میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 8 اگست، 2015

شہید ملت مسیحی ہیرو

آئیے آج آپ کو پاکستان کے ایک ہیرو کی کہانی سناتے ہیں.
انکا نام ہے ونگ کمانڈر میرون لیزلی مڈلکوٹ. یہ جولائی 1940 میں لدھیانہ کے ایک مسیحی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے. انکے والد کا نام پرسی مڈلکوٹ اور والدہ کا نام ڈیزی مڈلکوٹ تھا. جب پاکستان بنا تو انکا گھرانہ بھی ہجرت کر کے لاہور میں بس گیا. انہوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ اینتھونی ہائی سکول سے حاصل کی اور بعدازاں لارنس کالج گھوڑا گلی مری سے استفادہ حاصل کیا. انہوں نے 1954 میں پاکستان ایئر فورس جوائن کی.

1965 کی پاک بھارت جنگ میں یہ کراچی کے PAF بیس مسرور میں F86 جہازوں کا ایک سکواڈرن کمانڈ کر رہے تھے. اسی جنگ کی ایک رات بھارتی جہازوں نے کراچی پر بھرپور حملہ کیا. سکواڈرن لیڈر مڈلکوٹ نے ایک F86 طیارے میں take off کیا اور آناً فاناً میں دشمن کے دو طیارے مار گرائے. ان طیاروں کے دونوں بھارتی پائلٹ بھی مارے گئے. پوری جنگ کے دوران مڈلکوٹ نے ایسی بہادری کا مظاہرہ کیا کہ انکے زیر کمان افسر اور جوان بھی انکی دیکھا دیکھی شیروں کی طرح لڑے. جنگ کے اختتام پر انکی بہادری کے صلے میں انہیں ستارہ جرأت سے نوازا گیا.
1971 کی پاک بھارت جنگ میں مڈلکوٹ اردن کے دورے پر تھے کہ جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا. انہوں نے حکومت سے اپنی فوراً واپسی کی درخواست کی جو مان لی گئی. انکی واپسی کے دوسرے ہی دن انکو امرتسر ریڈار کو تباہ کرنے کا مشن دیا گیا جسکو انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ناکارہ بنا دیا. اسی جنگ کے ایک مشن میں ونگ کمانڈر میرون لیزلی مڈلکوٹ کو دشمن کے ایک جنوبی ہوئی اڈے پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا گیا. انہوں نے دشمن کے کئی جہاز زمین پر ہی تباہ کر دیئے. مگر جب واپس آ رہے تھے تو دو بھارتی MIG21 طیاروں نے انکا پیچھا کیا. انکے اپنی گولیاں ختم ہو چکی تھیں. دشمن کے دو میزائلوں سے تو انہوں اپنا دفاع کر لیا مگر ایک تیسرے میزائل کا، جو بھارتی پائلٹ فلائٹ لیفٹننٹ بھارت بھوشن سونی نے مارا تھا، شکار ہو گئے. بھارتی پائلٹ نے انھیں بحیرہ عرب کے سمندر میں اس علاقے میں چھتری سے چھلانگ لگاتے دیکھا جو شارک مچھلیوں سے بھرا پڑا تھا. انکی لاش کبھی نہیں ملی. وہ اکتیس سال کی بھرپور جوانی میں ہی شہید ہو گئے. جنگ کے بعد اس شہید ملت کی اس بے مثال بہادری پر انکو ایک دوسرے ستارہ جرأت سے نوازا گیا.
پاکستان میں مذہبی تعصب ان دنوں میں اتنا زیادہ تو نہیں تھا مگر پھر بھی مسیحی فرقہ کبھی کبھار اسکی زد میں آ ہی جاتا تھا. دونوں جنگوں کے درمیان ایک دن انکی آٹھ سالہ بچی کو سکول کے ایک مسلمان بچے نے کچھ ایسے الفاظ کہے کہ
"تم مسیحی نکل جاؤ ہمارے ملک سے".

بچی دل برداشتہ گھر آئی اور اپنے والدین کو ساری روداد سنائی. والدہ تو بپھر گئیں اور ملک ہی چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا. بچی کو تو ونگ کمانڈر مڈلکوٹ نے کہا کہ ایسے لوگوں کو معاف کر دیا کرو. یہ جاہل ہوتے ہیں. اور اپنی بیوی سے یہ تاریخی الفاظ کہے:

"بیگم میری بات غور سے سنو. یہ میرا ملک ہے. میرا آبا و اجداد کی ہڈیاں دفن ہیں یہاں. میں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ اس ملک کے دفاع میں لگا دیا ہے اور شاید ایک دن اپنی جان بھی دے دوں گا اس ملک کے لئے. آیندہ میں آپ کے منہ سے ایسے الفاظ کبھی نہ سنوں."
شہید ملت مسیحی ہیرو ونگ کمانڈر میرون لیزلی مڈلکوٹ. کیا پتر جنا تھا اس ماں نے. سلام ہے. آفرین ہے.
اے پتر ہٹاں تے نئی وکدے.


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔