میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 10 اگست، 2015

شانِ نزول آیات اللہ - الْجَهْرِ‌

ایک سوال ۔ کیا اسلامی معاشرے میں انسانوں کو انصاف حاصل کرنے کے لئے ، شور و غوغا (جَادِل یا مسجد (بطور ادارہء انصاف)  کے اندر بڑبڑاہٹ (الْجَهْرَ‌) میں بولنے کی اجازت ہے ؟

وجہ شانِ نزول آیتِ لَا يُحِبُّ اللَّـهُ الْجَهْرَ‌ ، جو فہم آیات من اللہ سے مجھے ملی ، من دون اللہ کیا کہتا ہے اُس کا اِس سے کوئی تعلق نہیں :-

رسول اللہ کے سامنے جھگڑے کے انداز میں اونچا بولنے والے،واقعہ کے بارے میں اللہ کا حکم -
قَدْ سَمِعَ اللَّـهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّـهِ وَاللَّـهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَ‌كُمَا إِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ‌ ﴿المجادلة : 1﴾

 جَادِل ،کی اللہ نے اوپر کی آیات سے وضاحت کرتے ہوئےاور مفصل سمجھانے کے لئے ، الکتاب میں بتایا کہ لقمان کو اللہ نے الحکمت دی اور اُس نے اپنے بیٹے کو دو آوازوں کے فرق کا بتایا :-

وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ إِنَّ أَنكَرَ‌ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ‌ ﴿لقمان: 19﴾

اللہ نے جَادِلْ سے رسول اللہ کومنع کیا ہے :-

وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنفُسَهُمْ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا ﴿النساء: 107﴾

اللہ نے انسانوں کو بتایا ، کہ رسول اللہ، کے نزدیک آواز کوغُضُّ ( غضّ البصر کی طرح) رکھو:

إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَ‌سُولِ اللَّـهِ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّـهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ لَهُم مَّغْفِرَ‌ةٌ وَأَجْرٌ‌ عَظِيمٌ ﴿الحجرات: ٣﴾

الْجَهْرَ‌ بِالسُّوءِ کی اجازت ہے بشرطیکہ اُس پر (ذاتی) ظُلِمَ ہوا ہو !
لَّا يُحِبُّ اللَّـهُ الْجَهْرَ‌ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ وَكَانَ اللَّـهُ سَمِيعًا عَلِيمًا ﴿النساء: 148﴾
 
اگر غیر متعلق بھی الْجَهْرَ‌ بِالسُّوءِ میں شامل ہو جائیں تو ؟
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْ‌فَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُ‌وا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ‌ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُ‌ونَ  ﴿الحجرات: 2﴾

ہمارے عام بولنے کو الْجَهْرِ‌ نہیں کہتے ، بلکہ خِيفَ اور الْقَوْلِ کے درمیان الْجَهْرِ‌ ہوتی ہے جسے بڑبڑاہٹ کہتے ہیں ۔ جس کی اللہ نے انسانوں کو وضاحت کی :-

  • وَهُوَ اللَّـهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْ‌ضِ يَعْلَمُ سِرَّ‌كُمْ وَجَهْرَ‌كُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ ﴿الأنعام: 3﴾


  • وَاذْكُر‌ رَّ‌بَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّ‌عًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ‌ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ ﴿الأعراف: 205﴾

  •  قُلِ ادْعُوا اللَّـهَ أَوِ ادْعُوا الرَّ‌حْمَـٰنَ أَيًّا مَّا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ وَلَا تَجْهَرْ‌ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا ﴿الإسراء: 110﴾




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔