میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 14 اگست، 2015

مہاجر ابنِ مہاجر - مہاجر زادے

سوموار 10 اگست 2015 سے میرے موبائل پر ، فیس بک پر ایسی تصاویر آرہی ہیں ، جو 1947 ہجرت کے موقع پر مشہور عالمی میگزین "لائف" کا ٹائیٹل پیج سے یا اندرونی صفحات سے لے کر پوسٹ کی گئی ہیں ، جنہوں نے پوسٹ کی ہیں ۔ غالباً اُن کا مقصد آزادی کی قدر و قیمت کو اجاگر کرنا ہے ۔

گذشتہ رات ہم دوست انہیں تصاویر پر اور متحدہ قومی موومنٹ ( یا مہاجر قومی موومنٹ ) کے استغفوں پر بات کر رہے تھے سب کی اپنی رائے تھی ۔ میری رائے یہ تھی کہ اپنی بات منوانے کے لئے یہ جمہوری طریقہ ہے اور وہی طریقہ ہے جو ، مسلم لیگ ، پیپلز پارٹی اور حال میں پی ٹی آئی نے استعمال کیا ہے ۔ اور جو حکومتی ارکان کو جھٹکے دینے کا بہترین طریقہ ہے ۔ 

یہی وجہ ہے ، کہ " ھاشمی " کا استغفیٰ فوراً منظور ہوجاتا ہے اور "اجتماعی استغفے " منظور نہیں ہوتے اور جمہوری لین دین کے بعد ، استغفے واپس لے لئے جاتے ہیں ۔

لیکن ایم کیو ایم واحد جماعت ہے ، کہ جس کے خلاف نفرت کی چنگاریوں مزید ہوا دی جاتی ہے جواباً ، جس طرح عمران خان کے منہ سے ، شہباز شریف اور دیگر اکابرینِ سیاست کے منہ سے پھول جھڑتے تھے ، اُسی طرح الطاف حسین کے منہ سے گلاب کے بجائے ، سیاست کی چنبیلی ، رات کی رانی ، جنگلی گلاب اور گیندے کے پھول برستے ہیں ۔
جب یہ دیکھا جاتا ہے کہ گہیوں کے ساتھ ایم کیو ایم کے ، گھنوں کو بھی چکّی کے بیچ میں گھسیٹ کر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اور یہ کوشش آج سے نہیں ، پاکستان میں رہنے والوں کی برسوں کی آبیاری کا نتیجہ ہے ، جس میں باپ ، ماں ، باپ کے رشتہ دار ، ماں کے رشتہ دار ، اولادیں اور اولاد کی اولادیں گناہ گار ٹہرتی ہیں - سب کا نام ، " ایف آئی آر " میں درج کروا دیا جاتا ہے ، ایسی ایف آئی آر جس کا کوئی فیصلہ نہیں ہوتا ، داخل دفتر ہوجاتی ہے ۔ لیکن بعد میں موقع کی مناسبت سے اپنا زہر چھوڑتی رہتی ہے ، جس کا تریاق صرف صاحبانِ اقتدار کے پاس ہوتا ہے ۔

کراچی میں بھی سب کچھ یہی ہورہا ہے اور میں اِس کا ذمہ دار صرف اور صرف الطاف حسین کو سمجھتا ہوں ۔ جس کے سیاسی شعور نے ، مہاجر زادوں کو بند گلی میں لا کر کھڑا کر دیا ہے ۔
الطاف حسین نے مہاجر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن اور پھر آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی بنیاد ، مہاجروں کی آواز بن کر ڈالی ، جو برین چائلڈ تو کسی اور کا تھا لیکن ، الطاف حسین نے اسے ایم کیو ایم کے نام سے سیاست میں کیش کروایا ۔ اور پھر یہ جماعتیں ایم کیو ایم کے لبادے میں چھپ گئیں ۔

اگر الطاف حسین ان دونوں جماعتوں کو آپس میں مدغم نہ کرتا تو ، آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن ، ایم کیو ایم کا ایسا قلعہ ہوتی کہ جس پر ھاتھ ڈالتے ہوئے ، حکومت بھی گھبراتی ۔

اب بھی وقت ہے کہ اگر الطاف حسین ، آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن دوبارہ فعال کرے اور اِسے صرف " مہاجر ابنِ مہاجر " کی کردار سازی کے لئے استعمال کرے اور اِس کا مکمل سیاسی عمل دخل ، ایم کیو ایم سے ختم کر دیا جائے ۔ مجھے امید ہے ، کہ مہاجر زادوں کو ، " دیگر زادوں " سے بہترین طالبعلم بنایا جا سکتا ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ: اِس پوسٹ پر صرف ، مہاجر زادوں کو رائے دینے کا حق ہے ۔ شکریہ (مہاجرزادہ)

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔