میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 17 اگست، 2015

یہ بوڑھا میرا کلاس فیلو نہیں ہو سکتا

 میرے دانت میں سخت درد تھا ۔ میں نے فون پر ڈاکٹر سے اپائیمنٹ لی اور اُس کے کلینک جا پہنچی ۔ ریسیپشنسٹ نے مجھے اتظار کرنے کو کہا ۔ صوفے پر بیٹھتے ہوئے میری نظر ڈینٹل سرجن کے بورڈ پر پڑی جو دروازے کے بائیں طرف لٹکا ہواتھا ۔ جس پر اُس کا مکمل نام اور ڈگریاں لکھی ہوئی تھیں ۔ 

اچانک مجھے یاد آیا کہ اِس نام کا ایک ہینڈسم ، لمبا اور گنے بالوں والا ہر دل عزیز لڑکا 25 سال پہلے میرے ساتھ ھائی سکول میں پڑھتا تھا ۔ اور ہم نے آپ میں کچھ خفیہ وقت بھی گذارا تھا ۔
" واؤ ، کیا یہ وہی ہے ۔ میرا ملنا اُس کے لئے کتنا بڑا سرپرائز ہوگا " میں نے سوچا
" میڈم ، آپ جایئے ۔ پلیز"
ریسپشنٹ کی آواز مجھے ماضی کی کھٹی میٹھی یادوں سے واپس لے آئی - میں اپنا بیگ سنبھال کر سرجن کے کمرے میں داخل ہوئی ۔
" یہ نہیں ہو سکتا " سرجن کو دیکھتے ہی میں نے سوچا ۔ سامنے سر پر ریفلیکٹنگ مرر لگائے ، ایک گنجا ، موٹا اور چہرے پر جھریوں کی لکیریں لئے کرسی پر بیٹھا یہ بوڑھا میرا کلاس فیلو نہیں ہو سکتا ۔
جب اُس نے میرے دانت اچھی طرح دیکھ لئے ، تو میں نے اُس سے پوچھا ۔
" کیا اُس نے سینٹ ژےوئر ھائی سکول میں پڑھا ہے ؟"
"اوہ ، ہا ! ہاں ! " اُس نے فخریہ لیجے میں جواب دیا ۔
" تم نے کب گریجوئشن کی تھی ؟" میں نے پوچھا ۔
1987 میں ، کیوں پوچھ رہی ہو ؟ " اُس نے پوچھا 
" تم میری کلاس میں تھے " میں نے تقریباً خوشی سے بے قابو ہو کر پوچھا ۔
اُس نے میری طرف غور سے دیکھا ، پھر 


اُس بے ہنگم، گنجے ، بد صورت  جھریوں زدہ چہرے والے کمینے ، احمق اور گدھے نے پوچھا ۔
" آپ کون سے مضمون پڑھاتی تھی ؟"



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔