کھیل کھیلے، اُن دنوں پٹے بازی ایک مقبول کھیل ہوتا تھا۔ بھائی کے فوجی دوست بھی آئے تھے وزن اٹھانے کا مقابلہ بھی ہوا۔ رات دیر تک ہنڈولوں کی روشنی میں یہ تقریب جاری رہی زیتون بھی دوسرے لڑکیوں کے ہمراہ  دیکھتی رہی۔
دوسرے دن تھکن کی وجہ سے فجر کے وقت اٹھ نہ سکی، نیند میں ماں کی آواز آئی،
”زیتون اری اُ ٹھ دیکھ تو یہ کون ہے؟
تیرے ابا کی آواز لگ رہی ہے“ 
زیتون نے آنکھ کھولی، کسی کی تلاوت کرنے کی آواز آرہی تھی،  ماں کے یاد دلانے پر یاد آیا کہ آواز حیرت انگیز طور پر ابا سے مل رہی تھی۔کمرہ کھول کر باہر نکلی۔ آواز چھت سے آرہی تھی۔ چپکے چپکے سیڑھیاں چڑھ کر چھت کی طرف بڑھی گردن اٹھا کر دیکھا، بھائی کے دوست نائیک صاحب بڑی دلکش آوازمیں قران کھولے تلاوت کر رہے تھے۔ آہستہ آہستہ دو بارہ واپس اتر آئی ماں کو بتایا کہ بھائی کے دوست ہیں شائد رات دیر ہو جانے سے اوپر ہی سو گئے تھے۔ ناشتہ، بھائی اور نائیک صاحب نے امی کے ساتھ کیا۔ ناشتہ بھابی کے گھر والوں کی طرف سے آیا تھا۔ بھائی نے امی کو بتایا کہ نائیک صاحب سے دوستی کی وجہ ان کی قرآن پڑھتے وقت آواز کا  ابا سے ملنا تھا۔ دوپہر کو ولیمہ ہوا۔ ولیمے کا کھانا بنانے کے لئے ، بھائی لانگری لایا تھا ، جنہوں نے مزیدار پلاؤ بنایا ۔   ولیمے کے بعد بھائی سیالکوٹ چلے گئے۔
    ہفتے بعد بھائی دومہینے کی چھٹی لے کر آگئے۔منگل،  13 جنوری کو  امی، بھائی اور زیتون بہاولپور کے لئے روانہ ہو گئے، سخت سردیا ں تھیں،تین دن یا چار دن بعد یہ لوگ، بہاولپور پہنچے سٹیشن پر عبداللہ خان بھائی، اُن کا بیٹا حبیب خان اور دوسرے لوگ آئے ہوئے تھے۔ وہاں سے مہاجر کالونی پہنچے جہاں بھائی کو مکان الاٹ ہو ا تھا۔ بھائی نے ساتھ والا مکان بھی لے لیا تھا۔ گورنمنٹ نے مکان بنانے کا ساما ن دے دیا تھا، کمرے ان لوگوں نے گورنمنٹ کے مستری کی مدد سے خود بنائے۔ بہاولپور ہفتہ رہنے کے بعد تینوں ٹرین میں نواب شاہ روانہ ہو گئے، چاردن بعد مغرب کے وقت نواب شاہ پہنچے،محمد حکیم خان بھائی، اُن کا بیٹا طیّب خان، بڑے بھائی ابراہیم خان کے دونوں بیٹے سلیمان خان اور رحمان خان بھی آئے تھے۔ رحمان خان نے بڑی بڑی مونچھیں رکھی ہوئی تھیں۔ ریلوے سٹیشن سے مہاجر کالونی پہنچے جہاں چاروں کو ایک ساتھ مکان الاٹ ہوئے تھے انہوں نے دیواریں گرا کر ایک بڑا احاطہ بنا لیا تھا، زیتون احاطے میں داخل ہوئی اسے یوں لگا کہ وہ اپنے اجمیر والے گھر میں داخل ہو گئی ہے۔ حکیم بھائی نے گورنمنٹ کے بنائے ہوئے کمروں میں تبدیلی کر کے انہیں مکمل طور پر اپنے باپ کے ہاتھوں بنائے ہوئے اجمیر کے گھر کی شکل دے دی تھی۔ زیتون نے غیر ارادی طور پر دائیں طرف دیکھا کونے والا کمرہ بھی ویسا ہی تھا ایسا لگتا تھا کہ ابھی ابا میاں کمرے سے باہر نکلیں گے اور زور سے آواز لگائیں گے
” محمد حکیم خان“ 
اور بھائی  ’’جی ابا“ 
کہہ کر ان کی طرف حقہ لے کر دوڑیں گے، ابا کمرے کے باہر درخت کے نیچے پڑی چارپائی پر بیٹھ جائیں گے اور ان کا چہیتا کتا، ”کالو“ ان کے پاس آکر بیٹھ جائے گا اور ان کے پیر چاٹے گا۔
اچانک 1935کا سین زیتون کی آنکھوں کے سامنے آگیا۔  ”محمد حکیم خان“  کی آواز  آئی۔
رحمان خان  ”جی ابا“ کہہ کر دوڑا اور ابا کے حلیے میں کوئی چلتا ہوا نکلا اور چارپائی پر بیٹھ گیا۔ کونے سے کالو دوڑتا ہوا آیا اور چارپائی پربیٹھے ہوئے آدمی کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
زیتون تیزی سے آگے بڑھی پھر سب کا قہقہ سن کر ٹھٹک گئی۔طیّب خان نے اُس کے ساتھ مذاق کیا تھا۔ زیتون خجل ہونے پر ڈنڈا اُٹھا کر اُس کے پیچھے دوڑی ۔ احاطہ خوشیوں سے بھر گیا زیتون کو حکیم بھائی کی ابا سے محبت کا معلوم تھا لیکن یہ امید نہیں تھی کہ وہ اُس محبت کی یادوں سے نوابشاہ کی مہاجر کالونی کے چار گھروں پر مشتمل تقریبا ہزار گز کے اس احاطے سے آباد کر دے گا۔
ابا والا کمرہ زیتون اور امی کے لئے مخصوص تھا۔ زیتون کو لگا کہ اس کی ہجرت ختم ہو گئی ہے۔ نواب شاہ  میں وہی اجمیر والا ماحول تھا۔ آٹے میں ہلکی سی سوجی ملا کر ایک چمچہ اصلی گھی ڈال کر بنائی ہوئی سوندھی سوندھی خوشبو والی روٹی، مزے مزے کے کھانے، رات کو مزے مزے کی کہانیاں، ایک دوسرے سے مذاق،تیسرے دن میرپورخاص سے  بڑی بہن بسم اللہ خاتون اپنے تین بچوں،چاند خان، خاتون بیگم اور تین سالہ افضل کے ساتھ نوابشاہ پہنچ گئیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 

ھندوستانی-7- اجمیر کا گھر

ھندوستانی-8-کاغذات کو دیمک کھا گئی

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 

ھندوستانی-1- مہاجر سرمائی بطخیں 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔