میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 28 اگست، 2015

بکرا بمقابلہ گدھا

عید قربان کی آمد آمد تھی. دونوں دوست ایک بینک کے ملازم تھے. قربانی کیلیے بکرا خریدنا تھا. بینک سے پینٹ کوٹ پہنے ٹائی لگائے وہ مویشیوں کی منڈی پہنچ گئے. گاڑی پارک کی اور منڈی کا جائزہ لیا کہ کہاں سے شروع کیا جائے. 
سڑک کے دونوں اطراف تقریباً ایک کلو میٹر سے زیادہ علاقے میں جانور ہی جانور تھے.
جہاں گاڑی لگائی تھی وہیں سے پوچھنا شروع کیا. جو بکرا کچھ آنکھوں کو اچھا لگے اس کے دام پچاس ہزار کی حد کو عبور کر رہے ہوتے تھے. دن کی چائے پر دونوں نے اپنی حد تیس ہزار مقرر کی تھی. اس لیے پھر ان بکروں پر نظر ڈالنی شروع کی جو دیکھنے میں تھوڑے کم خوبصورت اور جسامت میں دبلے ہوں.
انتہائی کوشش کے باوجود کوئی بکرا پینتیس ہزار سے کم نہ ملا. ابھی منڈی کی بائیں طرف والی قطار آدھی ہوئی تھی. بینک سے آدھے وقت میں چھٹی بھی لے لی تھی، جس کی وجہ سے اس کام کو آج نمٹانا بھی واجب ہو رہا تھا.
بھوک اور تھکان مٹانے کیلیے ایک ریڑھی سے بھنے ہوئے مکئی کے سٹے لے کر کھانے شروع کر دیے. ہر قدم کے بعد ایک نئے بکرے کا دام پوچھ رہے تھے.
ایک بکرے کا دام پوچھا تو مالک نے اٹھارہ ہزار بولا. 
چونک کر رکے، بکرے کا معائنہ کیا، بکرا بالکل ٹھیک تھا. دام بھی مناسب تھے...
پھر بھی کہا کہ مزید کمی ہو سکتی ہے؟ بو لا نہیں. کچھ ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد وہ بکرا لینے پر راضی ہو گئے. 
اب بکرے کے مالک نے کہا کہ وہ بکرا نہیں بیچے گا.... پوچھا کیوں؟
 تو اس نے کہا کہ میں گاؤں سے آیا ہوں، مجھے گدھا خریدنا ہے... 
بس اس گدھے کیلیے بکرا بیچ رہا ہوں...... 
یہاں منڈی میں ایک شخص گدھا بیچ رہا ہے لیکن وہ بکرے کے بدلے مجھے گدھا نہیں دے رہا.... 
اگر تم مجھے اس سے گدھا خرید دو تو یہ بکرا مجھ سے لے لو... 
انھوں نے کچھ سوچا پھر گدھے والے کا ٹھکانہ پوچھا.... 
اس کے پاس گئے تو پتا چلا کہ وہ گدھا سولہ ہزار میں بیچ رہا ہے...
بات کچھ سمجھ آرہی تھی... 
سولہ ہزار کا گدھا اور دو ہزار ساتھ دیے جائیں تو قربانی کیلیے ہٹا کٹا بکرا اٹھارہ ہزار میں مل سکتا ہے.. 
انھوں نے سولہ ہزار گدھے والے کو دیے، رسی تھامی اور بکرے والے کی طرف چل دیے...... 
تھوڑا آگے جا کر ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ وہاں اب وہ بکرے والا نہیں تھا، پیچھے مڑے تو گدھے والا بھی غائب. دونوں بینک کے ملازم منڈی میں گدھا تھامے کھڑے تھے، لوگ ان کو گھور رہے تھے، وہ شرم سے پانی پانی ہو رہے تھے....... 
ب کیا ہو سکتا تھا... 
گدھا گھر لے جایا جا سکتا تھا نہ کوئی خریدار تھا. وہاں ہی چھوڑنا پڑا اور سولہ ہزار کو چونا لگوا کر گھر آئے..

دھوکے کے بہت سے طریقے ہیں... 
مجھے امید ہے کہ آپ لوگوں کے ہاتھ میں اس عید پر گدھا نہیں ہوگا.. پھر بھی بتانا فرض ہے.. 
اگر منڈی میں قیمت پچاس ہزار چل رہی ہے تواٹھارہ میں لیا بکرا، بکرا نہیں ہوگا.


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔