میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 20 اگست، 2015

ڈوم آف راک اور اقصیٰ



اللہ کی ایک آیت جس میں سب سے اہم خبر موت نہیں بلکہ اُس انسانی تصوّر کا خاتمہ ، کہ جن غیب کا علم نہیں جانتے ۔

 فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَىٰ مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْ‌ضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ ۖ فَلَمَّا خَرَّ‌ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَنْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ ﴿34/14
پس جب ہم نے اُس پر الْمَوْتَ قَضَيْ کر دی ۔ کسی نے اُس کی مَوْتِ کی دلیل نہیں دی سوائے ایک دَابَّةُ الْأَرْ‌ضِ(زمینی جاندار) نے جس نے اُس کی  مِنْسَأَتَ  کھا لی - پس جب وہ گرا تو الْجِنُّ پر بینّات ہوئی کہ اگر وہ الْغَيْبَ کا علم رکھتے ، تو وہ الْعَذَابِ الْمُهِينِ میں نہ لپٹے رہتے ۔
  
اِس آیت کا ڈھانچہ لے کر اُس پر انسانی جھوٹ و سحر کے جو رَدّے چڑھائے ہیں ، پڑھئیے ۔ 

حضرت سلمان علیہ السلام کو ایسی بے مثال حکومت اور سلطنت حاصل تھی کے صرف ساری دنیا پر ہی نہیں بلکہ جنات اور طیور اور ہوا پر بھی اُن کی حکومت تھی ۔۔۔
مگر ان سب سامانوں کے باوجود موت سے ان کو بھی نجات نہ تھی اور یہ موت تو مقررہ وقت پر آنی تھی!
بیت المقدس کی تعمیر جو حضرت داؤد علیہ السلام نے شروع کی ملک شام میں جس جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خیمہ گاڑا گیا تھا،  ٹھیک اسی جگہ حضرت داؤد علیہ السلام نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی مگر عمارت پوری ہونے سے قبل ہی حضرت داؤد علیہ السلام کی وفات کا وقت آن پہنچا۔ اور آپ نے اپنے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام کو اس عمارت کی تکمیل کی وصیت فرمائی-
چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنوں کی جماعت کو اس کام پر لگایا اور عمارت کی تعمیر ہوتی رہی۔ جنات کی طبعیت میں سرکشی غالب تھی۔۔۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کے خوف سے جنات کام کرتے تھے ان کی وفات کا جنات کو علم ہوجائے تو فورا کام چھوڑ بیٹھیں اور تعمیر رہ جائے یہاں تک کہ آپ کی وفات کا وقت بھی قریب آگیا اور عمارت مکمل نہ ہو سکی، تو آپ نے یہ دعا مانگی ،
" الٰہی میری موت جنوں کی جماعت پر ظاہر نہ ہونے پائے تاکہ وہ برابر عمارت کی تکمیل میں مصروف رہیں اور ان سب جنات کو علم غیب کا جو دعویٰ ہے وہ بھی باطل ٹھہر جائے۔"
یہ دعا مانگ کر آپ محرا ب میں داخل ہو گئے اور اپنی عادت کے مطابق اپنی لاٹھی ٹیک کر عبادت میں کھڑے ہو گئے اور اسی حالت میں آپ کی وفات ہو گئی مگر جنات مزدور یہ سمجھ کر کہ آپ زندہ کھڑے ہوئےہیں۔برابر کام میں مصروف رہےاور عرصہ دراز تک آپ کا اس حالت میں رہنا جنوں کے گروہ کے لیے کچھ باعث حیرت اس لیے نہیں ہوا کہ وہ با رہا دیکھ چکے تھے کہ آپ ایک ایک ماہ بلکہ کبھی کبھی دو دو ماہ برابر عبادت میں کھڑے رہا کرتے تھے۔
یہاں تک کہ بحکم الٰہی دیمک نے آپ کے عصا کو کھا لیا اور عصا گر جانے کے سے آپ کا جسم مبارک زمین پر آگیا اور اس وقت جنوں کی جماعت اور تمام انسانوں کو پتہ چلا کہ آپ کی وفات ہو گئی ہے۔

اِن رَدّوں کو مزید مضبوطی دینے کے لئے ، ایک عمارت کی تخلیق کی جسے مسجدِ اقصیٰ کا نام دیا ،638 عیسوی(16 ہجری) میں یروشلم پر قبضے کے بعد جب فاتح گرجے میں داخل ہونے لگے تو گرجے کے پادری نے گرجے کی چابی دینے سے انکار کردیا ، کہ چابی وہ صرف خلیفہ کو وہ نشانیاں پہچاننے کے بعد دیںگے جو وہ سنتے آرہے ہیں ، ایک تیزرفتار نوجوان کو مدینہ بھجوایا گیا ۔ ایک تیزرفتار اونٹ اپنے سوار کو لے کر ، 16 کلومیٹر فی گھنٹہ کے حساب سے زیادہ سے زیادہ 10 گھنٹے سفر کر کے 160 کلو میٹر روزانہ 1200 کلومیٹر یروشلم تا مدینہ کا فاصلہ طے کرکے 7 دن میں پہنچا ۔
کہا جاتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں یروشلم شہر میں داخل ہونے کے بعد ،


جب وہ گرجے میں پہنچے .
 
تو یروشلم شہر کی چابی عیسائی پادری سے لینے کے بعد گرجا یا معبدِ ڈیوڈ دیکھا ، نماز کاوقت ہوا تو کہاجاتا ہے عمرؓ بن خطاب نے گرجے کے باہر میدان میں نماز پڑھی تھی ۔
  
گرجے میں نماز اِس لئے ادا نہیں کی کہ کہیں اسے مسجد نہ بنا لیا جائے ۔
لیکن امیّہ بادشاہ مروان بن حکم (پیدائش یکم ہجری تا 65 ھجری) حکومت 65 تا 66 ھجری ، نے جس جگہ
عمرؓ بن خطاب نے نماز پڑھی ، مسجد اقصیٰ بنوا کر تاریخ کو انسانی خون کے سیلاب سے گذارنے کا بندوبست کر گیا ۔

مقدّس چٹان کے ایک غار کے اوپر بنا ہوا ہے ، جو یہودیوں کا متبرک مقام تھا ، مروان بن حکم کے بیٹے عبدالملک نے ایک گنبد بنوادیا ۔ جو ڈوم آف راک کہلاتا ہے ۔اِس غار سے مختلف یہودی مذہبی کہانیاں منسلک ہیں۔
کرسچئین پیچھے کیوں رہتے ، اُنہوں نے بھی جیزز دی کرائسٹ کے لئے پہاڑی کا ایک کونا وقف کر رکھا ہے ۔ جہاں گرجہ بنایا ہوا تھا ۔
مقدّس چٹان ، تینوں مذاہب کے لئے مقدّس بنادی گئی اور ڈوم آف راک کو بیت المقدّس المعروف قبلہ اوّل ، قرار دلوا دیا گیا ۔
یہودیوں نے مغربی دیوار کو دیوارِ گریہ بنا رکھا ہے۔ 

 ڈوم آف راک اور مسجد اقصیٰ سے درمیانی فاصلہ تقریباً 240 گز ہے -



یہ ایسی ہی ناقابلِ یقین چیستان ہے ،جس کو اُسی طرح سلجھانا مشکل ہے ،
کہ جیسا آج کسی عقل مند محقق نے سوال پوچھا :-

کہا جاتا ہے کہ ابرہہ ہاتھوں کا لشکر لے کر خانہ کعبہ پر حملہ آور ہوا تھا.
ایک ہاتھی کی کم از کم روزانہ خوراک پانچ من سبز چارہ اور ڈیڑھ سو لیٹر پانی بیان کی جاتی ہے
کیا صحرائے عرب میں یہ خوراک وافر مقدار میں دستیاب تھی. ..؟


اب مفسر دیں جواب ؟


لیکن ایک حقیقت ،
اگر الکتاب میں یہ آیت نہ ہوتی ، تو میں بھی  ڈوم آف راک ہے نیچے بنے ہوئے  غار کو بیت المقدس ہی سمجھتا !

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ [3:96]



٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں :تختِ ڈیوڈ 




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔