میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 29 اگست، 2015

سرو چشم و قلب

ایک دوست نے بتایا:


جب پہلی بار عقل میرے پاس آئی تو میں نے دریافت کیا کہ " تو کون ہے"
اس نے جواب دیا:
"عقل"
میں نے پوچھا کہاں رہتی ہو؟؟
جواب ملا
"سر میں"
اس کے بعد شرم میرے پاس آئی۔ میں نے پوچھا
"تو کون ہے"
اس نے جواب دیا
"شرم"
میں نے پوچھا تو کہاں رہتی ہے؟؟ اس نے جواب دیا:
"زیر چشم"
شرم کے بعد محبت آئی۔ میں اس سے بھی سوال کیا کہ "تو کون ہے؟"
اس نے جواب دیا
"مجھے محبت کہتے ہیں"
میں نے پوچھا تو کہاں رہتی ہے؟؟
اس نے جواب دیا
"دل میں رہتی ہوں"
پھر تقدیر آئی۔
میں نے اس سے یہی سوال کیا کہ "تو کون ہے؟؟"
جواب ملا "مجھے تقدیر کہتے ہیں"
میں نے پوچھا "تو کہاں رہتی ہے"
جواب دیا
"میں تو سر میں رہتی ہوں"
میں نے حیرت سےکہا۔ لیکن سر میں تو عقل کا قیام ہے۔ تقدیر نے جواب دیا
"لیکن جب میں آتی ہوں تو عقل رخصت ہو جاتی ہے"
اس کے ہٹتے ہی عشق آ گیا۔ میں پریشان ہو کر دریافت کیا
"تو کون ہے"
آشفتہ سری میں جواب ملا
"میں عشق ہوں"
میں نے اکتا کر سوال کیا "جناب کا قیام کہاں ہے؟
جواب دیا
"آنکھوں میں"
میں نے حیرت سے کہا۔ لیکن وہ تو شرم کا مقام ہے۔ کہنے لگا
"بجا ارشاد۔ لیکن جب میں آتا ہوں تو شرم رخصت ہو جاتی ہے"
سب سے آخر میں طمع آئی۔
میں نے پوچھا۔ جناب کی تعریف؟؟
"کہنے لگی۔ میں طمع ہوں۔"
آپ کا قیام؟؟
جواب دیا "دل میں"
لیکن وہاں تو محبت رہتی ہے۔
ہنس کر بولی:
"لیکن جب میں آتی ہوں تو وہ رخصت ہو جاتی ہے" ...... !!


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔