میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 28 اگست، 2015

دماغ میں ذہن کیسے بنتا ہے؟

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسانی  بچہ جب آفاقی دنیا سے   ہستی کا جاودانی میدان  عبور کر کے ہماری دنیا میں آتا ہے ،  تو اُس کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ، دماغ  میں پہلے سے قدرت کی طرف سے ڈالے گئے خودکار احکامات  عمل کر رہے ہوتے ہیں ۔ جن میں
سونگھنے ، چکھنے ، سننے ، دیکھنے اور محسوس (لمس)  کرنے  کے  حصے  موجود ہوتے ہیں ۔
 جو  کان ، جلد ،  آنکھ ، ناک اور زبان    سے  تمام  اِن پُٹ ڈاٹا لیتے ہیں  ۔
ماں کے پیٹ میں   صرف  دو  دماغی حصے کام کرتے ہیں   وہ سننے اور محسوس کرنے کے ہیں ۔  باقی تین حصوں کے پروگرام پیدائش کے ساتھ ہی   ڈویلپ ہونا  شروع ہو جاتے ہیں ۔

کمپیوٹر کی زُبان میں ایک نومولود  کے دماغ میں صر    ف  BIOS-ROM (basic input/output system)  موجود ہوتی ہے ۔
  اگر آپ غور کریں تو معلوم ہو گا کہ جسم کی مضبوط ترین ہڈیوں میں دماغ اور لچکیلی  مگر مضبوط پائپ میں حرام مغز  قدرت نے محفوظ کیا ہوا ہے ۔ کیوں کہ اِن پر ذرا سی بھی خراش  جسم کے کسی بھی حصے کو مفلوج کر کے کام کرنے سے روک دیتی ہے ۔  دماغ سے اِس پائپ میں موجود اربوں ننھی نالیوں  میں دماغ سے پیغامات  نہ صرف پانچوں حسیات میں جا اور آرہے ہوتے ہیں ، بلکہ جسم میں موجود  ایک ایک دکھائی نہ دینے والے ذرّےسے اِن کا رابطہ ہوتا ہے -جو دماغ میں معلومات دیتا ہے ۔
 آپ کی آنکھ کے دائیں کنارے سے لے کر بائیں کنارے تک جو تصویر آپ کی آنکھ میں بن رہی ہے وہ اِن ننھی حسوں اور نالیوں کے ذریعے آپ دماغ میں محفوظ ہو رہی ہے ۔ ذرا آنکھ بند کریں ، تصویر غائب آپ صرف ایک سیکنڈ میں کروڑوں معلوماتی پکسل  سے محروم رہ گئے ۔جو تصویر کی صورت میں آپ دیکھ رہے تھے ۔

دماغ  کے سٹوریج یونٹ (HardDisk) میں  ، پانچ حسیات  سافٹ وئر ڈویلپ کر نا شروع کرتی ہیں ۔
کیسے ؟  دماغ میں آنکھوں سے بننے والی  معلومات ایک سادہ تصویر کی طرح نہیں ہوتی بلکہ ایک فلم کے سین کی مانند ہوتی ہے ، جسے آپ کا دماغ اینالائز کر رہا ہوتا ہے ، یہ اینالائزیشن ذہن بن کر آپ کے دماغ میں معلوماتی ڈاٹا  بڑھا رہی ہوتی ہیں ۔سوچنا ، عقل استعمال کرنا اور تدبّر کرنا  دماغ کی مشین میں ہوتا ہے اُن  سے نکلنے والا آؤٹ پُٹ ذہن کی کاوش ہے ۔خوشبو کو پہچاننا  دماغ کی خصوصیت ہے ، لیکن اُن کو صفات سے موسوم کرنا ، ذہن کا کام ہے ۔گویا دماغ ہو گا تو اُس میں ذہن بنے گا ۔اگر کمپیوٹر  کی ہارڈ ڈسک کو چوٹ لگے ، تو اُس کا تمام ڈیٹا (ذہن) غائب ہوجاتا ہے ، یہی حال دماغ پر لگنے والی چوٹ کا ہے ، جو ذہن کو بلینک کر دیتا ہے ۔پانچوں حِسیات  میں  سے ۔ سننے ، دیکھنے، چکھنے    اور سونگھنے کی حسیات سب سے نازک ہوتی ہیں ۔

 
یہ تو سب کو معلوم ہے کہ دماغ اور جسم کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔سیرے برَم  دائیں حصے اور بائیں حصے کا آپس میں  رابطہ ہوتا ہے،لیکن تین دن کے بچے میں نہ تو فنون لطیفہ بیدار ہوتا ہے اور نہ ہی فنونِ کثیف،  سیرے بلم  اُس کی  بیلنسنگ حرکات کوکنٹرول ہی نہیں کرتا ہے۔، پیچوٹری گلینڈ البتہ فعال ہوتا ہے لیکن مکمل نہیں، بلکہ ابتدائی سٹیج میں ہوتا ہے   اور ہائپو تھیلا مَس  جسم کے درجہ حرارت کوکنٹرول کررہا ہوتا ہے۔
  پانچوں حسیات میں، سننے اور چھونے کی حسیات فعال ہونا شروع ہوتی ہیں۔ اور پھر آہستہ آہستہ وہ رنگوں کو بھی پہچانتا ہے اور فاصلے کا بھی اُسے ادراک ہوتا ہے، بیٹھ کر خود کو بیلنس بھی کرتا ہے،چھونے،سننے، دیکھنے، سونگھنے  اور چکھنے کی حسیات، پختگی کی طرف رواں دواں ہوتی رہتی ہیں ۔ تقدیری افعال کے پیغامات، دماغ سے جسم میں دوڑتے ہیں، ہاتھ پاؤں چلانا، رونا، کلکاریاں مارنا اور سب سے اہم، چہروں کو پہچان کر اپنے رویئے ظاہر کرنا۔  بچے کا رونااور مسکرانا تقدیری فعل ہے۔
لیکن کلکاریاں مارنا اور ناپسندیدگی ظاہر کرنا، تدبیری عمل ہے۔ ایک پیدائشی بہرا اور اندھا بچہ  اِن دونوں رویوں سے نا آشنا ہو گا۔ گویا، سننے اور دیکھنے کی حسیات انسانی جسم میں سب سے زیادہ اہمیت ہے، یہی انسانی دماغ میں ایک بہترین ذہن بناتی ہیں۔

 یاد رکھیئے کہ انسانی ذہن کی بنیاد محبت اور خوف پر استوار ہوتی ہے.
بچے کا رونا خوف کی علامت ہے اور مسکرانا محبت کی۔ یہ بنیاد زندگی کے خاتمے تک انسان کے ساتھ رہتی ہیں۔  محبت روشنی ہے اور خوف تاریکی۔ بلکہ خوف کو آہستہ آہستہ زندگی میں اہم حیثیت حاصل ہوجاتی ہے۔ خوف کے اِس آسیب کی بنیاد وہ درد ہے، جو سب سے پہلے  دائی کے ہلکے سے تھپڑ سے بچے کے ذہن میں ڈالا جاتا ہے۔ پیدائش کے فوراً بعد لگنے والا یہ ہلکا سا تھپڑ، آہستہ آہستہ ایک ایسے جن کی شکل اختیار کر لیتا ہے کہ جس  سے انسان کا فرار ممکن ہی نہیں۔ اِس جن کا زور توڑا جاسکتا ہے لیکن ختم کرنا ممکن نہیں۔اِسے انجانا خوف کہا جاتا ہے۔ 



انسانی دماغ میں ذہن بننے کا طریق کار خود ساختہ ہے۔جو اُس کی پانچوں حسیات کا مرہونِ منت ہے ۔ جوحسیات سے موصول ہونے والی   بلا تخصیص ،تمام معلومات کا ذخیرہ  کرتی ہیں ۔
انسانی دماغ ( ہارڈ وئر ) میں اُس کی  پانچوں حسیات سے داخل ہونے والی معلومات  ، ذہن کو اُس وقت بناتی ہیں جب دماغ میں موجود   معلومات  کو پرکھنے اور اُن پر فعل و عمل کرنے  کا سسٹم بیدار ہوتا ہے ۔
مثلاً ایک انسان جب گھر سے نکلتا ہے ، تو اُس  کی پانچوں  حسیات ، خود کار طریقے سے معلومات حاصل کرنا شروع کرتی ہیں  اور  شعور میں جمع کرتی ہیں ، لیکن جن کی شعور کو ضرورت نہیں ہوتی وہ تحت الشعور میں ذخیرہ ہونا شروع کر دیتی ہیں ۔
ذرا سوچیں کہ گھر سے نکل کر آفس جاتے   ہوئے آپ :
٭ - کتنی معلومات یادرکھ سکتے ہیں ؟
٭ - کتنی کو پرکھ سکتے ہیں ؟
لیکن ذخیرہ سب ہوتی ہیں ۔
دوسرے دن ، جب آپ دوبارہ نکلتے ہیں تو آپ   ، چونکتے ہیں ،
ارے کل یہاں درخت تھا آج نہیں ہے ،  اِس مکان والوں نے گیٹ تبدیل کر دیا ہے ، وغیرہ وغیرہ  
تحت الشعور سے چھلانگ  مار کر شعور میں وہ  معلومات آتی ہیں جن کی ضرورت پڑتی ہے ۔ جو تحت الشعور کی گہرائیوں میں چلی جاتی ہیں وہ خال خال شعور میں آتی ہیں اور انسان کو اپنی مبہم موجودگی کا احساس دلاتی ہیں ۔
دماغ میں موجود  اِن معلومات کو آپ میموری  کہتے ہیں ۔ شعور میں موجود   میموری  چھوٹے وقفے کے لئے رہتی ہیں ، جسے ورکنگ میموری کہتے ہیں اور تحت الشعور  میں  میموری  لمبے عرصے کے لئے رہتی ہیں ، پھر وہ  دماغ کے نہاں خانوں میں پوشیدہ ہوجاتی ہیں -
یہ نہ سمجھیں کہ اُنہیں واپس نہیں نکالا جاسکتا ، آپ جب چاہیں اُنہیں واپس لا سکتے ہیں لیکن اُس دور میں جانا پڑتا ہے جب   وہ  ذخیرہ ہوئی تھیں ۔
کیا آپ اُس دور میں جا سکتے ہیں ؟
جی بڑی آسانی سے جاسکتے ہیں !
یاد رکھیں کسی بھی انسانی دماغ میں ذخیرہ کی گئی ، معلومات کبھی ختم نہیں ہوتیں ہاں کمپیوٹر کی  ہارڈ ڈسک میں موجود معلومات  کی طرح ڈی لنک ہوجاتی ہیں ۔ آپ لنک جوڑ دیں وہ  تحت الشعور سے شعور میں آجاتی ہیں !

  شعور  میں   معلومات کا    رہنے کا وقت : 
٭- بلوغت سے پہلے:  5 سے  10 منٹ تک -
 ٭- بلوغت کے بعد :    10  سے  20 منٹ تک -
گویا شعور کا  تحت الشعور تک کا کل سائز  5 منٹ سے 20 منٹ  تک کا ہے ! جسے ہم  سمندر میں تیرتے ہوئے برفانی تودے  کی شبیہ سے پیش کر سکتے ہیں ، جو سطح سمندر  پر تھوڑا لیکن زیر سمند ر کئی گنا ہوتا ہے ۔  س کی گہرائی اور گیرائی تو ناپی جاسکتی ہے لیکن ہمارے شعور  سے تحت الشعور کی گہرائی  لا امتناہی ہے ۔ جس کا انتہائی سر ا عہدِ اَلست   أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ  [7:172] سے جاکر ملتا ہے ۔

  شارٹ ٹرم  میموری  میں معلومات کے رہنے  کے وقت   کو دلچسپیاں ، مقصد ، دہرائی ،  کوئز  گیم ، جذباتیات ، تجربات  اور مختلف ایکیوٹی    کو شامل کر کے   بڑھایا جا سکتا ہے ۔
بعد میں وہ آہستہ آہستہ اپنا سفر شعور سے تحت الشعور کی گہرائیوں طرف شروع کرتی ہیں ۔ لیکن اُن کو  تحت الشعور   سے  شعور میں   18 سے 24 گھنٹوں کے دوران آسانی سے لایا جا سکتا ہے۔جو سائیکلک تھنکنگ یا  دھرائی کا نتیجہ ہوتی ہے ، 

آپ نے ایک مضمون  ابھی یاد کیا  ، وہی مضمون  اگر  24 گھنٹوں کے اندر دوبارہ یاد کیا ، تو  اُسی مضمون کا  60 سے 100 فیصد حصہ   ،   45 دنوں کی مسافت سے واپس شعور میں آسانی سے لایا جا سکتا ہے   ۔
یہ عرصہ طالبعلموں کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے ، اگر وہ اپنا یاد کیا جانے والا سبق 30 دنوں سے پہلے دُھرا لیں تو وہ اُن کے ذھن میں جم جائے گا۔
اگر آپ غور کریں تو  لڑکپن میں یاد کئے گئے کئی گانے ، مزح ، کہانیاں  یا سکول میں پڑھائی جانے والی نظمیں معمولی سے کوشش سے  تحت الشعور  سے دوبارہ  شعور میں لائی جاسکتی ہیں ۔ 


"ٹوٹ بٹوٹ"
 کیا آپ کے تحت الشعور سے ، اِن دو الفاظ پر مشتمل معلومات کے ایک سلسلے نے شعور میں چھلانگ لگائی ۔
اوہ ،  یہ نظم  "ٹوٹ بٹوٹ" تو میں نے  کلاس تھری میں پڑھی تھی ، یاد آیا ، جب پہلی دفعہ  کلاس میں، چار بچوں کے دھرانے کے بعد  یہ نظم    شمشیر خان نے پڑھی ،  تو اُس نے یوں شروع کیا ،   کی " ٹووٹ بٹووٹ کا موٹر کار "  تو  افغان آغا جان نے کہا ۔
"  درست  پڑھو  ، ورنہ ابھی تمھاری ٹوٹ پھوٹ ہو جائے گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔"
اور خیالات(Cyclic Thinking)  کا سیلاب شعور سے تحت الشعور میں اُمنڈ آتا ہے  ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 اگلا مضمون  کلک کریں  :  ــــــــ   انسانی شخصیت کی تعمیر۔  
     ٭٭٭٭٭٭  ٭٭٭٭٭٭

 



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔