میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ, اگست 14, 2015

مہاجر زادے - ھجرت کا دشوار سفر


معلوم نہیں, لوگ کیسے کہتے ہیں کہ پاکستان کی طرف ہجرت کرنے والے, ہندوستان میں مارے جانے والے اپنے, والدین کے خونی رشتوں کو بھول جائیں.

کیسے ہو سکتا ہے ؟

ہم کیسے بھلا سکتے ہیں ؟

ہندوستان سے پاکستان کی طرف طرف ھجرت کرنے والے صرف ایک نام رکھتے تھے ، " مہاجر "

جہنوں نے اپنے خون سے آزادی کے اُس درخت کی آبیاری کی جسے پاکستان کہتے ہیں ۔ اِن مہاجروں کی صرف ایک زبان تھی ، ہم پاکستان جائیں گے ، جہاں ہم اُس خوف سے محفوظ رہیں گے ۔ جو غلامی کا ناسور ہے ۔

ہم مہاجروں کی اولاد آزاد پاکستان میں  جنم لے گی !

ہم مہاجر ابنِ مہاجر ہیں ۔ ہماری کوئی سیاسی ، لسانی یا مذہبی جماعت نہیں ۔ کیوں کہ ہم پاکستانی ہیں ۔
گروہ بندی تو انتشار پیدا کرتی ہے ۔ نفرت ، بغض اور حسد کے زہریلے بیج بوتی ہے ۔

ہم مہاجر ابنِ مہاجر ہیں ۔  ہمارا ایک ہی مقصد ہے جو ہمارے مہاجر والدین کا تھا ۔ اَمن کی سرزمین میں اپنی اولاد کو پروان چڑھانا اور انہیں ، محبِ وطن پاکستانی بنانا ۔

(مہاجر زادہ)


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔